6۔حضرت عبداللہ بن عباس کے اثر سے استدلال

سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 میں لفظ ’رُءْيَا‘ کی تاویل میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا درجِ ذیل اثر[60]  پیش کیا جاتا ہے:

عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما في قوله تعالٰى: ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘‘. قال: هي رؤيا عين أريها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ليلة أسري به إلى بيت المقدس. (بخاری، رقم 3888)

’’سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے ارشاد’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘کے بارے میں کہتے ہیں کہ اِس سے ’رؤیا عین‘، یعنی آنکھوں سے دیکھا جانے والا خواب مراد ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس رات دکھایا گیا، جب آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا۔‘‘

اِس سے پہلے کہ اِس اثر کو بناے استدلال بنانے کے حوالے سے علما کے موقف پر تبصرہ کیا جائے، خود اِس اثر کو سمجھنا ضروری ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں:

ھی رؤیا عین أریھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم لیلة اسری به إلى بيت المقدس.

یہاں ’رؤیۃ عین‘ کے الفاظ نہیں آئے۔ یہ الفاظ آتے تو رؤیت بصری، یعنی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی بالکل بجا تھے۔ تاہم، اِس صورت میں ’أریھا‘ کے الفاظ بالکل اضافی اور بے معنی ہو جاتے، کیونکہ پھر مفہوم یہ بنتا کہ ’’آنکھوں سے دیکھنا دکھایا گیا‘‘ اور ترجمہ یہ ہوتا:

’’یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ اسرا میں دکھایا گیا۔‘‘

یہاں ’رؤیا عین‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کے لفظی معنی آنکھوں کے خواب، یعنی  ’آنکھوں سے دیکھا گیا خواب‘  کے ہیں۔ اِن کے ساتھ ’أریھا‘کے الفاظ نہ اضافی ہیں اور نہ بے معنی، بلکہ ناگزیر ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اب مفہوم یہ بنتا ہے کہ ’’آنکھوں کا خواب دکھایا گیا‘‘ اور ترجمہ یہ ہے:

’’یہ آنکھوں سے دیکھا گیا خواب تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ اسرا میں دکھایا گیا۔‘‘

اِس سے واضح ہوا کہ حبر الامہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے نہ اِس سے وہ رؤیت (دیکھنا) مراد لی ہے،  جس سے ہر بینا انسان بیداری میں مستفید ہوتا ہے اور نہ وہ رؤیا (خواب ) مراد لیا ہے، جو ہر انسان کا حالتِ نیند کا تجربہ ہے۔  اِسے اُنھوں نے ایک تیسری نوع پر محمول کیا ہے، جو نیند اور بیداری اور خواب اور حقیقت کا امتزاج ہے۔  اُن کا مطلب یہ ہے کہ جیسے خواب میں مناظر دیکھے جاتے ہیں، ویسے ہی کچھ مناظر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے کر دیے، جن کا آپ نے عالم بیداری میں مشاہدہ فرمایا۔ گویا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ تھا تو خواب کا منظر، مگر بیداری کے عالم میں کھلی آنکھوں سے دکھایا گیا تھا۔ اِس خاص نوعیت کی تفہیم کے لیے اُنھوں نے ’رؤیا عین اریھا لیلة‘ کی تعبیر اختراع کی ہے۔ یہ ایک منفرد تعبیر ہے اور منفرد صورت کو بیان کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اِس سے مشاہدے کی وہ خلافِ عادت نوعیت مفہوم ہوتی ہے، جو فقط نبوت کا وصف ہے اور عام انسان اِس سے یک سر محروم ہوتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تفسیر ’’ترجمان القرآن‘‘ میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے قول کو اِسی زاویے سے واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’انبیاے کرام (علیہم السلام) کے احوال و واردات ایک ایسے عالم سے تعلق رکھتے ہیں، جس کے لیے ہماری عام تعبیرات کام نہیں دے سکتیں۔ ہماری ہر تعبیر کسی ایسی حالت کا تصور پیدا کردے گی، جو عام طور پر ہمیں پیش آتی رہتی ہے، لیکن انبیاے کرام علیہم السلام کو جو حالات پیش آتے ہیں، اُن کی نوعیت ہی دوسری ہوتی ہے۔ وہ ہمارے محسوسات و مفہومات کے دائرہ سے باہر کے معاملات ہیں۔... یہی وجہ ہے کہ صحابہ کے تاثرات مختلف ہوئے۔ جن لوگوں نے اِس کی نفی کی کہ بیداری میں پیش آیا تھا، وہ اِس طرف گئے کہ یہ ہماری جسمانی نقل و حرکت کی طرح کا معاملہ نہ تھا۔ جن لوگوں نے اِس پر زور دیا کہ بیداری میں پیش آیا تھا،وہ اِس طرف گئے کہ اِسے محض خواب کی طرح کا معاملہ نہیں کہہ سکتے۔ اور اِس میں شک نہیں کہ دونوں اپنے تاثرات میں برسرحق تھے۔ خود صحیحین کی حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: میں اِس وقت ایک ایسے عالم میں تھا کہ نہ تو سوتا تھا،نہ جاگتا تھا۔ ’بین النائم والیقظان‘۔ اِس سے معلوم ہوگیا کہ اِس معاملہ کو نہ تو ایسا معاملہ قرار دے سکتے ہیں،جیسا ہمیں جاگتے میں پیش آیا کرتا ہے، نہ ایسا جیسا سوتے میں دیکھا کرتے ہیں۔ وہ اِن دونوں حالتوں سے ایک مختلف قسم کی حالت تھی اور ہماری تعبیرات میں اِس کے لیے کوئی تعبیر نہیں ہے۔

...حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اُن صحابہ میں سے ہیں، جو معراج کو عالم بیداری کا معاملہ سمجھتے تھے اور اِس مذہب کے سب سے بڑے پیش رو تھے۔ ...اور یہ جو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ  نے فرمایا ’رؤیا عین اریھا‘ تو اِس نے سارا مسئلہ حل کردیا اور وہ حقیقت آشکارا ہوگئی، جس کی طرف ابھی ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ یعنی یہ جو کچھ پیش آیا،تھا تو رؤیا، لیکن کیسی رؤیا؟ ویسی ہی رؤیا جیسی عالم خواب میں ہم دیکھا کرتے ہیں؟ نہیں، ’رؤیا عین‘۔ ایسی رؤیاجس میں آنکھیں غافل نہیں ہوتیں، بیدار ہوتی ہیں۔ جو کچھ دیکھا جاتا ہے، وہ ایسا ہوتا ہے، جیسے آنکھوں سے دیکھا جارہا ہو۔‘‘ (2/430- 431) 

خلاصۂ کلام یہ ہےکہ انسانی مشاہدے کی تین قسمیں ہیں:

رؤیۃ: یعنی بیداری میں ظاہری بصارت سے ظاہری مناظر کا مشاہدہ کرنا۔

رؤیا: یعنی نیند میں باطنی بصارت سے باطنی مظاہر کا مشاہدہ کرنا۔

رؤیا عین: یعنی بیداری میں ظاہری بصارت سے باطنی مناظر کا مشاہدہ کرنا۔

اِن تین اقسام کے حوالے سے انبیاے کرام اور عام انسانوں میں دو فرق مسلم ہیں:

اولاً، انبیا  کو تینوں نوعیت کے مشاہدات ہوتے ہیں، جب کہ عام انسانوں کو پہلی دو نوعیت ہی کے مشاہدات ہو سکتے ہیں۔

ثانیاً، انبیا کے تینوں طرح کے مشاہدات سچے اور مبنی بر حقیقت ہوتے ہیں،[61] جب کہ عام انسانوں کا یہ معاملہ نہیں ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک واقعۂ اسرا میں اِن میں سے تیسری صورت پیش آئی تھی۔[62] یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداری میں ظاہری بصارت سے باطنی مناظر کا مشاہدہ فرمایا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشاہدات سے غیر مطابق نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس نوعیت کے مشاہدات مبنی بر حقیقت ہیں اور معلوم و معروف ہیں۔ اِس کی نمایاں مثال وہ واقعہ ہے، جب ایک موقع پر نماز ِ کسوف کی امامت کے دوران میں جنت آپ کے سامنے لائی گئی اور آپ نے پھلوں کا ایک خوشہ توڑنے کے لیے اپنے قدم آگے بڑھائے۔ سنن نسائی میں یہ واقعہ اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے:

عن عبد اللّٰه بن عباس، قال: خسفت الشمس فصلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم والناس معه قالوا: يا رسول اللّٰه، رأيناك تناولت شيئًا في مقامك هذا ثم رأيناك تكعكعت. قال: ’’إني رأيت الجنة أو أريت الجنة فتناولت منها عنقودًا ولو أخذته لاكلتم منه ما بقيت الدنيا‘‘. ( رقم 1493)

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز پڑھی۔ (نماز کے بعد) لوگوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول، ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی جگہ سے آگے بڑھ کر کسی چیز کو لے رہے ہیں، اِس کے بعد ہم نے دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ اِس پر آپ نے فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا یا یہ فرمایا کہ مجھے جنت دکھائی گئی تو میں اِس میں سے پھل کا ایک گچھا لینے کے لیے آگے بڑھا اور اگر میں اُسے لے لیتا تو تم اُس میں سے رہتی دنیا تک کھاتے رہتے۔“

مشاہدۂ جنت کا یہ واقعہ، ظاہر ہے کہ حالتِ بیداری میں پیش آیا۔ نماز کے دوران میں جنت آپ کے سامنے لائی گئی۔ اسلوب سے واضح ہے کہ محض منظر ہی سامنے نہیں آیا، بلکہ جنت ممثل ہو کر پیشِ نظر آگئی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اِس میں سے پھل توڑنے کے لیے آگے بڑھے۔[63]

اِسی طرح کا ایک اور واقعہ اُس وقت رونما ہوا، جب کفار نے سفر اسرا کی حقانیت کو چیلنج کیا۔ اِس موقع پر بھی حالتِ بیداری میں مسجدِ اقصیٰ کو آپ کے سامنے کر دیا گیا۔[64]

اِس نوعیت کے کسی واقعے کے لیے اگر ’رؤیا عین‘ کی تعبیر اختیار کی جائے تو اُس پر لفظی اعتبار سے اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اِس مفہوم کو ادا کرنے کے  لیے یہ تعبیر بھی اختیار کی جا سکتی ہے اور اِس سے ملتی جلتی کوئی دوسری تعبیر بھی مستعار لی جا سکتی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں اِسی مفہوم کے لیے ’عالم مثال‘ اور ’عالم شہادت کے برزخ‘کی تعبیرات استعمال کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’پیغمبر خدا کو مسجدِ اقصیٰ تک پھر سدرۃ المنتہیٰ تک اور جہاں تک خدا نے چاہا معراج ہوئی اور یہ سب واقعہ جسم کے ساتھ بیداری میں ہوا۔ لیکن ایسی حالت میں کہ وہ حالت عالم مثال اور عالم شہادت کے برزخ میں اُن دونوں احکام کی جامع تھی۔ روح کے آثار جسم پر طاری ہوئے اور روح اور روح کی کیفیتیں جسم کی شکل میں آگئیں۔ اِسی لیے اِن میں سے ہر ایک واقعہ کی ایک جدا تعبیر ہے۔‘‘ (2/365)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کی ’رؤیا عین‘ کی مخترع  تعبیر بھی قابل فہم ہےاور احادیث میں مذکور بعض واقعات پر اِس کا یا اِس طرح کی کسی اور تعبیر کا انطباق بھی خلافِ مدعا نہیں ہے۔لیکن، جہاں تک واقعۂ اسرا کا تعلق ہے  تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی جلالتِ علمی کے اعتراف اور اُن کے مقام و مرتبے کے اقرار کے باوجود اِس پر نہ ’رؤیا عین‘ (کھلی آنکھوں سے دیکھے گئے رؤیا) کی تعبیر کا اطلاق ہو سکتا ہے اور نہ اِسے بیداری کے واقعے پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خود پروردگار نے اِس واقعے کو ’رؤیا‘ قرار دیا ہے۔اِس کے بعد اِسے رؤیتِ بصری یا ’رؤیا عین‘ کے معنی میں لینا ممکن نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں اگر یہ صراحت نہ ہوتی تو پھر قرائن اور نظائر کی بنا پر اِس طرح کا کوئی قیاس کرنے کی گنجایش ہو سکتی تھی۔

____________