4۔ ’سُبْحٰنَ الَّذِيْ‘ کے الفاظ کا مدعا

’سُبۡحٰن‘ تنزیہ اور تسبیح کا کلمہ ہے۔ یہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے آتا ہے تو اِس کا مقصد اُس کی ذات  کے بارے میں کسی سوء ِظن یا غلط فہمی کو رفع کرنا اور اُس کی صفات کو نمایاں کرنا ہوتا ہے۔ اِس صورت میں اِس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک اور اُس خاص صفت سے متصف ہے، جس کے بارے میں بدگمانی کا اظہار ہوا ہے۔ قرآنِ مجید کے متعددمقامات پر یہ اِسی مفہوم کے لیے آیا ہے۔

چنانچہ اگر اللہ کی وحدانیت پر سوال اٹھایا گیا ہےتو ارشاد ہوا ہے: ’سُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰي عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‘ (اللہ پاک اور برتر ہے اُس سے جو یہ شریک ٹھیراتے ہیں)۔[53]

اگر اُس سے کوئی کم زوری یا کم تری منسوب کی گئی ہے تو فرمایا ہے: ’سُبۡحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الۡعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ‘ (تیرا پروردگار، عزت کا مالک، اُن سب باتوں سے پاک ہے، جو یہ بیان کرتے ہیں)۔[54] 

 اگر اُس کی تدبیرِ امور پر اعتراض سامنے آیا ہے تو یہ دعائیہ کلمات صادر ہوئے ہیں: ’رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ (پروردگار، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ تو اِس سے پاک ہے کہ مقصد کے بغیر کوئی کام کرے۔ سو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے)۔[55] 

اگر اُس کے علم و حکمت کے بارے میں کوئی اشکال پیدا ہوا ہے تو اہل حق کا یہ قول نقل کیا ہے: ’سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‘ (آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں، جتنا آپ نے ہمیں بتایا ہے، علیم و حکیم تو اصل میں آپ ہی ہیں)۔[56]

یہی معاملہ  قدرت، ربوبیت، رحمت اور دیگر صفات کا ہے۔

آیۂ زیر بحث میں ’سُبۡحٰن‘ کا لفظ قدرت کی صفت کو نمایاں کرنے کے لیے نہیں آیا، جیسا کہ عام طور پر خیال کیا گیا ہے، بلکہ یہ اللہ کے سمیع و بصیر ہونے کے پہلو سے آیا ہے۔آیت کا آغاز ’سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا‘ (ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو ایک راتوں رات مسجد حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گئی) اور اختتام ’اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‘ (بے شک، وہی سمیع و بصیرہے) کے الفاظ پر ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ  یہاں ’سُبۡحٰن‘ جس پہلو سے آیا ہے، اُس کا تعین ’السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‘ کے الفاظ سے کیا جائے گا اور یہ مفہوم اخذ کیا جائے گا کہ اللہ اِس سے پاک ہے کہ اُس کے سمیع وبصیر ہونے کی صفات کے بارے میں کوئی سوءِ ظن قائم کیا جائے۔

اِس بنا پر آیت کا مدعا یہ ہے کہ جس خالق نے بنی اسرائیل کو دین کی شہادت کے منصب پر فائز کیا[57] اور اُنھیں یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنے اجتماعی وجود میں دین حق کو مشہود کریں اور اقوام عالم کے سامنے اُس کی گواہی اِس طرح پیش کریں کہ اُن کے لیے اِس دنیا میں اللہ کی دینونت[58] برپا ہو جائے، یہ کیسے گوارا کر سکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض سے مسلسل روگردانی کریں اور پھر بھی اِس عظیم منصب پر قائم رہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اُنھوں نے نہ صرف اپنے منصب کے تقاضے پورے نہیں کیے، بلکہ اُس سے آگے بڑھ کر اللہ کے معاملے میں سر کشی اور انکار کا رویہ اختیار کیا۔ اُن کی نافرمانی اور بغاوت بالآخر اِس درجے تک پہنچ گئی کہ وہ اللہ کے پیغمبر کے قتل کے درپے ہو گئے۔ اللہ سمیع و بصیر اُن کے جرائم دیکھ رہا تھا، مگر اُنھیں مہلت دیے جا رہا تھا۔ اب یہ مہلت ختم ہو گئی ہے اور اُس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بنی اسرائیل کو اِس منصب سے معزول کر کے نبی امی اور اُن کی قوم بنی اسمٰعیل کو شہادت کے منصب پر فائز کرے گا۔[59]

استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:

’’آیت کے شروع میں لفظ ’سُبْحٰن‘جس پہلو سے آیا ہے، یہ صفات اُس کی وضاحت کر رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہی سمیع و بصیر ہے تو یہ اُسی کا کام تھا کہ اُن بد عہدوں کا محاسبہ کرے، جنھوں نے، سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں، اُس کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے۔ بنی اسرائیل اِس گھر میں جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اُس کو سننے اور دیکھنے کے بعد یہی ہونا تھا۔ چنانچہ خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اِس گھر کی امانت اب نبی امی کے حوالے کر دی جائے گی۔ آپ کو رات ہی رات میں مسجد ِحرام سے یہاں تک اِسی مقصد سے لایا گیا ہے۔ خدا ہر عیب سے پاک ہے، لہٰذا وہ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ ایک قوم کو لوگوں پر اتمام حجت کے لیے منتخب کرے اور اُس کی طرف سے اِس درجے کی سرکشی کے باوجود اُسے یوں ہی چھوڑے رکھے۔ ناگزیر تھا کہ پیشِ نظر مقصد کے لیے وہ کوئی دوسرا اہتمام کرے۔ اُس نے یہی کیا ہے اور عالمی سطح پر دعوت و شہادت کی ذمہ داری بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی ہے۔‘‘(البیان3/63)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ’سُبۡحٰن‘ کا لفظ  یہاں اللہ کی قدرت کے پہلوکو نمایاں کرنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ اُس کے سمیع و بصیر ہونے کی صفت کو واضح کرنے کے لیے آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں یہ کلمہ ایسے سوء ِظن کی تنزیہ و تردید کے لیے آیا ہے، جو اللہ کے سمیع و بصیر ہونے کے بارے میں پیدا ہوا ہے یا پیدا ہو سکتا ہے۔

اِس توضیح کے بعد یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ’اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا ‘، یعنی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے کا مقصد قریش کے سامنے کوئی خارقِ عادت کرشمہ پیش کرنا اور اُس کے ذریعے سے اُن پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی حقانیت کو ثابت کرنا ہر گز نہیں تھا۔ آیت کے سیاق و سباق، اسلوب ِ بیان اور فحواے کلام سے یہی بات واضح ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی ایک عنایت کے طور پر بیان کیا ہے اور اِس کا مقصد بھی واضح کر دیا کہ ’لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا‘ (تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں)۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’... فرمایا کہ ہم نے یہ سفر اِس لیے کرایا تاکہ اپنے بندے کو کچھ نشانیاں دکھائیں۔ یہ نشانیاں کیا تھیں، اِس کا کوئی ذکر یہاں نہیں ہے، لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اِس سے مراد وہ آثار و مشاہد اور وہ انوار و برکات ہیں، جن سے یہ دونوں ہی گھر معمور تھے۔ مقصود اِن کے دکھانے سے ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ آں حضرتصلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی واضح ہو جائے کہ اب یہ ساری امانت ناقدروں اور بدعہدوں سے چھین کر آپ کے حوالے کی جانے والی ہے۔ گویا دعوت کے اِس انتہائی مشکل دور میں آپ کو اللہ کی مدد و نصرت کی جو بشارت دی جا رہی تھی، معراج کے اِس سفر نے اُس پر ایک مزید مہر تصدیق ثبت کر دی اور جو کچھ ہونے والا تھا،وہ آپ کو دکھا بھی دیا گیا۔‘‘ (تدبر قرآن 4/475)

 واضح ہوا کہ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عظیم بشارت اور اہل ایمان کے لیے پروردگار کے اصطفا و انتخاب کی نوید تھا۔ اِس کا کفارِ قریش سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ تو اُن کی بدبختی تھی کہ اُنھوں نے اپنی ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے اِسے اپنے لیے فتنہ بنا لیا۔ یہ دلیل اگر واضح ہے تو ’سُبۡحٰن‘ کے حوالے سے علما کا استدلال اور اِس کی بنا پر جسمانی و روحانی مشاہدے کی تمام بحث آیۂ اسرا سے غیرمتعلق ہو جاتی ہے۔

یہاں ہماری بات تمام ہوتی ہے۔تاہم دو اضافی نکات درجِ ذیل ہیں۔اِنھیں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص لفظِ ’سُبۡحٰن‘ کے صفتِ قدرت سے لزوم پر اصرار کرے تو اُس پر واضح ہو جائے کہ نہ قرآن کے نظائر میں اِس کی کوئی گنجایش ہے اور نہ واقعے کا بیان اِسے قبول کرتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ ’سُبۡحٰن‘ اگر اللہ کی صفتِ قدرت کے حوالے سے بھی آئے تو یہ لازم نہیں ہے کہ اِسے کسی ایسے واقعے یا معاملےسے متعلق کیا جائے جو  خارقِ عادت ہو یا انوکھا اور اجنبی ہو۔ اِس پہلو سے یہ اللہ کی قدرت کے حقائق کی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھی آ جاتا ہے۔ درجِ ذیل آیات سے یہی بات معلوم ہوتی ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ. (یٰسین 36: 36)

’’پاک ہے وہ ذات جس نے سب جوڑے بنائے، اُن چیزوں کے بھی جنھیں زمین اگاتی ہے اور خود اِن لوگوں کے اندر سے بھی اور اُن چیزوں کے بھی جنھیں یہ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

...وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ. (الزخرف43: 13)

’’...اور کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اِن (سواریوں) کو ہماری خدمت میں لگا دیا۔ ہم ایسے نہیں تھے کہ اِن کو اپنے قابو میں کر لیتے۔‘‘

دوسری بات یہ ہے کہ اگر فی الواقع ایسا ہوتا کہ’سُبْحٰن‘ کا کلمۂ تنزیہ ما فوق العادت کے ظہور کو لازم کرتا، تب بھی یہاں جسمانی مسافرت لازم نہ آتی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جسمانی مسافرت کا خارقِ عادت یا کرشماتی پہلو اُس وقت نمایاں ہو پاتا، جب لوگوں نے آپ کے وجودِ اطہر کو فضاؤں میں بلند ہوتے اور واپس اترتے دیکھا ہوتا، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ اِس کے بجاے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقط اپنے سفر کی داستان بیان فرمائی تھی۔ یہ سفر جسمانی طور پر ہوا یا روحانی طور پر، ہر دو صورتوں میں اُن کے لیے اِس کی حیثیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کی تھی۔ اُسی طرح کے بیان کی، جیسا کہ آپ کی زبانِ فیض ترجمان سے روز صادر ہوتا تھا اور جس میں ماضی، حال اور مستقبل سے متعلق نادیدہ اور غیر معلوم حالات و وقائع سے آگاہ کیا جاتا تھا۔چنانچہ مخاطبین کا یہ مسئلہ ہی نہیں تھا کہ یہ سفر روحانی طور پر ہوا ہےیا جسمانی طور پر۔ عدم مشاہدہ کی وجہ سے اُن کے لیے دونوں کی حیثیت یکساں تھی۔ اُن کا اصل مسئلہ وہ دعویٰ تھا، جو قرآنِ مجید نے کیا اور وہ روداد تھی، جو اگلی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی۔گویا اُن کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کیا کہا جا رہا ہے، بلکہ یہ تھا کہ کون کہہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنھوں نے روح یا جسم کا سوال ہی نہیں کیا، بلکہ مسجد کی نوعیت اور اُس کے مختلف حصوں کے بارے میں استفسار کیا۔ پھر جب آپ نے اُس کی تفصیلات بتا دیں، تب بھی اُنھوں نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے خود عروج فرمایا یا کسی سواری کو استعمال کیا یا یہ واقعہ روحانی طور پر پیش آیا یا جسمانی طور پر؟ اِس ضمن میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ وہ اپنے بتوں سے، کاہنوں اور جادوگروں سے اور رابطے کے جنات سے اِس سے بھی بڑے خارقِ عادت معاملات وابستہ کرتے رہتےتھے، لہٰذا بہ طورِ واقعہ یہ اُن کے لیے کسی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔

____________