2- واقعۂ قاب قوسین

ـــــ دو کمانوں کے برابر فاصلہ ـــــ

وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰي. مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰي. وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰي. اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰي. عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰي. ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰي. وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰي. ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي. فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي. فَاَوْحٰۤي اِلٰي عَبْدِهٖ مَا اَوْحٰي. مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰي. اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا يَرٰي.(النجم 53: 1 -12 )   

’’تارے گواہی دیتے ہیں، جب وہ گرتے ہیں کہ تمھارا رفیق نہ بھٹکا ہے، نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ (قرآن) تو ایک وحی ہے، جو اُسے کی جاتی ہے۔ اُس کو ایک زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے،جو بڑا صاحب کردار، بڑا صاحب حکمت ہے۔چنانچہ وہ نمودار ہوا، اِس طرح کہ وہ آسمان کے اونچے کنارے پرتھا۔پھر قریب ہوا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ پھر اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔ جو کچھ اُس نے دیکھا، وہ دل کا وہم نہ تھا۔ اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو، جو وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے؟‘‘

پس منظر

سورۂ نجم کی یہ آیات کہانت کے اُس الزام کی تردید میں نازل ہوئی ہیں، جو قریش کے لیڈر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے۔  اِس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو قرآن سناتے تو وہ اُس کے اسلوب کی ندرت، اُس کی زبان کے اعجاز اور اُس کے بیان کی حلاوت سے مسحور ہو جاتے۔ اِسی طرح آپ اُنھیں نزولِ وحی کے بارے میں اپنے تجربات و مشاہدات سے بھی آگاہ فرماتے تھے۔ اِس کے نتیجے  میں لوگ فطری طور پر آپ کی طرف مائل ہو جاتے تھے۔ قریش کی قیادت کو یہ گوارا نہ تھا کہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں اور آپ کے کلام کو من جانبِ اللہ ماننے لگ جائیں۔ اِس صورت حال میں اُنھیں اپنی بقا کا یہی راستہ نظر آیا کہ آپ کی زبان پر جاری ہونے والے کلام اور اُس کے نزول سے متعلق لوگوں میں بد اعتمادی پیدا کریں۔ اِس مقصد کے لیے جہاں اُنھوں نے آپ کو شاعر اور مجنون کہا، وہاں یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ آپ، معاذ اللہ، کاہن اور منجم ہیں۔ دلیل یہ تھی کہ آپ کا کلام مسجع و مقفیٰ بھی ہے، اِس میں غیب کی خبریں بھی ہیں اور اِسے آسمانی فرشتوں سے منسوب بھی کیا جاتا ہے۔ یہ دلیل ظاہر ہے کہ اِس بنا پر تھی کہ کاہن اور منجم منظوم اور مسجع منتر پڑھتے تھے، مستقبل کا حال بتاتے تھے اور اپنی اِن خرافات کو جنات اور آسمانی روحوں کا القا  قرار دیتے تھے۔

اِس اتہام و الزام کے جواب میں قرآنِ مجید نے  قریش مکہ کو مخاطب کیا اور بہ دلائل اُن کے باطل خیالات کی تردید فرمائی۔ اِس ضمن میں اِن حقائق کو نمایاں کیا گیا:

ایک حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اے قریش مکہ، تمھارے یہ رفیق (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ بھٹکے ہیں اور نہ بہکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمھارے یہ ہم نشیں جو اِس وقت نبوت کا اعلان کر رہے ہیں، تمھی میں پیدا ہوئے اور تمھی میں پروان چڑھے ہیں۔ اِن کی تمام عمر تمھارے ساتھ گزری ہے۔ اِن کی صفات اور اِن کا ماضی و حال تمھارے سامنے ہے۔ اِسی بنا پر تم اِنھیں صادق اور امین کہتے اور اِن کے اخلاق و کردار کے قصیدے پڑھتے رہے ہو۔اب جیسے ہی اِنھوں نے نبوت کا اعلان کیا ہے تو تم اِنھیں کاہن قرار دے کر، معاذ اللہ، بھٹکا ہوا اور بہکا ہوا قرار دے رہے ہو۔ یہ سراسر بہتان ہے۔ جان رکھو کہ نہ اِنھوں نے راہ گم کی ہے اور نہ راستے سے بھٹکے ہیں۔ یہ اپنے پروردگار کی صراطِ مستقیم پر گام زن ہیں۔ بھٹکے ہوئے تو تم ہو، جو سب کچھ جانتے بوجھتے اِنھیں کاہن اور منجم کہہ کر اِن کی نبوت کا انکار کر رہے ہو۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ اے قریش، تمھارے یہ رفیق (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) جو قرآن تمھارے سامنے پڑھتےہیں،اُس کا تعلق نہ اُن کی اپنی ذات سے ہے اور نہ نفس کی خواہشوں سے ہے۔ یہ کلام الہٰی ہے،جو تمھاری ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی وحی کی صورت میں پیغمبر تک پہنچتا ہے اور وہ اِس میں کوئی ردو بدل، کوئی ترمیم و اضافہ نہیں کرتے۔

تیسری بات یہ ارشاد کی ہے کہ وحی کی یہ تعلیم حضرت جبریل علیہ السلام جیسے زبردست قوتوں والے جلیل القدر فرشتے نے دی ہے۔ وہ شدید القویٰ ہے، یعنی اِس کام کے لیے تمام اعلیٰ صفات سے متصف اور غیر معمولی قوت و صلاحیت کا حامل ہے۔ آسمانوں سے زمین تک کے سفر میں نہ کوئی اُس کی بات کو اچک سکتا ہے اور نہ اُس میں در اندازی کی ہمت کر پاتا ہے۔ وہ با کردار اورصاحبِ حکمت و دانش بھی ہے۔ اِن اوصاف کی وجہ سے  وہ اللہ کے رسول تک ٹھیک ٹھیک وہی پیغام، وہی علم اور وہی تعلیم پہنچاتا ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اُسے دیا ہے۔ وہ اُس میں کوئی تصرف نہیں کرتا۔ کوئی فرشتہ، کوئی جن، کوئی انسان یا کائنات کی کوئی اور مخلوق اُسے مرعوب کر کے یا دھوکا دے کر اُس سے اِس کام میں غلطی کا ارتکاب بھی نہیں کرا سکتی۔[11] 

امام ا مین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’...اُس (فرشتے) کی ہر صفت و صلاحیت نہایت محکم و مضبوط ہے۔ اِس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی دوسری روح اُس کو متاثر یا مرعوب کر سکے، اُس سے خیانت کا ارتکاب کرا سکے یا اُس کی تعلیم میں کوئی خلطِ مبحث کر سکے یا اُس سے کوئی فروگذاشت ہو سکے یا اُس کو کوئی وسوسہ لاحق ہو سکے۔ اِس طرح کی تمام کم زوریوں سے اللہ تعالیٰ نے اُس کو محفوظ رکھا ہے تاکہ جو فرض اُس کے سپرد فرمایا ہے، اُس کو وہ بغیر کسی خلل و فساد کے پوری دیانت و امانت کے ساتھ ادا کر سکے۔...

وہ اپنی عقل اور اپنے کردار میں نہایت محکم ہے۔ اِس کا امکان نہیں ہے کہ وہ کوئی دھوکا کھا سکے یا کوئی اُس کو دھوکا دے سکے یا وہ کسی کے ہاتھ بک سکے اور کوئی اُس کو خرید سکے۔‘‘(تدبر قرآن8/53-54)

تفصیل

اِس پس منظر میں وہ واقعہ بیان ہوا ہے، جب حضرت جبریل علیہ السلام پہلی مرتبہ  اپنی اصل صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے۔

اِس کی جو تفصیل آیات سے مفہوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے:

*  واقعے کا آغاز اِس طرح ہوا کہ جبریل امین  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے افق اعلیٰ پر نمودار ہوئے۔[12] آیت کے اسلوب سے واضح ہے کہ وہ اپنی اصل صورت میں[13]اور پورے قد و قامت کے ساتھ ظاہر ہوئے [14]اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ بیداری میں کھلی آنکھوں سے اُن کا مکمل مشاہدہ کیا۔ ’’البیان‘‘ میں ہے:

’’اصل میں’الْاُفُقُ الْاَعْلٰي‘کے الفاظ آئے ہیں، یعنی وہ افق جو سمتِ رأس میں ہوتا ہے۔ یہ پہلی وحی اور جبریل امین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی ملاقات کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل جلی اور غیرمشتبہ صورت میں اِس طرح نمودار ہوئے، جس طرح ماہِ تمام یا مہر ِنیم روز نمودار ہوتا ہے اور پیغمبر نے کھلی آنکھوں کے ساتھ اُن کا مشاہدہ کیا۔‘‘(5/ 65)

*پھر وہ زمین پر موجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھکے۔ یعنی پورے التفات، بھرپور اہتمام اور کمال شفقت کے ساتھ آپ کی طرف  متوجہ ہوئے۔[15]استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’(’ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي‘پھر قریب ہوا اور جھک پڑا)۔یہ  اُس التفات و اہتمام اور غایت شفقت کا بیان ہے، جس کے ساتھ جبریل امین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی تاکہ جو ہدایات آپ کو دی جا رہی ہیں، آپ اُنھیں اچھی طرح سن اور سمجھ لیں۔‘‘

(البیان 5/ 65)

* اِس کے بعد جبریل امین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریب آگئے۔ اتنے قریب کہ اُن کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان بہت کم فاصلہ رہ گیا۔

* اِس قدر قریب آ کر اُنھوں نے آپ کو  وہ وحی پہنچائی، جو وہ اللہ کی طرف سے لے کر آئے تھے۔[16] سورۂ نجم کے اِس مقام پر چونکہ واقعے کی نوعیت اور حقیقت کو بیان کرنا مقصود ہے، اِس لیے وحی کے مندرجات کی تفصیل نہیں کی گئی۔

درجِ بالا تفصیل سے واقعۂ قاب قوسین کے حوالے سے جو باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں:

1۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے۔

2۔ آپ نے دیکھا کہ آسمان کے انتہائی بلند مقام سے حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوئے۔

3۔ وہ اپنی اصل صورت میں تھے۔

4۔ پھر وہ آپ کے نہایت قریب آ گئے، اتنے قریب کہ آپ میں اور اُن میں گویا دو کمانوں کے بہ قدر فاصلہ رہ گیا۔

5۔ پھر اُنھوں نے قرآن کا وہ حصہ آپ کو وحی کیا، جو اللہ نے اُنھیں دے کر بھیجا تھا۔

6۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سارا مشاہدہ عالم بیداری میں کھلی آنکھوں سے کیا۔

7۔ واقعے کی تفصیل اور سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہ ایک مکمل واقعہ ہے اور منفرد طور پر ظہورپذیر ہوا ہے۔ کسی دوسرے واقعے سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

8۔قاب قوسین (دو کمانوں کے برابر فاصلہ) عربی زبان کا محاورہ ہے، جس کے معنی نہایت قریب ہونے کے ہیں۔

جو باتیں واقعے میں مذکور نہیں ہیں، وہ یہ ہیں:

1۔یہ ذکر نہیں ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہاں موجود تھے۔

2۔ یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ دن کے اوقات میں پیش آیا یا رات کے اوقات میں۔ 

3۔یہ ذکر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو وحی پہنچائی گئی، وہ کیا تھی۔

تفہیم

آیات کی توضیح و تفہیم کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

اولاً، حضرت جبریل علیہ السلام کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نزدیکی اور قرب کے اظہار کے لیے ’فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی وہ آپ کے اِس قدر قریب ہو گئے کہ درمیانی فاصلہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے بھی کم رہ گیا۔[17] اِس سے مقصود باہمی فاصلے کا تعین نہیں، بلکہ نہایت درجہ تقرب کو بیان کرنا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں ہے:

’’یہ تشبیہ اہل عرب کے ذوق کے لحاظ سے ہے اور غایت قرب و اتصال کی تعبیر کے لیے آئی ہے۔ اِس میں ’اَوْ‘ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیشِ نظر محض قرب کا بیان ہے، اِس سے مقدارِ فاصلہ کی تعیین مقصود نہیں ہے۔ یہ کم یا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

(5/ 65)

ثانیاً،’فَاَوْحٰي اِلٰي عَبْدِهٖ مَا اَوْحٰي‘ (پھر اُس نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی) میں ’عَبْدِهٖ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ ’فَاَوْحٰي‘ کا فاعل جبریل علیہ السلام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہے۔ وحی کا اصل منبع اور ماخذ چونکہ اللہ تعالیٰ ہیں، اِس لیے اگر وہ اِس کے ابلاغ و ارسال کے لیے کسی فرشتے کا توسط اختیار کرتے ہیں تو اِس سے وحی کے فعل کی اُن سے نسبت پر کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔[18] ’عَبْدِهٖ‘کی ضمیرِ اضافت کو اللہ تعالیٰ کے لیے ماننا لازم ہے۔ اِسے  جبریل سے منسوب کرنے سے شرک کا مفہوم پیدا ہو گا، جس کی قرآن میں کوئی گنجایش نہیں ہو سکتی۔قرآن و سنت اِس پر قطعی ہیں کہ تمام مخلوقات کے لیے معبود کی حیثیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، لہٰذا بندگی کا تعلق فقط اُسی سے قائم ہو سکتا ہے۔

ثالثًا، واقعے کی نوعیت کو بیان کرنے کے لیے’مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰي. اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا يَرٰي‘(جو کچھ اُس نے دیکھا، وہ دل کا وہم نہ تھا۔ اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو، جو وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے؟) کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ مشاہدہ فرمایا، وہ عالم بیداری میں اور کھلی آنکھوں کے ساتھ تھا۔ گویا نہ یہ رؤیا تھا،جو اللہ نے نیند کے عالم میں آپ کو دکھایا اور نہ ایسی تمثیل تھی، جو من جانبِ اللہ آپ کے قلب و ذہن پر نقش کر دی گئی تھی۔[19] یہ حسی مشاہدہ تھا، جو آپ نے تمام ظاہری حواس اور پورے شعور و ادراک کے ساتھ کیا تھا۔امام امین احسن اصلاحی سورہ کے اِس جز کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس مشاہدے کی تصدیق و تصویب ہے کہ کوئی اِس مشاہدے کو دل کی خیال آرائی اور نفس کے فریب پر محمول نہ کرے، یہ فریبِ نفس اور دھوکا نہیں، بلکہ فی الحقیقت نبی کو یہ مشاہدہ ہوا ہے۔...

وہ جو کچھ آنکھوں سے دیکھتا ہے اور کانوں سے سنتا ہے، اُس سے تم کو آگاہ کر رہا ہے۔ اگر یہ چیز تم کو نظر نہیں آتی تو اِس سے نفس حقیقت باطل نہیں ہو جائے گی۔‘‘

 (تدبر قرآن8/55-56)

رابعا ً، واقعۂ قاب قوسین، یعنی جبریل امین کا افق سے نمودار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قریب ہو جانے کا واقعہ اِسی قدر ہے، جتنا اِس مقام پر بیان ہوا ہے۔ آیات کے الفاظ اور اسالیب اِس کے بیان کی تکمیل پر دلالت کرتے ہیں۔ مزید برآں، قرآنِ مجید میں کسی اور مقام پر اِس سے متعلق کوئی اضافی یا ضمنی بات مذکور نہیں ہے۔ اِس لیے لازم ہے کہ اِسے ایک متعین، منفرد اور مکمل واقعے کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور قرآن و حدیث کے کسی دوسرے واقعے کو اِس کے ساتھ جوڑنے کی سعی نہ کی جائے۔

خامساً، سورۂ نجم کی مذکورہ آیات میں حضرت جبریل علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا ہے: 

عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰي. ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰي. وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰي. ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي. فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي.(53: 5- 9)

’’اُس کو ایک زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے، جو بڑا صاحبِ کردار، بڑا صاحبِ حکمت ہے۔ چنانچہ وہ نمودار ہوا، اِس طرح کہ وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا۔ پھر قریب ہوا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ ‘‘

بعض علما و مفسرین نے یہاں جبریل علیہ السلام کے بجاے اللہ تعالیٰ کو مراد لیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات چند وجوہ سے درست نہیں ہے:

ایک یہ کہ ’شَدِيْدُ الْقُوٰي‘، ’ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰي‘ اور ’دَنَا فَتَدَلّٰي‘ کے اسالیب جس انداز سے آئے ہیں،  وہ اللہ پروردگارِ عالم کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔ اِس میں صلاحیتوں، صفات اور افعال کا اسلوب ِبیان مخلوقات کی نسبت سے زیادہ مناسب  حال ہے۔

دوسرے یہ کہ سورۂ تکویر (81) میں حضرت جبریل علیہ السلام کی بعض صلاحیتوں کا ذکر ہوا ہے تو کم و بیش اِسی طرح کے اسالیب اختیار کیے گئے ہیں۔لہٰذا ’القرآن یفسر بعضه بعضًا‘  کے اصول پر یہاں جبریل ہی کو مراد لیا جائے گا۔ ارشاد ہے:

اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ. ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ. مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ. 

(19- 21)

’’بے شک، یہ ایک رسولِ کریم کا لایا ہوا کلام ہے۔ بہت صاحبِ قوت، عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ، اُس کا حکم وہاں مانا جاتا ہے اور وہ نہایت امین بھی ہے۔ ‘‘

امام امین احسن اصلاحی سورہ کے اِن الفاظ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہ اُس فرشتہ (حضرت جبریل علیہ السلام) کی صفت بیان ہو رہی ہے، جس نے اِس کلام کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی۔ فرمایا کہ وہ’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘یعنی تمام اعلیٰ صفات اور صلاحیتوں سے بھرپور اور اُس کی ہر صفت و صلاحیت نہایت محکم و مضبوط ہے۔ اِس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی دوسری روح اُس کو متاثر یا مرعوب کر سکے، اُس سے خیانت کا ارتکاب کرا سکے یا اُس کی تعلیم میں کوئی خلطِ مبحث کر سکے یا اُس سے کوئی فروگذاشت ہو سکے یا اُس کو کوئی وسوسہ لاحق ہو سکے۔ اِس طرح کی تمام کم زوریوں سے اللہ تعالیٰ نے اُس کو محفوظ رکھا ہے تاکہ جو فرض اُس کے سپرد فرمایا ہے، اُس کو وہ بغیر کسی خلل و فساد کے پوری دیانت و امانت کے ساتھ ادا کر سکے۔ سورۂ تکویر میں اِس فرشتہ کی تعریف یوں آئی ہے:’ا نَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ. ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ. مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ‘۔...

’ذُوْمِرَّۃٍ‘۔ یعنی وہ اپنی عقل اور اپنے کردار میں نہایت محکم ہے۔ اِس کا امکان نہیں ہے کہ وہ کوئی دھوکا کھا سکے یا کوئی اُس کو دھوکا دے سکے یا وہ کسی کے ہاتھ بک سکے اور کوئی اُس کو خرید سکے۔ یہ لفظ اخلاقی و عقلی برتری کے لیے آتا ہے۔ ‘‘

(تدبر قرآن 8/ 53-54) 

تیسرے یہ کہ سورۂ نجم کے زیرِ بحث تمہیدی بیان کا اختتام آیت 18 کے جن الفاظ پر ہوا ہے، اُن سے واضح ہے کہ یہاں مذکورہ مشاہدات کے بہ شمول جو مشاہدات بھی کرائے گئے ہیں، اُن کا تعلق آیاتِ الٰہی  سے ہے۔ ذاتِ الہٰی سے اُن کا تعلق نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

لَقَدۡ رَاٰی مِنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِ الۡکُبۡرٰی.

’’اُس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کے حوالے سے لکھا ہے:

’’یہ بیان ہے اُن مشاہدات کا جو اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئے۔ فرمایا کہ اُس نے اپنے رب کی بعض بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اِن نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ اِن کے متحمل ہو سکتے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آ سکتیں۔تاہم، لفظ ’کُبْرٰی‘دلیل ہے کہ یہ نشانیاں اُن نشانیوں سے بالاتر تھیں، جن کا مشاہدہ، آفاق و انفس میں، ہر قدم پر، ہر صاحبِ نظر کو ہوتا رہتا ہے۔... تاہم، یہ امر ملحوظ رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا، خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن 8/57)

____________