کھانے پینے کی چیزوں میں دین نے پاک اور نجس چیزوں کی کوئی فہرست قائم نہیں کی۔ اِس کے بجاے یہ اصولی ہدایت دی ہے کہ پاکیزہ چیزوں کو کھانا جائز ہے اور غیر پاکیزہ چیزوں کو کھانا ممنوع ہے۔اِس مقصد کے لیے اُس نے’اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ‘ (تمھارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) کا قاعدہ بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
یَسْئَلُوْنَکَ، مَاذَآ اُحِلَّ لَھُمْ؟ قُلْ: اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ. (المائدہ 5: 4) | ’’وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا چیز حلال ٹھیرائی گئی ہے؟ کہہ دو: تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ ‘‘ |
’طیبات‘’خبائث‘کا ضد ہے۔ اِس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں، جو اپنے مزاج اور اپنی سرشت کے لحاظ سے انسانیت کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں اور انسان کا ذوقِ سلیم جن کو کھانے کے لیے موزوں سمجھتا ہے۔[74]
’خبائث‘ سے مراد، اِس کے برعکس، وہ تمام چیزیں ہیں، جو اپنے مزاج اور اپنی سرشت کے لحاظ سے انسانیت کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتیں اور انسان کا ذوقِ سلیم جن کو کھانے کے لیے نا موزوں سمجھتا ہے۔
سورۂ مائدہ کےاِس مقام اور قرآن میں اِسی موضوع کے بعض دیگر مقامات سے درجِ ذیل نکات واضح ہوتے ہیں:
اولاً، دین نے طیبات کو حلا ل قرار دیا ہے۔ اللہ نے اِنھیں انسانوں کے خور و نوش کے لیے پیدا کیا ہے، اِس لیے اِنھیں پوری رغبت سے کھانا چاہیے اور پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ باطل تصورات اور خود ساختہ اوہام کی بنا پر اِنھیں اپنے لیے حرام نہیں کر لینا چاہیے۔ ارشاد ہے:
فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ. (النحل 16: 114) | ’’سو (اُن کے اِس انجام سے سبق لو اور) اللہ نے جو حلال اور پاکیزہ چیزیں تمھیں دے رکھی ہیں، اُنھیں کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو، اگرتم اُسی کی پرستش کرتے ہو۔ ‘‘ |
ثانیاً، جو چیزیں طیبات نہیں ہیں،وہ خبائث کے زمرے میں آتی ہیں۔ اِنھیں شریعت نے حرام ٹھہرایا ہے۔ قرآنِ مجید نے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کے منصبی اوصاف میں ایک وصف یہ بیان کیا ہے کہ آپ طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہراتے ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ نے افراط و تفریط کے رویے کی بنا پر جن پاکیزہ چیزوں کو حرام کر لیا تھا ، اُنھیں اللہ کا رسول حلال قرار دیتا ہے اور جو ناپاک چیزیں وہ حلال کر چکے تھے، اُنھیں حرام ٹھہراتا ہے۔ سورۂ اعراف میں ہے:
وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ. (7: 157) | ’’اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام ٹھیراتا ہے اور اُن کے اوپر سے اُن کے وہ بوجھ اتارتا اور بندشیں دور کرتا ہے جو اب تک اُن پر رہی ہیں۔‘‘ |
ثالثًا، طیبات کے معنی پاکیزہ چیزوں کے ہیں، جب کہ خبائث سے مراد ناپاک چیزیں ہیں۔ اِن الفاظ ہی سے واضح ہے کہ کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کی وجہ اُس کا پاک یا ناپاک ہونا ہے۔ استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:
’’دین ہر پہلو سے نفس انسانی کا تزکیہ چاہتا ہے،اِس لیے اُسے اِس بات پر ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ باطن کی تطہیر کے ساتھ کھانے اور پینے کی چیزوں میں بھی خبیث و طیب کا فرق ہر حال میں ملحوظ رہنا چاہیے۔‘‘(میزان 632)
چنانچہ حلال و حرام میں جس چیز کو علت کی حیثیت حاصل ہے، وہ پاکی اور ناپاکی ہے۔ اِسی بنا پر اشیاے خور و نوش کی حلت و حرمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔
رابعاً، طیبات اور خبائث کے الفاظ تعمیم پر دلالت کرتے ہیں۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت نے اِن کی تعیین و تخصیص نہیں کی، بلکہ لوگوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ اپنی عقل و فطرت کی رہنمائی سے طیبات و خبائث کو از خود متعین کر لیں۔استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:
’’اِن طیبات وخبائث کی کوئی جامع ومانع فہرست شریعت میں کبھی پیش نہیں کی گئی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت اِس معاملے میں بالعموم اُس کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ کیا چیز طیب اور کیا خبیث ہے۔‘‘(میزان 632)
خامساً، انسانی تاریخ ،بالعموم اور اقوامِ انبیا کی تاریخ، بالخصوص، اِس امر کی شہادت دیتی ہے کہ انسان کی فطرت نے ہمیشہ اُس کی درست رہنمائی کی ہے۔ چنانچہ اُس نے چیر پھاڑ کرنے والے خوں خوار جانوروں کوکھانا کبھی پسند نہیں کیا۔ یہ زمین کی سطح پر رہنے والے ہوں، پانی میں تیرنے والے ہوں یا ہوا میں اڑنے والے ہوں، جن جانوروں میں بھی اُسے درندگی کی صفات نظر آئی ہیں، اُن سے اجتناب کیا ہے۔ اِسی طرح وہ جانور جو فقط سواری اور بار برداری کا کام دیتے ہیں، اُنھیں بھی وہ، بالعموم نہیں کھاتا۔ چنانچہ وہ گھوڑوں، گدھوں، خچروں سے نقل و حمل کا کام لیتا ہے، اُنھیں دستر خوان کی زینت بنانے سے اجتناب کرتا ہے۔ وہ جانور جو گندگی پر پلتے ہیں، اُنھیں کھانے سے بھی اُس کی فطرت گریز کرتی ہے۔ سانپ، بچھو جیسے زہریلے اور موذی حشرات الارض کو بھی وہ اپنی غذا کا حصہ نہیں بناتا۔ جانوروں کے بول و براز کو وہ غلاظت سمجھتا ہے اور دستر خوان کو اُن سے دور رکھتا ہے۔ جانوروں کے علاوہ دیگر اشیا بھی اگر طبیعت میں فساد پیدا کرنے والی یا عقل و فطرت کو ماؤف کرنے والی ہوں تو اُنھیں بھی وہ طیبات میں شمار نہیں کرتا ۔ استاذِ گرامی بیان کرتے ہیں:
’’وہ ہمیشہ سے جانتا ہے کہ شیر ،چیتے ،ہاتھی،چیل، کوے ،گد ،عقاب ، سانپ ،بچھو اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہیں۔اُسے معلوم ہے کہ گھوڑے اور گدھے دسترخوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اِن جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ نشہ آور چیزوں کی غلاظت کو سمجھنے میں بھی اُس کی عقل عام طور پر صحیح نتیجے پر پہنچتی ہے۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے اِس معاملے میں انسان کو اصلاً اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔‘‘[75] (میزان 633)
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خور ونوش کے حلال و حرام کا حکم اطلاقاً نہیں، بلکہ اصولاً اور تفصیلاً نہیں، بلکہ اجمالاً دیا ہے۔ اطلاق اور تفصیل کے لیے اُس نے انسانی فطرت کی رہنمائی کو کافی سمجھا ہے۔