استحالہ (Transformation) کے معنی قلبِ ماہیت کے ہیں۔ یعنی ایک چیز اپنی ہیئت یا ساخت یا خاصیت بدل کر کوئی دوسری صورت اختیار کر لے۔ اِس کے لیے ’تحول‘ کی اصطلاح بھی رائج ہے۔ اِس طرح کے معاملے میں حلت و حرمت کا فیصلہ علت کی بنا پر کیا جاتا ہے۔اِس کی ایک نمایاں مثال شراب کا سرکے میں بدل جانا ہے۔ اِس کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوعیت اور خاصیت کی تبدیلی سے کیا حکم بھی تبدیل ہو جائے گا اور شراب کی بدلی ہوئی صورت حرام نہیں رہے گی؟ اِس کا جواب اثبات میں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ تبدیل شدہ صورت میں نشے کی وہ علت برقرار نہیں رہی، جو حرمت کا سبب تھی۔ چنانچہ فقہا کا یہ عام موقف ہے:
إذا انقلبت بنفسها فقد زالت علة تحريمها من غير علة خلفتها فطهرت.(الشرح الكبير 10/345) | ’’اگر وہ ازخود تبدیل ہوجائے تو اِس کا مطلب یہ کہ اُس کی حرمت کی علت باقی نہیں رہی، گویا وہ بعد میں پیدا ہونے والی علت سے تبدیل ہوگئی۔ چنانچہ وہ پاک ہے۔‘‘ |
وقال أبو حنيفة:...لأن علة تحريمها زالت بتخليلها فطهرت. (المغنی 12/517) | ’’امام ابوحنیفہ نے کہا ہے: ... کیونکہ سرکہ بننے کی وجہ سے اُس کی حرمت کی علت ختم ہو گئی ہے، لہٰذا وہ پاک ہے۔‘‘ |
وعلى هذا الأصل فطهارة الخَمر بالاستحالة على وَفْق القياس، فإنها نجسة لوصف الخَبَث، فإذا زال الموجِبُ زال الموجَبُ، وهذا أصل الشريعة في مصادرها ومواردها (بل) وأصل الثواب والعقاب، وعلى هذا فالقياس الصحيح تعدية ذلك إلى سائر النجاسات إذا استحالت. (اعلام الموقعين 3/183) | ’’اِس اصل کی بنیاد پر قیاس کے موافق استحالہ کے ذریعے شراب کی طہارت کا حکم ہے، کیونکہ شراب کی حرمت کی علت خبث کی صفت تھی، جو اُس کےنجس ہونے کا سبب تھی۔ لہٰذا جب اُس سے (خبث کا سبب بننے والا) موجِب ختم ہوگیا تو اُس کا موجَب (نتیجہ، یعنی نجس ہونا ) بھی ختم ہوگیا ، اور شریعت کے مصادر میں یہی اصل ہے، بلکہ ثواب اور سزا کی اصل بھی یہی ہے ؛ اور اِسی بنا پر یہ قیاس صحیح ہوگا کہ جب دیگر نجاستوں کی ماہیت و کیفیت ، استحالہ سے تبدیل ہوجائے تو اِس اصل کو اُن نجاستوں کے ضمن میں اپنایا جائے۔‘‘ |
اِس وضاحت کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رفع حرمت کا اطلاق اُس سرکے پر ہو گا، جو قدرتی طور پر از خود شراب سے سرکہ بنا ہے[109] یا اُس پر جسے لوگوں نے کسی عمل سے سرکے میں تبدیل کیا ہے[110] یا دونوں پر؟ یہ ایک عقلی سوال ہے، تاہم اِس کی اہمیت اِس لیے زیادہ ہےکہ اِس نوعیت کے ایک معاملے کا ذکر احادیث میں بھی آ گیا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا وہ شراب کو سرکے میں تبدیل کر کے اُسے استعمال کر سکتے ہیں تو آپ نے اِس کاجواب نفی میں دیا:[111]
كان في حجر أبي طلحة يتامى، فابتاع لهم خمرًا، فلما حرمت الخمر، اتى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فقال: اجعله خلًا؟ قال:”لا“، قال: فاهراقه. (احمد، رقم 13732) | ’’حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیرِ پرورش تھے، اُنھوں نے اُن کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہو گئی تو اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اُسے سرکہ نہیں بنا سکتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: نہیں۔ چنانچہ اُنھوں نے اُسے بہا دیا۔‘‘ |
فقہا نے بجا طور پر اِس روایت کے حکم کی تعمیم نہیں کی اور علی الاطلاق شراب کو سرکے میں بدلنے کی ممانعت کے حکم کا استخراج نہیں کیا ۔ چنانچہ اُنھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ کی درجِ ذیل روایت سے استدلال کیا ہے، جس سے سرکے کی حلت مجرد طور پر ثابت ہوتی ہے:[112]
أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم سأل أهله الادم، فقالوا: ما عندنا إلا خل، فدعا به فجعل يأكل به، ويقول:”نعم الادم الخل، نعم الادم الخل“.(مسلم، رقم 5352) | ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن طلب فرمایا۔ اُنھوں نے بتایا: ہمارے پاس (اِس وقت) صرف سرکہ دستیاب ہے۔ آپ نے اُس کو منگوا کر اُس سے کھانا تناول فرمایا۔(اِس دوران میں) آپ فرماتے رہے: سرکہ کتنا عمدہ سالن ہے، سرکہ کتنا عمدہ سالن ہے!‘‘ |
اِس تفصیل سے درجِ ذیل نکات متعین ہوتے ہیں:
*استحالہ ایک امرِ واقعی ہے، احکام شریعت کے اطلاقات میں اِسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
*کسی حرام شے کی استحالت کی صورت میں حرمت کےتسلسل کوقائم بھی رکھا جا سکتا ہے اور اُسے ملتوی یا منقطع بھی کیا جا سکتا ہے۔
*تسلسل، انقطاع یا التوا کا فیصلہ علت کی بنیاد پر ہوگا۔ علت موجود ہو گی تو حرمت بھی برقرار رہے گی، بہ صورتِ دیگر ملتوی یا منقطع ہو جائے گی۔
*علت کی موجودگی کا تعین عقل عام ، علم و فن اورتجربے اور مشاہدے کی بنا پر کیا جائے گا۔ چنانچہ ماہرین فن سے دریافت کیا جائے گا کہ مثال کے طور پر شراب میں نشہ ختم ہو گیا ہے اور وہ سرکے میں تبدیل ہو گئی ہے۔
*استحالہ کے اِس اصول کا اطلاق حلال اور حرام، دونوں طرح کی اشیا پر ہو گا۔ یعنی جس طرح حرام خاصیت بدلنے سے حلال میں شمار ہو گا، اُسی طرح اگر حلال بھی اپنی خاصیت بدل کر کسی حرام خاصیت کا حامل ہو جاتا ہے تو اُس کی حلت بھی حرمت میں تبدیل ہو جائے گی۔
*جانوروں کے مدفن پر اگرکوئی پھل دار درخت اگ آتا ہے یا بول و براز کو کھاد کے طور پر استعمال کر کے اناج کی فصل اگائی جاتی ہے توایسی تمام صورتوں کا اعتبار متغیر الحال پیداوار کی بنا پر کیا جائے گا۔ اُس میں اگر کوئی ممنوع علت موجود نہیں ہے تو اُسے مباح سمجھا جائے گا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ