ایک واقعہ یا چار واقعات
ہمارے روایتی نقطۂ نظر میں اسرااور معراج کی تفصیلات کو عام طور پر ایک ہی واقعہ سمجھا جاتا ہے اور قرآنِ مجید کےمختلف مقامات اور حدیث کی متفرق روایات کواُس کے اجزا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مختلف نصوص میں موجود عقل و نقل، زبان و بیان اور زمان و مکان کے جملہ دلائل ایک کل کے طور پر سامنے لائےجاتے ہیں۔ چنانچہ ایک مقام کے لیے دوسرے اور دوسرے کے لیے تیسرے کے دلائل سے استشہاد کیا جاتاہے۔ اِس ضمن میں اگر زبان و بیان یا سیاق و سباق یا عرفِ کلام اُن کے ربط و پیوند کو قبول کرنے سے انکار کریں،تب بھی اُنھیں ایک ہی سلسلے کی کڑیاں قرار دینے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ اِس معاملے میں تفریق اور تناقض کی ہر شہادت نظر انداز کر دی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر سورۂ نجم میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کو سدرۃ المنتہیٰ پر کھلی آنکھوں سے دیکھا،جب کہ سورۂ بنی اسرائیل میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ اقصیٰ کا سفر عالم رؤیا میں کرایا گیا۔ اِن میں سے پہلا مقام عالم بیداری کی صراحت کرتا ہے اور دوسرے میں رؤیا، یعنی پیغمبرانہ خواب کی تصریح ہے۔ ظاہر ہے کہ دونوں کیفیات ایک دوسرے کے برعکس اور باہم مغائر ہیں۔ اب اگر اِن دونوں مقامات کو ایک ہی موقعے کے ایک ہی واقعے پر محمول کیا جائے گا تو لامحالہ کسی ایک مقام کے الفاظ اور اسالیب کو اُن کے معانی و مفاہیم سے ہٹانا پڑے گا۔ یعنی اگر اِس مجموعی واقعے کو رؤیا کا مشاہدہ قرار دینا مقصود ہو تو ’ رَاٰي‘ (اُس نے دیکھا)اور ’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰي‘ ( اُس کی نگاہ نہ بہکی، نہ بے قابو ہوئی)کے الفاظ کو خواب اور نیند کے مفہوم پر محمول کرنا ہو گا اوراگر اِسے بیداری کا واقعہ بتانا پیشِ نظر ہے تو ’الرُّءۡيَا‘ (خواب )کو رؤیتِ بصری، یعنی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی پہنانے پڑیں گے۔
دیکھیے، قرآن و حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے متعدد واقعات کا ذکر آیا ہے۔اِن میں یہ صورت بھی ہے کہ واقعہ ایک ہے، مگر اُس کے اجزا اور متعلقات متعدد مقامات پر بیان ہوئے ہیں۔ یہ صورت بھی ہے کہ مقام ایک ہے، مگر واقعات ایک سے زیادہ مذکور ہیں۔ اور یہ صورت بھی ہے کہ کئی واقعات ہیں، جو اپنے وقوع کے اعتبار سے مختلف اور منفرد ہیں اور الگ الگ مقامات پر بیان ہوئے ہیں۔ اول الذکر کی مثال قصۂ آدم و ابلیس ہے، ثانی الذکر کی مثال سورۂ بنی اسرائیل کی آیات 59-60 ہیں، جن میں تین واقعات کا حوالہ ہے اور موخر الذکر کی مثال حضرات موسیٰ و خضر علیہما السلام کا واقعہ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جادوگروں سے مقابلے کا واقعہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اِس بات کا تعین کیسے ہو گا کہ فلاں آیت یا فلاں روایت یا فلاں روداد یا فلاں بیان کسی واقعے کا جز ہے یا بہ ذاتِ خود ایک منفرد واقعہ ہے یا اِس میں متعدد واقعات مذکور ہیں؟ اِس کا ایک جواب یہ ہے کہ اِس کا تعین ہم ذہنی کاوش سے کریں گے اور اپنی قوتِ متخیلہ کو بروے کار لاتے ہوئے مختلف اور منتشر اجزا کو ایک کل کی صورت میں ترتیب دے دیں گے۔ یہ جواب فکشن نگاری کے لیے یقیناً قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر قرآن و حدیث کے مندرجات کے فہم اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کی تالیف میں اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اِن کے معاملے میں حتمی اور فیصلہ کن حیثیت اُن مندرجات یا اُن بیانات کی ہو گی، جو قطعی یا قابلِ قبول ذرائع سے ہم تک پہنچے ہیں۔ وہ اگرمختلف واقعات کو ایک واقعے کی صورت دیتے ہیں تو ایک واقعہ مانا جائے گا، وگرنہ الگ الگ واقعات پر محمول کیا جائے گا۔ اپنی خیال آرائی سے اُنھیں ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش ہر گز نہیں کی جائے گی۔
یہ بات اگر واضح ہو گئی ہے تو پھر بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ چار واقعات کو ایک واقعہ قرار دینا ہی وہ غلط فہمی ہے، جس کی وجہ سے اِن عظیم الشان واقعات کی حقیقت اور نوعیت کو سمجھنا محال ہوا ہے۔
ہمارے نزدیک جو دلیل اِن چار واقعات کی تفریق پر قطعی طور پر دلالت کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اِن کے بیانات اِنھیں ایک واقعے کی حیثیت سے پیش نہیں کر رہے۔ اِن کا نظمِ کلام، اِن کا سیاق و سباق، اِن کے الفاظ و اسالیب، اِن کا مفہوم و مدعا، سب اِن کی انفرادیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ لہٰذا جب نصوص اِنھیں ایک واقعے کی حیثیت سے پیش نہیں کر رہے، بلکہ الگ الگ واقعات کے طور پر سامنے لا رہے ہیں تو پھر کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے تصور کی بنا پر اِن کی کڑیاں ملانے کی کوشش کرے اور اِنھیں ایک واقعے کی صورت میں ترتیب دے کر پیش کرے۔
اِس بات پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اِن واقعات میں یہ کہاں بیان ہوا ہے کہ یہ الگ الگ واقعات ہیں تو یہ اعتراض بجاے خود زبان و بیان سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ قرآن و حدیث اور سیرت و سوانح کے مندرجات میں جہاں بالعموم تاریخیں درج نہیں ہوتیں اور یہ بھی نہیں لکھا ہوتا کہ فلاں واقعہ فلاں واقعے سے متصل ہے اور اِس کے فلاں اجزا مقدم اور فلاں موخر ہیں، اِس کا تعین واقعے کا بیان کرتا ہے کہ اُسے منفرد واقعہ مانا جائے یا کسی دوسرے واقعے کے سابقے یا لاحقے کے طور پر قبول کیا جائے۔ اِس طرح کے ہر معاملے میں فیصلہ کن حیثیت متکلم اور اُس کے کلام کی ہوتی ہے۔وہی کسی بیان کے محکم اور متشابہ یا مجمل اور مفصل یا متعلق اور غیر متعلق ہونے کا تعین کرتا ہے۔ سامع یا قاری کا کردار فقط یہ ہوتا ہے کہ وہ اُسے سن کر یا پڑھ کر سمجھنے کی کاوش کرے۔ اِس مقصد کے لیے وہ لفظ کے استعمال، جملے کی تالیف، عرفِ کلام، سیاق و سباق اور اِس نوعیت کے بعض دوسرے قرائن کو بنیاد بناتا ہے اورمتکلم کے منشا تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ شرح وتفسیر اور تفہیم و تبیین کے دائرے میں بھی اُس کا فریضہ فقط کلام میں محصور مفہوم اور مضمر مدعا کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ اِس سے تجاوز متکلم کے حریم میں داخل ہونے کے مترادف ہے،جس کی دین و اخلاق اور علم و استدلال میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔
اِس بنیادی دلیل کے علاوہ کچھ مزید دلائل بھی درج ذیل ہیں:
1۔ مقامات کا فرق
واقعۂ اسرا سورۂ بنی اسرائیل میں اور واقعۂ معراج احادیث میں نقل ہوا ہے۔ قاب قوسین اور سدرۃ المنتہیٰ کے واقعات سورۂ نجم میں بیان ہوئے ہیں۔موخر الذکر دونوں واقعات اگرچہ سورۂ نجم میں بیان ہوئے ہیں، مگر خود قرآن نے لفظی طور پر اِن کے الگ الگ ہونے کی صراحت کر دی ہے۔
2۔ کیفیات کا فرق
واقعۂ اسرا اور واقعۂ معراج عالم رؤیا میں اور واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ اور واقعۂ قاب قوسین عالم بیداری میں رونما ہوئے ہیں۔ نصوص میں یہ کیفیات پوری صراحت سے بیان ہوئی ہیں۔
3۔ مشاہدات کا فرق
واقعۂ اسرا زمین پر رہتے ہوئے زمین کے مقام کا مشاہدہ ہے۔ واقعۂ معراج آسمان پر جا کر آسمان کے مقامات کا مشاہدہ ہے۔ واقعۂ قاب قوسین زمین پر رہتے ہوئے افق اعلیٰ پر جبریل امین کا مشاہدہ ہے۔ واقعۂ سدرہ زمین پر رہتے ہوئےسدرۃ المنتہیٰ اور آسمان کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ ہے۔
4۔مقاصد کا فرق
واقعۂ اسرا کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ اقصیٰ اور مسجدِ حرام، دونوں کی امانت ملنے کے فیصلے کا اظہار ہے۔ واقعۂ معراج کا مقصد خاص نبوت کے پہلو سے اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کراناہے۔ واقعۂ قاب قوسین اور واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ کا مقصد قریش پر قرآن کی حقانیت کو واضح کرنا ہے۔
5۔ تفصیلات کا فرق
چاروں میں سے ہر واقعہ یک سر مختلف اور منفرد تفصیلات کا حامل ہے۔
____________