-
1۔ گلا گھٹنے، گرنے اور زخم لگنے سے مرنے والے جانور
سورۂ مائدہ میں تذکیہ کے بغیر مرنے والے بعض جانوروں کو حرام قرار دیا ہے۔ اِس میں پہلے اُن چار حرمتوں ـــــ مردار، خون، لحم الخنزیر، غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ـــــ کا ذکر کیا ہے، جن کے بارے میں اشتباہ ہو سکتا تھا اور پھر اُنھی میں سے مردار کے ذیل میں بعض حرمتوں کو بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الۡمُنۡخَنِقَۃُ وَ الۡمَوۡقُوۡذَۃُ وَالۡمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیۡحَۃُ وَمَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمۡ ۟ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ | ’’تم پر مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور خدا کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا گیا ہے اور (اِسی کے تحت) وہ جانور بھی جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو، جسے کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو، سواے اُس کے جسے تم نے (زندہ پا کر) ذبح کر لیا۔ اِسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں، جو کسی آستانے پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ بھی کہ تم (اُن کا گوشت) جوے کے تیروں سے تقسیم کرو۔ |
ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ ؕ اَلۡیَوۡمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَاخۡشَوۡنِ ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ. (المائده 5: 3) | (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) یہ سب خدا کی نافرمانی کے کام ہیں۔ یہ منکر اب تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے ہیں، اِس لیے (اِن حرمتوں کے معاملے میں) اِن سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو۔ تمھارے دین کو آج میں نے تمھارے لیے پورا کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ (سو میرے اِن احکام کی پابندی کرو)، پھر جو بھوک سے مجبور ہو کر اِن میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اِس کے کہ وہ گناہ کا میلان رکھتا ہو تو اِس میں حرج نہیں، اِس لیے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ ‘‘ |
اِس مقام پر مختلف طریقوں سے مرنے والےپانچ جانوروں کا ذکر ہوا ہے:
i۔ ’مُنْخَنِقَۃُ‘، گلا گھٹنے سے مرنے والا جانور
ii۔’ مَوْقُوْذَۃُ‘، چوٹ لگنے سے مرنے والا جانور
iii۔ ’مُتَرَدِّیَۃُ‘، اوپر سے نیچے گر کر مر نے والا جانور
iv۔ ’نَطِیْحَۃُ‘، کسی جانور کے سینگ سے زخمی ہو کر مرنے والا جانور
v۔ ’مَآ اَکَلَ السَّبُعُ‘، کسی درندے کے پھاڑنے سے مرنے والا جانور
اِس فہرست پر ایک نظر ڈالنے ہی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ وہ جانور ہیں ، جو تذکیہ کے بغیر مر گئے ہیں، لہٰذا اِنھیں مردار کےزمرے کی حرمتوں میں شامل ہونا چاہیے۔ چنانچہ یہ ’مَیْتَۃ‘ (مردار) ہی کی تفصیل ہے اور اِس کا مقصد مردار کے بعض اطلاقات کے معاملے میں ممکنہ اشتباہ کو دور کرنا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس امر کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’اِس تفصیل کی ضرورت اِس لیے تھی کہ بعض ذہنوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ ایک مردار میں جو طبعی موت مرا ہو اور اُس جانور میں جو کسی چوٹ یا کسی حادثہ کا شکار ہو کر اچانک مر گیا ہو، کچھ فرق ہونا چاہیے۔ چنانچہ یہ شبہ اِس زمانے میں بھی بعض لوگ پیش کرتے ہیں، بلکہ بہت سے لوگ تو اِسی کو بہانہ بنا کر گردن مروڑی ہوئی مرغی بھی جائز کر بیٹھے۔ قرآن کی اِس تفصیل نے اِس شبہے کو صاف کر دیا۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 456)
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ’مَیْتَۃ‘ (مردار) سے مراد وہ جانور ہیں، جنھیں عرف عام میں ’مَیْتَۃ‘ (مردار) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جن کا تذکیہ ضروری ہے اور وہ اُس کے بغیر طبعی طریقے سے یا حادثاتی طور پر مر گئے ہوں۔ چنانچہ ایسے جانور جو عرفِ عام میں اِس لفظ کے تحت نہیں آتے، وہ اِس سے مراد نہیں ہیں۔ استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:
’’...’مَیْتَۃ...‘اِن احکام میں عرف و عادت کی رعایت سے استعمال ہوا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ عربی زبان میں اِس کا ایک لغوی مفہوم بھی ہے، لیکن یہ جب اِس رعایت سے بولا جائے تو اردو کے لفظ مردار کی طرح اِس کے معنی ہر مردہ چیز کے نہیں ہوتے۔ اِس صورت میں ایک نوعیت کی تخصیص اِس لفظ کے مفہوم میں پیدا ہو جاتی ہے اور زبان کے اسالیب سے واقف کوئی شخص، مثال کے طور پر، مردہ ٹڈی اور مردہ مچھلی کو اِس میں شامل نہیں سمجھتا۔ یہ تخصیص کیوں پیدا ہوئی؟ اِس کی وجہ غالباً یہی ہے کہ اِس طرح کے جانوروں میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا کہ نہ نکلے تو اُس سے یہ مردار ہو جائیں۔‘‘
(البیان 1/ 590)
-
نصب، یعنی تھان، استھان پر ذبح کیے گئے جانور اور وہ جانور جنھیں فال نکال کر ذبح کیا جائے، دونوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ ارشاد ہے:
وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ . (المائده 5: 3) | ’’اِسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں، جو کسی آستانے پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ بھی کہ تم (اُن کا گوشت) جوے کے تیروں سے تقسیم کرو۔ (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) یہ سب خدا کی نافرمانی کے کام ہیں۔ ‘‘ |
یہ دونوں خبائث ہیں، مگر اِن کا خبث مادی نہیں، بلکہ اخلاقی ہے۔ اول الذکر میں شرک کی خباثت پائی جاتی ہے اور ثانی الذکر میں جوے کی روح پائی جاتی ہے، جسے اللہ نے گندے شیطانی کاموں (رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ)[76] میں شامل کیا ہے۔
’وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ‘ ( آستانے پر ذبح کیے گئے جانور) کےالفاظ سے واضح ہے کہ یہ اِسی آیت میں مذکور حرمت ’وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ کے تحت ہے۔ یعنی یہ وہ ذبیحہ ہے، جو اللہ کے علاوہ کسی فرشتے، کسی جن، کسی انسان کی نذر کیا گیا ہے۔ استھان پر اللہ ہی کے نام سے ذبح کیا جائے تو اُس کے بارے میں یہ اشتباہ ہو سکتا تھا کہ اللہ کے نام کی وجہ سے اُسے حلال سمجھا جائے یا استھان کے مرکزِ شرک ہونے کی وجہ سے اُسے حرام میں شامل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اِسے حرام ہی کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔ امام امین احسن اصلاحی اِس حرمت اور اِس کے اندر مذکورہ پہلو کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’’نُصب‘ تھان اور استھان کو کہتے ہیں۔ عرب میں ایسے تھان اور استھان بے شمار تھے، جہاں دیویوں، دیوتاؤں، بھوتوں، جنوں کی خوش نودی کے لیے قربانیاں کی جاتی تھیں۔ قرآن نے اِس قسم کے ذبیحے بھی حرام قرار دیے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اِن کے اندر حرمت مجرد بارادۂ تقرب و خوش نودی، استھانوں پر ذبح کیے جانے ہی سے پیدا ہو جاتی ہے، اِس سے بحث نہیں کہ اِن پر نام اللہ کا لیا گیا ہے یا کسی غیر اللہ کا۔ اگر غیر اللہ کا نام لینے کے سبب سے اِن کو حرمت لاحق ہوتی تو اِن کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اوپر’وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘کا ذکر گزر چکا ہے، وہ کافی تھا۔ ہمارے نزدیک اِسی حکم میں وہ قربانیاں بھی داخل ہیں، جو مزاروں اور قبروں پر پیش کی جاتی ہیں۔ اِن میں بھی صاحبِ مزار اور صاحبِ قبر کی خوش نودی مدِنظر ہوتی ہے۔ ذبح کے وقت نام چاہے اللہ کا لیا جائے یا صاحبِ قبر و مزار کا، اِن کی حرمت میں دخل نام کو نہیں، بلکہ مقام کو حاصل ہے۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 456- 457)
جہاں تک ’استقسام بالازلام‘ کا تعلق ہے تو یہ نری قسمت آزمائی ہے۔ ’استقسام‘ کے معنی قسمت یا تقدیر کے بارے میں جاننے کے اور کسی چیز میں اپنا حصہ معلوم کرنے کے ہیں۔ ’فال ‘کا لفظ بھی اِسی مفہوم کو ادا کرتا ہے۔ ’ازلام‘ جوے یا فال کے تیروں کو کہا جاتا ہے۔ عرب میں تیروں کے ذریعے سے فال نکالنے کا رواج تھا ۔ یہ طریقہ گوشت یا منفعت کی کسی اور چیز میں حصہ پانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ اِس کے نتیجے میں بعض لوگوں کو زیادہ ملتا تھا، بعض کو کم اور بعض بالکل محروم رہتے تھے۔ اِس میں ظاہر ہے کہ قسمت آزمائی کا بھی پہلو ہے، جو انسان کے اندر محنت کی خو کو کم زور کرتا ہے اور بے انصافی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ چنانچہ اِس اصول پر جانوروں کے گوشت کو تقسیم کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی نے واضح کیا ہے:
’’ ...عرب شراب نوشی کی مجلسیں منعقد کرتے، شراب کے نشے میں جس کا اونٹ چاہتے ذبح کر دیتے، مالک کو منہ مانگے دام دے کر راضی کر لیتے پھر اُس کے گوشت پر جوا کھیلتے۔ گوشت کی جو ڈھیریاں جیتتے جاتے اُن کو بھونتے، کھاتے، کھلاتے اور شرابیں پیتے اور بسا اوقات اِسی شغل بد مستی میں ایسے ایسے جھگڑے کھڑے کر لیتے کہ قبیلے کے قبیلے برسوں کے لیے آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے اور سیکڑوں جانیں اِس کی نذرہوجاتیں ۔‘‘
(تدبر قرآن 2/ 457)
استاذِ گرامی کے نزدیک دونوں حرمتوں کا سبب اِن کی مادی اورظاہری نجاست نہیں، بلکہ اِن میں پائی جانے والی فکری نجاست ہے۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے اِنھیں فسق میں شامل کیا ہے، جس سے علم و عقیدہ کی گم راہی مراد ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:
’’اوپر خدا کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا گیا ہے۔ سورۂ انعام (6) کی آیت 145 میں قرآن نے واضح فرمایا ہے کہ اُس کی حرمت کا باعث خود جانور کا’رِجْس‘، یعنی ظاہری نجاست نہیں، بلکہ ذبح کرنے والے کا ’فِسْق‘ ہے۔ خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کرنا چونکہ ایک مشرکانہ فعل ہے، اِس لیے اُسے ’فِسْق‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ علم و عقیدہ کی نجاست ہے۔ اِس طرح کی نجاست جس چیز کو بھی لاحق ہو جائے، عقل کا تقاضا ہے کہ اُس کا حکم یہی سمجھا جائے۔ قرآن نے یہ دونوں چیزیں اِسی اصول کے تحت ممنوع قرار دی ہیں۔ اِن کے لیے اصل میں ’مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ‘ اور ’اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔‘‘ (البیان 1/ 592)
اِس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ اللہ کے نام کا ذبیحہ حلال ہو گا اور جو ذبیحہ اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لے کر کیا جائے گا، وہ حرام ہو گا، یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اگر کسی جانور کو ذبح کرتے ہوئے نہ اللہ کا نام لیا جائے اور نہ غیر اللہ کا تو اُس کی نوعیت کیا ہو گی؟ وہ حلال شمار ہو گا یا حرام؟ قرآنِ مجید نے واضح فرمایا ہے کہ اُسے حرام میں شمار کیا جائے گا۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَلاَ تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسْقٌ وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ.(الانعام 6: 121) | ’’اُن جانوروں میں سے، البتہ ہرگز نہ کھاؤ جنھیں اللہ کا نام لے کر ذبح نہیں کیا گیا اور یاد رکھو کہ بلاشبہ یہ صریح نافرمانی ہے۔ اور متنبہ رہو کہ شیاطین اپنے ایجنٹوں کو القا کر رہے ہیں کہ وہ (اِس معاملے میں بھی) تم سے جھگڑیں۔ اور متنبہ رہو کہ اگر اِن کا کہا مانو گے تو کچھ شک نہیں کہ تم بھی مشرک ہو کر رہ جاؤ گے۔‘‘ |
آیت سے واضح ہے کہ اِس حرمت کی وجہ فسق، یعنی نافرمانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پروردگار کا مطلق حکم ہے کہ جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ اب اِس کی نافرمانی کی دو صورتیں اختیار کی جاتی ہیں: ایک یہ کہ اللہ کے بجاے کسی اور کا نام لیا جائے۔ اِس کو ’مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ کا نام نہ لیا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے۔ اِس کو ’مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ‘ کےالفاظ میں بیان فرمایا ہے۔[77]
اِس نافرمانی کے وجوہ کو امام امین احسن اصلاحی نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ اول یہ کہ اللہ کے نام اور اُس کی تکبیر کے بغیر جو کام بھی کیا جاتا ہے، وہ، جیسا کہ ہم آیت بسم اللہ کی تفسیر میں واضح کر چکے ہیں، برکت سے خالی ہوتا ہے۔ خدا کی ہر نعمت سے، خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، فائدہ اٹھاتے وقت ضروری ہے کہ اُس پر اُس کا نام لیا جائے تاکہ بندوں کی طرف سے اُس کے انعام و احسان کا اعتراف و اقرار ہو۔ اِس اعتراف و اقرار کے بغیر کوئی شخص کسی چیز پر تصرف کرتا ہے تو اُس کا یہ تصرف غاصبانہ ہے اور غصب سے کوئی حق قائم نہیں ہوتا، بلکہ یہ جسارت اور ڈھٹائی ہے، جو خدا کے ہاں مستوجبِ سزا ہے۔
دوم یہ کہ احترام جان کا یہ تقاضا ہے کہ کسی جانور کو ذبح کرتے وقت اُس پر خدا کا نام لیا جائے۔ جان کسی کی بھی ہو، ایک محترم شے ہے۔ اگر خدا نے ہم کو اجازت نہ دی ہوتی تو ہمارے لیے کسی جانور کی بھی جان لینا جائز نہ ہوتا۔ یہ حق ہم کو صرف خدا کے اِذن سے حاصل ہوا ہے، اِس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ جس وقت ہم اِن میں سے کسی کی جان لیں تو صرف خدا کے نام پر لیں۔ اگر اِن پر خدا کا نام نہ لیں، یا خدا کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام لے لیں یا کسی غیر اللہ کے نام پر اِن کو ذبح کر دیں تو یہ اِن کی جان کی بھی بے حرمتی ہے اور ساتھ ہی جان کے خالق کی بھی۔
سوم یہ کہ اِس سے شرک کا ایک بہت وسیع دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ ادیان کی تاریخ پر جن لوگوں کی نظر ہے، وہ جانتے ہیں کہ جانوروں کی قربانی، اُن کی نذر اور اُن کے چڑھاوے کو ابتداے تاریخ سے عبادات میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اِس اہمیت کے سبب سے مشرکانہ مذاہب میں بھی اِس کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ جو قوم بھی کسی غیر اللہ کی عقیدت و نیاز مندی میں مبتلا ہوئی، اُس نے مختلف شکلوں سے اِس غیر اللہ کو راضی کرنے کے لیے جانوروں کی بھینٹ چڑھائی۔ قرآن میں شیطان کی جو دھمکی انسانوں کو گم راہ کرنے کے باب میں مذکور ہوئی ہے، اُس میں بھی، جیسا کہ ہم اُس کے مقام میں واضح کر چکے ہیں، اِس ذریعۂ ضلالت کا شیطان نے خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ اسلام نے شرک کے اُن تمام راستوں کو بند کر دینے کے لیے جانوروں کی جانوں پر اللہ تعالیٰ کے نام کا قفل لگا دیا، جس کو خدا کے نام کی کنجی کے سوا کسی اور کنجی سے کھولنا حرام قرار دے دیا گیا۔ اگر اِس کنجی کے بغیر کسی اور کنجی سے اِس کو کھولنے یا اِس کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو یہ کام بھی ناجائز اور جس جانور پر یہ ناجائز تصرف ہوا ،وہ جانور بھی حرام۔ اِس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں صرف یہی چیز ناجائز نہیں ہے کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، بلکہ یہ بھی ناجائز ہے کہ کسی جانور کو اللہ کا نام لیے بغیر ہی ذبح کر دیا جائے۔‘‘
(تدبر قرآن 3/ 157- 158)
شراب بھی من جملہ خبائث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ’رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ‘ ، یعنی گندے شیطانی کاموں میں شمار کیا ہے اور اِس سے اجتناب کی ہدایت فرمائی ہے۔ ارشاد ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ. (المائدہ 5: 90) | ’’ایمان والو، یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، سو اِن سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ |
شراب کی حرمت کا سبب اِس کا نشہ آور ہونا ہے۔ جب اِس کی شناعت کا ابتدائی حکم آیا اور نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع فرمایا تو اُس موقع پر شراب کے بجاے نشے کے الفاظ استعمال کیے گئے۔ سورۂ نساء میں ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡتُمۡ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغۡتَسِلُوۡا. (4: 43) | ’’ایمان والو، (خدا کی بندگی کا جو حکم تمھیں اوپر دیا گیا ہے، اُس کا سب سے بڑا مظہر نماز ہے، اِس لیے) تم نشے میں ہو تو نماز کی جگہ کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ جو کچھ کہہ رہے ہو، اُسے سمجھنے لگو اور اِسی طرح جنابت کی حالت میں بھی، جب تک غسل نہ کر لو، الاّ یہ کہ صرف گزر جانا پیش نظر ہو۔‘‘ |
اِس سے واضح ہے کہ اصل حرمت نشے کی ہے، وہ جس چیز میں ہو گا، وہ ممنوع قرار پائے گی۔ نشے کا خبث یہ ہے کہ یہ عقل کی نجاست ہے۔ یعنی یہ عقل پر اثر انداز ہو کر اُسے ماؤف کرتا ہے اور انسان کو اِس لائق نہیں چھوڑتا کہ وہ طیب و خبیث اور خیر و شر میں امتیاز کر سکے۔چنانچہ اسراف، سرکشی، قانون شکنی، قمار بازی ، بدکاری اور اِس جیسے بے شمار خبائث اِسی کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ شراب کو ام الخبائث کہا جاتا اور اخلاق باختگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شراب اور جوا عام طور پر لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ عرب میں بالخصوص یہی صورتِ حال تھی ۔ اِسی بنا پر قرآنِ مجید نے اِن کا اکٹھا ذکر کیا ہے اور دونوں کو ’رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ‘(گندے شیطانی کاموں ) میں شمار کیا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِن کے بارے میں لکھا ہے:
’’... عرب، عفت و عصمت، خودداری اور غیرت کے معاملے میں بڑے حساس تھے اور یہ اُن کی بہت بڑی خوبی تھی، لیکن ساتھ ہی شراب اور جوے کے بھی رسیا تھے۔ اِس وجہ سے جام و سنداں کی یہ بازی اُن کے لیے بڑی مہنگی پڑ رہی تھی۔ جہاں کسی نے شراب کی بد مستی میں کسی کی عزت و ناموس پر حملہ کیا، کسی کی تحقیر کی، کسی کو چھیڑا یا جوے میں کوئی چیند کی (اور یہ چیزیں جوے اور شراب کے لوازم میں سے ہیں)، وہیں فریقین تلواریں سونت لیتے اور افراد کی یہ لڑائی چشم زدن میں قوموں اور قبیلوں کی جنگ بن جاتی اور انتقام در انتقام کا ایسا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا کہ صرف مہینے اور سال نہیں، بلکہ پوری صدی گزار کر بھی یہ آگ ٹھنڈی نہ پڑتی۔ چنانچہ عرب کی تاریخ میں ایسی جنگیں موجود ہیں، جن کی آگ جوے یا شراب خانہ خراب ہی نے بھڑکائی اور پوری ایک صدی تک وہ آگ نہ بجھی۔ بہرحال یہ چیز یا تو دیوث بناتی ہے یا خانہ خراب اور اِن دونوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کو کوئی سلیم الفطرت معاشرہ گوارا کر سکے۔‘‘
(تدبر قرآن 2/ 590- 591)
روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ مسلم میں رقم ہے:
عن ابن عباس: ان رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نهى عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير.(رقم 4996) | ’’سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے (کو کھانے) سے منع فرمایا ہے۔‘‘ |
عن ابن عباس، قال: نهى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير. (رقم 4994) | ’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجے والے پرندے (کو کھانے) سے منع فرمایا۔‘‘ |
کچلی سے مراد وہ نوکیلے اور لمبے دانت ہیں، جو چیرنے پھاڑنے والے گوشت خور درندوں میں ہوتے ہیں۔ اِن درندوں کی مثال شیر، چیتا، بھیڑیا ہیں۔ چنگال سے مراد ناخن دار پنجے ہیں۔ شاہین، شکرا اور عقاب میں یہ پنجے ہوتے ہیں۔ اِسی لیے اُنھیں شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اِن درندوں اور پرندوں کی حرمت کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اصل میں طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کے اُسی حکم کا اطلاق ہے، جو بالتصریح قرآنِ مجید میں مذکور ہے۔ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اضافی حکم ارشاد نہیں فرمایا، بلکہ قرآن ہی کے حکم کی توضیح فرمائی ہے۔ اِس لیے اِسے الگ حکم سمجھنے کے بجاے خبائث کی حرمت کے اصول کا اطلاق سمجھنا چاہیے۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’...یہ اُسی فطرت کا بیان ہے، جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے اِسے بیان فطرت کے بجاے بیان شریعت سمجھا،دراں حالیکہ شریعت کی اُن حرمتوں سے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، اِس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔‘‘(میزان 38)
بعض اوقات حلال جانور بول و براز اور غلاظت پر پلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اِس کےنتیجے میں اُن سے کراہت بھی پیدا ہو تی ہے اور اُن کا گوشت بھی بدبودار ہو جاتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ خبث اور ناپاکی کی ایک نمایاں شکل ہے۔ اِسی بنا پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانوروں کے گوشت اور دودھ کو خور و نوش کاحصہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:
نهى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عن أكل الجلالة وألبانھا. (رقم 1824) | ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندگی کھانے والے جانور کا گوشت کھانے اور اُس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔‘‘ |
ـــــــــــــــــــــــــــــ