باب دوم

اسرا و معراج

روایتی نقطۂ نظر اور اُس کا تنقیدی جائزہ

اسرا و معراج  کے حوالے سے روایتی موقف کے واقعاتی اجزا کا خلاصہ ابتدا میں ’’تعارف‘‘ کے زیرِ عنوان بیان ہو چکا ہے۔ وہاں اُسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں اُس کے اہم علمی نکات درج ہیں:

* اسرا و معراج کا ذکر قرآنِ مجید اور احادیث، دونوں میں آیاہے۔ قرآن میں اجمال ہے اور احادیث میں تفصیل ہے۔

* قرآن و حدیث کے متعلقہ اجزا کو باہم مربوط کرنے سے جو تصویر سامنے آتی ہے، اُس کی بنا پر اِسے ایک واقعے پر محمول کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔

* نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش آیا اور آپ نے بہ چشم سر اور بہ چشم  دل، دونوں طریقوں سے آیاتِ الہٰی کا مشاہدہ فرمایا۔

* یہ درست ہے کہ قرآن و حدیث میں جسمانی معراج اور بیداری کے سفر کی لفظی صراحت نہیں ہے، لیکن دونوں کے اسالیب ِ بیان اِس کے جسمانی اور حالتِ بیداری میں ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

* یہ بھی درست ہے کہ قرآنِ مجید نے اِس واقعے کو ’رُؤْیَا‘ قرار دیا ہے، جس کے معروف معنی نیند میں دیکھنے، یعنی خواب کے ہیں، مگر خواب ماننے سے یہ ایک عام واقعہ قرار پاتا ہےاور اِس کی معجزاتی شان قائم نہیں رہتی۔ مزید برآں، اِس کےنتیجے میں قرآن و حدیث کے اُن اسالیب کی معنویت بھی  متاثر ہوتی ہے، جو اِس واقعے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کو نمایاں کرتے ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ لفظ’رؤیا‘ کو اُس کے عام مفہوم کے بجاے اُس مفہوم میں استعمال کیا جائے، جس میں اُس کے معنی بیداری میں دیکھنے کے ہیں۔ کلام عرب میں چونکہ اِس کے نظائر موجود ہیں، اِس لیے اِسے رؤیتِ بصری کے معنی پر محمول کرنا زبان و بیان کے عین مطابق ہے۔

* بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ یہ واقعہ روحانی طور پر عالم خواب میں رونما ہوا، مگر اِن کی اسناد اور متون کو دیگر روایتوں کے تقابل اور تناظرمیں دیکھا جائے تو حالتِ بیداری میں جسمانی سفر کا موقف زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے۔

* اِس سے بھی انکار نہیں  ہے کہ اِسرا و معراج کی احادیث میں باہمی اختلاف پایا جاتا ہے ــــــ  یعنی مثال کے طور پر مشاہدات کے احوال مختلف ہیں، واقعات میں تنوع اور تعدد بھی ہے، اُن کے وقوع کی زمانی اور مکانی ترتیب میں بھی فرق ہے  ــــــ اور بعض اجزا قرآنِ مجید کی مخالفت پر بھی منتج ہوتے ہیں،[29] لیکن اگر واقعے کی معجزانہ شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے مختلف روایات کی کڑیاں ملادی جائیں، متعارض بیانات کی توجیہ کر دی جائے اور خلاف ِقرآن اجزا کو رد کر دیا جائے تو اِن میں واقعاتی ربط قائم کرنا بالکل ممکن ہے۔اِس کے بعد یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان افروز معجزے اور تاریخ انسانی کے عظیم الشان واقعےکے طور پر سامنے آتا ہے۔

اِن نکات کے حوالے سے چند اقتباسات کا مطالعہ تفہیم مدعا کے لیے مفید ہو گا۔

تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:

وإذا حصل الوقوف على مجموع هذه الأحاديث صحيحها وحسنها وضعيفها، فحصل مضمون ما اتفقت عليه من مسرى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من مكة إلى بيت المقدس وأنه مرة واحدة، وإن اختلفت عبارات الرواة في أدائه، أو زاد بعضهم فيه أو نقص منه، فإن الخطأ جائز على من عدا الأنبياء عليهم السلام ...

’’اِن تمام احادیث کو جاننے کے بعد جن میں صحیح بھی ہیں، حسن بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں، یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے بیت المقدس لے جائے جانے اور اِس کے ایک واقعہ ہونے پر اتفاق ہے۔ یہ درست ہے کہ راویوں کی عبارتوں میں بھی اختلاف اور اُن میں کمی بیشی کا فرق بھی ہے، تاہم یہ ایسی غلطی ہے، جو ممکن ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہےکہ انبیا علیہم السلام کے سوا کوئی بھی خطا سے پاک نہیں ہے۔...

وأما عرض الآنية عليه من اللبن والعسل أو اللبن والخمر، أو اللبن والماء أو الجميع فقد ورد أنه في بيت المقدس وجاء أنه في السماء. ويحتمل أن يكون هاهنا وهاهنا، لأنه كالضيافة للقادم....

(اِن اختلافی بیانات میں) جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دودھ اور شہد یا دودھ اور شراب یا دودھ اور پانی پیش کیا گیا یا یہ چاروں چیزیں پیش کی گئیں تو بعض روایتوں میں ہے کہ یہ واقعہ بیت المقدس کا ہے اور بعض میں یہ ہے کہ یہ واقعہ آسمانوں کا ہے۔ تاہم، عین ممکن ہے کہ یہ چیزیں بہ طورِ مہمان نوازی دونوں جگہوں پر پیش کی گئی ہوں...۔

ثم اختلف الناس: هل كان الإسراء ببدنه عليه السلام وروحه، أو بروحه فقط؟ على قولين، فالأكثرون من العلماء على أنه أسري ببدنه وروحه يقظة لا منامًا، ولا ينكرون أن يكون رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم رأى قبل ذلك منامًا ثم رآه بعد يقظةً، لأنه كان عليه السلام لا يرى رؤيًا إلا جاءت مثل فلق الصبح....

پھر اِس میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ اسرا (لے جانے) کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اور روح، دونوں کے ساتھ ہوا تھا یا صرف روح کے ساتھ ہوا تھا؟ اِس بارے میں دونوں طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔ اکثر علما کی راے تو یہی ہے کہ یہ واقعہ جسم اور روح، دونوں کے ساتھ بیداری کے عالم میں ہوا تھا۔ یعنی آپ سو نہیں رہے تھے۔ البتہ، وہ اِس امکان کا انکار نہیں کرتے کہ بعینہٖ یہ واقعہ پہلے آپ کو خواب میں دکھایا گیا ہو اور بعد میں بیداری میں بھی رونما ہوا ہو۔ اِس کی وجہ یہ ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے تھے، وہ دن کی روشنی کی طرح واضح ہوتا تھا...۔

وقد قال تعالٰی: ’’وَما جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ‘‘.[30] قال ابن عباس: هي رؤيا عين أريها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ليلة أسري به، والشجرة الملعونة هي شجرة الزقوم، رواه البخاري، وقال تعالٰى: مَا زاغَ الْبَصَرُ وَما طَغٰى[31] والبصر من آلات الذات لا الروح.

(5/ 39- 41) 

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’وَما جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ‘ کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اِس میں رؤیا سے مراد آنکھوں کا دیکھنا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس رات دکھایا گیا، جب آپ کو لے جایا گیا اور شجرۂ ملعونہ سے شجرۂ زقوم مراد ہے۔ بہ روایتِ بخاری۔[32] اِس معاملے میں خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ‘ ، ’’اُس  کی نگاہ بہکی، نہ بے قابو ہوئی۔‘‘ اور نگاہ ظاہر ہے کہ انسان کی مکمل ذات کا وظیفہ ہے، نہ کہ فقط روح کا۔‘‘

مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی لکھتے ہیں:  

’’اِس ( معراج )کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ معراج کس غرض کے لیے ہوئی تھی اور خدا نے اپنے رسول کو بلا کر کیا ہدایات دی تھیں۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ معراج کس طرح ہوئی اور اِس سفر میں کیا واقعات پیش آئے۔اِس واقعہ کی تفصیلات 28ہم عصر راویوں کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں۔ سات راوی وہ ہیں، جو خود معراج کے زمانہ میں موجود تھے اور21 وہ جنھوں نے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زبانِ مبارک سے اِس کا قصہ سنا۔ مختلف روایتیں قصہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں اور سب کو ملانے سے ایک ایسا سفر نامہ بن جاتا ہے، جس سے زیادہ دل چسپ، معنی خیز اور نظر افروز سفر نامہ انسانی لٹریچر کی پوری تاریخ میں نہیں ملتا۔‘‘

(سفر نامۂ معراج 3)

مولانا مودودی ’’تفہیم القرآن‘‘ میں آیۂ اسرا کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:

’’اِس سفر کی کیفیت کیا تھی ؟ یہ عالم خواب میں پیش آیا تھا یا بیداری میں ؟ اور آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہ ذاتِ خود تشریف لے گئے تھے یا اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے محض روحانی طور پر ہی آپ کو یہ مشاہدہ کرا دیا گیا ؟ اِن سوالات کا جواب قرآنِ مجید کے الفاظ خود دے رہے ہیں۔ ’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی ‘سے بیان کی ابتدا کرنا خود بتارہا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارقِ عادت واقعہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونما ہوا۔ ظاہر ہے کہ خواب میں کسی شخص کا اِس طرح کی چیزیں دیکھ لینا، یا کشف کے طور پر دیکھنا یہ اہمیت نہیں رکھتا کہ اُسے بیان کرنے کے لیے اِس تمہید کی ضرورت ہو کہ تمام کم زوریوں اور نقائص سے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو یہ خواب دکھایا یا کشف میں یہ کچھ دکھایا۔ پھر یہ الفاظ بھی کہ ” ایک رات اپنے بندے کو لے گیا “ جسمانی سفر پر صریحاً دلالت کرتے ہیں۔ خواب کے سفر یا کشفی سفر کے لیے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا،بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا، جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرایا۔‘‘ (2/589)

مفتی محمد شفیع نے بیان کیا ہے:

’’ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر جس کا ذکر اِس آیت میں ہے، اُس کو اسرا کہتے ہیں اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا،اُس کا نام معراج ہے۔ اسرا اِس آیت (سورۂ بنی اسرائیل 17: 1) کی نص قطعی سے ثابت ہے اور معراج کا ذکر سورۂ نجم کی آیات میں ہے اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے۔... قرآنِ مجید کے ارشادات اور احادیثِ متواترہ سے، جن کا ذکر آگے آتا ہے، ثابت ہے کہ اسرا و معراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں تھا، بلکہ جسمانی تھا، جیسے عام انسان سفر کرتے ہیں۔...جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر اِس کا اظہار کیا تو کفارِ مکہ نے تکذیب کی اور مذاق اڑایا، یہاں تک کہ بعض نو مسلم اِس خبر کو سن کر مرتد ہو گئے۔ اگر معاملہ خواب کا ہوتا تو اِن معاملات کا کیا امکان تھا اور یہ بات اِس کے منافی نہیں کہ آپ کو اِس سے پہلے اور بعد میں کوئی معراجِ روحانی بہ صورتِ خواب بھی ہوئی ہو۔ جمہور امت کے نزدیک آیتِ قرآن ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ ‘میں رؤیا سے مراد رؤیت ہے، مگر اِس کو بہ لفظِ رؤیا (جو اکثر خواب دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اِس معاملے کو تشبیہ کے طور پر رؤیا کہا گیا ہو کہ اِس کی مثال ایسی ہے، جیسے کوئی خواب دیکھ لے۔ اور اگر رؤیا کے معنی خواب ہی کے لیے جائیں تو یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ معراج جسمانی کے علاوہ اِس سے پہلے یا پیچھے یہ معراج روحانی بہ طورِ خواب بھی ہوئی ہو۔ اِس لیے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے جو اِس کا واقعۂ خواب ہونا منقول ہے، وہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے۔ مگر اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ معراج جسمانی نہ ہوئی ہو۔‘‘(معارف القرآن 5/438- 439) 

پیر کرم شاہ صاحب الازہری اپنی تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’’سبحان‘ کے کلمہ سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب و نقص، کم زوری اور بے بسی سے پاک ہے۔ اِس کے لیے دلیل کی ضرورت تھی، کیونکہ کوئی دعویٰ دلیل کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہوا کرتا۔ بہ طورِ دلیل ارشاد فرمایا :’الَّذِیْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ ہے، جس نے اپنے محبوب بندے کو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اتنا طویل سفر کرایا اور اپنی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں اور آیاتِ بینات دکھائیں۔جو ذات اتنے طویل سفر کو اتنے قلیل وقت میں طے کرا سکتی ہے، واقعی اُس کی قدرت بے پایاں، اُس کی عظمت بے کراں ہے اور اُس کی کبریائی کے دامن پر کسی کم زوری اور بے بسی کا کوئی داغ نہیں۔ تو جس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی سبحانیت کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایاہے، وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ کوئی بڑا اہم، عظیم الشان اور محیر العقول واقعہ ہو گا۔...

قرآن کا یہ انداز صاف بتا رہا ہے کہ یہ واقعہ خواب کا نہیں، بلکہ عالم بیداری کا ہے۔ اِس پر یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ رؤیا تھا، یعنی خواب تھا۔ ارشادِ باری ہے؛ ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ‘۔ یہاں ’رؤیا‘ کا لفظ ہے۔ اِس کا معنی خواب ہے۔ ...جب خود قرآنِ پاک نے تصریح کر دی کہ یہ خواب تھا تو پھر اِس کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔

جواباً عرض ہے کہ اکثر مفسرین کی یہ رائے ہے کہ اِس آیت کا تعلق واقعۂ معراج سے ہے ہی نہیں، بلکہ کسی دوسرے خواب سے ہے۔اور اگر اِس پر ہی اصرار ہو کہ اِس آیت میں معراج کا ہی ذکر ہےتو پھر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کی تصریح کے بعد کوئی التباس نہیں رہتا۔آپ نے فرمایا: یہاں رؤیا سے مراد عالم بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا ہے۔...

یہ لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اِس حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ واقعۂ معراج بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا: ’ثم استیقظت وانا فی المسجد الحرام‘، ’’پھر میں نیند سے بیدار ہوا اور اپنے آپ کو مسجد حرام میں پایا۔‘‘ اِس روایت کے متعلق فن حدیث کے ماہرین کی تصریح ملاحظہ فرمائیے، خود بہ خود شبہ دور ہو جائے گا۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے شریک نے نقل کیے ہیں اور شریک اہل حدیث کے نزدیک حافظ حدیث نہیں ہے۔ ...علامہ ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ اِن الفاظ کا شمار شریک کی غلطیوں میں ہوتا ہے۔‘‘(2/627-626) 

اہل حدیث مکتبِ فکر کے نمایندہ عالم حافظ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں:

’’... یہ واقعہ چوبیس سے زیادہ صحابہ سے مروی ہے۔ اِس اعتبار سے اِسے تواترِ معنوی کا درجہ حاصل ہے۔ اِس لیے بعض راویوں کے وہم یا مخصوص تعبیر کی وجہ سے سارے واقعے کو اور اِس کی اہم تفصیلات کو مشکوک قرار دیا جا سکتا ہے نہ اِسے خواب قرار دے کر اِس کی ساری اعجازی شان ہی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

اِسی طرح بعض علما کا اختلاف روایات کی وجہ سے تعددِ معراج کا قائل ہونا بھی صحیح نہیں، نہ یہ راویوں کے اختلافات کا کوئی صحیح حل ہی ہے۔ اتنے عظیم اور مہتم بالشان واقعے کو جب متعدد لوگ بیان کریں تو واقعے کی تفصیلات میں جزوی اختلافات یا اُس میں تقدیم و تاخیراور زیادت و نقص کا واقع ہو جانا کوئی بعید نہیں۔ کسی چیز کی نقل میں متعدد راویوں کے بیانات میں ایسا باہمی اختلاف عام ہے۔ ایسے موقعوں پر نفس واقعہ کا انکار کیا جاتا ہے نہ اُنھیں متعدد واقعات قرار دیا جاتا ہے، بلکہ اُن بیانات کے مشترکہ نکات اور اجزا کی روشنی میں اصل واقعہ اور اُس کی ضروری تفصیلات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔‘‘

( واقعۂ معراج اور اُس کے مشاہدات 28-29) 

حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں:

’’یہ روایات مختلف راویوں سے ہیں، اِس لیے اِن کی بیان کردہ بعض تفصیلات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جیسا کہ اِس سے قبل اِس طرف ہم اشارہ کر آئے ہیں۔ اور ایک عظیم واقعے کی تفصیلات جب مختلف لوگ بیان کرتے ہیں تو بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے، اِس لیے اگر اسرا و معراج کے راویوں کے بیانات میں بھی بعض اختلافات اور کچھ اوہام پائے جاتے ہیں تو اِس کی وجہ سے نفس واقعہ کی استنادی حیثیت پر اثر نہیں پڑتا۔ ائمۂ حدیث اور شارحین حدیث نے اِن اختلافات و اوہام کی وضاحت بھی کر دی ہے اور جن کے درمیان جمع و تطبیق ممکن تھی، اُن کا حل بھی پیش کر دیا ہے، جس کے بعد اصل واقعہ واضح اور بے غبار ہو جاتا ہے۔‘‘(واقعۂ معراج اور اُس کے مشاہدات 42)

حافظ صلاح الدین یوسف بنی اسرائیل کی آیت 60 کے لفظ ’الرُّؤ ْیَا‘ کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’قرآنِ مجیدمیں (رؤیا) رؤیت ہی کے معنی میں ہے۔ بعض لوگ قرآنِ کریم کی درجِ ذیل آیت سے استدلال کرتے ہوئے اِسے خواب قرار دیتے ہیں:

وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ.

’’اور جو رؤیا (خواب) ہم نے آپ کو دکھایا، اُسے لوگوں کے لیے آزمایش بنا دیا۔‘‘

حالانکہ اِس آیت میں رؤیا خواب کے معنی میں نہیں ہے، جیسا کہ اِس کا زیادہ استعمال اِس معنی میں ہے۔ یہاں اِسے آنکھوں سے دیکھنے کے معنی ہی میں استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ اِس معنی میں بھی استعمال عربی زبان میں ہوتا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے: (رأیته بعینیی رؤیةً و رؤیا) ’’میں نے اُس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا‘‘۔ یعنی آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کو ’رؤیة‘ اور ’رؤیا‘ دونوں لفظوں سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اور علامہ جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وجاء فی اللغۃ الرؤیا بمعنی الرؤیة مطلقًا وھو معنًی حقیقی لھا....

’’لغت میں رؤیا مطلق رؤیت (دیکھنے) کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہی اِس کے حقیقی معنی ہیں، جیسے: (قربیٰ اور قربۃ) ہیں۔‘‘ ‘‘ (واقعۂ معراج اور اُس کے مشاہدات23)

علامہ عبدالعزیز بن باز کے شاگرد ڈاکٹر محمد لقمان سلفی نے اپنی تفسیر ’’تیسیر الرحمٰن‘‘ میں واقعۂ معراج کی نوعیت و کیفیت کے حوالے سے علماے سلف کے اقوال کا خلاصہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اکثر و بیش تر علماے سلف و خلف کی راے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جسم اور روح، دونوں کے ساتھ بیت المقدس اور پھر آسمان پر تشریف لے گئے۔ ابنِ عباس، جابر، انس، حذیفہ، عمر، ابو ہریرہ، مالک بن صعصعہ، ابو حبہ البدری، ابن مسعود، ضحاک، سعید بن جبیر، قتادہ، سعید بن المسیب، ابن شہاب، ابنِ زید، حسن، مسروق، مجاہد، عکرمہ اور ابن جریج کا یہی قول ہے۔ طبری، احمد بن حنبل اور اکثر متاخرین فقہا اور محدثین اور متکلمین و مفسرین کا بھی یہی قول ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ معراج صرف روحانی واقع ہوا تھا، اور اُنھوں نے اِس سورت کی آیت 60 ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ‘ سے استدلال کیا ہے کہ قرآن نے صراحت کردی ہے کہ وہ ایک خواب تھا، اور ابنِ اسحاق نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ کا جسم مبارک اپنی جگہ سے مفقود نہیں پایا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے : ’بینا انا نائم‘۔ کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو میں سویا ہوا تھا۔

اور تیسرا قول یہ ہے کہ بیت المقدس تک کا سفر جسم کے ساتھ طے کیا اور وہاں سے آسمان کی طرف آپ نے روحانی سفر کیا۔ اِس لیے کہ آیت میں اسرا کی تحدید مسجدِ اقصٰی تک کردی گئی ہے۔

قاضی عیاض نے اپنی کتاب ’’الشفا ‘‘میں لکھا ہے کہ حق اور صحیح ان شاء اللہ یہی ہے کہ معراج کا واقعہ آپ کے جسم و روح، دونوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آیتِ کریمہ، صحیح احادیث اور غوروفکر سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ اور ظاہری معنی چھوڑ کر تاویل کی راہ اُس وقت اختیار کی جاتی ہے، جب ظاہری معنی مراد لینا ناممکن ہو۔‘‘ (795-796) 

اِس تفصیل سے ہمارے روایتی موقف کا استدلال، امید ہے کہ واضح ہو گیا ہو گا۔ آیندہ صفحات میں اِس کے بنیادی مباحث کا تنقیدی جائزہ لیا جائے گا۔

____________