علت  

علت  سے مراد وہ حقیقت ہے،جس پر شریعت کا کوئی حکم استوار ہوتا ہے۔ یعنی  جس متعین وجہ سے یا جس خا ص ضرورت کے تحت شارع نے کوئی حکم دیا ہے  یا کوئی پابندی  لگائی ہے یا کوئی رخصت عطافرمائی ہے، وہ وجہ یا ضرورت اُس حکم کی علت قرار پائے گی۔ یہ  موجبِ حکم    کی  ظاہری نہیں، بلکہ حقیقی اور اطلاقی نہیں، بلکہ اصولی صورت ہوتی ہے اور حکم کےتمام افراد، تمام مظاہر اور تمام اطلاقات میں یکساں طور پر  برقرار رہتی ہے۔ شراب کی حرمت کے حکم میں حرمت کی علت نشہ  آوری ہے۔ اللہ نے اصلاً نشہ  آور  کو حرام ٹھہرایا ہے، شراب  اُس  کی  ایک نمایندہ صورت ہے۔  اُس میں اگر نشے کی تاثیر پیدا نہ ہو یا ختم ہو جائے  تو اُس کی حیثیت  عام مشروب کی ہو  گی اور اُسے شراب قرار دے کر حرام نہیں ٹھہرایا جائےگا۔ اِس کے برعکس، نشہ آوری کی یہی علت  اگر بعض دیگر اشیا میں پیدا ہو جائے تو اُن کا استعمال  اُسی طرح ممنوع ہو گا، جس طرح کہ مثال کے طور پر شراب کا ہے۔

علت  کا مفہوم مقصد کے مفہوم کے مقابلے میں محدود اور مخصوص ہے۔    مقصد کسی حکم کا  نصب العین ہوتا ہے۔ اُس سے مراد وہ منزل یا ہدف ہے، جسے پانے کے لیے کوئی حکم دیا جاتا ہے۔ علت اُس کا ہدف نہیں، بلکہ سبب ہوتی ہے۔ چنانچہ     کسی  حکم  کی علت کو اُس کے مقصد سے  مختلط نہیں کرنا چاہے۔حرمتِ شراب کی  مذکورہ مثال کی اگر تحلیل کی جائے تو  یہ کہا جائے گا کہ اِس حکم کا مقصد خور و نوش کا تزکیہ و تطہیر ہے، اِس کی علت نشہ آوری ہے، اِس کی  شریعت میں مذکور اطلاقی صورت شراب کی حرمت ہے اور اشتراکِ علت کی بنا پر جملہ منشیات و مسکرات  بھی شرعی طور پر ممنوع ٹھہرائے جائیں گے۔

-

علت کے فہم  کی اہمیت

شریعت نے حرمتوں کےاحکام کو  جن وجوہ سے علل پر  قائم  کیا ہے، اُن میں یہ نمایاں ترین ہیں:

اولاً،انسان کی عقل و فطرت کا بدیہی تقاضا ہے کہ وہ عوامل کے محرکات اور احکام کے اسباب کو دریافت کرنا چاہتا ہے۔  وہ کسی امر کو مجرد طور پر قبول نہیں کرتا، بلکہ اُس کے پیشِ نظر مقصد یا اُس کے پیچھے کارفرما سبب کی بنا پر قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اِس فطری تقاضے کا لحاظ کرتے ہوئے اُسے دین و شریعت کے مقاصد سے بھی آگاہ کیا ہے اور  اُن کے احکام کی علتوں کو بھی واضح کیا ہے۔ یہ آگاہی اور یہ وضوح  اُس کے ایمان وعمل کے لیے ناگزیر ہے۔

ثانیاً،  اللہ نے  اپنی شریعت  کرۂ ارض کے تمام  علاقوں اورقیامت تک کے تمام زمانوں کے  لیے ودیعت فرمائی ہے۔  یہ وسعت اور ابدیت اُسی صورت میں قائم و دائم  ہو سکتی ہے، جب  احکام کو اُن کے ظاہر  پر محمول کرنےکے بجاے اُن کے علل پر محمول کیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ  ہے   کہ مرورِ زمانہ  یا حالات و مقامات  کی تبدیلی سے احکام کی ظاہری صورتیں متغیر  بھی ہو سکتی ہیں اور اُن میں وسعت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔  

ثالثًا،حرمتوں کی جو علتیں قرآن و حدیث میں مذکور ہیں یا اُن سے مستنبط ہیں، وہ دین کے اصل مقصد تزکیہ و تطہیر    پر مبنی ہیں۔ یہ مقصد علت العلل کے طور پر  اُن میں کار فرما ہے۔ چنانچہ   حکم  کی علت کا  ادراک ہوتے ہی  انسان اُس  اصل مقصد کو جان لیتا ہے، جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ حکم دیا گیا ہے۔

اِن تینوں پہلوؤں سے احکام کے علل کا تعین ضروری ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو ایک جانب شریعت  کے احکام لوگوں کے لیے قابلِ فہم نہیں  رہیں گے ، دوسری جانب  امتدادِ زمانہ کے ساتھ اُن کا اطلاق محدود ہوجائے گا اور تیسری جانب دین کامقصد نظروں سے اوجھل رہے گا اورنتیجتاً شریعت  محض امتثالِ امر قرار پائے گی۔

 اِس بات کو لحم الخنزیر کی حرمت کی مثال سے سمجھ لیجیے۔ دیکھیے، اِس ضمن میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انعام کی نوعیت کے چوپایوں میں سے ایک  چوپایے کا گوشت کیوں حرام ٹھہرایا ہے؟اِس کا جواب یہ ہے کہ اِس کا سبب اُس کے اندر درندگی کے عنصر کا پایا جانا ہے۔یعنی وہ  صرف چارا کھانے والا چوپایہ نہیں ہے، بلکہ  اِس  کے ساتھ کتے ، بلی، شیر، چیتے کی طرح گوشت کھانے والا درندہ بھی  ہے۔ درندگی کا عنصر   اُسے خبائث میں شامل کر  کے  ناپاک بنا دیتا ہے، اِس لیے شریعت نے اُسے ممنوع ٹھہرایا ہے۔یہ جواب، ظاہر ہے کہ لوگوں کے لیے باعثِ تشفی ہے ۔ اِس کے بعد اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا  فقط اُس  کا گوشت  کھانا حرام ہے یا اُس کی کھال اور دوسرے متعلقات کا استعمال بھی ممنوع ہے؟ پھر مزید  سوال یہ ہے کہ اُس کے بعض اجزا کو اگر دوا کے طور پر استعمال کیا جائے یا  اُن سے جلاٹین  حاصل کی جائے  تو  کیا اُس پر بھی حرمت کا اطلاق ہو گا؟ اِسی طرح  دورِ حاضر میں یہ سوال  بھی سامنے آیا ہے   کہ اگر اُس کے دل کی انسانی جسم میں پیوند کاری کی جائے تو  کیا  شرعی طور پراُسے جائز سمجھا جائے گا؟ یہ اور اِس طرح کے بعض دوسرے سوالات، ظاہر ہے کہ تہذیب و تمدن کے معاملات میں تبدیلی سے پیدا ہوئے ہیں۔ اِن کے جواب اُس وقت تک نہیں دیے جا سکتے، جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ  سؤر کے گوشت کی حرمت کا حکم کس علت پر مبنی ہے۔

علت کا تعین

شریعت  کےکسی حکم میں علت کی تعیین عموماً دو طریقوں سے کی جاتی ہے:

ایک ، لفظوں   کے ذریعے سے،

دوسرے، استقرا کے ذریعے سے ۔

تفصیل درجِ ذیل ہے:

لفظوں کے ذریعے سے علت کا تعین

بعض  موقعوں پر حکم کی علت  حکم کے ساتھ ہی لفظاً مذکور  ہوتی ہے ۔  اِس مقصد کے لیے کسی جگہ حروف تعلیل[102] کے ساتھ علت کو  بیان کر دیا جاتا ہے اور کسی جگہ یہ جملے کے دروبست میں واضح کر دی جاتی ہے۔ اِس طریقے پر  علت کی تعیین کی ایک مثال محرماتِ نکاح ہیں ۔ 

سورۂ  نساء (4) کی آیات   22 تا 24 میں بعض عورتوں سے نکاح کو ممنوع ٹھہرایا ہے تو ممانعت کی علت  ’اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً‘ (بے شک، یہ کھلی ہوئی بے حیائی ہے) کے الفاظ میں واضح  فرما دی ہے ۔ ارشاد ہے:

وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَسَآءَ سَبِیْلًا. حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَبَنٰتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآءِکُمْ وَرَبَآءِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآءِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ، فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ، وَحَلَآئِلُ اَبْنَآءِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ.

 

’’اور جن عورتوں سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں، اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا، سو ہو چکا۔ بے شک، یہ کھلی ہوئی بے حیائی ہے، سخت قابل نفرت بات ہے اور نہایت برا طریقہ ہے۔ تم پر تمھاری مائیں، تمھاری بیٹیاں، تمھاری بہنیں، تمھاری پھوپھیاں، تمھاری خالائیں، تمھاری بھتیجیاں اور تمھاری بھانجیاں حرام کی گئی ہیں اور تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اِس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی۔ اِسی طرح تمھاری بیویوں کی مائیں حرام کی گئی ہیں اور تمھاری بیویوں کی لڑکیاں حرام کی گئی ہیں، جو تمھاری گودوں میں پلی ہیں ــــ اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے خلوت کی ہو، لیکن اگر خلوت نہ کی ہو توتم پرکچھ گناہ نہیں ــــ اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی۔ اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ہی نکاح میں جمع کرو، مگر جو ہو چکا، سو ہو چکا۔اللہ یقیناً بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، جو کسی کے نکاح میں ہوں، الاّ یہ کہ وہ تمھاری ملکیت میں آجائیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے، جس کی پابندی تم پر لازم کی گئی ہے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ متذکرہ خواتین سے ازدواجی تعلق  اِس لیے ممنوع ہے کہ  ایسا کرنا  صریح بے حیائی ہے۔ استاذِ گرامی نے  اِس حکم کی علت کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’یہ اُن عورتوں کی فہرست ہے  جن سے نکاح ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اِس کی تمہید سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح کی حرمت سے اٹھائی گئی ہے اور خاتمہ اُن عورتوں سے نکاح کی ممانعت پر ہوا ہے جو کسی دوسرے کے عقد میں ہوں۔ اِس تمہید و خاتمہ کے درمیان جو حرمتیں بیان ہوئی ہیں، وہ رشتہ داری کے اصول ثلاثہ، یعنی نسب، رضاعت اور مصاہرت پر مبنی ہیں۔

عرب جاہلی کے بعض طبقوں میں رواج تھا کہ باپ کی منکوحات بیٹے کو وراثت میں ملتی تھیں اور بیٹے اُنھیں بیوی بنا لینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔ قرآن نے فرمایا کہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی، نہایت قابل نفرت فعل اور انتہائی برا طریقہ ہے، لہٰذا اِسے اب بالکل ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ اِس سے پہلے جو کچھ ہو چکا، سو ہو چکا، لیکن آیندہ کسی مسلمان کو اِس فعل شنیع کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔

یہی معاملہ اُس عورت کا ہے، جو کسی شخص کے نکاح میں ہو۔ ...

...ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھانجی اور بھتیجی ؛ یہی وہ سات رشتے ہیں جن کی قرابت اپنے اندر فی الواقع اِس نوعیت کا تقدس رکھتی ہے کہ اُس میں جنسی رغبت کا شائبہ بھی ہو تو اُسے فطرت صالحہ کسی طرح برداشت نہیں کر سکتی۔...

...یہی تقدس رضاعی رشتوں میں بھی ہے۔

...نسب اور رضاعت کے بعد وہ حرمتیں بیان ہوئی ہیں جو مصاہرت پر مبنی ہیں۔ اِس تعلق سے جو رشتے پیدا ہوتے ہیں، اُن کا تقدس بھی فطرتِ انسانی کے لیے ایسا واضح ہے کہ اُس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘(میزان 413 – 416 )  

استقرا کے ذریعے سے علت کا تعین

بعض احکام کے ساتھ اُن کی علت لفظاً مذکور نہیں ہوتی ۔ وہ اُن میں مقدر ہوتی ہے، جسے کلام کے سیاق و سباق، جملوں کے درو بست، بیان کے متعلقات  و محذوفات  اور  حکم کی تفصیلات سے اخذ کیا  جاتا ہے۔  منطق کی اصطلاح میں اِس اخذ و استنباط کو’استقرا‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اِس طریقے کو  عدت کے حکم  سے سمجھا جا سکتا ہے۔  

سورۂ طلاق میں  مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جب  اُن کے مرد اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو اُس موقع پر عدت کا حساب کر لیں۔  ارشاد ہے:

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ.(65:1)

’’اے نبی، تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو تواُن کی عدت کے حساب سے طلاق دو،اور عدت کا زمانہ ٹھیک ٹھیک شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمھارا پروردگار ہے ۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ طلاق  عدت، یعنی مقررہ مدت کا حساب کر کے دینی چاہیے۔دیکھیے،  اِن الفاظ میں حکم تو پوری طرح واضح ہے، مگر یہ بیان نہیں ہوا کہ اِس  مدت  کو مقرر کرنے کا سبب کیا ہے یا کس ضرورت کے تحت یہ ہدایت دی گئی ہے؟ اِس کو جاننے کے لیے جب ہم عدت سے متعلق جملہ احکام پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اِس کا سبب استبراے رحم ہے، یعنی  اِس سے مقصود یہ ہے کہ عورت کے پیٹ کی صورتِ حال پوری طرح واضح ہو جائے  اور حمل کے بارے میں کوئی اشتباہ باقی نہ رہے۔[103] 

یہ علت کیسے متعین ہوئی ہے؟ اِس کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

1۔عام عورتوں کے لیے عدت کی مدت تین حیض مقرر فرمائی ہے۔  حیض، ظاہر ہے کہ وہ علامت ہے،  جو عورت کے حاملہ ہونے یا نہ ہونے کو واضح کرتی ہے۔[104]ارشاد ہے:

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓءٍ.(البقرہ 2: 228)

’’اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار کرائیں۔‘‘

2۔  عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ عدت کے دوران میں حمل کو چھپانے کی کوشش نہ کریں۔ اِس ہدایت کاتعلق بھی اصلاً حمل سے ہے۔ فرمایا ہے:

وَلَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِھِنَّ، اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ.(البقرہ 2: 228)

’’اور اگر وہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو اُن کے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ اللہ نے اُن کے پیٹ میں پیدا کیا ہے، اُسے چھپائیں۔“

3۔ وہ خواتین  جن کے حیض کاسلسلہ   منقطع ہو چکا ہے یا جو طبعی طور پر اِس سے محروم ہیں،  اُن  کی عدت  اُس صورت  میں تین ماہ  مقرر کی ہے، جب مدخولہ ہونے کے باعث حمل کا احتمال پایا جاتا ہو۔  اِس  میں بھی فیصلہ کن امر کی حیثیت  حمل  کو حاصل ہے۔ ارشاد  فرمایاہے:

وَالِّٰٓیۡٔ یَئِسۡنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآءِکُمْ، اِنِ ارْتَبْتُمْ، فَعِدَّتُھُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْھُرٍ وَّالِّٰٓیۡٔ لَمْ یَحِضْنَ.

(الطلاق 65: 4)

’’تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود)  حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔‘‘

یہاں ’اِنِ ارْتَبْتُمْ‘  (اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے)کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر حمل کا اشتباہ نہیں ہے تو پھر عدت نہیں ہو گی۔

4۔ عورت اگر حاملہ ہے  تو اُس کے لیے عدت کی مدت وضع حمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وضع حمل تک کا دورانیہ  اگرتین (3) ماہ سے کم ہے تو مدت کم ہو گی اور تین (3) ماہ سے زیادہ ہے تو  مدت زیادہ ہو گی۔ گویا اِس صورت میں یہ مدت چند دن کی بھی ہو سکتی ہے اور نو (9) ماہ کی بھی ہو سکتی ہے۔  ارشاد ہے:

وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ. (الطلاق 65: 4)

’’اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل سے فارغ ہو جائیں۔‘‘

5۔ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اِس میں بھی  اصل علت کی حیثیت استبراے رحم کو حاصل ہے۔ اِسے تین حیض اِس لیے مقرر نہیں کیا گیا کہ موت طلاق کی طرح انسان کا اختیاری معاملہ نہیں ہے۔[105]

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ بعض صورتوں میں عدت کی مدت تین حیض ہے، بعض میں تین ماہ ہے، بعض میں چار ماہ دس دن ہے، بعض میں وضع حمل ہے اور بعض میں کوئی مدت نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ صورتوں کا یہ اختلاف مدت پر  اثر انداز ہوکر اُسے متغیر  کیوں کر دیتا ہے؟جواب یہ ہے کہ اِس کا سبب امکانِ حمل کو معلوم کرنا ہے۔ اِس طرح یہ بات پوری طرح مبرہن ہو جاتی ہے کہ عدت کی علت استبراے رحم یا وضع حمل ہے۔

-

اشتراکِ علت  

متعدد احادیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  قرآنِ  مجید میں مذکور احکام کی علتوں کو بنیاد بنا کر  بعض دیگر صورتوں پر بھی احکام کا اطلاق فرمایا ہے۔ اِس کی ایک مثال یہ  ہے کہ قرآنِ مجید نے جن خواتین سے نکاح کو حرام ٹھہرایا ہے، اُن میں رضاعی مائیں اور رضاعی بہنیں بھی شامل ہیں۔سورۂ نساء میں ہے :

وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ، وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ.(4: 23)

’’اور تمھاری وہ مائیں بھی حرام ہیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اِس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی ۔‘‘

الفاظ سے واضح ہے کہ اِس حکم کی علت رضاعت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ  دودھ پلانے سے ایک عورت کو ماں کی تقدیس حاصل ہو جاتی ہےاور اُس سے نکاح اُسی طرح فاحشہ کے دائرے میں  آ جاتا ہے، جس طرح  حقیقی ماں کے ساتھ آتا ہے۔  پھر جیسے ہی  اُس کو رضاعی ماں کا درجہ حاصل ہوتا ہے تو  اُس کی بیٹی، یعنی دودھ شریک لڑکی بہن کا درجہ حاصل کر لیتی ہے اور  اِس بنا پر حرمت کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اتنی ہی بات بیان ہوئی ہے۔ اب دیکھیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  رضاعت کی اِسی علت کو بنیاد بنایا ہے اور رضاعی ماں کے تعلق سے قائم ہونے والے دیگر رشتوں کو بھی حرام ٹھہرا دیا ہے اور اِس امر کو بہ طورِ اصول ارشاد فرمایا ہے :

یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ.(الموطا ، رقم 1887)

’’ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے۔‘‘

چنانچہ استاذِ گرامی  نے  لکھا ہے:

’’... اِس (رضاعی تعلق)سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی تعلق سے حرام ہوتے ہیں ۔ قرآن کا مدعا یہی ہے ، ... اِس میں دیکھ لیجیے ، رضاعی ماں کے ساتھ رضاعی بہن کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ بات اگر رضاعی ماں ہی پر ختم ہو جاتی تو اِس میں بے شک ، کسی اضافے کی گنجایش نہ تھی ، لیکن رضاعت کا تعلق اگر ساتھ دودھ پینے والی کو بہن بنا دیتا ہے تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ رضاعی ماں کے دوسرے رشتوں کو بھی یہ حرمت لازماً حاصل ہو۔ دودھ پینے میں شراکت کسی عورت کو بہن بنا سکتی ہے تو رضاعی ماں کی بہن کو خالہ ،اُ س کے شوہر کو باپ ، شوہر کی بہن کو پھوپھی اور اُس کی پوتی اور نواسی کو بھتیجی اور بھانجی کیوں نہیں بنا سکتی ؟ لہٰذا یہ سب رشتے بھی یقیناًحرام ہیں ۔‘‘ (میزان 416)

 اِسی طرح دیکھیے کہ نکاح کی وہ حرمتیں جو قرآن نے مصاہرت کے پہلو سے بیان کی ہیں، اُن میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور اِس کے لیے ’وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ دو بہنیں اگر ایک مرد کے ساتھ   بہ یک وقت رشتۂ ازدواج  میں منسلک ہوں گی تو نکاح کی تقدیس مجروح ہو گی اور وہ فاحشہ کے دائرے میں چلا جائے گا۔   گویا حکم کی علت دو حقیقی رشتوں  کا  ایک نکاح میں اجتماع ہے۔ اب  یہی صورت اُس وقت  بھی پیدا ہو جاتی ہے ، جب پھوپھی  اور اُس کی بھتیجی  اور خالہ اور اُس کی بھانجی کو   ایک نکاح میں جمع کر دیا جائے۔  اِسی بنا  پر نبی صلی للہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع نہیں کیا جائے گا۔استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’...قرآن نے ’بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘ہی کہا ہے، لیکن صاف واضح ہے کہ زن و شو کے تعلق میں بہن کے ساتھ بہن کو جمع کرنا اُسے فحش بنا دیتا ہے تو پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع کرنا بھی گویا ماں کے ساتھ بیٹی ہی کو جمع کرنا ہے۔ لہٰذا قرآن کا مدعا، لاریب یہی ہے کہ ’أن تجمعوا بین الأختین وبین المرأۃ وعمتھا وبین المرأۃ وخالتھا‘۔ وہ یہی کہنا چاہتا ہے، لیکن ’بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘کے بعد یہ الفاظ اُس نے اِس لیے حذف کر دیے ہیں کہ مذکور کی دلالت اپنے عقلی اقتضا کے ساتھ اِس محذوف پر ایسی واضح ہے کہ قرآن کے اسلوب سے واقف اُس کا کوئی طالب علم اِس کے سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

لا یجمع بین المرأۃ وعمتھا ولا بین المرأۃ وخالتھا.

(الموطا، رقم 1600)

’’عورت اور اُس کی پھوپھی ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہے، نہ عورت اور اُس کی خالہ۔‘‘‘‘

(میزان 418)

ـــــــــــــــــــــــــــــ