1۔ ’الرؤیا‘ کا معنی و مفہوم
’رؤیا‘عربی زبان کا نہایت معروف لفظ ہے۔ یہ خواب کے معنوں میں مستعمل ہے۔ قرآن و حدیث، زبان و ادب اورفرہنگ و لغت میں اِس کے لیےیہی معنی اختیار کیے گئے ہیں۔ذیل میں چند شواہد درج ہیں۔
عربی لغات
پہلے امہاتِ لغت کے حوالے دیکھ لیجیے۔
اسماعیل بن حماد الجوہری کی ’’الصحاح فی اللغہ‘‘ میں لکھاہے:
الرؤيا: رأى في منامه رؤيا. (6/ 2349) | ’’الرؤیا: جو کسی نے اپنی نیند میں دیکھا۔‘‘ |
علامہ ابنِ منظور کے مشہور لغت ’’لسان العرب‘‘ میں ہے:
الرؤيا: ما رأيته في منامك. (8/278) | ’’الرؤیا: جو تو اپنی نیند میں دیکھے۔‘‘ |
علامہ مرتضیٰ زبیدی کی ’’تاج العروس‘‘ میں نقل ہے:
الرؤيا: ما رأيته في منامك. (17/436) | ’’الرؤیا: جو تم نیند میں دیکھتے ہو۔‘‘ |
’’المعجم الوسیط‘‘ میں بیان ہوا ہے:
الرؤيا: ما يرى في النوم. (1/320) | ’’الرؤیا: جو نیند میں دیکھا جائے۔‘‘ |
امام راغب اصفہانی نے اپنی معروف کتاب ’’المفردات فی غریب القرآن‘‘ میں’رؤیا‘ کے معنی نیند میں دیکھے جانے والے خواب کے کیے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنھوں نے اِس کے کوئی اور معنی نقل نہیں کیے۔ مزید برآں، قرآنِ مجید کی جن آیات کو اُنھوں نے بہ طور ِ شہادت پیش کیا ہے، اُن میں سورۂ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت بھی شامل ہے۔ لکھتے ہیں:
والرؤيا ما يرى في المنام... وروى ’لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا‘قال: ’’لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ‘‘ –– ’’ . . . الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ‘‘. (209) | ’’’الرؤیا‘ کے معنی اُس چیز کے ہیں، جو نیند میں دیکھی جائے۔ ... ایک حدیث میں ہے کہ ’’نبوت میں سے بس رؤیا (خواب) باقی رہ گئے ہیں‘‘۔ قرآنِ مجید میں ہے کہ ’’اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تھا‘‘۔[42] ’’جو خواب ہم نے آپ کو دکھایا. . .۔[43]‘‘ |
یہ چند لغات کے حوالے ہیں۔اِن کے علاوہ بھی عربی زبان کے ہر لغت میں لفظ ’رؤیا‘ کے لیے نیند میں دیکھنے یا خواب دیکھنے کا معنی درج ہے۔ لغات میں اِنھیں عربی مادہ ’رَأَى‘ کے تحت ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
قرآنِ مجید
اِس کے بعد اب قرآنِ مجید کو دیکھیے۔اِس میں یہ لفظ مختلف مقامات پر 7مرتبہ آیا ہے۔ ہر مقام پر یہ خواب ہی کے معروف اور مستعمل معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مفسرین نے سورۂ بنی اسرائیل کے استثنا کے ساتھ تمام مقامات پر اِس کا ترجمہ خواب کیا ہے۔ واضح رہے کہ اِن چھ میں سے چار مقامات پر انبیاے کرام ہی کے خوابوں کا ذکر ہے۔ یہ تمام مقامات درجِ ذیل ہیں۔ہر مقام کے تحت ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ سے ماخوذ نوٹ بھی درج ہے۔ اِس سے قارئین کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ لفظ خواب کے مفہوم کے لیے کس قدر صریح ہے۔
1۔ سورۂ فتح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رؤیا
لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ لَا تَخَافُوْنَ.... (48: 27)
’’یہ حقیقت ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا تھا۔ بے شک، اللہ نے چاہا تو تم مسجدِ حرام میں ضرور داخل ہو گے، پورے امن کے ساتھ، اِس طرح کہ اپنے سر منڈواؤ گے اور بال کتراؤ گے، تمھیں کوئی اندیشہ نہیں ہو گا...۔‘‘
تمام مفسرین کے نزدیک یہاں ’رؤیا‘ سے خواب مراد ہے۔ مثال کے طور پر ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:
كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قد رأى في المنام أنه دخل مكة وطاف بالبيت فأخبر أصحابه بذلك وهو بالمدينة فلما ساروا عام الحديبية لم يشك جماعة منهم أن هذه الرؤيا تتفسر هذا العام.(7/331) | ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند میں، (یعنی خواب میں ) دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ کا طواف کیا، آپ نے اِس کا ذکر اپنے اصحاب سے مدینہ ہی میں کر دیا تھا۔ حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اِس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اِس سفر میں ہی اِس خواب کی تعبیر دیکھ لیں گے۔‘‘ |
2۔ سورۂ صافات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رؤیا
فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ. وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ. قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا....
(37: 105-103)
’’پھر جب دونوں نے سرِتسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا۔اور ہم نے اُس سے پکار کر کہا کہ ابراہیم، تم نے خواب کو سچا کر دکھایا ہے...۔‘‘
یہاں بھی سبھی نے خواب کا مفہوم لیا ہے۔ امام ابنِ کثیرنےحضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھا ہے:
رؤيا الأنبياء وحي، ثم تلا هذه الآية: ’’قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی‘‘. (تفسیر ابن کثیر7/24) | ’’سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انبیا کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ پھر اُنھوں یہ آیت تلاوت کی کہ ’’ابراہیم نے کہا کہ بیٹے، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمھیں ذبح کر رہا ہوں تو تم کیا کہتے ہو؟ ‘‘‘‘ |
3۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا رؤیا
اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّيْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ. قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰۤي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ. (12: 4-5)
’’یہ اُس وقت کا قصہ ہے، جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اورچاند ہیں۔ میں نے اُن کو دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ جواب میں اُس کے باپ نے کہا: بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا، ایسا نہ ہو کہ وہ تمھارے خلاف کوئی سازش کرنے لگیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘
اِن آیات کے حوالے سے ابنِ کثیر نے لکھا ہے:
وقال ابن عباس رؤيا الأنبياء وحي، وقد تكلم المفسرون على تعبير هذا المنام أن الأحد عشر كوكبًا عبارة عن إخوته، ... والشمس والقمر عبارة عن أمه وأبيه...يقول تعالٰى مخبرًا عن قول يعقوب لابنه يوسف حين قص عليه ما رأى من هذه الرؤيا التي تعبيرها خضوع إخوته له، ... فخشي يعقوب عليه السلام أن يحدث بهذا المنام. (تفسیر ابن کثیر 4/ 317-318) | ’’سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیوں کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں گیارہ ستاروں سے مراد یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں۔ ... اور سورج چاند سے مراد آپ کے والد اور والدہ ہیں۔ ...حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ خواب سن کر اور اُس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر یعقوب علیہ السلام نے تاکید کر دی کہ اِسے بھائیوں کے سامنے نہ دہرانا، کیونکہ اِس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے بھائی آپ کے سامنے جھکیں گے۔‘‘ |
4۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کے رؤیا کی تعبیر
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰۤي اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ. وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا.... (12: 99-100)
’’پھر جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے، اُس نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور کہا: مصر میں، اللہ چاہے تو امن چین سےرہیے۔ (اپنے گھر پہنچ کر) اُس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب بے اختیار اُس کے لیے سجدے میں جھک گئے۔ یوسف نے کہا: ابا جان، یہ میرے اُس خواب کی تعبیر ہے، جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اُس کو حقیقت بنا دیا...۔‘‘
امام ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
عن سليمان: كان بين رؤيا يوسف وتأويلها أربعون سنةً، قال عبد اللّٰه بن شداد: وإليها ينتهي أقصى الرؤيا.(تفسیر ابن کثیر 4/353) | ’’ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اُس کی تعبیر کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں کہ خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اِس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں۔ یہ آخری مدت ہے۔‘‘ |
5۔6۔ سورۂ یوسف میں بادشاہ مصر کا رؤیا
وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّيْ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ يٰاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ. (12: 43)
’’ (پھر ایک دن) بادشاہ نے (اپنے دربار کے لوگوں سے) کہا: میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں، جنھیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی ہیں (اور وہ بھی ہری بالیوں کو کھا رہی ہیں)۔ دربار کے لوگو، مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو۔‘‘
امام ابنِ کثیر نے اِس کی تفسیر میں لکھا ہے:
هذه الرؤيا من ملك مصر مما قدر اللّٰه تعالٰى أنها كانت سببًا لخروج يوسف عليه السلام من السجن، معززًا مكرمًا، وذلك أن الملك رأى هذه الرؤيا، فهالته. (تفسیر ابن کثیر 4/335) | ’’یہ بادشاہِ مصر کا خواب ہے۔ قدرتِ الٰہی نے یہ طے کر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے عزت و احترام کے ساتھ نکلیں۔ اِس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہِ مصر نے ایک خواب دیکھا،جس سے وہ خوف زدہ ہو گیا۔ ‘‘ |
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ قرآنِ مجید میں کل سات مقامات پر ’رؤیا‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اِن میں سے چار مقامات انبیاے کرام سے متعلق اور دو مقام ایک عام انسان بادشاہ ِمصر سے متعلق ہیں۔ ہم نے یہ تمام مقامات اوپر نقل کر دیے ہیں۔ اِن سات میں سے چھ مقامات پر سلف و خلف کے مفسرین نے’رؤیا‘ کو اُس کے معروف اور مستعمل مفہوم میں لیا ہے اور اُسے خواب قرار دیا ہے۔ اِس معاملے میں اُنھوں نے کسی ادنیٰ تردد کا بھی اظہار نہیں کیا۔ صرف سورۂ بنی اسرائیل وہ واحد مقام ہے،جہاں اُسے اِس کے معروف اور مستعمل مفہوم سے ہٹایا گیا ہے۔ لفظ کو کسی واضح قرینے کے بغیر اُس کے معروف اور مستعمل معنی سے ہٹانا زبان و بیان کے مسلمات کے منافی ہے۔ اِس طرح کا کام متکلم کے منشا کو تبدیل کرنے یا اُس کے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے، جسے کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ [44]
کتبِ احادیث
قرآنِ مجید کے بعد اب حدیث کے بھی چند حوالے ملاحظہ کر لیجیے:
...أن أبا هريرة، قال: سمعت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: ’’لم يبق من النبوة إلا المبشرات‘‘، قالوا: وما المبشرات؟ قال: ’’الرؤيا الصالحة‘‘.(بخاری، رقم 6990) | ’’...حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: یہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب۔‘‘ |
والرؤيا ثلاثة : فرؤيا الصالحة بشرى من اللّٰه، ورؤيا تحزين من الشيطان، ورؤيا مما يحدث المرء نفسه، فإن رأى أحدكم ما يكره فليقم فليصل ولا يحدث بها الناس. (مسلم، رقم 6042) | ’’(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): خواب تین طرح کا ہے: ایک نیک خواب، جو اللہ کی طرف سے خوش خبری ہوتا ہے۔ دوسرے رنج و الم کا خواب جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ تیسرے وہ خواب جو اپنے دل کا خیال ہو۔ پھر جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو کھڑا ہو اور نماز پڑھے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے۔‘‘ |
عن أبي قتادة، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: الرؤيا الصالحة من اللّٰه، والحلم من الشيطان، فإذا حلم فليتعوذ منه، وليبصق عن شماله، فإنها لا تضره.(بخاری، رقم6986) | ’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے۔ پس اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اُسے اُس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے اور بائیں طرف تھوکنا چاہیے۔ پھر یہ خواب اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘ |
عن عائشة أم المؤمنين، أنها قالت: أول ما بدئ به رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة في النوم، فكان لا يرى رؤيًا إلا جاءت مثل فلق الصبح.(بخاری، رقم 3) | ’’ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ اچھے خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے، وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہوتا۔‘‘ |
اِسی طرح بے شمار اور احادیث میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں اِس کا مطلب حالتِ نیند میں خواب دیکھنا ہی ہے۔ اِس کی نمایاں مثال یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں محدثین نے جب خوابوں کی روایات کے بارے میں عنوان قائم کیے ہیں تو بیانِ مدعا کے لیے یہی لفظ منتخب کیا ہے۔ صحیح بخاری سے چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
’باب رؤيا يوسف‘ (باب: یوسف علیہ السلام کا خواب )۔
’باب رؤيا إبراهيم عليه السلام‘ (باب: ابراہیم علیہ السلام کا خواب )۔
’باب رؤيا الليْل‘ (باب:رات کے وقت کا خواب )۔
’باب الرؤيا بالنهار‘ (باب: دن کے وقت کا خواب)۔
’باب رؤيا النساء‘(باب:عورتوں کے خواب )۔
’باب ما بدئ به رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة‘ (باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداسچے خواب سےہوئی)۔
’باب الرؤيا من اللّٰه‘ (باب: اللہ کی طرف سے دکھایا جانے والا خواب)۔
’باب الرؤيا الصالحة جزء من ستة وأربعين جزْءًا من النبوة‘ (باب: اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے)۔
’باب التواطؤ على الرؤيا‘ (باب :خواب کا توارد، یعنی ایک ہی خواب کئی آدمی دیکھیں)۔
’باب رؤيا أهل السجون والفساد والشرك‘ (باب: قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان)۔[45]
عربی لغات اور قرآن و حدیث کے مذکورہ بالا مندرجات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لفظِ ’رؤیا‘ خواب ہی کے معنی میں معروف ہے۔ یہ درست ہے کہ بعض لغات میں ذیلی یا اضافی معانی کے طور پر’رؤیت عین‘ کے یابیداری میں کوئی منظر دیکھنے کے مجازی معنی درج ہیں اور کلام عرب میں بھی مجاز، استعارے اور کنایے کے اسالیب میں اِس کا استعمال عرف کے مطابق ہے، مگر اِس کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں کہ یہ لفظ اپنے حقیقی اسلوب میں خواب کے علاوہ کسی اور معنی کا بھی احتمال رکھتا ہے۔
یہ زبان و بیان کا عام قاعدہ ہے کہ الفاظ اپنے معروف معنوں ہی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ اُنھیں غیر معروف مفہوم میں استعمال کرنا یا شاذ اور اجنبی مفہوم پر قیاس کرنا خلافِ نطق ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ زبان کا وظیفہ ابلاغ ہے اور ابلاغ اُنھی الفاظ و معانی میں ہو سکتا ہے، جن سے مخاطب واقف اور مانوس ہو۔ نادر اور قلیل الاستعمال کلمات و مطالب نہ متکلم کے مدعا کو واضح کرتے ہیں اور نہ مخاطب کے لیے قابل فہم ہوتے ہیں۔ یہ قاعدہ ہر زبان اور ہر کلام سے متعلق ہے۔[46] جہاں تک قرآنِ مجید کے فہم کا تعلق ہے تو اُس کے معاملے میں اِس قاعدے کو بنیادی اصول کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید نے اپنے بارے میں یہ بات خود بیان کر دی ہے کہ وہ ’بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیۡنٍ‘، یعنی صاف اور واضح عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور زبان و بیان کے اعتبار سے وہ ’ غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ‘ہے، یعنی اُس میں کوئی کجی،کوئی ٹیڑھ، کوئی کم زوری نہیں ہے۔[47]
یہ درست ہے کہ امہاتِ لغت میں معروف اور مستعمل معنی کے علاوہ لغوی، مجازی، اصطلاحی اور شاذ مفاہیم بھی درج کر دیے جاتے ہیں، مگر یہ کام معانی کے تعدد یا اختلاف پر دلالت نہیں کرتا۔ اِس کا مقصد معانی کا احصا اور استقصا ہوتا ہے۔ مولف چاہتا ہے کہ قاری لفظ کے استعمال کی مختلف اور متنوع جہتوں سے آگاہ ہو سکے۔ لہٰذا لغت میں کسی لفظ کے ذیل میں اپنا پسندیدہ معنی دیکھ کر یہ خیال کرنا کہ فلاں کلام کے فلاں جملے میں اِس کا معنی یہی ہے، نطق و زبان کے مسلمات کے خلاف ہے۔
____________