3- واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ
ــــ سدرة المنتہیٰ پر حضرت جبریل کا مشاہدہ ــــ
وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰي. عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰي. عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰي. اِذْ يَغْشَي السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰي. مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰي. لَقَدْ رَاٰي مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰي.(النجم53 :13-18)
’’اور اُس نے ایک مرتبہ پھر اُسے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اترتے دیکھا ہے، جس کے پاس ہی جنت الماویٰ ہے، جب سدرہ پر چھا رہا تھا ،جو کچھ کہ چھا رہاتھا۔ اُس کی نگاہ نہ بہکی، نہ بےقابو ہوئی۔ اُس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں۔‘‘
پس منظر
یہ واقعہ بھی سورۂ نجم میں بیان ہوا ہے اور اُسی تناظر میں ہے، جس میں اِس سے پہلے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ یعنی اِس کی نوعیت بھی کہانت کے اُس الزام کی تردید کی ہے، جو سردارانِ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے۔
تفصیل
اِس کی جو تفصیل آیات سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے:
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل کو افق اعلیٰ پر ا ور قاب قوسین کی صورت میں دیکھنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اُن کا مشاہدہ کیا۔ اسلوب ِکلام سے واضح ہے کہ یہ دوسرا مشاہدہ پہلے مشاہدے کے بعد کسی دوسرے موقع پر ہوا۔ گویا اِس کے اور پہلے مشاہدے کے درمیان کوئی اور مشاہدہ نہیں ہوا۔
* دوسرے مشاہدے کا ذکر کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جبریل امین کو دیکھنا، معاذ اللہ، کوئی واہمہ یا مغالطہ تھا، کیونکہ کھلی آنکھوں کے ساتھ مشاہدے کا یہ واقعہ ایک کے بعد دوسری مرتبہ بھی ہوا ہے۔ لہٰذا کسی کے لیے شک و شبہ پیدا کرنے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔[20] ’’ البیان‘‘ میں لکھا ہے:
’’یہ دوسری ملاقات کا ذکر ہے۔ اِس کے بعد، معلوم ہے کہ یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ شروع ہو گیا۔ مدعا یہ ہے کہ پیغمبر کو یہ مشاہدہ ایک ہی بار نہیں ہوا کہ اِس کو کوئی وہم یا مغالطہ قرار دیا جا سکے۔ اُنھوں نے جبریل علیہ السلام کو دوبارہ بھی دیکھا ہے اور اِس موقع پر بھی وہ اُن کے سامنے اپنی اصلی صورت میں نمودار ہوئے ہیں۔‘‘ (5 / 65 -66)
* رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو جب پہلی بار دیکھا تو وہ افق اعلیٰ سے نمودار ہوئے تھے۔ اب جب یہ دوسری بار دیکھا ہے تو وہ سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کے پاس تھے۔
* جنت الماویٰ کے ذکر کے بعد کسی نام اور اشارے کے بغیر سدرہ پر کچھ چھا جانے کا ذکر ہے۔ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انوار و تجلیات کی کسی ایسی صورت کا مشاہدہ فرمایا، جو زبان و بیان کے دائرے سے باہر اور عام انسانوں کے فہم و ادراک سے ماورا ہے۔ ’’البیان ‘‘میں اِس حوالے سے لکھا ہے:
’’یہ اسلوب بیان بتاتا ہے کہ سدرہ پر اُس وقت انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ الفاظ اُس کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہیں۔‘‘ (5 / 66)
* نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدے کی کیفیت کو ’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰي‘ (اُس کی نگاہ نہ بہکی، نہ بے قابوہوئی)کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ مشاہدہ عین عالم بیداری میں تھا۔ آپ نے کھلی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھا،جو پروردگار نے آپ کو دکھانا چاہا۔ جوتجلیاں، جو روشنیاں، جو جلوے اور جو نور کے مناظر آپ کے نظر نواز ہوئے، اُن کا آپ نے کامل طریقے سے اور پوری دل جمعی کے ساتھ مشاہدہ فرمایا۔ اِس موقع پر نور و ظہور کی بے پناہ آب و تاب اور چکاچوند کے باوجود آپ کی نگاہیں توجہ اور تسلسل کے ساتھ مناظر کو دیکھتی رہیں اور بالکل بے قابو نہ ہوئیں۔ ’’البیان‘‘میں ہے:
’’...اِس ہجوم تجلیات کے باوجود آپ کی نگاہ نہ چوندھیائی، نہ بے قابو ہوئی، بلکہ آپ پورے سکون، ضبط اور یک سوئی کے ساتھ دیکھتے رہے۔‘‘(5 / 66- 67)
*نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس موقع پر اپنے رب کی عظیم الشان نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا۔ اِس مفہوم کے لیے ’لَقَدْ رَاٰي مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰي‘ (اُس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں) کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس ضمن میں کسی متعین نشانی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ البتہ لفظِ کبریٰ (عظیم) سے واضح ہے کہ یہ نشانیاں اِس قدر غیر معمولی تھیں کہ انسانوں کے حیطۂ علم و ادراک سے ماورا تھیں۔ ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:
’’اِن نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں کی گئی، اِس لیے کہ نہ الفاظ اِس تفصیل کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ وہ ہمارے علم و عقل اور تصورات کی گرفت میں آسکتی ہیں۔ تاہم، آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ نشانیاں اُن نشانیوں سے بالاتر تھیں، جن کا مشاہدہ ہم انفس و آفاق میں کرتے ہیں۔ ‘‘(5 / 67)
درجِ بالا تفصیل سے جو باتیں واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ کے حوالے سے معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں:
1۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے۔
2۔ آپ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اترتے دیکھا۔
3۔ یہ دوسرا موقع تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کو اُن کی اصل صورت میں دیکھا تھا۔
4۔یہ مقام سدرۃ المنتہیٰ سے آگے اور جنت الماویٰ سے پہلے تھا۔ گویا حضرت جبریل علیہ السلام کا نزول عالم ناسوت اور عالم لا ہوت کے مقام اتصال پر ہوا۔
5۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کو دیکھنے کے علاوہ اللہ کی بعض ایسی عظیم الشان نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا، جو انسانی زبان و بیان اور فہم و ادراک کی صلاحیت سے بالا تر ہیں۔
6۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سارا مشاہدہ عالم بیداری میں کھلی آنکھوں سے کیا۔
7۔ عظیم انوار و تجلیات کے باوجود نہ آپ کی آنکھیں چوندھیائیں اور نہ نگاہیں خیرہ ہوئیں۔ آپ نے پوری یک سوئی اور اطمینان سے ہر نشانی کا مشاہدہ فرمایا۔
جو باتیں واقعے میں مذکور نہیں ہیں، وہ یہ ہیں:
1۔یہ ذکر نہیں ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہاں پر موجود تھے۔
2۔ یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ دن کے اوقات میں پیش آیا یا رات کے اوقات میں۔
3۔یہ ذکر نہیں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے مقام اور جبریل علیہ السلام کی شخصیت کے علاوہ آپ نے کن مقامات و شخصیات کا مشاہدہ فرمایا۔
تفہیم
آیات کی توضیح و تفہیم کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:
اولاً،سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے؟قرآن و حدیث کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک مقام ہے، جو سات آسمانوں تک پھیلی ہوئی اِس مادی دنیا یا عالم موجودات کی آخری حد ہے۔ اِس سے آگے ماویٰ کے باغات ہیں، جہاں سے اُس نادیدہ عالم کا آغاز ہوتا ہے، جس میں دونوں جہانوں کے پروردگار کا عرش قائم ہے۔ اِن جہانوں کے لیے ہماری زبان میں بالترتیب عالم ناسوت اور عالم لاہوت کی تعبیرات بھی استعمال ہوتی ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’’سِدْرَة الْمُنْتَهٰي‘ وہ مقام ہے، جہاں اِس عالم ناسوت کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں۔ ’سِدْرَة‘ بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہےکہ یہ بیری کا درخت عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے درمیان ایک حدِ فاصل ہے۔ ہمارے لیے یہ سارا عالم نادیدہ ہے۔ نہ ہم ’عالم ناسوت‘ اور ’عالم لاہوت‘ کے حدود کو جانتے اور نہ اِن دونوں کے درمیان کے اِس نشانِ فاصل کی حقیقت سے واقف ہیں، جس کو یہاں ’سِدْرَة‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ چیزیں متشابہات میں داخل ہیں۔ اِس وجہ سے، قرآن کی ہدایت کے مطابق، اِن پر ایمان لانا چاہیے، اِن کی حقیقت کے درپے ہونا جائز نہیں ہے۔ اِن کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جن کا علم راسخ ہوتا ہے، اُن کے علم میں اِن چیزوں سے اضافہ ہوتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اِن کی حقیقت جاننے کے درپے ہوتے ہیں، وہ ٹھوکر کھاتے اور گم راہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔‘‘ (تدبر قرآن 8/56)
ثانیاً، سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کی بلندی کو واضح کرنے اور اِس کے گرد و نواح کی نشان دہی کے لیے جنت الماویٰ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورۂ سجدہ (32) سے واضح ہے کہ اِس سے مراد وہ جنت نہیں ہے، جو لوگوں کو اُن کے ایمان و عمل کی جزا میں ملے گی۔ اِس سے وہ باغات مراد ہیں، جہاں اہل ایمان اصل جنت میں داخل ہونے سے پہلے ابتدائی ضیافت سے مستفید ہوں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:
اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰي نُزُلًا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ. (19:32) | ’’ جو ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اُن کے لیے ٹھیرنے کے باغ ہیں، اُن کی ضیافت کے طور پر، اُن کے اعمال کے صلے میں۔‘‘[21] |
ثالثًا، جہاں تک جنات الماویٰ کے محل وقوع کا تعلق ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عالم لاہوت کے آغاز پر قائم ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’... معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ’سِدْرَةُ الْمُنْتَهٰي‘ عالم ناسوت کی آخری حد پر ہے، اُسی طرح ’جَنَّةُ الْمَاْوٰي‘ عالم لاہوت کے نقطۂ آغاز پر ہے۔ اِس نشان دہی سے یہ بات واضح ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل علیہ السلام کا دوبارہ مشاہدہ دونوں عالموں کے نقطۂ اتصال پر ہوا۔‘‘(تدبر قرآن 8/ 57)
رابعا ً، واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پرکھلی آنکھوں سے پورے اطمینان کے ساتھ دیکھنے کا واقعہ اِسی قدر ہے، جتنا اِس مقام پر بیان ہوا ہے۔ ’وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰي عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰي‘ (اور اُس نے ایک مرتبہ پھر اُسے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اترتے دیکھا ہے)کے الفاظ نے اِسے واقعۂ قاب قوسین سے بالکل الگ کر دیا ہے۔ مزید برآں، قرآنِ مجید میں کسی اور مقام پر اِس سے متعلق کوئی اضافی یا ضمنی بات مذکور نہیں ہے۔ اِس لیے لازم ہے کہ اِسے ایک متعین، منفرد اور مکمل واقعے کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور قرآن و حدیث کے کسی دوسرے واقعے کو اِس کے ساتھ جوڑنے کی سعی نہ کی جائے۔
____________