’الۡبَغۡی‘ کے معنی و مفہوم کی درجِ بالا تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ یہ لفظ اُن حرمتوں کی جامع تعبیر ہے، جو حدود سے باغیانہ تجاوز کو ظاہر کرتی ہیں۔ اِس کے دائرے میں وہ تمام ممنوعات شامل ہیں، جوزیادتی، سرکشی اور ضدپر مبنی ہیں۔ اِس کی نمایاں ترین صورتیں شرک اور افترا علی اللہ ہیں۔ اِن دونوں صورتوں کو اللہ تعالیٰ نے چوتھی اور پانچویں حرمت کے طور پر الگ سے متعین فرمایا ہے۔ اِس کا سبب، ظاہر ہے کہ اِن کی غیرمعمولی شناعت ہے۔ اُنھیں یہاں بیان کرنے کے بجاے منفرد طور پر آگے بیان کیا جائے گا۔ یہاں اُن کے علاوہ قرآن و حدیث میں مذکور باقی نمایاں حرمتیں بیان کی جاتی ہیں:
مذہبی جبر،
فساد فی الارض،
قتل و جراحت،
خود کشی،
قذف،
دوسروں کا مال غصب کرنا،
چوری،
سود،
جوا،
قحبہ گری،
غرور و تکبر،
خلقی ساخت میں تبدیلی،
ظلم و زیادتی میں تعاون۔
قرآنِ مجید نے اِس کے لیے ’فِتْنَۃ‘کی تعبیر اختیار فرمائی ہے۔[45] اِس کے معنی کسی شخص کو ظلم و جبر کے ساتھ اُس کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کے ہیں۔ اِسی چیز کو انگریزی زبان میں‘persecution’کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔[46] اِس سے مراد مذہبی آزادی کے اُس حق کو ختم کرنے کی کوشش ہے، جسے عالم کے پروردگار نے انسانوں کو عطا فرمایا ہے۔ یہ وہ آزادی ہے، جس کا شعور ازل سےاُن کی فطرت میں ودیعت ہے اور اِسی بنا پر اُن کا اجتماعی ضمیر اِس کی خلاف ورزی قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ اللہ کے پیغمبروں نے ہمیشہ اِس کی حمایت کی ہے اور اِس کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔ اِس کی خلاف ورزی سنگین جرم ہے، لہٰذا اِس کا ارتکاب کرنے اور پھر اُس پر جم جانے والوں کے لیے اللہ نے جہنم میں جلائے جانے کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ ارشاد ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَتُوۡبُوۡا فَلَہُمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَ لَہُمۡ عَذَابُ الۡحَرِیۡقِ. (البروج 85: 10) | ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو ستایااور پھر نہیں پلٹے، اُن کے لیے دوزخ کی سزا ہے اور اُن کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔‘‘[47] |
مذہبی جبر کا یہ جرم اصل میں آزمایش کی اُس اسکیم کو برباد کرنے کی جسارت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے اِس دنیا کو قائم کیا ہے۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
”... اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آزمایش کے لیے بنائی ہے اور اِس میں انسانوں کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے آزادانہ فیصلے سے جو دین اور جو نقطۂ نظر چاہیں، اختیار کریں، لہٰذا کوئی شخص یا گروہ اگر دوسروں کو بالجبر اُن کا دین چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے تو یہ درحقیقت اِس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کی پوری اسکیم کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘‘(میزان 595)
یہی وجہ کہ شریعت نے اِسے قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا ہے[48] اور اگر کوئی فرد، گروہ یا قوم اِس کا ارتکاب کرے تو اُس کی تادیب وتعذیب کے لیے سزائیں مقرر فرمائی ہیں۔ جہاد کی نوعیت بھی یہی ہے۔ یعنی مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو حکم دیا ہے کہ اگر استطاعت ہو تو فتنےکی سرکوبی کے لیے فتنہ انگیزوں کے خلاف جنگ کا اقدام کیا جائےاور یہ اقدام اُس وقت تک جاری رہے، جب تک فتنہ ختم نہ ہو جائے۔ زمانۂ رسالت میں جب یثرب میں مسلمانوں کی منظم ریاست قائم ہو گئی تو اُنھیں فتنے کے استیصال کی ہدایت فرمائی گئی۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ اِس سرزمین میں اسلام لانے والوں کے لیے فتنہ کی جو صورتِ حال پیدا کر دی گئی ہے، اُسے ختم کرنے کے لیے جنگ کریں اور اُسے اُس وقت تک جاری رکھیں، جب تک فتنہ ختم نہ ہو جائے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:
وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا، اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ. وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ، وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ. وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ. فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ، کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ. فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ. فَاِنِ انْتَھَوْا فَلاَ عُدْوَانَ اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ. ( 2: 190-193) | ’’اور اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو (حج کی راہ روکنے کے لیے) تم سے لڑیں اور (اِس میں) کوئی زیادتی نہ کرو۔بے شک، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اِن لڑنے والوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور اُنھیں وہاں سے نکالو، جہاں سے اُنھوں نے تمھیں نکالا ہے اور (یاد رکھو کہ) فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے۔ اور مسجدِ حرام کے پاس تم اُن سے (خود پہل کر کے) جنگ نہ کرو، جب تک وہ تم سے اُس میں جنگ نہ کریں۔ پھر اگر وہ جنگ چھیڑ دیں تو اُنھیں (بغیر کسی تردد کے) قتل کرو۔ اِس طرح کے منکروں کی یہی سزا ہے۔ لیکن اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ اور تم یہ جنگ اُن سے برابر کیے جاؤ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (اِس سرزمین میں) اللہ ہی کا ہو جائے۔ تاہم وہ باز آ جائیں تو (جان لو کہ) اقدام صرف ظالموں کے خلاف ہی جائز ہے۔‘‘ |
-
’فساد فی الارض‘ شریعت کی خاص اصطلاح ہے۔ یہ اُن جرائم کے لیے مستعمل ہے، جو معاشرے کے امن کو درہم برہم کرتے اور لوگوں کی آزادی کو سلب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اِن کے مرتکبین نظم اجتماعی کے خلاف برسرجنگ ہوتے،قانون کی بالادستی کو چیلنج کرتے اور عامۃ الناس کے لیے خوف و ہراس کا باعث بن جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ زیادتی اور سرکشی کی بدترین صورت ہے۔ یہ صورت اگر زمانۂ رسالت میں ظاہر ہو تو شریعت کی رو سے محاربہ ، یعنی اللہ اور اُس کے رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ اِن کی غیر معمولی شناعت کے باعث شریعت میں اِن کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر ہیں ۔ چنانچہ اِن کے مرتکبین کے بارے میں حکم دیا ہے کہ یا اِنھیں عبرت ناک طریقے سے قتل کیا جائے یا دردناک طریقے سے سولی پر لٹکایا جائے یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں ملک سے نکال دیا جائے۔ ارشاد فرمایا ہے:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ. ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ، فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (المائدہ 5: 33-34) | ’’(اِنھیں بتا دیا جائے کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور اِس طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے،اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کردیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے، مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘ |
استاذِ گرامی نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’ اللہ کا رسول دنیا میں موجود ہو اور لوگ اُس کی حکومت میں اُس کے کسی حکم یا فیصلے کے خلاف سرکشی اختیار کرلیں تو یہ اللہ و رسول سے لڑائی ہے۔ اِسی طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی تعبیر ہے۔ یہ اُس صورت حال کے لیے آتی ہے، جب کوئی شخص یا گروہ قانون سے بغاوت کر کے لوگوں کی جان و مال، آبرو اور عقل وراے کے خلاف برسر جنگ ہوجائے۔ چنانچہ قتل دہشت گردی، زنا زنا بالجبر اور چوری ڈاکا بن جائے یا لوگ بدکاری کو پیشہ بنالیں یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئیں یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائیں یا نظمِ ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں یا اغوا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے سنگین جرائم سے حکومت کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کردیں تو وہ اِسی فساد فی الارض کے مجرم ہوں گے۔‘‘(البیان1/625)
-
انسان کی زندگی اُس کا پیدایشی حق ہے۔ یہ حق زمین و آسمان کے خالق نے اُسےعطا فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب و اخلاق کی رو سے انسانی جان کو ہمیشہ حرمت حاصل رہی ہے اور اللہ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورۂ مائدہ میں ارشاد ہے:
مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا. (5: 32) | ’’(انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اُس میں) بنی اسرائیل پربھی اپنا یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی، اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘ |
انسانی جان کے خلاف تعدی صریح زیادتی ہے۔ قرآنِ مجید نے اِسےظلم اور عدوان سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اِس کے مرتکب کو سخت بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا:
وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا.وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ عُدۡوَانًا وَّ ظُلۡمًا فَسَوۡفَ نُصۡلِیۡہِ نَارًا ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا. (النساء 4: 29- 30) | ’’اور نہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔ اور (یاد رکھو کہ) جو لوگ ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کریں گے، اُن کو ہم ضرور ایک سخت بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیں گے، اور یہ اللہ کے لیے بہت ہی آسان ہے۔‘‘[49] |
’عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا‘ کے الفاظ سے اِس کا’بَغۡی ‘ (نا حق زیادتی) ہونا پوری طرح واضح ہے۔ ظلم سے مراد یہ ہے کہ بے انصافی کرتے ہوئے کسی شخص کو اُس کے لازمی حق سے محروم کر دیا جائے، عدوان یہ ہے کہ جبر و قہر سے کسی کے حق کو پامال کر دیا جائے۔[50]
مذکورہ آیت میں فرمایا ہے کہ قتل کے مجرم کو بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا، آگے اِسی سورہ میں ارشاد ہے کہ ایسا کرنے والا اللہ کے غضب اور لعنت کا مستحق ٹھہرے گا اور ابدی جہنم کا سزاوار ہو گا:
وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا . (النساء 4: 93) | ’’اُس شخص کی سزا، البتہ جہنم ہے، جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، وہ اُس میں ہمیشہ رہے گا، اُس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اُس کے لیے اُس نے ایک بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ |
یہ اِس جرم کی اخروی سزا ہے، اِس کی دنیوی سزا بھی شریعت میں مقرر ہے۔ یہ سزا قصاص ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہےکہ اگر کسی نے ظلم و زیادتی کرتے ہوئے ایک انسان کی جان کو تلف کیا ہے تو سزا کے طور پر اُس کی جان بھی تلف کی جائے گی۔ ارشاد فرمایا ہے:
یَٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی، اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی، فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ. ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ، فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ، لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ. (البقرہ 2 :178- 179) | ’’ایمان والو، (تم میں) جو لوگ قتل کر دیے جائیں، اُن کے مقدموں میں قصاص تم پر فرض کیا گیا ہے۔ اِس طرح کہ قاتل آزاد ہو تو اُس کے بدلے میں وہی آزاد، غلام ہو تو اُس کے بدلے میں وہی غلام، عورت ہو تو اُس کے بدلے میں وہی عورت۔ پھر جس کے لیے اُس کے بھائی کی طرف سے کچھ رعایت کی جائے (تو اُس کو تم قبول کر سکتے ہو، لیکن یہ قبول کر لی جائے) تو دستور کے مطابق اُس کی پیروی کی جائے گی اور جو کچھ بھی خون بہا ہو، وہ خوبی کے ساتھ اُسے ادا کر دیا جائے گا۔ یہ تمھارے پروردگار کی طرف سے ایک قسم کی رعایت اور تم پر اُس کی عنایت ہے۔ پھر اِس کے بعد جو زیادتی کرے تو اُس کے لیے (قیامت میں) دردناک سزا ہےــــــ۔ اور تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے، عقل والو، تاکہ تم حدود الٰہی کی پابندی کرتے رہو۔‘‘ |
دوسرے انسانوں کے جسمانی اعضاکو تلف کرنا یا نقصان پہنچانا بھی انسانی جان کے خلاف اقدام کی ایک فرع ہے، اِس لیے اِسے بھی قصاص کے قانون میں شامل کیا گیا ہے۔ فرمایا ہے:
وَکَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ، فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ، وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ. (المائدہ 5: 45) | ’’اور اِسی کتاب میں ہم نے اِن پر فرض کیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور اِسی طرح دوسرے زخموں کا بھی قصاص ہے۔ پھر جس نے اُسے معاف کر دیا تو اُس کے لیے وہ کفارہ بن جائے گا۔ (یہ اللہ کا قانون ہے) اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی ظالم ہیں۔‘‘ |
خود کشی قتل نفس ہی کی ایک صورت ہے۔ انسانی جان ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اُسی کا حق ہے کہ وہ اِسے جب چاہے، ہمارے سپرد کرے اور جب چاہے، ہم سے واپس لے۔ خود کشی خدا کے فیصلے کو رد کر دینے کی جسارت ہے، اِس لیے اِس میں بغی کا وہ پہلو نمایاں طور پر شامل ہو جاتا ہے، جو سرکشی سے عبارت ہے۔ خود جان کا بھی حق ہے کہ دنیا میں اُس کی بقا اور سلامتی کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر خود کشی کرنے والے کے لیے جنت کو حرام قرار دیا ہے:
قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:كان فيمن كان قبلكم رجل به جرح فجزع فأخذ سكيناً فحز بها يده فما رقا الدم حتى مات، قال اللّٰه تعالى بادرني عبدي بنفسه حرمت عليه الجنة. (بخاری، رقم 3463) | ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گذشتہ زمانے میں ایک شخص کا ہاتھ زخمی ہوا تو اُس نے تکلیف کے باعث اُسے کاٹ لیا۔ چنانچہ(جسم کا سارا) خون بہ گیا اور اُس کی موت واقع ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے خود جلد بازی کی، لہٰذا میں نے جنت کو اُس پر حرام کر دیا۔“ |
ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کشی کی مختلف صورتوں کا ذکر فرما کر اُس کے مرتکبین کے لیے جہنم کی وعید سنائی :
عن أبي هريرة رضي اللّٰه عنه، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ”من تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم، يتردى فيه خالدًا مخلدًا فيها أبدًا، ومن تحسى سمًا فقتل نفسه فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدًا مخلدًا فيها أبدًا، ومن قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يجا بها في بطنه في نار جهنم خالدًا مخلدًا فيها أبدًا‘‘. (بخاری، رقم 5778) | ’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خودکشی کر لی، وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اوراُس میں ہمیشہ پڑا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خودکشی کر لی، وہ زہر اُس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ اِسے اُسی طرح مستقل پیتا رہے گا۔ جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خودکشی کر لی تو وہ ہتھیار اُس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ مسلسل اُسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔‘‘ |
-
کسی شریف مرد و عورت پر زنا کی تہمت لگانا قذف ہے۔ شریعت میں ایسی بہتان طرازی سنگین جرم ہے۔ اِس کے لیے جہنم کی وعید بھی ہے اور اِس کے ساتھ مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو حکم دیا ہے کہ وہ اِس کے لیے چار عینی گواہوں کی شہادت کو لازم قرار دے۔ جو بہتان طراز چار گواہ نہ لا سکے،اُسے اسی (80) کوڑے لگانے اور ہمیشہ کے لیے ساقط الشہادت ٹھہرانے کی سزا سنائی ہے:
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآءَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَھَادَۃً اَبَدًا، اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(النور 24: 4) | ’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (زنا کی) تہمت لگائیں، پھر (اُس کے ثبوت میں) چار گواہ نہ لا سکیں، اُن کو اسی کوڑے مارو اور اُن کی گواہی پھر کبھی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘ |
-
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟... وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ عُدۡوَانًا وَّ ظُلۡمًا فَسَوۡفَ نُصۡلِیۡہِ نَارًا ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا. (النساء 4: 29- 30) | ’’ایمان والو،ایک دوسرے کے مال آپس میں باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، الاّ یہ کہ تمھاری باہمی رضا مندی کی تجارت ہو، جس سے کوئی مال حاصل ہو جائے ... اور (یاد رکھو کہ) جو لوگ ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کریں گے، اُن کو ہم ضرور ایک سخت بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیں گے، اور یہ اللہ کے لیے بہت ہی آسان ہے۔‘‘ |
اِس مقام پر باطل طریقوں سے دوسروں کا مال کھانے سے روکا گیا ہے۔ اِس کے لیے ’لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سےمراد وہ ناحق طریقے ہیں، جو عدل و انصاف اور دیانت و امانت کے خلاف ہیں اور جن میں ظلم و زیادتی کرتے ہوئے دوسروں کے اموال کو غصب کیا جاتا ہے۔ یہ انسان کے مال کے خلاف تعدی ہے، جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ استاذ ِگرامی نے اِس حکم کو معاشی معاملات سے متعلق جملہ حرمتوں کی اساس قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ خرید و فروخت کے جن طریقوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، وہ اِسی حکم کی بعض اطلاقی صورتیں ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’اسلام میں معاشی معاملات سے متعلق تمام حرمتوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے۔ رشوت، چوری، غصب، غلط بیانی، تعاون علی الاثم،غبن، خیانت اور لقطہ کی مناسب تشہیر سے گریز کے ذریعے سے دوسروں کا مال لے لینا، یہ سب اِسی کے تحت داخل ہیں۔ اِن چیزوں پر مفصل بحث کی ضرورت نہیں ہے،اِس لیے کہ اِن کا گناہ ہونا تمام دنیا کے معروفات اور ہر دین و شریعت میں ہمیشہ مسلم رہا ہے۔ وہ معاملات جو دوسروں کے لیے ضرر و غرر،یعنی نقصان یا دھوکے کا باعث بنتے ہیں،وہ بھی اِسی کی ایک فرع ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی جو صورتیں،اپنے زمانے میں ممنوع قرار دیں، وہ یہ ہیں:
چیزیں بیچنا،اِس سے پہلے کہ وہ قبضے میں آئیں۔
ڈھیر کے حساب سے غلہ خرید کر،اُسے اپنے ٹھکانوں پر لانے سے پہلے بیچ دینا۔
دیہاتی کے لیے کسی شہری کی خریدو فروخت۔
محض دھوکا دینے کے لیے، ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی دینا۔
کسی شخص کے سودے پر اپنا سودا بنانے کی کوشش کرنا۔
محاقلہ، یعنی کوئی شخص اپنی کھیتی خوشوں میں بیچ دے۔
مزابنہ، یعنی کھجور کے درخت پر اُس کا پھل درخت سے اتری ہوئی کھجور کے عوض بیچنا۔
معاومہ،یعنی درختوں کا پھل کئی سال کے لیے بیچ دینا۔
ثنیا،یعنی بیع میں کوئی مجہول استثنا باقی رکھا جائے۔اِس کی صورت یہ تھی کہ غلہ بیچنے والا، مثال کے طور پر، یہ کہہ دیتا کہ میں نے یہ غلہ تیرے ہاتھ بیچ دیا،مگر اِس میں سے تھوڑا نکال لوں گا۔
ملامسہ،یعنی ہر ایک دوسرے کا کپڑا بے سوچے سمجھے چھو لے اور اِس طرح اُس کی بیع منعقد ہو جائے۔
منابذہ،یعنی ہر ایک اپنی کوئی چیز دوسرے کی طرف پھینک دے اور اِس طرح اُس کی بیع منعقد قرار پائے۔
بیع الی حبل الحبلہ،یعنی اونٹ اِس طرح بیچے جائیں کہ اونٹنی جو کچھ جنے،پھر اُس کا وہ بچہ حاملہ ہو اور جنے تو اُس کا سودا طے ہوا۔
بیع الحصاۃ،یعنی کنکری کی بیع۔اِس کی دو صورتیں بالعموم رائج تھیں: ایک یہ کہ اہل جاہلیت زمین کا سودا طے کر لیتے،پھر کنکری پھینکتے اور جہاں تک وہ جاتی،اُسے زمین کی مساحت قرار دے کر مبیع کی حیثیت سے خریدار کے حوالے کر دیتے۔ دوسری یہ کہ کنکری پھینکتے اور کہتے کہ یہ جس چیز پر پڑے گی، وہی مبیع قرار پائے گی۔
درختوں کے پھل بیچ دینا،اِس سے پہلے کہ اُن کی صلاحیت واضح ہو۔
بالی بیچ دینا،اِس سے پہلے کہ وہ سفید ہو کر آفتوں سے محفوظ ہو جائے۔
اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچنا جس میں عیب ہو،الاّیہ کہ اُسے واضح کر دیا جائے۔
اونٹ یا بکری کا دودھ،اُنھیں بیچنے سے پہلے اُن کے تھنوں میں روک کر رکھنا۔
بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر تاجروں سے ملنا اور اُن کا مال خریدنے کی کوشش کرنا۔
کسی چیز کی پیشگی قیمت دے کر اِس طرح بیع کرنا کہ تیار ہونے پر وہ چیز لے لی جائے گی، الاّ یہ کہ معاملہ ایک معین ماپ اور ایک معین تول کے ساتھ اور ایک معین مدت کے لیے کیا جائے۔
مخابرہ،یعنی بٹائی کی وہ صورتیں اختیار کی جائیں جن میں کھیتی والے کا منافع معین قرار پائے۔
زمین اِس طرح بٹائی پر دینا کہ زمین کے ایک معین حصے کی پیداوار زمین کے مالک کا حق قرار پائے۔
ایسی جایدادیں جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہوں، اُن کے شریکوں کو خریدنے کا موقع دیے بغیر اُنھیں بیچ دینا، الاّیہ کہ حدود متعین ہو جائیں اور راستے الگ کر دیے جائیں۔‘‘
(میزان 501- 504)
چوری اکل الاموال بالباطل (باطل طریقوں سے مال کھانا) کی ایک نمایاں صورت ہے۔ اِس کا گناہ ہونا معلوم و معروف ہے۔ ہر زمانے میں، ہر تہذیب و تمدن میں اور ہر دین و شریعت میں اِسے جرم تسلیم کیا گیا ہے اور اِس کی روک تھام کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اثرات و نتائج کے لحاظ سے یہ کوئی مفرد جرم نہیں، بلکہ مجموعۂ جرائم ہے۔ دنیا بھر میں جرائم کے واقعات اگر سامنے رکھے جائیں تو واضح ہو گا کہ قتل و غارت اور آبرو ریزی کے بے شمار حادثات نے چوری اور راہ زنی ہی کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں جب لوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جن امور پر عہد لینے کی ہدایت فرمائی ، اُن میں سے ایک امر چوری سے اجتناب بھی تھا۔ سورۂ ممتحنہ میں ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ عَلٰۤی اَنۡ لَّا یُشۡرِکۡنَ بِاللّٰہِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡرِقۡنَ وَ لَا یَزۡنِیۡنَ وَ لَا یَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ وَ لَا یَاۡتِیۡنَ بِبُہۡتَانٍ یَّفۡتَرِیۡنَہٗ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِنَّ وَ اَرۡجُلِہِنَّ وَ لَا یَعۡصِیۡنَکَ فِیۡ مَعۡرُوۡفٍ فَبَایِعۡہُنَّ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُنَّ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ . (60 :12) | ’’اِسی طرح، اے پیغمبر، جب مسلمان عورتیں بیعت کے لیے تمھارے پاس آئیں (اور عہد کریں) کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور چوری نہ کریں گی اور زنا نہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اور اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور بھلائی کے کسی معاملے میں تمھاری نافرمانی نہ کریں گی تو اُن سے بیعت لے لو اور اُن کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو۔ بے شک، اللہ غفور و رحیم ہے۔‘‘ |
اسلامی شریعت میں اِس جرم کی انتہائی سزا ہاتھ کاٹ دینا ہے۔ جب مجرم اپنے جرم کی نوعیت اور اپنے حالات کے لحاظ سے کسی رعایت کا مستحق نہ رہے تو دین نے اِس سزا کے نفاذ کا حکم دیا ہے۔[51] ارشاد فرمایا ہے:
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَھُمَا جَزَآءًم بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ. فَمَنْ تَابَ مِنْم بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ، فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ، اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (المائدہ 5: 38-39) | ’’(یہ خدا کی شریعت ہے، اِسے مضبوطی سے پکڑو) اور چور مرد ہو یا عورت، (اُن کا جرم ثابت ہو جائے تو) اُن کے ہاتھ کاٹ دو ، اُن کے عمل کی پاداش میں اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا کے طور پر اور (یاد رکھو کہ) اللہ سب پر غالب ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ پھر جس نے اپنے اِس ظلم کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی تو اللہ اُس پر عنایت کی نظر کرے گا۔ بے شک، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘ |
قرآنِ مجیدنے سودکے لیے’رِبٰوا‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ اِس سے مراد وہ اضافہ ہے، جو قرض دینے والا اپنے مقروض سے محض اِس بنا پر وصول کرتا ہے کہ اُس نے ایک خاص مدت کے لیے اُس کو روپے کے استعمال کی اجازت دی ہے۔[52] اللہ تعالیٰ نے اِسے پوری شدت سے حرام قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا. (البقرہ 2: 275) | ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ قیامت میں اٹھیں گے تو بالکل اُس شخص کی طرح اٹھیں گے، جسے شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیا ہو۔یہ اِس لیے کہ اُنھوں نے کہا ہے کہ بیع بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے اور تعجب ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال اور سودکو حرام ٹھیرایا ہے۔ ‘‘ |
سود کا تعلق اکل الاموال بالباطل سے ہے۔ یعنی دوسروں کی حق تلفی کرتے ہوئے اور اُن سے ظلم و زیادتی کرتے ہوئے اُن کے مال کو ہڑپ کر جانا۔ اللہ تعالیٰ نے قرابت دار اور ضرورت مند کا یہ حق قائم فرمایا ہے کہ تنگ دستی کے حالات میں اُس کی مدد کی جائے۔ یہ پروردگار کی شکر گزاری کا لازمی تقاضا ہے۔ بھائی بندوں کی اگر ایسی ضرورت سامنے آئے تو ہر شخص کو چاہیے کہ حسبِ توفیق اپنا مال اللہ کی راہ میں بہ طورِ صدقہ پیش کر ے۔ تاہم، یہ ممکن نہ ہو تو اُس کے لیے قرض کی سہولت پیدا کی جا سکتی ہے۔ مگر اِس شرط پر قرض دینا کہ ضرورت مند اِس میں اضافہ کر کے واپس لوٹائے، رذالت اور کم ظرفی کی بدترین مثال ہے۔ یہ اپنے ہم نفسوں کی حق تلفی اور اپنے مالک کی ناشکری ہے۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اِسے ممنوع ٹھہرایا ہے۔ مزید برآں،اُس نے صدقے کو سودی قرضے کے مقابل رکھ کر یہ واضح کر دیاہے کہ اِس معاملے میں وہ اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے۔ ارشاد ہے:
فَاٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَالسَّبِیۡلِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ. وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ. (الروم 30 : 38-39) | ’’سو (رزق میں کشادگی ہو تو) قرابت مند اور مسکین اور مسافر کو اُس کا حق دو۔ یہ اُن کے لیے بہتر ہے جو خدا کی رضا چاہتے ہیں اوروہی (آخرت میں ) فلاح پانے والے ہیں۔ یہ سودی قرض جوتم اِس لیے دیتے ہو کہ دوسروں کے مال میں شامل ہو کر بڑھے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو صدقہ تم دیتے ہو کہ اُس سے اللہ کی رضا چاہتے ہو تو اُسی کے دینے والے ہیں جو اللہ کے ہاں اپنا مال بڑھا رہےہیں۔‘‘ |
سورۂ بقرہ کی آیت 279 میں سود کو ظلم سے تعبیر کیا ہے۔اِس کے لیے ’لَا تَظْلِمُوْنَ‘ (نہ تم کسی پر ظلم کرو گے)کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سے پہلے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اِس ظالمانہ کاروبار کو بند کر دیں ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اللہ اور رسول کی طرف سے اقدام جنگ کے لیے تیار ہو جائیں:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا، اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوا، اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ. فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ، وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِکُمْ ، لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ. (2: 278-279) | ’’ایمان والو، اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور جتنا سود باقی رہ گیا ہے ، اُسے چھوڑ دو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اوراُس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو توتمھاری اصل رقم کا تمھیں حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو گے ، نہ تم پر ظلم کیا جائے گا ۔‘‘ |
سود کیسے دوسرے انسانوں کے حقوق کے خلاف ظلم و زیادتی کا باعث بنتا ہے، اِسے امام امین احسن اصلاحی نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”... (سود خور) جب ایک مرتبہ اپنے جال میں کسی کو پھنسا پاتا ہے تو چاہے اُس مظلوم کے جسم پر گوشت کی ایک بوٹی بھی باقی نہ رہ گئی ہو، لیکن وہ اپنی ہر میعاد پر آ کر اپنا ایک پونڈ گوشت کاٹ لے گا اور مدت العمر کی اِس قطع و برید کے بعد بھی بسااوقات ہوتا یہ ہے کہ نہ صرف بنیے کا اصل سرمایہ قرض دار پر لدا رہتا ہے، بلکہ وہ اصل سے کئی گنا ہو کر اکاس بیل کی طرح مظلوم قرض دار کے گھردر، اُس کے اثاث البیت اور اُس کے زن و فرزند، ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور خاندان کے خاندان کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن 1/ 633)
جوے کا شمار بھی اکل الاموال بالباطل میں ہوتا ہے۔ سود کی طرح یہ بھی ناحق زیادتی پر مبنی ہے۔ اِس کا زیادتی ہونا تین پہلوؤں سے ہے۔ ایک اِس پہلو سے کہ اِس کے نتیجے میں ایک شخص بلا استحقاق محض قسمت آزمائی سےدوسرے کے مال کو ہڑپ کر لیتا ہے۔ دوسرے اِس پہلو سے کہ یہ معاشرے کے معاشی عمل کا رخ محنت اور قربانی سے موڑ کر بزدلی اور کم ہمتی کی طرف مبذول کر دیتا ہے۔ تیسرے اِس پہلو سے کہ اِس کے نتیجے میں لوگوں کے مابین کینہ، حسد ، دشمنی، انتقام کے جذبات پیدا ہوتے، جو معاشرے کو فتنہ و فساد کی آماج گاہ بنا دیتے ہیں۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اِسے گندے شیطانی کاموں میں شامل کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ. اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ. (المائدہ 5: 90-91) | ’’ایمان والو، یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، سو اِن سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمھیں شراب اور جوے میں لگا کر تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا (اِن چیزوں سے) باز آتے ہو؟‘‘ |
استاذِ گرامی لکھتے ہیں:
’’جوے کے بارے میں ہرشخص جانتا ہے کہ یہ نری قسمت آزمائی ہے۔ قرآنِ مجید نے اِسے ’رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ‘ (گندے شیطانی کاموں میں سے) قرار دیا ہے۔ اِس کے لیے یہ تعبیر،صاف واضح ہے کہ اُس اخلاقی فساد کی بنا پر اختیار کی گئی ہے، جو اِس سے آدمی کی شخصیت میں پیدا ہوتا اور بتدریج اُس کے پورے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی عمل کی بنیاد اگر بیع و شرا اور خدمت و اعانت پر رکھی جائے تو اُس سے جس طرح انسان میں اخلاق عالیہ کے داعیات کو قوت حاصل ہوتی ہے، اِسی طرح اِس کی بنیاد اگر اِن سب چیزوں کے بغیر محض اتفاقات اور قسمت آزمائی پر رکھ دی جائے تو اِس کے نتیجے میں محنت،زحمت، خدمت اور جاں بازی سے گریز کا رویہ انسان میں پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر بزدلی و کم ہمتی اور اِس طرح کے دوسرے اخلاقِ رذیلہ کی آکاس انسانی شخصیت کے شجرِطیب پر نمایاں ہوتی اور آہستہ آہستہ عفت، عزت، ناموس، وفاوحیا اور غیرت و خودداری کے ہر احساس کو بالکل فنا کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان خدا کی یاد اور نماز سے غافل ہو جاتا اور دوسروں کے ساتھ اخوت و محبت کے بجاے بغض و عداوت کے جذبات اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔‘‘(میزان 504)
جوے کے ساتھ جب شراب بھی شامل ہو جائے تو معاشرے پر اُس کے نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِن سے متنبہ کرنے کے لیے مذکورہ آیت کے تحت لکھا ہے:
’’...یہ حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں یہ وبا پھیل جائے، اُس میں یا تو عفت، عزت، ناموس اور وفا و حیا کا احساس مٹ جائے گا، جیسا کہ مغرب زدہ سوسائٹی میں آج مشاہدہ ہو رہا ہے اور یہ بجاے خود ایک عظیم حادثہ ہے اور اگر اِن کی کوئی رمق باقی رہے گی تو ناگزیر ہے کہ آئے دن اِن کی بدولت تلواریں کھنچی رہیں۔ عرب عفت و عصمت، خودداری اور غیرت کے معاملے میں بڑے حساس تھے اور یہ اِن کی بہت بڑی خوبی تھی، لیکن ساتھ ہی شراب اور جوے کے بھی رسیا تھے، اِس وجہ سے جام و سنداں کی یہ بازی اُن کے لیے بڑی مہنگی پڑ رہی تھی۔ جہاں کسی نے شراب کی بدمستی میں کسی کی عزت و ناموس پر حملہ کیا، کسی کی تحقیر کی، کسی کو چھیڑا یا جوے میں کوئی چیند کی (اور یہ چیزیں جوے اور شراب کے لوازم میں سے ہیں)، وہیں تلواریں سونت لیتے اور افراد کی یہ لڑائی چشم زدن میں قوموں اور قبیلوں کی جنگ بن جاتی اور انتقام در انتقام کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا کہ صرف مہینے اور سال نہیں، بلکہ پوری صدی گزار کر بھی یہ آگ ٹھنڈی نہ پڑتی۔‘‘
(تدبرقرآن 2/ 590)
بدکاری جب یاری آشنائی سے آگے بڑھ کر پیشے کی صورت اختیار کر لے اور فواحش کی کھلم کھلا ترغیب کا باعث بن جائے تو اُس کی نوعیت فساد فی الارض کی ہو جاتی ہے۔پھر یہ دین و اخلاق اورمعاشرے کی پاکیزہ اقدار کے خلاف کھلی بغاوت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں ’البغاء‘ کے اسم کو صفتِ قحبہ گری کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔[53] قرآنِ مجید کے بعض مقامات پر بھی یہ قحبہ گری کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ سورۂ نور میں مردوں کو حکم دیا ہے کہ جو لونڈیاں اُن کی زیرِ نگیں ہوں، اُنھیں وہ پیشہ کرنے پر مجبور نہ کریں۔ ارشاد ہے:
وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ. (24: 33) | ’’اپنی لونڈیوں کو پیشہ پر مجبور نہ کرو۔‘‘ |
قرآنِ مجید کے بعض مقامات پر بدکاری کو ’بَغْی‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام راغب کے نزدیک یہ حرام فعل جب پیشے کی صورت اختیار کر لے تو اسے ’بغی‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔[54]
زیادتی اور سرکشی کی بنیاد غرور و تکبر ہے۔ نافرمانی، حکم عدولی، بغاوت، یہ سب قباحتیں اُس وقت پیدا ہوتی ہیں، جب انسان خود کو عظیم الشان سمجھنے لگتا ہے۔ اکثر اوقات اُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلط ہے، مگر محض اپنی انانیت کی تسکین کے لیے وہ حق کے مقابل میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ کے رسولوں کا انکار کرنے والے اِسی مرض میں مبتلا ہو کر کیفرِ کردار کو پہنچتے رہے ہیں۔ وہ رسول کی حقانیت کو جاننے کے باوجود فقط اِس لیے اُسے ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں کہ اِس کے نتیجے میں اُنھیں رسول کی اطاعت میں آنا پڑے گا۔ غرور و تکبر کا یہ رویہ انسان کے انگ انگ سے ظاہر ہوتا ہے اور اُس کی پوری شخصیت کو بدنما بنا دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے متکبرین کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرًا. (النساء4: 36) | ’’اللہ اُن لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اتراتے اور اپنی بڑائی پر فخر کرتے ہیں۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کی تفسیر میں تکبر کو اداے حقوق کے منافی ذہنیت سے تعبیر کیا ہے اور اِس کے بارے میں لکھا ہے:
’’...یہ اداے حقوق اور احسان کے منافی ذہنیت کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اسباب و وسائل کی فراوانی کو اللہ کا انعام و احسان سمجھتے ہیں، اُن کے اندر تو شکرگزاری اور تواضع کا جذبہ ابھرتا ہے اور یہ جذبہ اُن کو اِس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن پر احسان فرمایا ہے، اُسی طرح یہ دوسروں پر احسان کریں۔ چنانچہ وہ لوگوں پر احسان کرتے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے سزاوار بنتے ہیں۔ برعکس اِس کے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو خود اپنی قوت و قابلیت اور اپنی تدبیر و حکمت کا کرشمہ سمجھنے لگتے ہیں، اُن کے اندر تواضع اور شکر گزاری کے جذبے کے بجاے گھمنڈ اور فخر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ لوگوں پر احسان کرنے کے بجاے اُن پر دھونس اور رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے ناشکروں اور کم ظرفوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ’’دوست نہیں رکھتا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن 2/ 298)
قرآنِ مجید نے اِس کے بعض نمایاں مظاہر کا ذکر کیا ہے اور لوگوں کو اِس سے بچنے کی تاکید کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس کی بعض صورتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ تفصیل درجِ ذیل ہے۔
i۔چال ڈھال اور انداز و اطوار میں اظہارِ تکبر
سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے:
وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا. ( 17: 37) | ’’اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، اِس لیے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔‘‘ |
سورۂ لقمان میں فرمایا ہے:
وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ. وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ. ( 31: 18- 19) | ’’اور لوگوں سے بے رخی نہ کرو اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، اِس لیے کہ اللہ کسی اکڑنے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو، حقیقت یہ ہے کہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔‘‘ |
متکبر شخص کی چال میں ایک خاص طرح کی اکڑ ہوتی ہے۔ میل جول کے موقع پر شانِ بے نیازی نظر آتی ہے۔ لب و لہجہ شاہانہ اور تحکمانہ ہوتا ہے۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے، جیسے زمین کا مالک وہی ہے اور باقی لوگ اُس کے غلام اور نوکر چاکر ہیں۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:
’’ ... دولت، اقتدار، حسن، علم، طاقت اور ایسی ہی دوسری جتنی چیزیں آدمی کے اندر غرور پیدا کرتی ہیں، اُن میں سے ہر ایک کا گھمنڈ اُس کی چال کے ایک مخصوص ٹائپ میں نمایاں ہوتا اور اِس بات پر دلیل بن جاتا ہے کہ اُس کا دل بندگی کے شعور سے خالی ہے اور اُس میں خدا کی عظمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جس دل میں بندگی کا شعور اور خدا کی عظمت کا تصور ہو، وہ اُنھی لوگوں کے سینے میں دھڑکتا ہے، جن پر تواضع اور فروتنی کی حالت طاری رہتی ہے۔ وہ اکڑنے اور اترانے کے بجاے سر جھکا کر چلتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک بدترین خصلت ہے اور اِس کی سزا بھی نہایت سخت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس شخص کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی غرور ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔[55] نیز فرمایا ہے کہ عزت پروردگار کی ازار اور بزرگی اُس کی ردا ہے۔ جو اِن میں اُس کا مقابلہ کرے گا، اُسے عذاب دیا جائے گا۔‘‘[56] (میزان 238- 239)
ii۔ حق سے اعراض
متکبر اپنی انا کے نشے میں اِس قدر سرشار ہوتا ہے کہ وہ کسی کو بڑا ماننے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ اللہ کا جلیل القدر پیغمبر بھی واضح بینات کے ساتھ سامنے آ جائے تو وہ اُسے بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اُس کا اصل مسئلہ اپنی بڑائی ہوتا ہے۔ اُسے حاصل کرنے کے لیے وہ کتمانِ حق سےبھی دریغ نہیں کرتا ۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ایسے متکبرین کے لیے جنت میں داخلے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ارشاد ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا لاَ تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلاَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ. لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ. (الاعراف 7: 40- 41) | ’’یہ قطعی ہے کہ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور تکبر کر کے اُن سے منہ موڑا ہے، اُن کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے۔ (سن لو)، ہم مجرموں کو اِسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اُن کے لیے دوزخ کا بچھونا اور اوپر سے اُسی کا اوڑھنا ہو گا۔ (سن لو)، ہم ظالموں کو اِسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ |
iii۔ حسب و نسب پر فخر
حسب و نسب کی بنیاد پر دوسروں سے برتر ہونے کا احساس تکبر کی نمایاں ترین صورت ہے۔ لوگ رنگ، نسل، خاندان، قبیلے، قوم، ملک سے اپنی نسبتوں کو بڑائی سمجھتے اور اِس بنا پر دوسروں کو حقیر گردانتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ اُس کے نزدیک بڑائی کا معیار یہ چیزیں نہیں، بلکہ تقویٰ ہے۔ اِن چیزوں کی نوعیت تو جان پہچان اور تعارف کی ہے۔ ارشاد ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ.(الحجرات49: 13) | ’’لوگو، (ایک دوسرے کو بھائی خیال نہیں کرو گے تو اِنھی برائیوں میں پڑے رہو گے، اِس لیے خوب سمجھ لو کہ) ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو (الگ الگ) پہچانو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگارہے۔ (وہ قیامت میں اِسی بنیاد پر فیصلہ کرے گا)۔ یقیناً، اللہ علیم و خبیر ہے۔‘‘ |
استاذِ گرامی اِس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’یہ قرآن نے اُس نسلی، خاندانی اور قبائلی غرور کی بنیاد ڈھا دی ہے، جو اُن برائیوں میں سے زیادہ تر کا باعث بنتا ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ فرمایا کہ تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عز و شرف کی بنیاد کسی شخص کے خاندان اور قبیلہ یا رنگ و نسل پر نہیں، بلکہ تقویٰ پر ہے۔ اُس کے ہاں وہی عزت پائے گا جو سب سے بڑھ کر اُس سے ڈرنے والا اور اُس کے حدود کی پابندی کرنے والا ہے، اگرچہ کتنے ہی حقیر اور گم نام خاندان سے اٹھا ہو۔ اور جو سرکشی اور استکبار اختیار کرے گا، وہ لازماً ذلت سے دوچار ہو گا، اگرچہ کتنا ہی بڑا قریشی اور ہاشمی ہو۔ خاندانوں کی یہ تقسیم محض تعارف اور پہچان کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کے چہرے مہرے، رنگ اور قد و قامت میں فرق رکھا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں، اُسی طرح خاندانوں کی تقسیم بھی اِسی مقصد سے کی ہے۔ اِس سے زیادہ اِن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘
(البیان4/592)
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس نوعیت کی چیزوں کو نخوتِ جاہلیت سے تعبیر کیا ہے اور اِن سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ انسانوں کے درمیان امتیاز کا معیار ایمان اور تقویٰ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
لينتهين أقوام يفتخرون بآبائهم الذين ماتوا، إنما هم فحم جهنم، أو ليكونن أهون على اللّٰه من الجعل الذي يدهده الخراء بأنفه، إن اللّٰه قد أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء، إنما هو مؤمن تقي، وفاجر شقي، الناس كلهم بنو آدم، وآدم خلق من تراب. (ترمذی، رقم 3955) | ’’ لوگ اپنےمردہ اجداد پر فخر کرنا چھوڑ دیں۔ـــــ وہ تو جہنم کا کوئلہ ہیں ـــــ وگرنہ وہ اللہ کے نزدیک اُس گبریلے[57]سےبھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو نجاست کو اپنی ناک سے آگے دھکیلتا رہتا ہے۔ یاد رکھو، اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور آبا پر فخر کو ختم کر دیا ہے۔ اب تو لوگ یا صاحبِ تقویٰ مومن ہیں یا بد بخت گناہ گار۔ جان رکھو، تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔“ |
iv۔سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا اور ریشم پہننا
کھانے پینے کے لیے سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنا امارت کی نمود ونمایش ہے۔ ریشم و دیبا کا معاملہ بھی یہی ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ امیروں اور رئیسوں کا لباس تھا۔ اِسی طرح نایاب جانوروں کی بیش قیمت کھالوں کو بھی غلافوں اور پردوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اِس نوعیت کی تمام چیزیں دوسروں کو مال و دولت سے مرعوب کر کے اُن پر اپنی نفسیاتی بالادستی قائم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ اِس کے نتیجے میں ایک طبقے میں برتری اور دوسرے طبقے میں کم تری کا احساس پیدا ہونا فطری امر ہے۔ چنانچہ یہ احساسات متعدد اخلاقی مفاسد کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنھی اخلاقی مفسدات کی بنا پر سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے، ریشم کا لباس پہننے، قیمتی کھالوں کے غلاف استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
آپ کی زوجۂ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الذي يشرب في إناء الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم. (بخاری، رقم 5634) | ’’جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا تا ہے۔‘‘ |
حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تشربوا في إناء الذهب والفضة، ولا تلبسوا الديباج والحرير، فإنه لهم في الدنيا وهو لكم في الآخرة يوم القيامة. (مسلم، رقم 5394) | ’’سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریرنہ پہنو۔ یہ چیز یں دنیا میں تو اِن کا فروں کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمھارے لیے خاص ہوں گی۔‘‘ |
ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے، جو ریشم کو حلال کرلیں گے۔[58]
استاذِ گرامی نے اِس روایت کی شرح میں لکھا ہے:
’’یعنی جب وہ (ریشم) کسی معاشرے میں مترفین کا لباس سمجھا جاتا ہو، جو انسان کے باطن میں ’بغي بغیر الحق‘کے رجحانات پر دلالت کرتا اور ظاہر میں تکبر کی علامت بن جاتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمیں ایسا ہی تھا۔اِس کی یہ حیثیت اب باقی نہیں رہی،لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ اِس کی جگہ بہت سی دوسری چیزیں آچکی ہیں، جن کی حیثیت اِس زمانے میں وہی ہے، جو اُس وقت ریشم کی تھی۔ چنانچہ اُن کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے۔‘‘ (علم النبی 1/450)
v۔ اسبالِ ازار
تہ بند، شلوار، پتلون، پا جامہ وغیرہ اگر ٹخنوں سے اتنا نیچے ہو کہ چلتے ہوئے زمین پر گھسٹنےلگے تو اسے ’اسبالِ ازار‘ کہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس سے منع فرمایا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ عرب جاہلی میں یہ متکبرین کا طور طریقہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن اُس شخص کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا،جو اظہارِ تکبر کے لیے اپنا تہ بند گھسیٹتے ہوئے چلتا ہو۔[59]
عن عبد اللّٰه بن عمر، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ”إن الذي يجر ثيابة من الخيلاء لا ينظر اللّٰه إليه يوم القيامة ‘‘. (مسلم، رقم 5455) | ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے، قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اُس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔‘‘ |
vi۔ بڑی مونچھیں رکھنا
ڈاڑھی اور مونچھیں رکھنا ہمیشہ مردوں کا ایک شعار رہا ہے۔ عرب عموماً اِن کا التزام کرتے تھے۔ مشرکین عرب کے متکبرین کا طریقہ تھا کہ مونچھیں بڑی کر لیتے تھے اور اُن کے مقابلے میں ڈاڑھی چھوٹی رکھتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر اِس سے منع فرمایا اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ اِس کے برعکس وضع اختیار کرتے ہوئے مونچھوں کو ہرحال میں پست رکھیں۔ یعنی اگر چہرے کے بالوں کو بڑھانا مقصود ہو تو مونچھوں کے بجاے ڈاڑھی کو بڑھائیں:
عن ابن عمر، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’خالفوا المشركين، أحفوا الشوارب، وأوفوا اللحى.“(مسلم، رقم 602) | ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وضع قطع میں) مشرکین کی مخالفت اختیار کرو، (چنانچہ) مونچھیں ترشواؤ اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔“ |
استاذِ گرامی لکھتے ہیں:
’’...تکبر ایک بڑا جرم ہے۔ یہ انسان کی چال ڈھال، گفتگو، وضع قطع، لباس اور نشست و برخاست، ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہی معاملہ ڈاڑھی اور مونچھوں کا بھی ہے۔ بعض لوگ ڈاڑھی مونڈتے ہیں یا چھوٹی رکھتے ہیں، لیکن مونچھیں بہت بڑھا لیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے پسند نہیں کیا اور اِس طرح کے لوگوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ متکبرین کی وضع اختیار نہ کریں۔ وہ اگر بڑھانا چاہتے ہیں تو ڈاڑھی بڑھا لیں، مگر مونچھیں ہرحال میں چھوٹی رکھیں۔‘‘[60](مقامات297)
vii۔مذاق اڑانا، عیب نکالنا اور برے القاب دینا
وحدتِ آدم اور وحدتِ مذہب، دونوں بنیادیں انسانوں کو دوسرے انسانوں کے مساوی کھڑا کرتی ہیں۔ اِن پہلوؤں سے انسانوں کے مابین کوئی تفریق اور امتیاز نہیں ہے۔ جو شخص بڑائی اور چھوٹائی کی لکیر کھینچتا ہے،وہ اصل میں انسانی مساوات اور اسلامی اخوت کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اِس کے بعد وہ خود کو برتر اور دوسروں کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ اِس کا اظہار کرنے کے لیے وہ لوگوں کا مذاق اڑاتا ہے، اُن کی عیب جوئی کرتا ہےاور اُنھیں برے القاب سے پکارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِن تینوں سے منع فرمایا ہے اور اِن سے باز نہ رہنے والوں کو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے قرار دیا ہے۔[61] ارشاد ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ. (الحجرات 49: 11) | ’’ایمان والو، (اِسی اخوت کا تقاضا ہے کہ) نہ (تمھارے) مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ اپنوں کو عیب لگاؤ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب دو۔ (یہ سب فسق کی باتیں ہیں، اور) ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی بہت برا ہے۔ اور جو (اِس تنبیہ کے بعد بھی) توبہ نہ کریں تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی اِس آیت کے الفاظ ’وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’’تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ‘کے معنی آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرنا ہے۔ اچھے القاب سے ملقب کرنا جس طرح کسی فرد یا قوم کی عزت افزائی ہے، اُسی طرح برے القاب کسی پر چسپاں کرنا اُس کی انتہائی توہین و تذلیل ہے۔ ہجویہ القاب لوگوں کی زبانوں پر آسانی سے چڑھ جاتے ہیں اور اُن کا اثر نہایت دوررس اور نہایت پایدار ہوتا ہے۔ اُن کی پیدا کی ہوئی تلخیاں پشت ہا پشت تک باقی رہتی ہیں اور اگر معاشرے میں یہ ذوق اتنا ترقی کر جائے کہ ہر گروہ کے شاعر، ادیب، ایڈیٹر اور لیڈر اپنی ذہانت اپنے حریفوں کے لیے برے القاب ایجاد کرنے میں لگا دیں تو پھر اُس قوم کی خیر نہیں ہے۔ اُس کی وحدت لازماً پارہ پارہ ہو کے رہتی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دور ِجاہلیت میں عربوں کے اندر یہ ذوق بدرجۂ کمال ترقی پر تھا۔ قبیلہ کا سب سے بڑا شاعر اور خطیب وہی مانا جاتا، جو دوسروں کے مقابل میں اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرنے اور حریفوں کی ہجو و تحقیر میں یکتا ہو۔ اُن کے ہجویہ اشعار پڑھیے تو کچھ اندازہ ہو گا کہ اِس فن شریف میں اُنھوں نے کتنا نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا۔ اُن کی اِس چیز نے اُن کو کبھی ایک قوم بننے نہیں دیا۔ وہ برابر اپنوں ہی کو گرانے اور پچھاڑنے میں لگے رہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام نے اُن کو انسانی وحدت اور ایمانی ہم آہنگی سے آشنا کیا،جس کی بدولت وہ دنیا کی ہدایت و قیادت کے اہل بنے۔ قرآن نے یہاں اُن کو دورِ جاہلیت کے اِنھی فتنوں سے آگاہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایمان و اسلام کی برکات سے نوازا ہے تو اُس کی قدر کرو۔ شیطان کے ورغلانے سے پھر اُنھی لاف زنیوں اور خاک بازیوں میں نہ مبتلا ہو جانا،جن سے اللہ نے تمھیں بچایا ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 7/ 507- 508)
-
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی مقررہ فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یہ فطرت اُن کے ظاہر و باطن، دونوں کو شامل ہے۔ باطن میں خیر و شر کا شعور اور خیر کو اپنانے اور شر سے بچنے کا جذبہ ودیعت ہے۔ ظاہر میں متناسب اعضا و جوارح اور متوازن انداز و اطوار عطا فرمائے ہیں۔ یہ نوشتۂ تقدیر ہیں، جن میں رد و بدل کی کوشش اللہ کے فیصلوں میں مداخلت کی جسارت ہے۔ چنانچہ قرآن نے فطرت کی پیروی کا حکم دیا ہے اور اپنے پیغمبر کے توسط سےاللہ کی قائم کردہ فطرت میں تبدیلی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ. (الروم 30:30) | ’’تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، (اے پیغمبر)، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اِس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی اِس آیت کے الفاظ’لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’’مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے، اُس کو بدلنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کا خالق ہے، وہ اپنی مخلوقات کے مقاصد و مقتضیات کو جتنے بہتر طریقے پر جانتا یا جان سکتا ہے، کوئی دوسرا نہیں جان سکتا کہ وہ کسی چیز میں ترمیم و تغیر کرنے کا حق دار بن سکے۔ اگر کوئی شخص اِس کی جسارت کرتا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی چیز کی اصلاح کا مدعی ہے، جو بالبداہت ایک حماقت ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ خدا نے آنکھیں پیشانی کے ساتھ لگائی ہیں، کوئی اُن کو گدی یا پاؤں کے ساتھ لگانے کی کوشش کرے یا اللہ تعالیٰ نے عورت کو عورت اور مرد کو مرد بنایا، لیکن عورت مرد بننے کے لیے زور لگائے یا مرد عورت بننے کا خواہش مند ہوجائے۔ اِس قسم کی سعی نامراد کا نتیجہ بگاڑ اور فساد کے سوا کچھ اور نہیں نکل سکتا۔ بالکل یہی حال دین فطرت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کے جو مبادی فطرت کے اندر ودیعت فرمائے ہیں، اُنھی پر انسان کی دنیا میں صلاح اور آخرت میں فلاح منحصر ہے۔ اگر انسان اُس سے ذرا سا انحراف اختیار کرے تو وہ خدا کی صراط مستقیم سے ہٹ جائے گا، جس کا لازمی نتیجہ اُس کے دین اور اُس کی دنیا،دونوں کی تباہی ہے، اگرچہ وہ یہ انحراف علم اور سائنس کے کتنے ہی بلند بانگ دعاوی کے ساتھ کرے۔‘‘
(تدبرقرآن6/ 95)
یہی چیز ہے، جس کی طرف انسانوں کو راغب کرنے کے لیے شیطان نے پورے ادعا کے ساتھ یہ کہا تھا کہ میں اُنھیں سکھاؤں گا تو وہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کو بگاڑ دیں گے۔[62]
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ انسان اپنی فطرت کے خلاف جو اقدام بھی کرتے ہیں، وہ اپنے خلقی حدود سے تجاوز، مشیتِ ایزدی سے انحراف اور اپنے خالق کے فیصلے سے بغاوت کے مترادف ہے۔ چنانچہ یہ جرائم اپنی نوعیت میں بغی ہی کے دائرے سے متعلق ہیں۔ اِس طرح کے جو انحرافات زمانۂ رسالت میں رائج تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے منع فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن مردوں اور عورتوں کے بارے میں ملامت کا اظہار فرمایا، جو اپنی وضع قطع میں تبدیلی کر کے اُس سے مختلف جنس ظاہر کرتے ہیں، جس پر اللہ نے اُنھیں پیدا کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں:
لعن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم المخنثين من الرجال، والمترجلات من النساء، وقال:”أخرجوهم من بيوتكم ‘‘. (بخاری، رقم 6834) | ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن مردوں پر لعنت کی ہے، جو خود کو مخنث ظاہر کریں اور اُن عورتوں پر لعنت کی ہے، جو مردانہ وضع اختیار کریں۔ آپ نے فرمایا کہ ایسے افراد کو اپنے گھروں سے نکال دو۔‘‘[63] |
ابوداؤد میں یہ روایت اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:
عن ابن عباس، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: أنه لعن المتشبهات من النساء بالرجال، والمتشبهين من الرجال بالنساء. (رقم 4097) | ’’عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ |
-
حق تلفی اور ناحق زیادتی کا جرم ہونا تو ہر لحاظ سے مسلم ہے، مگر اِن میں تعاون کو، بالعموم بڑا جرم شمار نہیں کیا جاتا ، دراں حالیکہ کہ اِس کی شناعت اصل جرم سے کسی طور پر کم نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مجرم کو یہ تعاون میسر نہ ہو ـــــــ جو بعض اوقات خاموش رہ کر، بعض اوقات شہادت کو چھپا کر، بعض اوقات مجرم کی حمایت میں بول کر، بعض اوقات اُس کے لیے اسباب کا بندوبست کر کے اور بعض اوقات اُس کے عمل میں شریک ہو کر کیا جاتا ہے ـــــــ تو اُس کے لیے جرم سے باز رہنے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جہاں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کی ہدایت فرمائی ہے، وہاں حق تلفی اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں تعاون سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ. (المائدہ5: 2) | ’’(نہیں، ہر حال میں حدود الٰہی کے پابند رہو)، اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو، مگر حق تلفی اور زیادتی میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اِس لیے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’...یعنی جس گروہ کو اللہ نے دنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے، اُس کے لیے پسندیدہ روش یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں سے مشتعل ہو کر خود اُسی طرح کی زیادتیاں کرنے لگے۔ وہ ایسا کرے تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اُس نے گناہ اور زیادتی کے کام میں تعاون کیا اور شریروں نے برائی کی جو نیو جمائی، اُس پر اُس نے بھی چند ردّے رکھ دیے، حالاں کہ اُس کا کام نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرنا تھا۔‘‘
(تدبرقرآن2/455)
ـــــــــــــــــــــــــــــ