رفع حرج کے باب میں اطلاقی ملحوظات

رفع حرج یا تنگی میں آسانی کے اِس اصول  کے اطلاق کے حوالے سے جن چیزوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، اُن میں سے نمایاں درجِ ذیل ہیں۔

1۔ یسر کی استثنائی نوعیت

 شریعت  کے  احکام  میں اصل مطلوب   اُن کی بہ تمام و کمال پابندی ہے۔ یسر کا تعلق مستثنیات سے ہے، یعنی بندۂ مومن  پوری  آمادگی اور دل جمعی کے ساتھ   احکام پر عمل پیرا  رہتا ہے اور رہنا چاہتا ہے، مگر بعض  دشوارحالات میں   اُن پر عمل ممکن نہیں ہوتا یا   اگر ممکن ہو تو پُر مشقت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِن حالات  کا لحاظ کرتے ہوئے رخصت اور رعایت کی مختلف صورتیں متعین فرما دی ہیں۔   چنانچہ یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ مثال کے طور پر نمازوں کو قصر کرنا یا اُنھیں جمع کر کے پانچ کے بجاے تین اوقات تک محدود کرنا یا وضو اور غسل کی جگہ تیمم کر لینا یا سواری پر قبلہ رخ ہونے کا التزام نہ کرنا یا باجماعت نماز کے بجاے گھر پر نماز ادا کرنا یا فرض روزوں کو رمضان کا مہینا گزر جانے کے بعد رکھنا یا قحط اورمعاشی بدحالی میں حکومت کا زکوٰۃ میں تخفیف کر دینا، شریعت کے اصل احکام کی متبادل یا قائم مقام صورتیں ہرگز نہیں ہیں۔ یہ اُس موقع کی رعایتیں ہیں ،جب انسان کے لیے مطلوب حکم پر عمل کرنا ممکن نہ رہے یا مشکل ہو جائے۔ اِن کی نوعیت ایسے ہی ہے، جیسے انسانی جان کے اضطرار کے باعث ایمبولینس کو سرخ بتی سے گزر جانے کی اجازت ہوتی ہے  یا بچوں کو  مشقت سے بچانے کے لیےسخت موسم میں تعلیمی اداروں میں تعطیل کر دی جاتی ہے۔ چنانچہ جس طرح اِن استثنائی صورتوں کو متبادل نہیں سمجھا جاتا، اُسی طرح شریعت کی رخصتوں کو بھی اصل احکام کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اِنھیں استثنا کے طور پر قبول کرنا چاہیےاور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں پورے جذبۂ ایمانی کے ساتھ مطلوب احکام کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔

2۔ ترکِ یسر کا رویہ

یہ رعاعیتیں اللہ کی رحمت و شفقت کا اظہار ہیں۔ اِن کو اللہ کی عنایت کے طور پر پورے احساسِ عجز کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ اِس معاملے میں عزیمت پر اصرار بلا جواز ہے۔  چنانچہ اگر کوئی شخص اِن سے فائدہ اٹھانے کے بجاے  مشکل پسندی اور مشقت طلبی کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اُس کا یہ عمل اللہ کی رضا کے خلاف ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے واضح فرما دیا کہ وہ انسانوں کے لیے آسانی چاہتا ہے، اُن کے لیے مشکل نہیں چاہتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن رخصتوں اور رعایتوں کو اللہ کی عنایت قرار دیا ہے اور اپنے عمل سے واضح کیا ہے کہ اِن سے مستفید ہونا ہی  مطلوب رویہ ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

عجبت مما عجبت منه، فسألت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عن ذالك، فقال:”صدقة، تصدق اللّٰه بها عليكم، فاقبلوا صدقته“.

(رقم573)

’’ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بغیر کسی خطرے کے نماز کو قصر کیا) تو مجھے تعجب ہوا، جیسا کہ (‏‏‏‏ یعلیٰ بن امیہ) آپ کو ہوا ہے۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کی عنایت ہے، جو اُس نے تم پر کی ہے، سو اللہ کی اِس عنایت کو قبول کرو۔‘‘

‏‏‏‏وعن عائشة رضي اللّٰه عنها قالت: صنع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم شيئًا فرخص فيه فتنزه عنه قوم فبلغ ذلك رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فخطب فحمد اللّٰه ثم قال:”ما بال أقوام يتنزهون عن الشيء أصنعه فواللّٰه إني لأعلمهم باللّٰه وأشدهم له خشية .“

(مشكوٰة المصابيح، رقم 146)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور پھر اُس میں رخصت کی اجازت بھی فرما دی۔ تاہم، بعض لوگوں نے  رخصت پر عمل سے اجتناب کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اِس کی اطلاع ملی تو آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا۔ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد آپ نے فرمایا: اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اُس چیز سے پرہیز کرتے ہیں، جسے میں اختیار کرتا ہوں! اللہ کی قسم، میں اللہ کے حکم کو اِن سے بہتر جانتا  ہوں اور اِن سے کہیں بڑھ کر اُس سے ڈرتا ہوں۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب دو طریقوں میں انتخاب کا موقع ہوتا تو آپ مقابلتاً آسان راستے کو اختیار فرماتے:

ما خير رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم بين أمرين، أحدهما أيسر من الآخر إلا اختار أيسرهما ما لم يكن إثمًا.( احمد، رقم 25288)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر دو ایسے کاموں میں سے ایک کا انتخاب کرناہوتا، جن میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں  آسان ہوتا تو آپ اُن میں سے آسان  کاانتخاب فرماتے، اِلاّ یہ   کہ اُس میں کوئی  گناہ ہو۔‘‘

 

3۔منصوص رخصتوں پر قیاس

’وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ‘(اور شریعت میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے) اور ’یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ‘ (اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ تمھارے ساتھ سختی کرے) کے نصوص سے واضح ہے کہ شریعت میں رفع حرج کو مستقل اصول کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ تنگی کے کسی معاملے میں اگر رخصت  کا کوئی حکم شریعت میں مذکور نہیں ہے یا حکم تو موجود ہے، مگر اُس کی جزئیات و تفصیلات کا تعین نہیں کیا گیا یا حالات کی تبدیلی سے اطلاق کی بعض نئی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں تو شریعت  کے اِس اصول  کو بنیاد بنا  کر آسانی کی راہ تلاش کرنا  دین کے منشا کے مطابق ہو گا۔[99] اِس معاملے میں منصوص رخصتوں  پر قیاس کرتے ہوئے اشتراکِ علت کی بنیاد پر رخصت کی کوئی صورت اختیار کر لی جائے گی۔

ہمارےبیش تر فقہا  اِس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ منصوص رخصتوں  پر غیر منصوص رخصتوں کو قیاس کرنا درست ہے، چنانچہ مثال کے طور پر اگر کوئی روزہ دار غلطی سے یا اکراہ کی وجہ سے کچھ کھا لے تو اُن کے نزدیک  اِس عمل کو بھول کر افطار کرنے پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔[100]  امام شافعی نے  نماز میں سہواً  کلام کرنے کو بھی  بھول کر روزہ افطار کرنے کی اِسی دلیل پر قیاس کیاہے۔[101]

ـــــــــــــــــــــــــــــ