5۔ ’اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘سے استدلال  

’اَسْرٰي بِفلان‘کے معنی رات میں کسی کو لے جانے کے ہیں۔ ’عَبْد‘ کے معنی بندے کے ہیں۔ چنانچہ ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘ کا مفہوم ہے کہ جو اپنے بندے کو رات میں لے گیا۔علما کا  استدلال یہ ہے کہ ’اَسْرٰي‘، یعنی لے جانے کا فعل اِس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اِسے کسی پیکرِ محسوس یا جسمانی وجود کے ساتھ متعلق کیا جائے۔ فقط نفس یا روح کے ساتھ اِسے متعلق کرنا درست نہیں ہے۔ اِسی طرح ’عَبْد‘ یا ’بندہ‘  کا لفظ ایسے وجود کے لیے بولا جاتا ہے، جو روح و بدن، دونوں کا مجموعہ ہو، اِس کا اطلاق فقط روح یا فقط جسم پر نہیں کیا جا سکتا۔ خواب میں چونکہ تمام احوال روح کے ساتھ پیش آتے ہیں اور جسم اور اُس کے اعضا اُس میں شامل نہیں ہوتے، اِس لیے ’اَسْرٰي‘ کا فعل اور’عَبْد‘ کا اسم خواب کے احوال کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

یہ تقریر بادی النظر میں بہت دل پذیر ہے، مگر علم و استدلال اور زبان و بیان سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی کلام میں خواب کا ماجرا بیان کرنا مقصود ہو تو اُس کے لیے کیا کوئی نئی زبان اختراع کی جاتی ہے یا کوئی الگ لغت تخلیق کی جاتی ہے کہ جب خواب کی تفصیل بتانی ہو تو اُس سے مدد حاصل کر لی جائے ؟ زبان و کلام سے  بے اعتنائی کی اِس سے نادر مثال مشکل ہی سے دستیاب ہو گی۔

یہ ہر زبان کا مسلمہ ہےکہ جو اسالیب آپ بیداری کے افعال کے لیے اختیار کرتے ہیں، بعینہٖ وہی خواب کے لیے اور وہی تخیل کے لیے اختیار کرتے ہیں۔اِس بات کو سمجھنے کا سادہ طریقہ یہ ہے کہ اپنے خواب کو اپنی یا کسی اور زبان میں بیان کیجیے۔ فوراً معلوم ہو جائے گا کہ خواب اور بیداری کے احوال کے بیان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بس اتنا ہو گا کہ پہلے یا بعد میں اُس کے خواب ہونے کی صراحت کرنا ہو گی۔

قرآن مجید میں سورۂ فتح اور سورۂ صافات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب بیان ہوئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ مسجدِ حرام میں داخل ہو رہے ہیں، سر منڈوا رہے ہیں اور بال کتروا رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسمٰعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ دونوں خواب اللہ کے رسولوں کو آئے تھے، اِس لیے سچے اور برحق تھے۔ اِن کے بیانات میں استعمال ہونے والے اسما و افعال وہی ہیں، جو بیداری کے واقعات کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔ آیات درجِ ذیل ہیں:

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ لَا تَخَافُوْنَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا. (الفتح 48: 27) 

’’یہ حقیقت ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو ایک خاص مقصد سے بالکل سچا خواب دکھایا تھا۔ بے شک، اللہ نے چاہا تو تم مسجدِ حرام میں ضرور داخل ہو گے، پورے امن کے ساتھ، اِس طرح کہ اپنے سر منڈواؤ گے اور بال کتراؤ گے،تمھیں کوئی اندیشہ نہیں ہو گا۔ بس اتنی بات تھی کہ اللہ نے جان لیا جو تم نے نہیں جانا تو اِس سے پہلے اُس نے ایک قریبی فتح تمھیں عطا فرما دی۔ ‘‘

...قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّيْ اَرٰي فِي الْمَنَامِ اَنِّيْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰي قَالَ يٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ.

(الصافات 37: 102)

’’...تو ابراہیم نے (ایک دن) اُس سے کہا: میرے بیٹے، میں (کچھ دنوں سے) خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ تو غور کرو، تمھاری کیا راےہے؟ اُس نے کہا: ابا جان، آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، اُس کی تعمیل کیجیے۔ خدا نے چاہا تو آپ مجھے ثابت قدموں میں پائیں گے۔‘‘

اِن آیات سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ مسلمان حرم کعبہ میں داخل ہو رہے ہیں اور حلق کرا رہے ہیں اور بال ترشوا رہے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نےخواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اِن دونوں خوابوں کے بیان میں استعمال ہونے والے اسماے ضمیر اور افعال انسانوں سے متعلق ہیں۔ یعنی غائب، متکلم اور مخاطب کی ضمیریں اور ’دخل‘، ’حلق‘، ’قصر‘ اور ’اذبح‘ کے افعال اُن انسانوں یا عباد اللہ کے لیے  استعمال ہوئے ہیں، جو جسم اور روح، دونوں کا مجموعہ ہیں۔ ہمارے علما اگر اپنے مزعومہ اصول کا یہاں بھی اطلاق کریں تو پھر اُنھیں اِن دونوں واقعات کو بھی بیداری کا واقعہ قرار دینا پڑے گا اور اِن میں مذکور’لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ‘ (اللہ نے اپنے رسول کو ایک خاص مقصد سے بالکل سچا خواب دکھایا تھا) اور ’اِنِّيْ اَرٰي فِي الْمَنَامِ‘ (میں نیند کے عالم میں دیکھتا ہوں)  کے الفاظ کو عالم بیداری کے کھلی آنکھوں کے مشاہدے پر محمول کرنا پڑے گا۔

چند روایات بھی ملاحظہ ہوں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خواب بیان فرماتے ہوئے اِسی طرح کے افعال اختیار فرمائے ہیں :

’رأيت رجلين‘ میں نے دو آدمیوں کو دیکھا۔

’أتياني‘دونوں میرے پاس آئے۔

’فأخذا بيدي‘دونوں نے میرا ہاتھ پکڑا۔

’فأخرجاني إلى الارض المقدسة‘ دونوں مجھے ارض مقدس کی طرف لے گئے۔

’أنی أھاجر‘میں ہجرت کرتا ہوں۔

’أني هززت سيفًا‘میں نے تلوار کو ہلایا۔

’أنا نائم أطوف بالكعبة‘میں سویا ہوا تھا اور کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔

روایات درجِ ذیل ہیں:

عن سمرة بن جندب، قال: كان النبي صلى اللّٰه عليه وسلم إذا صلى صلاةً أقبل علينا بوجهه، فقال: ’’من رأى منكم الليلة رؤيا‘‘؟ قال: فإن رأى أحد قصها، فيقول: ’’ما شاء اللّٰه‘‘، فسألنا يومًا، فقال: ’’هل رأى احد منكم رؤيًا‘‘؟ قلنا: لا، قال: ’’لكني رأيت الليلة رجلين أتياني، فأخذا بيدي فأخرجاني إلى الارض المقدسة.‘‘

 (بخاری، رقم 1386)

’’سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز( فجر) پڑھنے کے بعد (عموماً) ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے اور پوچھتے کہ آپ میں سے کس نے رات کو خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ اُسے بیان کر دیتا اور آپ اللہ کی رضا کے مطابق اُس کی تعبیر بیان فرماتے۔ ایک دن آپ نے ہم سے دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ کسی نے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا: لیکن میں نے رات کو دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ اُنھوں نے میرے ہاتھ پکڑے اور مجھے ارضِ مقدس کی طرف لے گئے۔‘‘

عن أبي موسى، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’رأيت في المنام أني أهاجر من مكة إلى أرض بها نخل، فذهب وهلي إلى انها اليمامة، او هجر، فإذا هي المدينة يثرب‘‘.

(مسلم، رقم6072)

’’سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے اُس زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں، جہاں کھجور کے درخت ہیں۔ میرا خیال یمامہ اور ہجر کی طرف گیا، لیکن (بعد میں واضح ہوا کہ) وہ مدینہ، یعنی یثرب تھا۔‘‘

عن أبي موسى، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال: ’’رايت في رؤياي أني هززت سيفًا فانقطع صدره، فإذا هو ما أصيب من المؤمنين يوم أحد‘‘.(بخاری، رقم4081)

’’سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا تواُس کی دھار ٹوٹ گئی۔ یہ بات مسلمانوں کے اُس نقصان کی شکل میں ظاہر ہوئی، جو غزوۂ احد میں اُنھیں اٹھانا پڑا۔‘‘

...أن أبا هريرة رضي اللّٰه عنه، قال: بينا نحن عند رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إذ قال: ’’بينا أنا نائم رأيتني في الجنة فإذا امراة تتوضا إلى جانب قصر، فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لعمر فذكرت غيرته فوليت مدبرًا‘‘.

(بخاری، رقم 3242) 

’’...حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ نے فرمایا: میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ تو اُنھوں نے جواب دیا کہ عمر بن الخطاب کا۔ پھر مجھے اُن کی غیرت کا احساس ہوا اور میں وہیں سے لوٹ آیا۔‘‘

عن عبد اللّٰه بن عمر، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’بينا أنا نائم أطوف بالكعبة‘‘.

(بخاری، رقم 7128)

’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سو رہا تھا اور (خواب میں) کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔‘‘

حدثنا سمرة، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’أتاني الليلة آتيان فأتينا على رجل طويل لا أكاد أرى رأسه طولاً وإنه إبراهيم صلى اللّٰه عليه وسلم‘‘.

(بخاری، رقم 3354)

’’حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کو (خواب میں) میرے پاس دو آنے والے آئے۔ پھر یہ دونوں مجھے ایک لمبے قد کے شخص کے پاس لے گئے، (وہ اتنے لمبے تھے کہ ) میں اُن کا سر نہیں دیکھ پاتا تھا اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔‘

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بھی ایک خواب ملاحظہ کیجیے، جس میں ’ملكين أتياني‘ (دو فرشتے میرے پاس آئے)، ’فانطلقا بي‘ (وہ دونوں مجھے لے کر چل دیے)، ’فقال لي‘ (اُس نے مجھ سے کہا) کے اسما و افعال اُسی طریقے پر آئے ہیں، جس طرح بیداری کی روداد بیان کرنے لیے آتے ہیں:

عن ابن عمر، قال: كنت غلامًا شابًا عزبًا في عهد النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، وكنت أبيت في المسجد، وكان من رأى منامًا قصه على النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، فقلت: اللهم إن كان لي عندك خير فأرني منامًا يعبره لي رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فنمت، فرأيت ملكين أتياني فانطلقا بي فلقيهما ملك آخر، فقال لي: لن تراع، إنك رجل صالح، فانطلقا بي إلى النار فإذا هي مطوية كطي البئر وإذا فيها ناس قد عرفت بعضهم، فأخذا بي ذات اليمين، فلما أصبحت، ذكرت ذلك لحفصة.

(بخاری، رقم 7030)

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نوجوان اور غیر شادی شدہ تھا اور مسجدِ نبوی میں سویا کرتا تھا۔ (عام معمول یہ تھا کہ ) جو شخص کوئی خواب دیکھتا تو وہ اُسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتا تھا۔ میں نے دعا مانگی کہ پروردگار، اگر تیرے نزدیک اِس معاملے میں کوئی خیر ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا، جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر فرمائیں۔ پھر میں سو گیا تو میں نے دو فرشتے دیکھے، جو میرے پاس آئے اور مجھے لے کر چل دیے۔ پھر اِن کے ساتھ تیسرا فرشتہ بھی آ ملا۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں، تم نیک آدمی ہو۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے جہنم کی طرف لے گئے تو وہ کنویں کی طرح تہ بہ تہ تھا۔ اُس میں کچھ لوگ تھے، جن میں سے بعض کو میں نے پہچان بھی لیا، پھر وہ دونوں مجھے دائیں طرف لے کر چل پڑے۔چنانچہ صبح کے وقت اس خواب کا ذکر میں نے حفصہ سے کیا۔ ‘‘

____________