مویشی کی قسم کے چوپایوں کی حلت

مویشی کی قسم کے چوپایوں کا شمار طیباتِ فطرت میں ہوتا ہے۔ اِن  میں اونٹ، گاے، بھیڑ، بکری اور اِن کے قبیل کے دوسرے جانور شامل ہیں۔ انسان اِن کے دودھ اور گوشت سے ہمیشہ مستفید ہوتا  رہا ہے۔ نذر اور  قربانی کے لیے بھی یہی جانور استعمال ہوتے ہیں۔    زمانۂ رسالت میں لوگ  اِن کی بعض نوعیتوں  کو ممنوع خیال کرتے تھے۔ اِس کا  سبب ظنون و   اوہام بھی تھے اور یہود و نصاریٰ کی مذہبی روایات بھی   تھیں۔  قرآنِ مجید نے اِس طرح کی  باطل  اور غیر مطلوب پابندیوں کو ختم کرنے کا حکم دیا اور ’بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ‘ (چوپایوں)کی حلت کو  بہ طورِ اصول واضح فرمایا ۔ سورۂ  مائدہ میں ارشاد ہے:

اُحِلَّتۡ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنۡعَامِ اِلَّا مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ.( 5: 1) 

’’ تمھارے لیے مویشی کی قسم کے تمام چوپایے حلال ٹھیرائے گئے ہیں، سواے اُن کے جو تمھیں بتائے جا رہے ہیں۔ ‘‘

’اَنْعَام‘ سے مراد پالتو مویشی ہیں۔ اِس کے ساتھ ’بَہِیْمَۃ‘  کی اضافت سے  انعام کے قبیل کے جنگلی چوپایے بھی  حکم میں شامل ہو گئے ہیں۔ چنانچہ  اِسی بنا پر ہرن،  جنگلی بکرے، نیل گاے وغیرہ  کو حلال جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔  امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

’’’اَنْعَام‘ کا لفظ عربی میں بھیڑ بکری، اونٹ اور گاے بیل کے لیے معروف ہے۔ اِس کی تصریح خود قرآن نے سورۂ انعام کی آیات 143، 144میں فرما دی ہے۔ ’بہیمۃ‘ کا لفظ اِس سے عام ہے۔ اِس میں انعام کی نوع کے دوسرے چوپایے بھی داخل ہیں۔ ’انعام‘ کی طرف اِس کی اضافت سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ اونٹ، گاے، بکری اور اِس قبیل کے سارے ہی چوپایے، خواہ گھریلو ہوں یا وحشی، تمھارے لیے جائز ٹھہرائے گئے۔ ’’جائز ٹھہرائے گئے‘‘ سے مطلب یہ ہے کہ وہ پابندیاں جو تم نے اپنے اوہام کی بنا پر عائد کی ہیں، وہ بھی ختم اور جو پچھلے صحیفوں کی روایات کی بنا پر تھیں، وہ بھی کالعدم۔‘‘(تدبر قرآن 2/452)