ـــــــ مقدمہ 4 ـــــــ
اللہ نے دین سازی کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ اللہ کا رسول بھی جو دین پیش کرتا ہے، وہ اللہ کے اِذن سے اور اُس کی ہدایت کے مطابق پیش کرتا ہے۔ چنانچہ کسی انسان کا شریعت سازی کے خدائی فیصلے کو اپنے ہاتھ میں لینا، اللہ کے حریم میں مداخلت کے مترادف ہے۔ اِس کی نوعیت اللہ پر جھوٹ باندھنے کی ہے۔ یعنی جب کسی سند، کسی دلیل کے بغیر حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرایا جائے تو وہ گویا خود ساختہ قول کو اللہ سے منسوب کرنے کی جسارت ہے۔ سورۂ اعراف (7) میں ’قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ‘ (اِن سے پوچھو، کس نے حرام کر دیا؟) کےاسلوب سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اِس طرح کی جسارت ہر گز گوارا نہیں ہے:
قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ. (7: 32) | ’’اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ ‘‘ |
چنانچہ اُس نے اِس سے سختی سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ اِس کے مرتکبین ہر گز فلاح نہیں پائیں گے:
وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ.(النحل 16: 116) | ’’تم اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اِس طرح اللہ پر جھوٹ باندھنے لگو۔ یاد رکھو، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں گے، وہ ہرگز فلاح نہ پائیں گے۔‘‘ |
حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینااپنی طرف سے شریعت تصنیف کرنا ہے۔ اِسی کو اصطلاح میں ’بدعت‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ مذہبی پیشواؤں کا عام وتیرہ ہے۔ یہود و نصاریٰ کی تاریخ شاہد ہے کہ اُن کے علما نے اِس جرم سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ اُن کے فریسی اور احبار اور پادری اور راہب ہمیشہ اِس کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ اُن کے اِسی طرزِ عمل کو قرآنِ مجید نے فقیہوں اور راہبوں کو رب بنانے سے تعبیر کیا ہے۔ سورۂ توبہ میں ارشاد فرمایا ہے:
اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ. (9: 31) | ’’اللہ کے سوا اُنھوں نے اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب بنا ڈالا ہے اور مسیح ابن مریم کوبھی۔ دراں حالیکہ اُنھیں ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ پاک ہےاُن چیزوں سے جنھیں وہ شریک ٹھیراتے ہیں ۔‘‘ |
استاذِ گرامی نے اِس آیت کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’یعنی وہی حیثیت دے دی ہے، جو رب العٰلمین کے لیے ماننی چاہیے۔ چنانچہ اُن کے لیے تحلیل و تحریم کے خدائی اختیارات مان کر اُن کے ہر حکم اور ہر فیصلے کو اُسی طرح واجب الاطاعت سمجھتے ہیں، جس طرح خدا کے احکام اور فیصلوں کو واجب الاطاعت سمجھا جاتا ہے۔ اُن کے مقابلے میں کتاب الٰہی کی کوئی صریح آیت اور پیغمبر کا کوئی واضح ارشاد بھی پیش کر دیا جائے تو اُسے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ‘‘ (البیان 2/ 343)
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :
إنهم لم يكونوا يعبدونهم، ولكنهم كانوا إذا أحلوا لهم شيئًا استحلوه وإذا حرموا عليهم شيئًا حرموه. (ترمذى، رقم 3095) | ’’یہود و نصاریٰ اپنے فقیہوں اور راہبوں کی عبادت تو نہیں کرتے تھے، مگرجب وہ کسی چیز کو اُن کے لیے حلال ٹھہرا دیتے تو وہ اُسے حلال مان لیتے تھے اور جب کوئی چیز اُن پر حرام قراردیتے تھے تو اُسے حرام کر لیتے تھے ۔‘‘ |
مسلمانوں کی تاریخ بھی اِس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اُنھوں نے بھی اپنے علما و فقہا اور پیروں مرشدوں کو کم و بیش یہی حیثیت دیے رکھی ہے۔ ہمارے ہاں اِس کی سب سے گھنونی شکل وہ ہے، جب حلال و حرام کا جھوٹ کسی نیک مقصد کے تحت گھڑا جاتا ہے۔ دین و شریعت کی پاس داری اور احسان و اخلاق کی ترویج اِس کے نمایاں مضامین ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ زہد و تقویٰ کے زیرِ عنوان رہبانیت کی تعلیم دی جاتی اور تزکیۂ نفس کا نام لے کر کہنےسننے، دیکھنے دکھانے،کھانے پینے اوررہنے بسنے کی زینتوں کو حرام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اپنے تئیں حلال کو حرام قرار دینے کا یہ عمل بہ ذاتِ خود حرام ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دائرۂ اخلاقیات کی پانچ متعین حرمتوں میں شامل کیا ہے۔ ارشاد ہے:
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. (الاعراف 7: 33) | ’’کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘ |
استاذ ِگرامی نے لکھا ہے کہ اِس آیت میں ’قول علی اللّٰہ ‘ کا اسلوب ’افتری علی اللّٰہ ‘ پر متضمن ہے اور اِس کا مفہوم اللہ کے نام پر جھوٹ گھڑتے ہوئے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا اور ایسی شریعت تصنیف کرنا ہے، جس کا اللہ اور اُس کے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اصل الفاظ ہیں: ’اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ‘۔’تَقُوْلُوْا‘ کے بعد’ عَلٰی‘ کا صلہ بتا رہا ہے کہ یہاں تضمین ہے، یعنی’ مُفْتَرِیْنَ عَلَی اللّٰہِ‘۔ا پنی طرف سے حلال و حرام کے فتوے دیے جائیں یا اپنی خواہشات کی پیروی میں بدعتیں ایجاد کی جائیں یا اپنی طرف سے شریعت تصنیف کی جائے اور اُسے خدا سے منسوب کر دیا جائے تو یہ سب چیزیں اِسی کے تحت ہوں گی۔‘‘ (البیان 2/ 150)