سدِ ذریعہ

دین بعض اوقات ایسی چیزوں سے منع کرتا ہے، جو اصلاً ممنوع نہیں ہوتیں، تاہم اندیشہ ہوتا ہے  کہ وہ ممنوعات تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ایسی  چیزوں پر پابندی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُس دروازے کو بند کر دیا جائے، جس میں داخل ہونے سے گناہ یا نقصان کا خطرہ  نمایاں ہو۔ اصطلاح میں اِسے ’سدِ ذریعہ‘ (ذریعے کی بندش) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

قرآن و حدیث میں اِس کی متعدد مثالیں مذکور ہیں۔

 سورۂ نحل میں حکم دیا ہے: ’فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ‘[113] (سو تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو)۔   یعنی صفاتِ الٰہی کے باب میں انسانوں کی تمثیل سے احتراز کی ہدایت فرمائی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ شرک کے اکثر دروازے  اِسی تشبیہ و تمثیل سے کھلتے ہیں۔

سورۂ نور میں عورتوں کو ہدایت فرمائی ہے: ’وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ‘[114] (اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے)۔ یہ مرد و زن کے اختلاط کے موقع کی احتیاطی تدبیر ہے۔ مقصد یہ ہے کہ نہ عورتیں  مردوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کریں اور نہ مرد متوجہ ہوں اور نتیجتاً کسی فاحشہ کے    ارتکاب سے محفوظ  رہ سکیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں کو تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے اور  دیور سے تنہائی میں ملنے سے روکنا[115] اور مردوں کے پاس تنہا بیٹھنے سے منع فرمانا[116] اِسی نوعیت کی ہدایات ہیں۔

اِسی ضمن کی ایک نمایاں مثال   نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکنا ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تسافر المرأة ثلاثًا، إلا مع ذي محرم.(مسلم، رقم 3263)

 ”کوئی عورت  محرم کے بغیرتین دن  سے زیادہ کا سفر نہ کرے ۔ “

اِس نوعیت کے احکام و ہدایات کے بارے میں درجِ ذیل نکات  کا ادراک ضروری ہے:

اولاً،   سدِ ذریعہ کی پابندیاں اُن چیزوں پر لگائی گئی  ہیں، جو اصلاً مباح ہیں۔  اِس لیے اِن کے بارے میں شناعت کا وہ تصور قائم نہیں کرنا چاہیے، جوشرک، قتل،  زنا، چوری ،  سود، جوا ، شراب نوشی جیسے صریح جرائم کے بارے میں کیا جاتا ہے۔

ثانیاً، یہ پابندیاں علی الاطلاق نہیں ، بلکہ مصلحتوں  پر منحصر  ہیں۔لہٰذا اِن پر عمل کرتے ہوئے   اصل نظر متعلقہ مصالح پر ہونی چاہیے۔

ثالثًا، اِن کی نوعیت آداب کی ہے۔ اِن کے بارے میں تلقین و نصیحت کرتے ہوئے وہ پیرایۂ بیان اختیار کرنا چاہیے، جو  اقدار  و آداب کی ترغیب کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔

رابعاً، اِن کے مخاطبین اصلاً  افراد  ہیں۔  اُنھی کو اِن کا اہتمام کرنا چاہیے۔ حکومت یا ریاست  کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اِنھیں قانونی طریقے سے نافذ کریں۔

خامساً، یہ عموماً حالات سے مشروط  ہوتی ہیں۔ تہذیب و تمدن کے ارتقا یا کسی اور سبب سے اگر حالات اِس قدر تبدیل ہو جائیں کہ پابندی کی ضرورت باقی نہ رہےتو پابندی کو ختم کیا  جا سکتا ہے۔

یہ سدِ ذریعہ کے احکام  کا ایک اجمالی جائزہ ہے۔ اِن کی نوعیت اور اطلاق کو مزید  سمجھنے کے لیے استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا درجِ ذیل اقتباس ملاحظہ ہو۔ اِس میں اُنھوں نے عورتوں کے تنہا سفر پر ممانعت کے حکم   کےبارے  میں شریعت کے تقاضے کو  حالات  کے تناظر میں رکھ کر واضح کیا ہے:

’’...اسلام میں عورت کی عفت و عصمت کو جو اہمیت حاصل ہے، اُس کے پیش نظر ضروری تھا کہ زمانۂ رسالت کے حالات میں اُنھیں محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکا جائے۔ اُس زمانے میں سفر پیدل یا اونٹ گھوڑوں پر کیا جاتا تھا۔ جن مقامات تک اب ہم گھنٹوں میں پہنچ جاتے ہیں، اُس وقت وہاں پہنچنے میں ہفتے، بلکہ مہینے لگ جاتے تھے۔ مسافر تنہا یا قافلوں میں سفر کرتے اور بعض اوقات جنگلوں اور بیابانوں سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچتے تھے۔ رات آجاتی تو کھلے آسمان تلے قافلوں میں یا اجنبی شہروں کی سرایوں میں قیام کرنا پڑتا تھا۔ اِس طرح کے حالات میں اگر عورتوں کی حفاظت کے پیش نظر اور اُنھیں کسی تہمت سے بچانے کے لیے پابند کیا گیا کہ وہ محرم کے بغیر سفر نہ کریں تو اِس کی حکمت ہر سلیم الطبع آدمی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔

دور حاضر نے اِس کے برخلاف سفر کے ذرائع میں حیرت انگیز انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مہینوں کا سفر اب گھنٹوں میں ہوتا ہے۔ ریل، جہاز اور بسوں میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات ہیں۔ ہوٹلوں اور سرایوں وغیرہ کا نظم بھی بالکل تبدیل ہو چکا ہے۔ آج سے سو سال پہلے اپنی بہن یا بیٹی کو تنہا ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک بھیجنے میں بھی تردد ہوتا تھا، لیکن اب یورپ اور امریکہ کے سفر میں بھی اِس طرح کا کوئی تردد محسوس نہیں ہوتا۔ حج کا سفر بھی آخری درجے میں محفوظ ہو چکا ہے اور عورتیں اپنی شناسا عورتوں کی معیت میں نہایت اطمینان کے ساتھ حجاز مقدس جا سکتی اور حج و عمرہ کے مناسک ادا کر سکتی ہیں۔ حالات کی یہ تبدیلی تقاضا کرتی ہے کہ حکم کو دور حاضر کے سفروں سے متعلق نہ سمجھا جائے اور عورتوں کو اجازت دی جائے کہ خطرے کی کوئی جگہ نہ ہو تو اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے وہ تنہا یا عورتوں کی معیت میں جس طرح چاہیں، سفر کریں، تاہم اتنی بات ملحوظ رکھیں کہ اُن کی عزت ہر حال میں محفوظ رہے اور گھروں سے نکلتے وقت اُن سے کوئی غفلت نہ ہو۔ وہ اگر اللہ اور اُس کے رسول کو ماننے والی ہیں تو اِس معاملے میں اُنھیں بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔“ (مقامات 310 – 312)

ـــــــــــــــــــــــــــــ