بدعت: قرآن و حدیث  میں مذکور بعض   صورتیں

بدعت کے معنی و مفہوم کی درجِ بالا تفصیل سے یہ بات واضح  ہے کہ یہ بغی،یعنی  سرکشی اور ناحق زیادتی ہے۔ اِس قبیح جرم کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کیا جاتا ہے اور اِس کے مجرم بالعموم مذہبی پیشوا ہوتے ہیں۔ اِس کی بدترین صورت شرک ہے۔  اِسی بنا پر اُسے ایک الگ نوع کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ اِس کے علاوہ قرآن و حدیث میں مذکور چند نمایاں صورتیں درجِ ذیل ہیں:

بیت اللہ کا برہنہ طواف،

تزئین و آرایش کی حرمت،

’بحیرۃ‘، ’سائبۃ‘، ’وصیلۃ‘ اور’حام‘  کی تقدیس ،

کھیتی اور جانوروں کی بعض  حرمتیں،

مسلمان کی تکفیر ۔

1۔  بیت اللہ کا برہنہ طواف

مشرکین کی بدعات میں ایک نمایاں بدعت بیت اللہ کا برہنہ طواف تھا۔ مرد اور عورتیں، دونوں عبادت کی آڑ میں اِس عریانی  کا ارتکاب کرتے تھے۔  بدن کی زینت ــــــ لباس ــــــ کو اتارنے کا حکم دیا جاتا تھا۔دلیل یہ تھی کہ یہ دنیا داری کی آلایش ہے، اِس لیے اِس سے پاک ہو کر بیت اللہ میں داخل ہونا چاہیے۔ اِس ناپاک کام کو اللہ کے حکم  اوراپنے آبا و اجدادکی سنت  کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اِس بے حیائی  کی اپنی طرف نسبت کی سختی سے تردید فرمائی  ہے اور پوری تنبیہ و تہدید کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ  پرایسی  بے سند اور بے دلیل بات کی تہمت کیوں لگاتے ہو؟ مزید واضح فرمایا ہے کہ بدن کی زینت کے ساتھ غذا کی زینت پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ یعنی خور و نوش کے جو طیبات زندگی کی سلامتی  اور لذتِ کام و دہن کے لیے گھر در میں استعمال کرتے ہو، وہ مسجدوں میں بھی استعمال کر سکتے ہو۔ جس  طرح لباس دین داری کے خلاف نہیں ہے، اُسی طرح  کھانے پینے میں  اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بھی  دین داری کے خلاف نہیں ہے۔ سورۂ اعراف میں بیان ہوا ہے:

وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ. فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ.

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ. 

     (7: 31-28)

’’یہ لوگ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِسی طریقے پر پایا ہے اور خدا نے ہمیں اِسی کا حکم دیا ہے۔ اِن سے کہو، اللہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر افترا کر کے ایسی باتیں کہتے ہو، جنھیں تم نہیں جانتے؟ اِن سے کہو، میرے پروردگار نے (ہر معاملے میں ) راستی کا حکم دیا ہے۔ اُس نے فرمایا ہے کہ ہر مسجد کے پاس اپنا رخ اُسی کی طرف کرو اور اطاعت کو اُس کے لیے خالص رکھ کر اُسی کو پکارو۔ تم (اُس کی طرف) اُسی طرح لوٹو گے، جس طرح اُس نے تمھاری ابتدا کی تھی۔ ایک گروہ کو اُس نے ہدایت بخشی، (وہ اِن سب باتوں کو مانتا ہے) اور ایک گروہ پر گم راہی مسلط ہو گئی، اِس لیے کہ اُنھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا اور سمجھتے یہ ہیں کہ راہ ہدایت پر ہیں۔

آدم کے بیٹو، ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنی زینت کے ساتھ آؤ، اور کھاؤ پیو، مگر حد سے آگے نہ بڑھو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘

2۔ تزئین و آرایش کی حرمت

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

(الاعراف 7: 32)

’’اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو، وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدا نے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔‘‘

زینت کے معنی  کسی چیز کے حسن کو ظاہر کرنے، اُسے سجانے سنوارنے  اور خوش نما صورت میں پیش کرنے کے ہیں۔ اللہ نے دنیا کی تمام زینتیں اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے اُن کی حرمت کا فتویٰ صادر کرے۔[69]

’قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ‘ (اِن سے پوچھو، کس نے حرام کر دیا؟) کے الفاظ اور اسلوب   سے واضح ہے کہ اللہ نے دین سازی کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ اللہ کا رسول بھی جو دین پیش کرتا ہے، وہ اللہ کے اِذن سے اور اُس کی ہدایت کے مطابق  پیش کرتا ہے۔  چنانچہ کسی انسان کا شریعت سازی کے خدائی فیصلے کو اپنے ہاتھ میں لینا، اللہ کے حریم میں مداخلت کے مترادف ہے۔

3۔ ’بحیرۃ‘، ’سائبۃ‘، ’وصیلۃ‘ اور’حام‘ کی تقدیس

مشرکین عرب نے  حلال  جانوروں میں سے بعض نوعیت کے جانوروں کو  مقدس قرار دےکر حرام کر  رکھا تھا۔ ’بحیرۃ‘ سے مراد وہ اونٹنی تھی، جس سے پانچ بچے پیدا ہو چکے ہوتے اور اُن میں آخری نر ہوتا۔ ’سائبۃ‘ اُس اونٹنی کو کہتے تھے، جسے منت کے پورا ہو جانے کے بعد آزاد چھوڑ  دیا جاتا تھا۔اِسی طرح بعض لوگ نذر مانتے تھے کہ بکری اگر نر جنے گی تو اُسے بتوں کے حضور پیش کریں گے اور اگر مادہ جنے گی تو اپنے پاس رکھیں گے۔ پھر اگر وہ نر و مادہ، دونوں ایک ساتھ جنتی تو اُس کو ’وصیلۃ‘ کہتے اور ایسے نر کو بتوں کی نذر نہیں کرتے تھے۔’حام‘ وہ سانڈ تھا، جس کی صلب سے کئی پشتیں پیدا ہو چکی ہوتیں، اُسے بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔[70] اِن کے بارے میں امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :

’’یہ سب عربِ جاہلیت کی نذریں اور منتیں تھیں۔ اِس قسم کے جانور آزاد چھوٹے پھرتے، جس گھاٹ سے چاہتے پانی پیتے اور جس کی چراگاہ میں چاہتے پھرتے۔ نہ اِن کو کوئی روک سکتا، نہ چھیڑ سکتا۔ اِن کو مذہبی تقدس کا ایسا درجہ حاصل تھا کہ ہر شخص اِن کے چھیڑنے کے وبال سے لرزہ براندام رہتا۔ ‘‘(تدبر قرآن 2/ 602)

لوگوں نے اِن کے بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا  کہ اُس نے ایسی کسی چیز کو مشروع نہیں کیا ہے۔باقی جانوروں کی طرح یہ بھی حلال ہیں اور اِنھیں کسی طرح کی تقدیس یا حرمت حاصل نہیں ہے۔ جن لوگوں نے  اِن کی حرمت کو شریعت  بنا کر پیش کیا ہے، اُنھوں نے  اللہ پر جھوٹ باندھا  ہے۔ ارشاد ہے:

مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّ لَا سَآئِبَۃٍ وَّ لَا وَصِیۡلَۃٍ وَّ لَا حَامٍ ۙ وَّ لٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ وَ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ.

(المائدہ 5: 103)

’’(تمھارے سوال کا جواب بہرحال یہ ہے کہ) اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے، نہ سائبہ، نہ وصیلہ، نہ حام، مگر یہ منکرین اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اِن میں زیادہ وہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘

4۔ کھیتی اور جانوروں کی بعض حرمتیں

سورۂ انعام میں جانوروں اور کھیتی کی بعض اُن  صورتوں  کا ذکر ہے، جنھیں مشرکین  حرام سمجھتے تھے۔ اِن کی حرمت کے فتوے اِن کے مذہبی پیشواؤں  اور مجاوروں  نے  جاری کر رکھے تھے۔استھانوں، بت خانوں، مزاروں پر کھیتوں کی پیداوار اور جانوروں کے جو چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے، اُن کے استعمال کی ایک پوری شریعت وضع کی گئی تھی۔اِس موضوعہ شریعت میں بھی اللہ کے شریکوں کی خوش نودی خود اللہ تعالیٰ کی خوش نودی سے بڑھ کر تھی۔ جانوروں میں  اور زمینی پیداوار میں سے ایک حصہ اللہ کے نام کا اور ایک حصہ بتوں کے نام کا مقرر ہوتا تھا۔ بتوں کے حصے میں سے کوئی چیز ضائع ہوجاتی تو اُسے اللہ کے حصے میں سے نکال کر پورا کر لیا جاتا، لیکن اللہ کے حصے میں سے کوئی چیز ضائع ہوتی تو اُس کی  تلافی بتوں کے حصے میں سے نہ کی جاتی۔ اِن نذروں اور چڑھاووں کی حلت و حرمت کا بھی ایک پورا قانون تھا۔ فلاں چیز مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، فلاں کھانا بیوہ کھا سکتی ہے، سہاگن نہیں کھا سکتی۔ فلاں تبرک شادی شدہ عورت کے لیے جائز ہے اور کنواری کے لیے ممنوع ہے۔  اِسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ کا گوشت کھانا حرام تھا۔ ایک صورت یہ تھی کہ وہ بعض جانوروں  کو ذبح کرتے ہوئے اُن پر اللہ کا نام لینا ممنوع سمجھتے تھے۔ بعض طبقوں میں اولاد کو بھینٹ چڑھانے کی بدترین رسم بھی قائم تھی۔ جنوں بھوتوں کے  شر سے محفوظ رہنے کے لیے اُن کے استھانوں پر بچوں کو  قربان کر دیا جاتا تھا۔ اِن کے مجاور یہ توہم پیدا کرتے تھے کہ اگر قربانی نہ دی گئی تو پورے خاندان کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ قرآنِ مجید نے اِس  من گھڑت شریعت سازی کو افترا علی اللہ قرار دیا ہے اور  فرمایا ہے کہ اُن کی اِن افترا  پردازیوں کا بدلہ اُنھیں مل کر رہے گا۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَ الۡاَنۡعَامِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعۡمِہِمۡ وَ ہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا ۚ فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمۡ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ مَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآئِہِمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ.

وَ کَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیۡرٍ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ قَتۡلَ اَوۡلَادِہِمۡ شُرَکَآؤُہُمۡ لِیُرۡدُوۡہُمۡ وَ لِیَلۡبِسُوۡا عَلَیۡہِمۡ دِیۡنَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ. وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنۡعَامٌ وَّ حَرۡثٌ حِجۡرٌ ٭ۖ لَّا یَطۡعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِہِمۡ وَ اَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُہُوۡرُہَا وَ اَنۡعَامٌ لَّا یَذۡکُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا افۡتِرَآءً عَلَیۡہِ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ.

وَ قَالُوۡا مَا فِیۡ بُطُوۡنِ ہٰذِہِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوۡرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤی اَزۡوَاجِنَا ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مَّیۡتَۃً فَہُمۡ فِیۡہِ شُرَکَآءُ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ وَصۡفَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ. قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَہُمۡ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ حَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افۡتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ  قَدۡ ضَلُّوۡا وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ.

(الانعام 6: 136- 140)

’’(اِن کا ظلم اِس حد کو پہنچ چکا ہے کہ) اللہ کے لیے اِنھوں نے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور چوپایوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا ہے، بہ زعم خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے۔ پھر جو اِن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچ سکتا اور جو اللہ کا ہے، وہ اِن کے شریکوں کو پہنچ سکتا ہے۔ کیا ہی برے فیصلے ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اِسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے اُن کی اولادکے قتل کو اُن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے خوش نما بنا دیا ہے، اِس لیے کہ اُن کو برباد کر ڈالیں اور اِس لیے کہ اُن کے دین کو اُن کے لیے مشتبہ بنا دیں۔ اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کر پاتے۔ لہٰذا اُنھیں چھوڑو کہ اپنے اِسی افترا میں پڑے رہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ چوپایے اور یہ کھیتی ممنوع ہیں، اِنھیں صرف وہی کھا سکتے ہیں جنھیں ہم کھلانا چاہیں، اپنے گمان کے مطابق۔ اِسی طرح کچھ جانور ہیں جن کی پیٹھیں (اُن کے نزدیک) حرام کر دی گئی ہیں اور کچھ جانور ہیں جن پر محض اللہ پر جھوٹ باندھ کر اللہ کا نام نہیں لیتے۔ اللہ عنقریب اُن کی اِن افترا پردازیوں کا بدلہ اُن کو دے گا جو وہ کرتے رہے ہیں۔

اور کہتے ہیں کہ جو کچھ اِن جانوروں کے پیٹ میں ہے، وہ ہمارے مردوں کے لیے خاص ہے اور ہماری عورتوں کے لیے حرام ہے، لیکن اگر وہ مردہ ہو تو دونوں اُس (کے کھانے) میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اللہ عنقریب اُن کی اِن باتوں کی سزا اُنھیں دے گا۔ بے شک، وہ حکیم و علیم ہے۔ یقیناً نامراد ہوئے وہ لوگ جنھوں نے اپنی اولاد کو محض بے وقوفی سے، بغیر کسی علم کے قتل کیا اور اللہ نے جو رزق اُنھیں عطا فرمایا تھا، اُسے اللہ پر جھوٹ باندھ کر حرام ٹھیرایا ہے۔ وہ یقیناً بھٹک گئے ہیں اور ہرگز راہ راست پر نہیں رہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی  نے اِن  مشرکین کی شریعت سازی اور افترا علی اللہ کے پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’...یہ فتوے چونکہ تمام تر اِن پروہتوں کی خود ساختہ شریعت پر مبنی تھے اور وہ اِس کے عالم بھی تھے، اِس وجہ سے نہ کوئی دوسرا اِس میں اپنا کوئی قول لگا سکتا تھا، نہ سرمو اِس سے انحراف کر سکتا تھا ... اِن کی یہ ساری خرافات مبنی تو تھیں اِن کے مشرکانہ اوہام پر،لیکن جس طرح وہ اپنی ساری ہی حماقتوں کو اللہ کی تعلیم کی طرف منسوب کرتے،اُسی طرح اِن حماقتوں کو بھی اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اِس وجہ سے قرآن نے اِس کو افترا سے تعبیر فرمایا اور دھمکی دی کہ اللہ عنقریب اِن کو اِس افترا کی سزا دے گا ... افسوس ہے کہ بغیر کسی خدائی سند کے محض حماقت سے، اللہ پر افترا کر کے اِنھوں نے اپنی اولادوں کو قتل کیا اور اللہ کے بخشے ہوئے رزق کو اپنے اوپر حرام کیا۔ اِن کی بدبختی و نامرادی میں کیا شبہ کی گنجایش ہے۔ یہ لوگ راہِ حق سے بھٹکے اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے اِن کو اپنی راہ دکھائی تو اپنی بدبختی کے سبب سے اِس کو اختیار کرنے والے نہ بنے۔‘‘

(تدبر قرآن 3 / 172- 173)

5۔ مسلمان کی تکفیر

مسلمانوں میں جو بدعتیں رائج ہوئیں، اُن میں ایک بڑی بدعت’تکفیر‘ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو کافر یا غیر مسلم کہہ کر دائرۂ اسلام سے خارج  قرار دیا جائے۔   دنیا میں کفر و ایمان کے فیصلے کا حق اللہ اور اُس کے رسول کے پاس ہے۔  اِس کے لیے اتمام حجت ضروری ہے اور اتمام حجت کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ وہی اپنے رسول کے ذریعے سے یہ بتا سکتا ہے  کہ کسی شخص یا گروہ پر حجت تمام ہو گئی ہے  اور اُسے کافر قرار دے کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے  دنیا سے رخصت ہو جانے کےبعد  اِس کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہی۔ مزید برآں ،اللہ اگر چاہتا تو یہ حق کسی کو  دے سکتا تھا، مگرقرآن و حدیث سے واضح ہے کہ اُس نے یہ حق کسی کو نہیں دیا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینا  ایک نئی چیز ہے، جسے اضافی طور پر دین و شریعت میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اللہ اور اُس کے رسول کی ہدایت میں اِس کے لیے کوئی بنیاد موجو دنہیں ہے۔یہ افترا علی اللہ ہے اور بدعت کی بدترین صورت ہے۔

چنانچہ ختم نبوت کے بعد اب  ہر مسلمان اپنے اقرار سے مسلمان قرار پاتا ہے۔ وہ اگر اپنے اقرار پر قائم ہے تو کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ  اُسے کافر یا غیر مسلم قرار دے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہنے  والامسلمان سمجھا جائے گا اور اُس کے ساتھ تمام معاملات اُسی طریقے سے ہو ں گے، جیسے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔[71]کوئی فرد، گروہ یا  ادارہ    اُس کی تکفیر کا فیصلہ صادر نہیں کر سکتا۔  اگر کوئی ایسا  کرتا ہے تو  وہ ایک مسلمان کی حیثیتِ عرفی کو ختم کرتا  اور اُسے سماجی لحاظ سے   جیتے جی مار دینے کا اقدام کرتا ہے۔   یہی وجہ ہے کہ رسالت  مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے   کفر  کی تہمت لگانے کو  قتل کر دینے کے مترادف قرار دیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ تہمت خلافِ حقیقت  ہوئی تو   آخرت میں اِسے تہمت   لگانے والے پر لوٹا دیا جائے گا:

عن ثابت بن الضحاك، أن النبي صلی اللّٰہ علیه وسلم قال: من شهد علی مسلم أو قال: ـــ علی مؤمن ـــ بکفر، فهو کقتله، ومن لعنه فهو کقتله.

(معمر بن راشد، رقم19710)

’’ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مسلمان پر یا فرمایا کہ کسی بندۂ مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اِسی طرح ہے، جیسے اُس نے اُس کوقتل کردیا اورجس نے اُس پر لعنت کی،[72]اُس نے بھی گویا اُسے قتل کردیا ۔‘‘

عن أبي ذر أنه سمع النبي صلی اللّٰہ علیه وسلم یقول: لا یرمي رجل رجلا بالفسوق، ولا یرمیه بالکفر، إلا ارتدت علیه، إن لم یکن صاحبه کذلك.(بخاری، رقم6045)

’’ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: جو شخص بھی کسی دوسرے پر فسق[73]یا کفر کی تہمت لگائے گا، اگر وہ ایسا نہیں ہوا تو اُس کی یہ تہمت اُسی پر لوٹ جائے گی۔‘‘

استاذِ گرامی نے    اِن روایات کی وضاحت میں لکھا ہے:

”مطلب یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر کوئی امر مباح نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے، اُس پر یہ تہمت لگادے ، بلکہ ایسی سنگین بات ہے کہ گویا اُس کو قتل کر دیا گیا۔ یہ تشبیہ اِس لحاظ سے ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں کسی کو کافر یا ملعون قرار دینا در حقیقت اُس کی حیثیتِ عرفی کو ختم کردینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ گویا اُس کی شخصیت کا قتل ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں جن لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا، اُن کے حالات سے اِس کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور اپنے مسلمان ہونے پر اصرار کرتا ہے تو کسی کو حق نہیں ہے کہ اُس کو کافر کہے یا قیامت میں خدا کی رحمت سے محروم قرار دے۔ دنیا میں ہر شخص اپنے اقرار ہی کی بنا پرمسلم، غیر مسلم یا کافر سمجھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حق کسی دوسرے کو نہیں دیا ہے ، نہ کسی فرد کو، نہ دین کے کسی عالم کو اور نہ کسی ریاست کو کہ وہ اُس کو کافر یا غیر مسلم قرار دے ۔اِس باب کے تمام معاملات میں آخری اور فیصلہ کن چیز اُس کا اپنا اقرار ہے، لہٰذا کسی کو بھی اُس پر کوئی حکم لگانے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘(علم النبی1/250)

ـــــــــــــــــــــــــــــ