1- واقعۂ اسرا

ـــــ مسجدِ اقصیٰ کا سفر ـــــ

1۔ سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا. اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ. (  بنی سرائیل 17: 1)

’’ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو ایک راتوں رات مسجدِ حرام سے اُس دور کی مسجدتک لے گئی، جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہےتاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیرہے۔‘‘

2۔ وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا. وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ. وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا. (بنی سرائیل 17: 59 -60)

’’ہم کو عذاب کی نشانیاں بھیجنے سے اِسی بات نے روک رکھا ہے کہ اگلوں نے اُنھیں جھٹلا دیا تھا۔ ثمود کو ہم نے اونٹنی (اِسی طرح کی) ایک آنکھیں کھول دینے والی نشانی کے طور پر دی تھی، لیکن اُنھوں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اُس کی تکذیب کردی۔ (پھر نشانیاں بھیجنے سے کیا حاصل)؟ ہم نشانیاں اِسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ (عذاب سے پہلے لوگوں کواُن کے انجام سے) ڈرادیں۔ تم یاد کرو، جب ہم نے (اِسی تنبیہ و تخویف کے لیے) تم سے کہا تھا کہ تمھارے پروردگار نے اِن لوگوں کو گھیرے میں لے لیا ہے (اور یہ اُس کا مذاق اڑا رہے تھے)۔ اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے (اِن کے اِسی رویے کی وجہ سے) اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا اور اُس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ ہم تو اِن کے انجام سے اِنھیں ڈرا رہے ہیں، لیکن یہ چیز اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔‘‘

پس منظر

سورۂ بنی اسرائیل (17)  کی آیت 1 میں ’مسجدِ حرام‘سے مکہ کا بیت اللہ اور ’مسجدِ اقصیٰ‘ سے یروشلم کا بیت المقدس مراد ہے۔ یہ دونوں مسجدیں اللہ کے حکم سے تعمیر کی گئیں  اور اِنھیں دنیا بھر کے لیے توحید کی دعوت کا مرکز بنایا گیا۔ چنانچہ یہ اپنے مقامات، یعنی مکہ اور فلسطین سمیت، ہمیشہ حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی اولاد کی تحویل میں رہیں۔ بیت اللہ کی تولیت اور ام القریٰ مکہ کی امانت اولادِ اسمٰعیل  کے سپرد ہوئی اور بیت المقدس کا انتظام و انصرام اورسرزمین فلسطین کا اقتداربنی اسرائیل کو سونپا گیا۔  بنی اسمٰعیل  میں جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور بنی اسرائیل کو دین کی دعوت اور شہادت کے منصب سے معزول کر دیا گیا [4] تو اللہ تعالیٰ نے ام القریٰ مکہ کے ساتھ فلسطین کی سرزمین کو بھی آپ اور آپ کی قوم بنی اسمٰعیل کے حوالےکرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ پس منظر ہے، جس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا۔  

تفصیل

قرآن مجید میں یہ واقعہ اجمال کے ساتھ نقل ہوا ہے۔ نوعیت اور مقصد کے علاوہ دیگر تفصیلات کا ذکر نہیں ہے۔ جو باتیں مذکور ہیں، وہ درجِ ذیل ہیں:

پہلی بات یہ ہے کہ ایک رات اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ،  یعنی سیکڑوں میل کے فاصلے پر قائم دور دراز[5] کی مسجد میں لے گئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اِس لے جانے سے اللہ کا مقصد آپ کو اپنی کچھ غیر معمولی نشانیوں کا مشاہدہ کرانا تھا۔ اِس مفہوم کے لیے آیت میں ’لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا‘(تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) کے الفاظ آئے ہیں۔آیت میں اِن نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں کی گئی، [6] تاہم،سیاق و سباق کے قرائن اور قرآنِ مجید کے دیگر نظائر کی بنا پر قرینِ قیاس یہی ہے کہ اِن سے مراد وہ آثار و شواہد اور انوار و برکات ہیں، جن سے اللہ کے یہ دونوں گھر معمور تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اِنھیں دکھانے کا مقصد، ممکنہ طور پر، یہی بشارت تھی کہ اب توحید کے اِن مراکز کی امانت آپ کو ملنے والی ہے۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

 ’’مقصود اِن (نشانیوں)کے دکھانے سے، ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی واضح ہو جائے کہ اب یہ ساری امانت ناقدروں اور بدعہدوں سے چھین کر آپ کے حوالے کی جانے والی ہے۔‘‘(تدبر قرآن4/475)

تیسری بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے اور آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرانے کا یہ واقعہ رؤیا میں پیش آیا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے الفاظ ’الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ‘ (ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا) سے یہی بات متعین ہوتی ہے۔

اِن  مذکور باتوں کا خلاصہ  چند نکات میں یہ ہے:

1۔یہ واقعہ رات کےاوقات میں رونما ہوا۔

2۔  اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں موجود تھے۔

3۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مسجدِ حرام سے ایک دور کی مسجد، یعنی بیت المقدس میں لے گئے۔

4۔ اِس لے جانے کا مقصد آپ کو اللہ کی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرانا تھا۔

5۔ مشاہدے کے بعد آپ کو مسجدِ حرام میں واپس لایا گیا۔[7]

6۔کم و بیش 80 دنوں  کی دو طرفہ مسافت کا یہ سفر  اور اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ ایک ہی رات میں مکمل ہوا۔

7۔ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سو رہے تھے اور اِسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے یہ سفر کرایا۔[8]

8۔رؤیا کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے تمام سفر اور تمام مشاہدات جسمانی طور پر نہیں، بلکہ نفسی اورروحانی طور پر کیے۔

جو باتیں واقعے میں مذکور نہیں ہیں، وہ یہ ہیں۔

1۔یہ ذکر نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود لے کر گئے یا کسی فرشتے کو اِس کام کے لیے مقرر فرمایا۔

2۔ یہ ذکر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفر کسی سواری پر کیایا آپ کے نفسی وجود نے اللہ کے حکم کی براہِ راست تعمیل کی۔

3۔یہ ذکر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون کون سی نشانیاں دکھائی گئیں۔

4۔ یہ ذکر نہیں ہے کہ بیت المقدس کے اندر کیا واقعات پیش آئے۔

تفہیم

آیات کی توضیح و تفہیم کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

اولاً، آیت1 کا آغاز ’سُبْحٰنَ الَّذِيْ‘کے الفاظ سے ہوتا ہے اور اختتام ’اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‘ کے جملے پر ہوتا ہے۔ اِن کے معنی ہیں: ’’ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات‘‘ اور ’’اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے‘‘۔ ’السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ‘ کی صفات اصل میں ’سُبْحٰنَ ‘ کے لفظ کی توضیح ہیں۔اِن سے واقعۂ اسرا کی غایت پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے۔ ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’آیت کے شروع میں لفظ ’سُبْحٰن‘ جس پہلو سے آیا ہے، (سمیع و بصیر کی)یہ صفات اُس کی وضاحت کر رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہی سمیع و بصیر ہے تو یہ اُسی کا کام تھا کہ اُن بد عہدوں کا محاسبہ کرے، جنھوں نے، سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں، اُس کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے۔ بنی اسرائیل اِس گھر میں جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اُس کو سننے اور دیکھنے کے بعد یہی ہونا تھا۔ چنانچہ خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اِس گھر کی امانت اب نبی امی کے حوالے کر دی جائے گی۔ آپ کو رات ہی رات میں مسجدِ حرام سے یہاں تک اِسی مقصد سے لایا گیا ہے۔ خدا ہر عیب سے پاک ہے، لہٰذا وہ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ ایک قوم کو لوگوں پر اتمام حجت کے لیے منتخب کرے اور اُس کی طرف سے اِس درجے کی سرکشی کے باوجود اُسے یوں ہی چھوڑے رکھے۔ ناگزیر تھا کہ پیشِ نظر مقصد کے لیے وہ کوئی دوسرا اہتمام کرے۔ اُس نے یہی کیا ہے اور عالمی سطح پر دعوت و شہادت کی ذمہ داری بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی ہے۔‘‘ (3 / 63)

ثانیاً، اِسی آیت کے الفاظ ’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘  (جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے) سے واضح ہے کہ یہاں محض مسجدِ اقصیٰ کی تولیت مراد نہیں ہے، بلکہ اِس کے ساتھ اُس علاقے کا اقتدار بھی مراد ہے، جس میں یہ مسجد قائم ہے۔ اِسی طرح ’لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا‘(تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) میں آیات کا اشارہ جن نشانیوں کی طرف ہے، اُن میں سرزمین فلسطین پر غلبہ بھی شامل ہے۔ استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:

’’... ابراہیم علیہ السلام کی بابل سے ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو مقامات کا انتخاب کیا، جہاں خود اُس کے حکم سے دو مسجدیں تعمیر کی گئیں اور اُنھیں پورے عالم کے لیے توحید کی دعوت کا مرکز بنا دیا گیا۔ ایک سرزمین عرب اور دوسرے فلسطین۔ اِن میں سے پہلا مقام وادیِ غیر ذی زرع اور دوسرا انتہائی زرخیز ہے۔ قدیم صحیفوں میں اِسی بنا پر اُسے دودھ اور شہد کی سرزمین کہا گیا ہے۔’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘کے الفاظ سے قرآن نے اِسی طرف اشارہ کیا ہے اور اِس طرح بالکل متعین کر دیا ہے کہ دور کی جس مسجد کا ذکر ہو رہا ہے، وہ یروشلم کی مسجد ہے۔  ...

( ’لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا‘میں نشانیوں سےمراد ہے کہ) اِس بات کی نشانیاں کہ حرم مکہ کے ساتھ اب فلسطین کی سرزمین اور اُس کی امانت بھی بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی جائے گی۔‘‘

(البیان 3 / 62)

ثالثًا،آیت 59 میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وہ کفارِ قریش کی تنبیہ و تخویف کے لیے مزید نشانیاں نازل نہیں فرما رہے۔ اِس کا سبب یہ بتایا ہے کہ جب بھی اُنھوں نے اِ س نوعیت کی نشانیاں نازل فرمائی ہیں تو لوگوں نے اِن سے تنبیہ و تخویف حاصل کرنے کے بجاے اِن کی تکذیب کی ہے اور اِن کا مذاق اڑایا ہے۔ اِس ضمن میں بہ طور ِمثال،  سابقہ اقوام میں سے قوم ثمود کی طرف بھیجی گئی نشانی کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ نے اونٹنی کو اپنی نشانی مقرر فرمایا تو لوگوں نے اُس کو جھٹلا دیا۔

رابعا ً، آیت 60 بھی اِسی سیاق میں ہے۔ اِس میں قریش کے سامنے بیان کی گئی تین نشانیوں کی مثال دی ہے۔ اِن میں سے ایک  مکہ کو گھیرے میں لینے کی ہے،[9] دوسری واقعۂ اسرا کی اور تیسری شجرۂ ملعونہ[10] کی ہے۔ اِن کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ قریش کا رویہ بھی اِس معاملے میں سابق اقوام سے مختلف نہ تھا۔ اُنھوں نے بھی آیاتِ الٰہی کی تکذیب اور تضحیک کا بدترین رویہ اختیار کیا۔  چنانچہ یہ نشانیاں نہ اِن کے لیے تنبیہ و تخویف کا باعث بن رہی ہیں اور نہ ایمان و اسلام کا، بلکہ اِن سے اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مذکورہ تین مثالوں میں سےدوسری مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجدِ اقصیٰ کے سفر کی ہے۔ اِس سفر میں یہ اشارہ مضمر تھا کہ اب مکہ اور اُس کی مسجدِ حرام اور فلسطین اور اُس کی مسجدِ اقصیٰ، دونوں کی امانت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتقل ہونے والی ہے۔ اِس کا کفارِ قریش نے مذاق اڑایا اور تنبیہ و تخویف کی ایک عظیم نشانی کو اپنے لیے فتنہ بنا ڈالا۔ استاذِ گرامی اِس حوالے سے لکھتے ہیں:

’’یہ اشارہ واقعۂ اسرا کی طرف ہے، جس کا ذکر سورہ کی ابتدا میں ہوا ہے۔ اِس میں چونکہ قریش اور بنی اسرائیل، دونوں کے لیے یہ تنبیہ مضمر تھی کہ مسجدِ حرام کے ساتھ اب بیت المقدس کی امانت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کی جا رہی ہے، اِس لیے اِس کا بھی مذاق اڑایا گیا کہ لیجیے، اب یہ بیت المقدس پر بھی قبضہ کرنے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ استاذ امام کے الفاظ میں، جو چیز اُن کی تنبیہ و تخویف اور اُن کو اِن کے مستقبل سے آگاہ کرنے کے لیے تھی، وہ اُن کی شامت ِاعمال سے اُن کے لیے فتنہ بن کے رہ گئی۔ ‘‘

(البیان 3/94)

خامساً، رؤیا عربی زبان کا نہایت معروف اور مستعمل لفظ ہے۔ عربی میں یہ  نیند میں دیکھنے کے معنوں میں ایسے ہی استعمال ہوتا ہے، جیسے ہم انگریزی، ہندی اور اردو میں ڈریم  (Dream)، سپنا اور خواب کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اِس کے شعر و ادب میں خواب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اِسی لفظ کو اختیار کیا جاتا ہے۔ عربی لغات میں اِس کے یہی معنی درج ہیں۔ احادیث میں یہ کم و بیش سات سو مقامات پر استعمال ہوا ہےاور ہر جگہ اِسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی یہ مختلف سورتوں میں سات مرتبہ آیا ہے۔ ہر موقع پر اِس سے خواب ہی مرادہے۔  اِس لفظ کے معنی و مفہوم کا اگر یہ معاملہ ہے تو پھر ضروری ہے کہ مذکورہ آیت میں اِسے خواب ہی کے معنوں میں لیا جائے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر اسرا کے سفر کو جسمانی نہیں، بلکہ روحانی سفر پر محمول کرنا چاہیے۔

سادساً، تاہم اِس رؤیا سے وہ  خواب مراد نہیں ہے، جو انسانوں کا روز مرہ تجربہ ہے۔ ہر گز نہیں، یہ وہ رؤیا ہے، جو وحی الٰہی کی ایک قسم ہے اور جس سے صرف انبیاے کرام ہی مستفیض ہو سکتے ہیں۔ عام انسانوں کا اِس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انبیاے کرام کو جو کچھ رؤیا میں دکھایا جاتا ہے، وہ صادق، نفس الامر کے مطابق اور مبنی بر حقیقت ہوتا ہے اور بعض اوقات بیداری میں بہ چشم سر دیکھنے سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہوتا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس نوعیت کے رؤیا کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’... حضرات انبیا علیہم السلام کو جو رؤیا دکھائی جاتی ہے، وہ رویاے صادقہ ہوتی ہے۔ اِس کے متعدد امتیازی پہلو ہیں، جو ذہن میں رکھنے کے ہیں۔

پہلی چیز تو یہ ہے کہ رؤیاے صادقہ وحی الٰہی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر جس طرح فرشتے کے ذریعے سے کلام کی صورت میں اپنی وحی نازل فرماتا ہے، اُسی طرح کبھی رؤیا کی صورت میں بھی اُن کی رہنمائی فرماتا ہے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ یہ رؤیا نہایت واضح، غیرمبہم اور روشن صورت میں’  كَفَلْقِ الصُّبْح‘ ہوتی ہے، جس پر نبی کو پورا شرح صدر اور اطمینانِ قلب ہوتا ہے۔ اگر اِس میں کوئی چیز تمثیلی رنگ میں بھی ہوتی ہے تو اِس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر واضح فرما دیتا ہے۔

تیسری چیز یہ ہے کہ جہاں واقعات و حقائق کا مشاہدہ کرانا مقصود ہو، وہاں یہی ذریعہ نبی کے لیے زیادہ اطمینان بخش ہوتا ہے، اِس لیے کہ اِس طرح واقعات کی پوری تفصیل مشاہدہ میں آ جاتی ہے اور وہ معانی و حقائق بھی ممثل ہو کر سامنے آ جاتے ہیں، جو الفاظ کی گرفت میں مشکل ہی سے آتے ہیں۔

چوتھی چیز یہ ہے کہ رؤیا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدہ سے زیادہ قطعی، زیادہ وسیع اور اُس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آ سکتا ہے، لیکن رؤیاے صادقہ مغالطہ سے پاک ہوتی ہے۔ آنکھ ایک محدود دائرہ ہی میں دیکھ سکتی ہے، لیکن رؤیا بہ یک وقت نہایت وسیع دائرہ پر محیط ہو جاتی ہے۔ آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اِس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے،لیکن رؤیا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تجلی الٰہی اپنی آنکھوں سے دیکھنی چاہی، لیکن وہ اُس کی تاب نہ لا سکے۔ برعکس اِس کے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں جو مشاہدے کرائے گئے، وہ سب آپ نے کیے اور کہیں بھی آپ کی نگاہیں خیرہ نہیں ہوئیں۔‘‘(تدبر قرآن4/475-476)

 اِس تفصیل سے واضح ہے کہ یہ ایک باقاعدہ سفر تھا، اللہ تعالیٰ کے اہتمام میں تھا  اور اِس کے دوران میں جو کچھ آپ نے مشاہدات فرمائے، وہ حقیقی، قطعی اور یقینی تھے۔

سابعا ً، سورۂ بنی اسرائیل کی درجِ بالا آیات کے الفاظ اور اسالیب بات کی تکمیل پر دلالت کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں کسی اور مقام پر  اِس سے متعلق کوئی اضافی یا ضمنی بات بھی مذکور نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اِسے ایک متعین، منفرد اور مکمل واقعے کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور قرآن و حدیث کے کسی دوسرے واقعے کو اِس کے ساتھ جوڑنے کی سعی نہ کی جائے۔

____________