تعارف
’’ اسرا و معراج‘‘[1] کو رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان معجزہ قرار دیا جاتا ہے۔ مفسرین، محدثین اور سیرت نگار اِسے سورۂ بنی اسرائیل (17) کی آیت 1 اور 60، سورۂ نجم (53) کی آیات 1 تا 18 اور کتبِ حدیث کی متعدد روایات کی بنا پر پیش کرتے ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات مسجدِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ لے جایا گیا۔ اِس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مشاہدہ کرانا تھا۔ سورۂ نجم میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کودو مرتبہ اُن کی اصل صورت میں دیکھا۔ ایک بار افق اعلیٰ پر اور دوسری بار سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر۔افق اعلیٰ پر قاب قوسین (دو کمانوں کے برابر نزدیکی) کا واقعہ بھی رونما ہوا۔
احادیث میں جو واقعہ نقل ہوا ہے، اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک رات جبریل امین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کا سینہ شق کیا اور اُسے علم و ایمان سے لبریز کر کے بند کر دیا۔ پھربرق رفتار جانور براق حاضر کیا گیا۔ آپ اُس پر سوار ہو کر بیت المقدس کی طرف عازمِ سفر ہو گئے۔ مختلف زمینی مقامات سے گزر کر بیت المقدس پہنچے۔ براق کو مسجد کے باہر کھونٹے سے باندھا اور ہیکل سلیمانی میں داخل ہو گئے۔ وہاں تمام انبیاے کرام پہلے سے نماز کے لیےموجود تھے۔آپ نے امامت فرمائی اور سب انبیا نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ پھر آپ کی مہمان نوازی کے لیے دو پیالے پیش کیے گئے۔ ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی۔ آپ نے دودھ نوش فرمایا۔ اِس کےبعد آسمان پر چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی لائی گئی۔ اِس کے ذریعے سے آپ نے عالم بالا کی طرف عروج فرمایا۔ جبریل مسلسل آپ کے ہم راہ تھے۔آپ درجہ بہ درجہ سات آسمانوں سے گزرے، جہاں آپ کی ملاقات مختلف انبیاے کرام ـــــ حضرت آدم، حضرت ابراہیم، حضرت ادریس، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام ـــــ سے ہوئی۔ ساتویں آسمان سے گزر کر آپ مزید بلندی کی طرف گئے اور عالم ناسوت اور عالم لاہوت کی سرحد ـــــ سدرۃ المنتہیٰ ـــــ پر پہنچے۔یہاں جبریل علیہ السلام کا سفر تمام ہوا اور آپ اکیلے آگے روانہ ہو گئے۔ بالآخر بارگاہِ الہٰی میں حاضری کا مقام آ گیا۔ آپ اللہ کے حضور میں حاضر ہوئے۔ اِس موقع پر باری تعالیٰ کی نہایت درجہ قربت (قاب قوسین) کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پچاس نماز وں کی فرضیت کی نعمت عطا فرمائی۔ یہ نعمت لے کر آپ واپس روانہ ہوئے۔ راستے میں ساتویں آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اُنھوں نے اپنی قوم کے تجربے کی بنا پر نمازوں میں کمی کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا۔ آپ نے مشورہ قبول کیا اور بارگاہِ الٰہی میں دوبارہ حاضر ہو کر نمازوں میں کمی کی استدعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے منظور کر کے کچھ تخفیف فرمادی۔ آپ نیچے آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ وہی مشورہ دیا۔ آپ پھر اوپر تشریف لے گئے۔ یہ عمل کئی بار دہرایا گیا، یہاں تک کہ نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار پھر وہی مشورہ دیا، مگر اب آپ نے واپس جانا مناسب نہیں سمجھا۔ اِس کے بعد آپ یہ عطیۂ خداوندی لےکر دنیا کی طرف روانہ ہو گئے اور تمام آسمانوں سے گزر کر بیت المقدس میں ورود فرمایا۔ یہاں انبیا نمازِ باجماعت کے منتظر تھے۔ آپ نے دوبارہ امامت فرمائی۔ اِس کے بعد آپ براق پر سوار ہو کر بیت الحرام میں واپس تشریف لے آئے۔
اِس سفر کے دوران میں آپ کو حوضِ کوثر، بیت المعمور اور جنت و جہنم کا مشاہدہ کرایا گیا۔ بعض علما کے نزدیک ’قاب قوسین ‘ کے موقع پر آپ کو باری تعالیٰ کے دیدار کا شرف بھی حاصل ہوا۔ یہ تمام امور عالم بیداری میں پیش آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی اور جسمانی، دونوں پہلوؤں سے اِن کا تجربہ اور مشاہدہ فرمایا۔ [2]
یہ اُن تفصیلات کا خلاصہ ہے، جو ہماری علمی روایت میں’ ’اسرا و معراج‘‘ کے زیرِ عنوان معلوم و معروف ہیں۔ اِنھیں قرآن کی تفاسیر، حدیث کی شروح، سیرت کی تالیفات اور دلائل النبوہ اور معجزات النبی کے موضوع پر مستقل کتب میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی اسرا و معراج کے واقعات کو ’آیات من آیات اللّٰہ‘ ـــــ اللہ کی نشانیوں میں سے چند نشانیاں ـــــ قرار دیتے اور اِن کے معجزانہ اور خارقِ عادت پہلوؤں پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم، وہ اِس معاملے میں روایتی تعبیر کو درست نہیں سمجھتے۔ اُن کے نزدیک اِس میں فہم و استدلال اور شرح و تفسیر کے سقم پائے جاتے ہیں۔اِن کے نتیجے میں اسرا و معراج کی ایسی تعبیر سامنے آتی ہے، جو قرآن و حدیث کے مدعا و مفہوم کے مطابق نہیں ہے۔چنانچہ اُنھوں نے اِس تعبیر کا تنقیدی جائزہ لیا ہے، اِس کے دلائل کا محاکمہ کیا ہے اور اِس کے مقابل میں اپنے موقف کی وضاحت کی ہے۔
یہ تصنیف اُن کے اِسی نقد و نظر اوراِسی موقف کا بیان ہے۔ اِس میں دو ابواب اور چند ضمیمہ جات شامل ہیں۔ پہلے باب کا عنوان ’’اسرا و معراج: جناب جاوید احمد غامدی کا موقف‘‘ ہے۔ اِس میں استاذِ گرامی کے نقطۂ نظر کو مثبت طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اِس ضمن میں قرآن و حدیث کے نصوص کو نقل کر کے اُن کی تشریح کی ہے، واقعات کو اُن کے پس منظر کے ساتھ بیان کیا ہے، استدلال کی وضاحت کی ہے اور نتائج کو نکات کی صورت میں متعین کیا ہے۔ دوسرا باب روایتی موقف کے محاکمے پر مشتمل ہے۔ یہ ’’اسرا و معراج: روایتی نقطۂ نظر اور اُس کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے زیرِ عنوان ہے۔ اِس میں پہلے روایتی تعبیر اور اُس کےدلائل اور نتائج کوایجابی اسلوب میں بیان کیا ہے۔ اِس سلسلے میں اُس کے حاملین اور مویدین کے اقتباسات کو بنیاد بنایا ہے۔ پھر اجمالی طور پر وہ اصول پیش کیے ہیں، جن پر استاذِ گرامی کے تنقیدی استدلال کی اساسات قائم ہیں۔ اِس کے بعد ایک ترتیب سے جملہ دلائل اور نتائج پر جرح کی ہے اور اُن کے اسقام کو واضح کیا ہے۔ اِس حصے میں درجِ ذیل عنوانات کے تحت بحث کی گئی ہے:
بحث و استدلال کے بنیادی اصول
ایک واقعہ یا چار واقعات
رؤیا سے مراد ـــــ روایتی موقف کا جائزہ
جسمانی یا روحانی کی بحث میں قطعی دلیل
’الرؤیا‘ کا معنی و مفہوم
متنبی کے شعر سے استشہاد کی حقیقت
راعی کے شعر سے استشہاد کی حقیقت
’سُبْحٰنَ الَّذِیْ‘ کے الفاظ کا مدعا
’اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ ‘ سےاستدلال کی حقیقت
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر سے استدلال
’فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ ‘کے الفاظ سے استدلال
لوگوں کے ردِ عمل سے استدلال
رؤیتِ باری تعالیٰ
آخر ی حصہ ضمیمہ جات پر مشتمل ہے۔ اِس میں علمی اور فنی تقاضوں کے پیشِ نظر مواد کے بعض اہم اجزا اور چند توضیحی مباحث شامل کیے ہیں۔ اِن سے مقصود یہ ہے کہ قارئین اگر مزید تنقیح کے خواہش مند ہوں یا بحث کے مصادر تک رسائی چاہیں تو اُنھیں سہولت فراہم ہو جائے۔
____________