شرک کے مفہوم کی درجِ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ یہ حق تلفی اور سرکشی کا مرکب جرم ہے، جس کا ارتکاب خالق کائنات کے معاملے میں کیا جاتا ہے۔قرآن و حدیث میں اِس کی نمایاں صورتیں درجِ ذیل ہیں:
بت پرستی،
مشرکانہ تصاویر و تماثیل،
قبروں کی تقدیس،
مزعومہ نافع اور ضار ہستیوں سے مدد اور سفارش طلبی،
توہم پرستی،
غیر اللہ کی قسم ۔
-
بت پرستی شرک کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ قرآنِ مجید میں بت پرستی کوبدترین جرم کہا گیا ہے اور اُس کے مرتکب کو ابدی جہنم کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ جلیل القدر انبیا سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن اقوام میں مبعوث ہوئے، وہ شرک کو مذہب کے طور پر اپنائے ہوئے تھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اِن پیغمبروں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اُنھیں اِس ضلالت سے نکالیں۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اِس معاملے میں پچھلی اقوام سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے۔اُنھوں نے اپنے لیے نہ صرف نئے بت تراش لیے تھے، بلکہ قوم نوح کی قدیم ترین تماثیل کو بھی مرجع عبادت بنا لیا تھا۔ انتہا یہ تھی کہ بیت اللہ جیسی روے زمین کی سب سے مقدس جگہ کو اُنھوں نے بتوں کی غلاظت سے بھر دیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے اُنھیں رجس، یعنی گندگی قرار دیا اور اُن کے بارے میں خود ساختہ عقائد کو جھوٹی بات سے تعبیر فرمایا:
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْر.(الحج 22: 30) | ’’سو بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی (جو اُن کے حوالے سے کسی چیز کو حلال اور کسی کو حرام ٹھیرا کر اللہ پر باندھتے ہو)۔‘‘ |
لات، منات اور عزیٰ قریش کے مقبول ترین بت تھے۔ یہ عرب میں مختلف مقامات پر نصب تھے۔ اہل عرب اِن کی پوجا کرتے، اِن کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتے اور اِن کے تقرب کے لیے اِنھی کی ساخت پر مجسمے تراش کر اوراِنھی کی شبیہ پر تصویریں بنا کر اپنے گھروں میں رکھتے تھے۔ مشرکین عرب کے نزدیک یہ فرشتوں کے بت تھے۔ وہ فرشتوں کواللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور اُن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر وہ اُن کی عبادت کریں گے تو وہ آخرت میں اللہ کے حضورمیں اُن کی سفارش کریں گے۔قرآنِ مجید نے اُن کی اِن خرافات کو ہر لحاظ سے ناجائز قرار دیا اور واضح کیا کہ اِس تصور اور اِس کے اِن مظاہر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔یہ لات، منات، عزیٰ اور دوسرے بت تو محض نام ہیں، جو اُن کے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اِن کی پرستش کرنے والے درحقیقت اپنے مشرکانہ مذہب کی اساس بے بنیاد گمانوں پر قائم کیے ہوئے ہیں، جن کی حق کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
أَفَرَأَیْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزّٰی. وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْأُخْرَی. أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْأُنثٰی. تِلْکَ إِذًا قِسْمَۃٌ ضِیزٰی. إِنْ ہِیَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَّا أَنزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ یَتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَ ہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰی... اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلآئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی. وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا. فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا. ذٰلِکَ مَبۡلَغُہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اہۡتَدٰی. (النجم53: 19 - 23، 27-30)
| ’’(اِس کے برخلاف جو کچھ تم مانتے ہو، اُس کا ماخذ کیا ہے)؟ ذرا بتاؤ، تم نے اِس لات اور عزیٰ اور تیسری، مگر درجے میں دوسری منات کی حقیقت پر کبھی غور بھی کیا ہے؟ (تم اِنھیں خدا کی بیٹیاں کہتے ہو۔ سبحان اللہ)، تمھارے لیے بیٹے ہیں اور اُس کے لیے بیٹیاں؟ پھر تو یہ بڑی بھونڈی تقسیم ہوئی۔ نہیں، یہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اِن کے حق میں اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ (اِن کی حماقت پر افسوس)، یہ محض وہم و گمان اور اپنے نفس کی خواہشوں کے پیرو ہیں، حالاں کہ اِن کے پاس اِن کے پروردگار کی طرف سے نہایت واضح ہدایت آ چکی ہے۔ ... جو آخرت کو نہیں مانتے، وہی فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھتے ہیں، حالاں کہ اُنھیں اِس معاملے کا کوئی علم نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ اِس لیے، (اے پیغمبر)، اُن سے اعراض کرو جنھوں نے ہماری یاددہانی سے اعراض کیا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جنھیں کچھ مطلوب نہیں ہے۔ اُن کا مبلغ علم یہی ہے۔ (اُن کو اب اُن کے حال پر چھوڑ دو)، اِس میں شبہ نہیں کہ تیرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ اُس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور وہ اُن کو بھی خوب جانتا ہے جو (اُس کی) ہدایت پر ہیں۔‘‘ |
استاذ ِگرامی اِن بتوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’... یعنی کہاں جبریل امین جیسی ہستی اور اُن کے غیرمعمولی مردانہ اوصاف اور کہاں یہ دیویاں جنھیں تم خدا کی بیٹیاں بنائے بیٹھے ہو! آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ یہ فرشتوں کے بت تھے، جنھیں مشرکین عرب خدا کی بیٹیاں قرار دے کر اُن کی پرستش کرتے تھے۔ اِن کی عظمت تمام مشرکین کے نزدیک یکساں مسلم تھی اور اِن کی نسبت اُن کا عقیدہ تھا کہ’تلک الغرانیق العلی، وان شفاعتہن لترتجٰی‘ (یہ بڑے مرتبے کی دیویاں ہیں اور پوری امید ہے کہ اِن کی شفاعت قبول کی جائے گی)۔ اِن میں سے لات کا نام ’الالہۃ‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ اہل عرب جس طرح معبود اعظم کو ’الالٰہ‘ کہتے تھے، اُسی طرح سب سے بڑی دیوی کے لیے اُنھوں نے ’الالہۃ‘ کا لفظ اختیار کیا،جو کثرت استعمال سے ’اللات‘ہوگیا۔ ’عزٰی‘ ’عزیز‘ اور’اعز‘کی مونث ہے۔ صاف واضح ہے کہ یہ نام اللہ ہی کے ایک نام ’العزیز‘کی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ ’منات‘’منیۃ‘کے مادے سے ہے، یعنی وہ دیوی جس کے قرب کی تمنا کی جائے یا جو تمناؤں کے بر آنے کا ذریعہ ہو۔‘‘
(البیان 5/ 68)
درجِ بالا مقام پر ’اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی‘ سے واضح ہے کہ شرک کرنے والے محض وہم و گمان اور اپنے نفس کی خواہشوں کے پیرو ہوتے ہیں۔ یہ بہ ذاتِ خود ایک بڑا جرم ہے، لیکن اللہ کی ہدایت سامنے آنے کے باوجود اگر اِس پر جمے رہنے کا سلسلہ جاری رہے تو یہ ناقابلِ معافی جرم بن جاتا ہے۔ استاذِ گرامی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’... اِس سے بڑھ کر بدنصیبی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید کی صورت میں خدا کی واضح ہدایت آجانے کے بعد بھی یہ اپنے ظنون و اوہام اور خواہشات نفس کی پیروی پر اصرار کر رہے ہیں۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ شرک کا ماخذ بالعموم یہی دو چیزیں ہوتی ہیں۔ نفس چاہتا ہے کہ خدا کے تقرب اور اُس کی جنت کے حصول کی کوئی آسان راہ نکالی جائے اور شیطان اِس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ظنون و اوہام کی ایک پوری دیو مالا بنا کر لے آتا ہے کہ فلاں اور فلاں کو خدا کے ہاں یہ درجہ حاصل ہے، اُسے معبود بنا لو، دنیا اور آخرت، دونوں کی سعادتیں تمھارے دروازے پر ہوں گی۔‘‘ (البیان 5/ 69- 70)
-
احادیث میں تصاویر و تماثیل کی جو حرمت نقل ہوئی ہے، اُس کا سبب بھی شرک ہے۔ زمانۂ رسالت میں اُن کی نوعیت بھی وہم و گمان اور خواہشاتِ نفس پر مبنی شرک کے مظاہر کی تھی۔[64] چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکانہ مراسم سے وابستہ مجسموں اور تصویروں کو شنیع قرار دیا، اُنھیں گھروں میں آویزاں کرنے اور اللہ کی عبادت گاہوں میں رکھنے سے منع فرمایا اور اُن کے بنانے والے مصوروں کواخروی عذاب سے خبردار کیا۔ اِس ضمن کی چند روایات درجِ ذیل ہیں:
عن ابی طلحۃ رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا تصاویر.“(بخاری، رقم5605) | ’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا ہو اور تصاویر ہوں۔‘‘[65] |
أخبرنی أبو طلحۃ صاحب الرسول وکان قد شھد بدرًا معہ أنہ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا صورۃ“. یرید صورۃ التماثیل التی فیھا الأرواح. ( بخاری، رقم 3780) | ’’مجھے ابو طلحہ نے خبر دی، جو نبی کے صحابی اور جنگِ بدر میں آپ کے ساتھ شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا ہو یا مورت ہو، اُن کے نزدیک اِس سے مراد اُن تماثیل کی مورت ہے، جن میں روحیں پائی جاتی تھیں۔ ‘‘ |
عن عبد اللّٰہ ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ”إن الذین یصنعون ھذہ الصور یعذبون یوم القیامۃ، یقال لھم أحیوا ما خلقتم“. (بخاری، رقم 5951) | ’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بے شک، وہ لوگ جو اِس قسم کی تصاویر بناتے ہیں، قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، اُن سے کہا جائے گاکہ جو تم نے بنایا ہے، اُسے زندہ کرو۔‘‘ |
قال عبد اللّٰہ: سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول:”إن اشد الناس عذابًا یوم القیامۃ المصورون“. (مسلم، رقم 2109) | ’’عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک، قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں گرفتار ہونے والے مصور ہوں گے۔ ‘‘ |
عن عائشۃ أن أم حبیبۃ وأم سلمۃ ذکرتا کنیسۃً رأینھا بالحبشۃ فیھا تصاویر، فذکرتا لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم . فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”إن اولئک إذا کان فیھم الرجل الصالح، فمات بنوا علی قبرہ مسجدًا وصوروا فیہ تلک الصور فأولئک شرار الخلق عند اللّٰہ یوم القیامۃ“. (بخاری، رقم 417) | ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کنیسہ کے بارے میں بیان کیا جس میں تصاویر تھیں اور جسے اُنھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔(یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِن (عیسائیوں) میں جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تو یہ اُس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اُس مسجد میں یہ خاص تصاویر بناتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔‘‘ |
عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما قال: إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما قدم أبی أن یدخل البیت و فیہ الاۤلھۃ فأمر بھا فأخرجت فأخرجوا صورۃ إبراہیم و إسماعیل. (بخاری، رقم1601) | ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (فتح مکہ کے لیے شہرمیں) آئے تو آپ نے ’آلھۃ‘ (باطل معبودوں) کی موجودگی میں بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔ آپ نے اُنھیں نکال دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ نکال دیے گئے۔ (اِس موقع پر) لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام اور اسمٰعیل علیہ السلام کے مجسمے بھی نکالے۔‘‘[66] |
اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تماثیل اور تصاویر کو حرام ٹھہرایا، وہ درحقیقت مٹی، پتھر اور لکڑی وغیرہ کے بت اوراُن کی تصویریں تھیں، جن کی پرستش کی جاتی تھی۔
-
بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کی بیخ کنی کے لیےقبروں پر گنبد بنانے، اُنھیں مشرکانہ مراسم کی غرض سے پختہ کرنے،اُنھیں مسجد کا مقام دینے اور اُن کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے فرمایا۔[67]اِس کے باوجود اگر ایسا سلسلہ جاری رہا تو آپ نے اِس نوعیت کی قبروں کو مسمار کر دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ روایات درجِ ذیل ہیں:
عن جابر رضی اللّٰہ عنہ قال: نھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یجصص القبر وأن یقعد علیہ وأن یبنی علیہ. (مسلم، رقم 970) | ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس سے منع فرمایا کہ قبروں کو پختہ کیا جائے اور اِس سے کہ لوگ اُن پر بیٹھیں اور اِس سے کہ اُن پر گنبد بنائیں۔‘‘ |
ألا من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور أنبیائھم وصالحیھم مساجد، إنی أنھاکم عن ذالک. (مسلم، رقم 532) | ’’(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے ) خبردار رہو، تم سے پہلے لوگ اپنے پیغمبروں اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے۔ (کہیں تم قبروں کو مسجد نہ بنانا) میں تم کو اِس بات سے منع کرتا ہوں۔‘‘ |
عن أبی مرثد الغنوی رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”لا تجلسوا علی القبور ولا تصلوا إلیھا“. (مسلم،رقم972) | ’’ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو اور اُن کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو۔‘‘ |
عن أبی الھیاج الأسدی قال: قال لی علی بن أبی طالب: ألا أبعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن لا تدع تمثالاً إلا طمستہ ولا قبرًا مشرفًا إلا سویتہ. (مسلم، رقم 969) | ’’ابی الہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمھیں اُس مہم پر نہ بھیجوں، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟ یعنی یہ کہ کوئی تمثال نہ چھوڑو، مگریہ کہ اُس کو مٹا دو اور کوئی بلند قبر نہ چھوڑو،مگر یہ کہ اُس کو زمین کے برابر کر دو۔‘‘ |
مشرکین جن ہستیوں کو نافع اور ضار سمجھتے تھے، اُن کے بارے میں عام طورپر یقین رکھتے تھے کہ وہ غیب پر مطلع ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِس کی واضح تردید فرمائی:
قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ. (النمل 27: 65) | ’’(یہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں)۔ اِن سے کہو، (یہ غیب کی باتیں ہیں اور) اللہ کے سوا زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں، اِس غیب کو نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ (مرنے کے بعد) کب اٹھائے جائیں گے۔‘‘ |
اِن ہستیوں کے غیب پر مطلع ہونے اور اللہ کے چہیتے ہونے کے تصورات کی بنا پر وہ یہ بھی سمجھتے تھےکہ وہ اللہ کے حضور میں اُن کی سفارش کریں گی، جس کے نتیجے میں اُنھیں دنیا اور آخرت میں کامیابی نصیب ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ سفارش کا حق اللہ کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ سورۂ زمر میں ارشاد ہے:
قُلْ: لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ. (39: 44) | ’’کہو کہ سفارش تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اُسی کی ہے۔ پھر تم اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ |
اِن کے غیب سے مطلع ہونے اور اِن کی سفارش کے موثر ہونے کے تصورات کے ذیل میں سفلی عملیات اور تعویذ گنڈوں کا ایک بازار گرم تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیزوں سے منع فرمایا۔ استاذ ِگرامی نے اِس کے بارے میں لکھا ہے:
’’اِن ہستیوں سے استمداد پرمبنی تعویذ گنڈوں میں بھی یہی نجاست ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِس طرح کی جھاڑ پھونک، گنڈے اور میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کے تعویذ، سب شرک ہیں۔‘‘ (میزان 212)
-
سورۂ نجم کے مذکورہ بالا الفاظ ’اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی‘ (یہ محض وہم و گمان اور اپنے نفس کی خواہشوں کے پیرو ہیں) سے واضح ہے کہ شرک وضع کرنے میں ظنون و اوہام کو خاص دخل ہے۔ انسان پہلے شکوک و شبہات کا شکار ہوتا ہے، پھر اپنے تخیل سے کچھ سایے اور ہیولے بناتا ہے، پھر اُن کے خوف میں مبتلا ہو کر اُن سے نجات کی راہیں تلاش کرنے لگتا ہے۔ اِسی طرح وہ آفاق میں برپا ہونے والے اجنبی اور معمول سے ہٹ کر ہونے والے حوادث کے بارے میں اچھا یا برا شگون گمان میں لاتاہے اور پھر اُن سے خوش ہونا یا ڈرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ چیزیں، ظاہر ہے کہ مشرکانہ تصورات اور اعمال کے دروازے کھولتی ہیں، اِس لیے دین اِنھیں ممنوع کرتا ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر بعض توہمات سے منع فرمایا۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’ ...( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اِسی طرح سدِذریعہ کے اصول پر بعض اُن چیزوں سے بھی روکا ہے، جو اگرچہ شرک تو نہیں ہیں، لیکن اُس تک لے جانے کا باعث ہوسکتی ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک رات تارا ٹوٹا توآپ نے دریافت فرمایا: زمانۂ جاہلیت میں تم اِن کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہم سمجھتے تھے کہ جب کوئی بڑا شخص مرجاتا ہے یا پیدا ہوتا ہے تو تارے ٹوٹتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، کسی کے مرنے یا پیداہونے سے تارے نہیں ٹوٹتے۔
زیدبن خالد کا بیان ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر اتفاق سے رات کو بارش ہوئی۔ صبح کو نماز کے بعد آپ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: جانتے ہو، تمھارے رب نے کیا کہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اوراُس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ ارشادہوا: اللہ نے فرمایا ہے کہ آج صبح کو میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہو کر اٹھے اورکچھ کافر ہو کر، جنھوں نے یہ کہا کہ یہ بارش اللہ کے فضل و رحمت سے ہوئی ہے، وہ میرے ماننے والے اور تاروں کے منکرہیں اور جنھوں نے یہ کہا کہ ہم پر پانی فلاں نچھتر سے برساہے، وہ میرے منکر اورتاروں کے ماننے والے ہیں۔
ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سورج اورچاند کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں گہناتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا اِنھیں دیکھوتو نماز پڑھو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجۂ محترمہ کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا : جو اپنی کسی چیز کا پتا پوچھنے کسی عراف کے پاس جائے گااور اُسے سچا سمجھے گا، اُس کی چالیس دن کی نماز قبول نہ ہوگی۔
سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ کچھ نہیں ہیں۔ اُنھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ، اُن کی بعض باتیں سچی بھی نکل آتی ہیں۔ فرمایا : شیطان ایک آدھ بات سن لیتا ہے اورمرغی کی طرح قرقر کر کے اپنے دوستوں کے کانوں میں ڈالتا ہے۔ پھر وہ سو جھوٹ اُس کے ساتھ ملا کر لوگوں سے بیان کرتے ہیں۔
ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے : نہ چھوت ہے، نہ بدفالی ہے، نہ پیٹ میں بھوک کا سانپ ہے اورنہ مردے کی کھوپڑی سے پرندہ نکلتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اِس کے ساتھ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ غول بیابانی بھی کچھ نہیں ہے۔
سیدنا عمر کابیان ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری شان میں اُس طرح مبالغہ نہ کرو، جس طرح نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کی شان میں کیا ہے۔ میں تو بس خداکا بندہ ہوں، اِس لیے مجھے خدا کا بندہ اور اُس کا رسول ہی کہا کرو۔
ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سلسلۂ کلام میں کہا : جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ نے اُسے فوراً روکااور فرمایا: تم نے مجھے خدا کا ہم سر بنا دیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ کہو کہ جو تنہا اللہ چاہے۔‘‘
(میزان 213- 214)
-
قسم کسی عہد و پیمان یا عزم و ارادے کو موکد اور محکم کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ جس کی قسم کھائی جائے، اُس کی حیثیت بزرگ و برتر اور ژرف بیں گواہ کی ہوتی ہے، جو عہد و ارادے کے تمام ظاہری اور باطنی احوال سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہ قدر و منزلت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ اِس لیے انسانوں کے لیے یہی زیبا ہے کہ اگر وہ قسم کھائیں تو بس اُسی کی کھائیں۔ وہ اگر کسی اور کی قسم کھاتے ہیں تو گویا غیر اللہ کو وہی درجہ دیتے ہیں، جو اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھانے کو شرک سے تعبیر فرمایا ہے:
من حلف بغیر اللّٰہ فقد أشرک. (ابوداؤد، رقم 3251) | ’’جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی، اُس نے شرک کا ارتکاب کیا۔‘‘ |
ـــــــــــــــــــــــــــــ