3۔ راعی کے شعر سے استشہاد  

’رؤیا‘ کے لفظ کو رؤیتِ بصری کے مفہوم میں لینے کے لیے اموی دور کے ایک  شاعر  عبيد بن حصين  الراعی[51] کے  اِس مصرع   کو بھی بہ طورِ دلیل پیش کیا جاتاہے:

فكبر  للرؤيا  وهش  فؤاده

’’ اُس نے  یہ  ’رؤیا‘ (منظر )دیکھا تو  اللہ اکبر کہا  اور اُس کا دل خوشی سے سرشار ہو گیا۔ ‘‘

بیان کیا جاتاہے کہ ایک صاحبِ زبان شاعر نے ’رؤیا‘کو نیند میں دیکھنے کے بجاے بیداری میں دیکھنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ عربی زبان میں یہ لفظ کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے مفہوم میں بھی مستعمل ہے۔لہٰذا سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60میں اِس کا معنی رؤیتِ بصری کرنا زبان و بیان  کے خلاف نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اِس سے خواب کا غیر حقیقی یا غیر مرئی منظر لینے کے بجاے بیداری کا مشاہدہ مراد لیا جائے تو یہ لفظ کے استعمالات کے مطابق ہو گا۔

اِس ضمن میں عموماً ’’لسان العرب‘‘ کا درجِ ذیل حوالہ پیش کیا جاتا ہے:

قال ابن بري: وقد جاء الرؤيا في اليقظة قال الراعی: فكبر للرؤيا وهش فؤاده. وبشر نفسًا كان قبل يلومها. وعليه فسر قوله تعالٰى: ’’وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ‘‘.(8/297)

”ابن بری کا قول ہے کہ ’الرؤیا‘  بیداری کے لیے بھی آیا ہے۔ راعی کہتا ہے:’فكبر للرؤيا وهش فؤاده. وبشر نفسًا كان قبل يلومها‘ ۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ کے اِس ارشاد کی تفسیر کی گئی ہے:  ’وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ‘۔ ‘‘

ہمارے نزدیک یہ دلیل بھی اُسی غلطی کا اعادہ ہے، جو متنبی کے شعر  کے معاملے میں ہوئی ہے۔ یعنی پہلے، غلط طور پر ’رؤیا‘کے مجازی مفہوم کو حقیقی مفہوم پر محمول کیا ہے، پھر اُس غلط مفہوم کو دلیل بنا کرلفظ کے معانی میں نئے معنی کا اضافہ کیا ہے اور آخر الامر اُس نئے معنی کو حقیقی مفہوم میں مستعمل قرار دے کر آیت پر اُس کا اطلا ق کر دیا ہے۔ بات کچھ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ آئیے،  اِسے ایک مثال سے سمجھ لیتے ہیں۔

اردو زبان کے اساتذہ  کے چند اشعار درجِ ذیل ہیں۔ اِن میں لفظِ ’’دل‘‘ کو مجازاً ’’گھر‘‘ کے مفہوم میں یا اُس کے مترادف کے طور پر استعمال کیا گیا ہے:

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اِس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

(غالب)                                

 دل کے تئیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا
گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا

(میر)                                

ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے
نکل اےصبر اِس گھر سے کہ صاحب خانہ آتا ہے

(امیر)                                

درد کو پھر ہے مرے دل کی تلاش
خانہ برباد کو گھر یاد آیا

(فانی)                                

جنھيں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمينوں میں
وہ نکلے ميرے ظلمت خانۂ دل کے مکينوں میں

(اقبال)                                

اِن اشعار کی بنا پر اگر یہ کہا جائے کہ اِن میں ’’دل‘‘ کا لفظ چونکہ ’’گھر‘‘ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اِس لیے  اِس لفظ کے مطالب کی فہرست میں جسمانی عضو اور جذبہ و احساس کے ساتھ گھر، خانہ یا مکان کے مفردات بھی درج کر دینے چاہییں تاکہ قارئین پیشِ نظر عبارت میں جس معنی کو اپنے ذوق اور فہم کے قریب محسوس کریں، اُسے اختیار کر لیں۔ چنانچہ مثال کے طور پر اگر وہ مولانا ظفر علی خان کے اِس شعر کو پڑھیں:

میں اُس کو کعبہ و بت خانہ میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں
مرے ٹوٹے ہوئے دل ہی کے اندر ہے قیام اُس کا

اور اِس کا یہ مفہوم بیان کریں کہ ــــــــــ مجھے اللہ تعالیٰ کی جستجو میں نہ کعبہ جانے کی ضرورت ہے اور نہ بت کدے میں، کیونکہ وہ تو میرے اپنے ٹوٹے ہوئے گھر میں رہتا ہے ــــــــــ تو اِسے زبان و بیان کے عین مطابق قرار دیا جائے گا۔

اِس مثال میں ’’ٹوٹے ہوئے دل‘‘  کو ’’ ٹوٹے ہوئے گھر‘‘ کے معنی میں لینا، کس قدر غلط ہے، اِسے قارئین بہ ادنیٰ  تامل سمجھ سکتے ہیں۔ تفہیم مزید کے لیے گذشتہ صفحات میں حقیقت ومجاز کی بحث پر ایک نظر ڈالی جا سکتی ہے۔

اِس توضیح کے بعد اب عبيد بن حصين  الراعی کے  مذکورہ مصرع میں لفظ ’رؤیا‘ کے مجازی مفہوم کو بھی جان لینا چاہیے۔شعر کو اُس کے سیاق و سباق میں رکھ کر پڑھا جائے تو یہ مفہوم پوری طرح واضح ہو جائے گا۔ شاعر کہتا ہے:

ومستنبح تهوي مساقط رأسه

على الرحل في طخياء طمس نجومها

’’جب اندھیری رات کے تارے مٹنے لگے تو  ایک اجنبی مسافر آیا،جس کا سر (رات بھرسفر کرنے کے بعدنیند اور تھکاوٹ سے) بار بار کجاوے پر گر رہا تھا۔‘‘

رفعت له مشبوبة عصفت لها

صبا تزدهيها مرة وتقيمها

’’میں نے اُس کے لیے آگ  بھڑکا رکھی تھی۔اُس پر بادِ صبا چلنے لگی،  جو اُس (آگ کی لپٹ) کو کبھی حرکت دیتی تھی اور کبھی کھڑا کر دیتی تھی۔ ‘‘

فكبر  للرؤيا  وهش  فؤاده

وبشر نفسًا كان قبل يلومها

’’ (تھکے ہارے ناامید)مسافر نے جب یہ حسین خواب (جیسانظارہ )،یعنی دل کش منظر دیکھا تو (فرطِ مسرت سے) اللہ اکبر کہا  اور اُس کا دل خوشی سے سرشار ہو گیا۔ پھر اُس نے اپنے نفس کو بشارت دی، جسے وہ(کچھ دیر) پہلے (مایوسی کی وجہ سے ) ملامت کر رہا تھا۔ ‘‘

صاف واضح ہے کہ یہاں شاعر نے ’خواب کے دل کش مناظر‘ سے کنایہ کرتے ہوئے ’رؤیۃ‘کی جگہ ’رؤیا‘ کے لفظ کو استعمال کیا ہے۔ اِس سے مقصود صورتِ  حال کی سنگینی میں مسافر کو ملنے والی غیر متوقع خوشی کو نمایاں کرنا ہے۔[52]  مسافرریگ زار میں ساری رات کے سفر کی جس مشکل اور مشقت سے گزر کر آیا تھا، اُس کے بعد اچانک آگ کا الاؤ نظر آ جانا  اُس کے لیے کسی سہانے سپنے سے کم نہ تھا۔ شاعر نےاِسی غیر متوقع اور غیر معمولی صورت  حال کو نمایاں کرنے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا۔ اِس موقع پر اگر ’رؤیا‘ کا کنایہ استعمال کرنے کے بجاے ’رؤية‘ کا حقیقی پیرایہ اختیار کیا جاتا تو مطلوبہ مضمون آفرینی ہر گز نہ پیدا ہو سکتی۔ علامہ شہاب خفا جی نے اپنی کتاب ”شرح درۃ الغواص فی الاوہام الخواص“ میں ابنِ بری کے حوالے سے اِس امر کو واضح کیا ہے کہ راعی نے مذکورہ شعر میں لفظ  ’رؤیا‘کو مجازی معنی ہی میں استعمال کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

وقال ابن بري: الرؤيا وإن كانت في المنام فالعرب استعملتها في اليقظة كثيرًا، فهو مجاز مشهور كقول الراعي....(318)

’’ابنِ بری کا قول ہے کہ ’رؤیا‘ اگرچہ خواب کے معنوں میں آتا ہے، مگر اہل عرب اِسے بیداری میں دیکھنے کے معنوں میں بھی بہ کثرت استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، یہ استعمال (حقیقت کے طور پر نہیں، بلکہ) مجاز کے طور پر مشہور ہے۔ جیسا کہ راعی کا قول ہے...۔‘‘

تاہم، لفظ’رؤیا‘  کے اِس  استعمال کا سورۂ بنی اسرائیل میں اِس کے استعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دونوں اسالیب ایک دوسرے سے یک سر مختلف ہیں اور اِن میں باہمی طور پر کوئی اشتراک، کوئی مشابہت، کوئی مماثلت نہیں ہے۔ دونوں جگہوں پر اِس کے طریق استعمال اور سیاق و سباق سے واضح ہے کہ سورہ میں یہ لفظ حقیقی معنی میں اور شعر میں مجازی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔لہٰذا اِن دونوں استعمالات کو ایک دوسرے کے لیے بہ طور ِنظیر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

____________