7۔ ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘ سے استدلال

سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 میں [65] ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘ (لوگوں کے لیے آزمایش) کے الفاظ کو بھی جسمانی سفر کے  حق میں بناے استدلال بنایا گیا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ کوئی واقعہ اُسی صورت میں فتنے یا آزمایش کا باعث بنتا ہے، جب  وہ محیر العقول ہو اور  اُس کا یقین کرنا محال ہو۔ خواب میں غیر معمولی واقعات کا مشاہدہ چونکہ عام انسانی تجربہ ہے اور اُنھیں خواب پریشاں  قرار دے کر اُن کے مشاہدے کی صحت پر یقین کر لیا جاتا ہے، اِس لیے وہ لوگوں کے لیے ردو قبول کی آزمایش کا باعث نہیں بنتے۔ لیکن اُسی طرح کا کوئی غیر معمولی واقعہ اگر بیداری میں پیش آئے تو لوگ اُس کی صحت کے بارے میں متردد اور اُس کے ردو قبول کے حوالے سے آزمایش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ انسانی تجربہ ہے۔ چنانچہ واقعۂ اسرا اُسی صورت میں لوگوں کے لیے فتنہ اور آزمایش بن سکتا ہے، جب یہ بیداری میں پیش آیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی یہی نوعیت بیان فرمائی ہو۔ بہ صورتِ دیگر، نہ یہ فتنے کا باعث بن سکتا اور نہ ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ کا اِس پر اطلاق ہو سکتا ہے۔

ہمارے نزدیک یہ دلیل بھی باقی دلائل کی طرح نہایت کم زور ہے۔اِس کے بنیادی وجوہ درجِ ذیل ہیں:

اولاً، یہ اِس مفروضے پر مبنی ہے کہ  کفارِ قریش کسی انسان یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کسی محیر العقول واقعے کو ناممکن الوقوع سمجھتے تھے۔یہ مفروضہ درست نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے اوہام اور عقائد کی وجہ سے اپنے بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں سے ہر طرح کے خارقِ عادت واقعات کے قائل تھے۔ اِسی بنا پر اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ کاہن اور جادوگر قراردینے کا بہانہ تراش رکھا تھا۔  چنانچہ جیسے ہی آپ سے کسی ایمان افروز بات کا صدور ہوتا یا کوئی عقل کو عاجز کر دینے والا واقعہ سامنے آتا تو وہ یہ بہانہ کر کے آپ کی نبوت کو جھٹلانے کی کوشش کرتے تھے۔ گویا کہ آپ کی ذاتِ اقدس سے اِس طرح کی چیزوں کو وابستہ کرنے کا مطلب ہی یہ تھا کہ وہ آپ سے ہر طرح کے خارقِ عادت واقعات کی توقع رکھتے تھے۔

پھر ایک عظیم الشان خارقِ عادت معجزہ روز اُن کے سامنے رونما ہو رہا تھا۔ یہ کلام الہٰی تھا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر جاری ہوتا تھا۔ اُس کے لافانی اسلوب بیان کی وجہ سے اُنھیں یقین کامل تھا کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کی نسبت اور بھی بعید از قیاس تھی، کیونکہ اپنی چالیس سالہ زندگی میں آپ نہ کبھی شعر و سخن کی مجالس میں بیٹھے تھے، نہ شاعری اور ادب کے فنون کو سیکھا تھا، نہ شعر کہا تھا اور نہ خطابت کا مظاہرہ کیا تھا۔ پھر ایک دن یک بہ یک آپ کی زبان پر وہ کلام جاری ہو گیا تھا کہ جس کے آگے اُن کےتمام بڑے شعرا اور ادیب گنگ ہو گئے تھے اور بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو گئے تھےکہ یہ کلام انسانی نہیں ہو سکتا۔یہ واقعہ اُن کے لیے کسی طرح بھی آسمانی سفر سے کم تر نہیں تھا۔

اِس سے واضح ہوا کہ کسی واقعے کا خارقِ عادت یا محیر العقول ہونا ایسی چیز نہ تھی، جو اُن کے لیے فتنے کا باعث بن سکتی تھی۔

ثانیاً،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  اگلی صبح لوگوں کے اجتماع میں جب  مسجدِ اقصیٰ کی عمارت کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا ــــــ جو بہ بذاتِ خود ایک عظیم الشان معجزہ تھا اور لوگوں کی آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہا تھاــــــ تو اُنھیں اگر کوئی تردد تھا بھی تو اُسے اُس وقت ختم ہو جانا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا، بلکہ وہ بہ دستور واقعے کے انکار پر قائم رہے۔ اِس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ واقعے کے خارقِ عادت ہونے یا نہ ہونے کا  ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘سے تعلق نہیں ہے۔

ثالثًا، مذکورہ استدلال کفارِ قریش کے عذر کو تسلیم کرنے پر منتج ہوتا ہے، جسے نہ آیت کے الفاظ قبول کرتے ہیں اور نہ تاریخی حقائق اِس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اگر ابوجہل اِس واقعے کا مشاہدہ کر لیتا اور آپ کو آسمان کی بلندیوں کی طرف عروج کرتے ہوئے دیکھ لیتا تو پھر اُس کے لیے یہ واقعہ فتنہ نہ بنتا، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ بے شمار معجزات کے مشاہدے کے باوجود وہ ایمان نہیں لایا۔ اصل میں یہ سمجھنا چاہیے کہ فتنہ یا آزمایش وہی چیز بن پاتی ہے، جس کی صحت کا یقین ہوتا ہے۔ جس چیز کے وقوع ہی کا یقین نہ ہو یا جو چیز فہم و ادراک سے بالا ہو تو وہ کیسے آزمایش بن سکتی ہے؟ اِس صورت میں عدم یقین یا عدم ادراک عذر قرار پاتا ہے اور عندالناس اور عنداللہ قابلِ معذرت ہوتا ہے۔

مزید برآں، جو تجربہ و مشاہدہ  فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، وہ  عالم خواب میں تھا یا عالم بیداری میں،  لوگوں کے لیے تو اُس کی حیثیت آپ کے بیان ہی کی تھی۔ چنانچہ اِس اعتبار سے اُن کے لیے اُس کی حیثیت یکساں تھی۔ کفارِ قریش کا جرم ہی یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر معاملے میں صادق اور امین سمجھنےکے باوجود محض اپنی سرکشی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ کی نبوت کے منکر تھے۔ لہٰذا یہ واقعہ خواب کا تھا یا بیداری کا، ہر دو صورتوں میں اُنھوں نے اِسے لاف زنی سے تعبیر کرنا تھا۔ حتیٰ کہ اگر وہ اِس کا اپنی آنکھوں سے بھی مشاہدہ کر لیتے تب بھی اُنھوں نے اِسے قبول کرنے سے انکار کرنا تھا۔ بالکل اُسی طرح، جیسے فرعون نے جادوگروں کی شکست اور اُن کے ایمان لانے کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کیا تھا۔

رابعا ً، آیت 60 کے آخری جملے میں خود اللہ تعالیٰ نے ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ کی تفسیر کر دی ہے۔ اِس کے بعد کوئی اندازہ قائم کرنے یا کوئی دور از کار تاویل پیش کرنے کی گنجایش ہی ختم ہو گئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا.

’’ہم تو اِن کے انجام سے اِنھیں ڈرا رہے ہیں، لیکن یہ چیز اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔‘‘

یعنی جو چیز فتنے کا باعث بنی ہے، وہ معاملے کا خارقِ عادت ہونا یا نہ ہونا نہیں ہے، وہ انجام کا ڈراوا ہے۔ ’نُخَوِّفُهُمْ‘ کے الفاظ اِس پر دلیل قاطع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مدعا و مفہوم یہ ہے کہ اِس تخویف اور اِس ڈراوے کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اِس سے خوف زدہ ہوتے اور اپنی اصلاح کی فکر کرتے، مگر اُنھوں نےسرکشی کا رویہ اختیار کر لیا اور اُس تہدید وتنبیہ کو ــــــ  جو واقعۂ اسرا کی صورت میں اِس اعتبار سے سامنےآئی تھی کہ اب اُن کی معزولی کا پروانہ جاری ہو گیا ہے اور اُن کے دین اور اُن کی سلطنت کی بساط الٹنے والی ہے ــــــ  اپنے لیے فتنہ اور آزمایش بنا لیا۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’مطلب یہ ہے کہ اِن کا مسئلہ نشانی نہیں ہے کہ دکھا دی گئی تو ایمان لے آئیں گے۔ یہ جس مرض میں مبتلا ہیں، وہ ضد اور ہٹ دھرمی کا مرض ہے۔ اِن کی تنبیہ و تخویف کے لیے یہ سب باتیں ہم نے کی ہیں، مگر اِس سے کیا فائدہ ہوا؟ یہ تینوں مثالیں بتا رہی ہیں کہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ اِن کی سرکشی میں اضافہ ہو گیا اور ہماری اِن نشانیوں کے ساتھ اِنھوں نے بھی وہی کیا، جو ثمود نے اونٹنی کے ساتھ کیا تھا۔‘‘ (3/95)

ابوبکر جصاص نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اِسی مفہوم کا ایک قول نقل کیا ہے:

’’اِس رؤیا سے کیا مراد ہے۔ قول باری ہے:’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘ (اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق، نیز قتادہ، حسن، ابراہیم، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ رؤیا بیت المقدس تک رات کے سفر، یعنی سفر معراج کے علاوہ ہے۔ جب آپ نے مشرکین سے اِس کا ذکر کیا تو اُنھوں نے آپ کو جھٹلایا۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اِس رؤیا سے مراد یہ ہے کہ آپ کو یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ بہت جلد مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے۔‘‘(احکام القرآن 5/30)

 بحث کے اختتام میں محض ایک علمی نکتے کے طور پر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ فتنہ یا آزمایش ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اُس سے ایسی بات مراد لیں، جو لوگوں کے فہم و ادراک کے لیے مشکل یا اجنبی ہو۔ قرآن مجید سے اِس بات کی صریح طور پر تردید ہوتی ہے۔ سورۂ فرقان (25)کی آیت 20 ملاحظہ کیجیے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً....

’’تم سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں، وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (ایمان والو)، ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمایش بنا دیا ہے...۔ ‘‘

اِس آیت کی شرح میں ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں لکھا ہے:

لو شئت أن أجعل الدنيا مع رسلي فلا يخالفون لفعلت، ولكني قد أردت أن أبتلي العباد بهم وأبتليكم بهم، وفي صحيح مسلم عن عیاض بن حمار عن رسول اللّٰہ: ’’يقول اللّٰه تعالٰى: إني مبتليك ومبتل بك‘‘. (6/92)

’’اگر میں چاہتا تو اپنے انبیا کو  دنیا (کا مال  اسباب زیادہ ) عطا فرماتا تاکہ اکثر لوگ (اُس کے لالچ ) میں اُن کی مخالفت نہ کریں تو میں ایسا ہی کرتا، لیکن میں نے ارادہ کیا ہے کہ بندوں کو ان (رسولوں) کے ذریعے سے آزماؤں اور تمھیں بھی ان کے ذریعے  سے آزماؤں۔ صحیح مسلم، (رقم 2865) میں عیاض بن حمار سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں خود تجھے اور تیری وجہ سے اور لوگوں کو آزمانے والا ہوں۔ ‘‘

مولانا مودودی اِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یعنی رسول اور اہل ایمان کے لیے منکرین آزمایش ہیں اور منکرین کے لیے رسول اور اہل ایمان۔ منکرین نے ظلم و ستم اور جاہلانہ عداوت کی جو بھٹی گرم کر رکھی ہے، وہی تو وہ ذریعہ ہے، جس سے ثابت ہوگا کہ رسول اور اُس کے صادق الایمان پیرو کھرا سونا ہیں۔ ... دوسری طرف منکرین کے لیے بھی رسول اور اصحاب رسول ایک سخت آزمایش ہیں۔ ایک عام انسان کا اپنی ہی برادری کے درمیان سے یکایک نبی بنا کر اٹھا دیا جانا، اُس کے پاس کوئی فوج فرّا اور مال و دولت نہ ہونا، اُس کے ساتھ کلام الٰہی اور پاکیزہ سیرت کے سوا کوئی عجوبہ چیز نہ ہونا، اُس کے ابتدائی پیرووں میں زیادہ تر غریبوں، غلاموں اور نو عمر لوگوں کا شامل ہونا اور اللہ تعالیٰ کا اُن چند مٹھی بھر انسانوں کو گویا بھیڑیوں کے درمیان بےسہارا چھوڑ دینا، یہی وہ چھلنی ہے، جو غلط قسم کے آدمیوں کو دین کی طرف آنے سے روکتی ہے اور صرف ایسے ہی لوگوں کو چھان چھان کر آگے گزارتی ہے، جو حق کو پہچاننے والے اور راستی کو ماننے والے ہوں۔‘‘ (تفہیم القرآن 3/ 444- 445) 

’’البیان‘‘ میں ہے:

’’یعنی اُن کی طرف سے تحقیر و تضحیک کے رویے کو تمھارے لیے اور تمھاری غربت کو اُن کے لیے آزمایش بنا دیا ہے کہ اِسی کے باعث وہ یہ کہہ کر حق کا انکار کر رہے ہیں کہ یہ اگر خدا کا دین ہوتا تو اِس سے مکہ اور طائف کے رؤسا و اکابر بہرہ یاب کیے جاتے، یہ اِن قلاش مسلمانوں کو نہ ملتا۔‘‘(3/ 472)

____________