ـــــــ مقدمہ2 ـــــــ
عبادات، تطہیر ِبدن، تطہیرِ خورو نوش اورتطہیر ِاخلاق کے احکام میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے، وہ خور و نوش اور اخلاقیات کے دائروں سے متعلق ہیں۔ یہ وہ آلایشیں ہیں،جو انسانوں کے اعمال و خصائل اور اکل و شرب کو آلودہ کرنے والی ہیں۔ اِنھی کے لیے شریعت میں ’حرام‘ کی اصطلاح مستعمل ہے۔ اِن سے روکنے کا مقصد نفوس کو اِن کی آلودگی سے محفوظ کر کے اُس جنت کا اہل بنانا ہے، جو پاک بازوں کے لیے خاص ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ اگر انسان بڑے ممنوعات کے ارتکاب، یعنی کبیرہ گناہوں سے خود کو بچا لیں تواللہ تعالیٰ چھوٹے ممنوعات کے ارتکاب، یعنی صغیرہ گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف کر دے گا اور اُنھیں جنت کی صورت میں عزت و شرف کا مقام عطا فرمائے گا:
اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا. (النساء:31:4) | ’’(اِن گناہوں سے بچو، اِس لیے کہ) تمھیں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے، اُن کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم بچتے رہے تو تمھاری چھوٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی اِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’اِس آیت میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ خدائی گرفت سے بچنے اور اُس کی جنت میں داخل ہونے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ اپنے آپ کو بڑی فراخ دلی سے الاؤنس دیتے چلو، بلکہ اُس کا راستہ یہ ہے کہ جن چیزوں سے اُس نے روکا ہے، اُن کے کبائر سے پرہیز رکھو۔ اگر کبائر سے پرہیز رکھو گے تو صغائر کو وہ اپنے فضل و رحمت سے خود دور فرما دے گا، ورنہ کبائر و صغائر، سب تمھارے اعمال نامے میں درج ہوں گے اور سب کا تمھیں حساب دینا ہو گا ۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 287)
تطہیرِ اخلاق کے لیے قرآنِ مجید نے پانچ (5)چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ چیزیں فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت ہیں۔ جہاں تک تطہیرِ خور و نوش کا تعلق ہے تو اِس مقصد سے طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کا اصول قائم کیا ہے۔ یعنی اِن کی کوئی جامع و مانع فہرست پیش کرنے کے بجاے عقل و فطرت کی رہنمائی کو کافی سمجھا ہے، کیونکہ انسان اِن کی رہنمائی میں کسی تردد کے بغیر یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کون سی چیز طیب اور کون سی خبیث ہے۔ اِن میں سے چار (4) چیزوں کے بارے میں البتہ ، خود فیصلہ کر کے اُنھیں خبائث کے دائرے میں شامل کر دیا ہے۔ یہ چیزیں مردار، خون، سؤر کاگوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ہیں۔ اِن کی تعیین کا سبب یہ ہے کہ اِن کے بارےمیں یہ اشتباہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اِنھیں طیب سمجھ کر کھا لیا جائے یا خبیث سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔
خلاصۂ بحث یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے کل نو (9) چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اِن میں سے پانچ (5) کا تعلق اخلاقیات سے اور چار(4) کا خور و نوش سے ہے۔ اِن دونوں نوعیت کی حرمتوں کا تعین کرتے ہوئے ’اِنَّمَا‘ کا کلمۂ حصر استعمال کیا گیاہے، جس کے معنی ’صرف‘، ’محض‘ اور ’فقط‘ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت نے فقط اِنھی چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، اِن کے علاوہ کسی اور چیز کو حرام قرار نہیں دیا۔ اِس حصر کا لازمی تقاضا یہ ہے :
اولاً، یہ تسلیم کیا جائے کہ محرماتِ شریعت یہی نو (9) ہیں۔ اِن میں نہ کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ کوئی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ثانیاً، قرآن و حدیث میں درج دیگر حرمتوں کو تطہیر ِاخلاق اور تطہیرِ خور و نوش کے احکام سے منسلک کیا جائے ۔ اخلاقی جرائم فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت سے متعلق ہوں اور کھانے پینے کے ممنوعات کو خبائث کے ذیل میں شمار کیا جائے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ