باب اول

اسرا و معراج

جناب جاوید احمد غامدی کا موقف

 ہمارے روایتی نقطۂ نظر میں اسراو معراج  کو بالعموم ایک موقعے کا واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں مذکور مختلف تفصیلات کو اُس کے اجزا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اِس کے نتیجے میں عام تصور یہی ہے کہ یہ ایک ہی موقعے کا سفر ہے، جو رات کے وقت عالم بیداری میں ہوا اور مسجدِ حرام سے شروع ہو کر مسجد ِاقصیٰ تک اور وہاں سے ملاے اعلیٰ تک پہنچ کر مکمل ہوا۔

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک یہ راے قرآن و حدیث کے نصوص کے خلاف ہے۔ اُن کا موقف یہ ہے کہ یہ ایک واقعہ نہیں، بلکہ چار مختلف واقعات ہیں، جو الگ موقعوں پر، الگ صورتوں میں اور الگ حالتوں میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث کے متعلقہ مقامات اِن کی تفریق اور انفرادیت کو پوری طرح واضح کر دیتے ہیں۔  اِسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے کہ یہ تمام واقعات عالم بیداری میں پیش آئے۔ اصل یہ ہے کہ اِن میں سے دو عالم رؤیا میں اور دو عالم بیداری میں رونما ہوئے ہیں۔

اِن میں سے ایک، ’’واقعۂ اسرا‘‘ ہے، جو قرآنِ مجید کی سورۂ بنی اسرائیل(17) میں بیان ہواہے۔یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔

دوسرا، ’’ واقعۂ قاب قوسین ‘‘ہے، جو سورۂ نجم (53) کی آیات 1تا12 میں مذکور ہے۔ یہ عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔

 تیسرا، ’’واقعۂ سدرہ‘‘ ہے، جو سورۂ نجم (53) ہی  کی آیات 13تا 18میں درج ہے۔ یہ بھی عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔

چوتھا،[3] ’’واقعۂ معراج‘‘ ہے، جو صحیح بخاری کی روایت، رقم 7517 اور بعض دیگر روایتوں میں نقل ہوا ہے۔ یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔

یہ چاروں واقعات من جانب اللہ ہیں۔اِن کی نوعیت آیات ِ الٰہی  کی اور اِن کی حقیقت وحی و الہام کی ہے۔ اِن میں مذکوراخبار و اطلاعات اور واقعات و مشاہدات کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ نبوت  و رسالت سے ہے۔  لہٰذا اِنھیں اُسی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے اور اُسی کے لحاظ سے اِن کی شرح و تفسیر کرنی چاہیے۔اِس معاملے میں فقط  نصوص کی تفہیم تک محدود رہنا ضروری ہے۔ چنانچہ اِن کے بارے میں نہ کوئی خیال آرائی کرنی چاہیے، نہ اِنھیں داستاں سرائی کا موضوع بننا چاہیے اور نہ خام اور ناقص انسانی علوم و فنون اور تجربات و مشاہدات کو بنیاد بنا کر اِن کے انکار کی راہ ڈھونڈنی چاہیے۔

____________