بحث و استدلال کے بنیادی اصول
روایتی موقف پر نقد و نظر سے پہلے ہم وہ بنیادی اصول بیان کریں گے،جن پر استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے استدلال کی اساس قائم ہے۔ اسرا و معراج کے حوالے سے اُن کا جو موقف گذشتہ صفحات میں نقل ہوا ہے، اُس میں اِنھی اصولوں کا لحاظ کیا گیا ہے۔آیندہ صفحات میں اُن کے موقف کی تفہیم اور روایتی موقف پر نقد میں بھی یہی اصول بناے استدلال ہوں گے۔ یہ عقل و نقل کے چند مبادیات ہیں، جنھیں اختیار کیے بغیر دین و شریعت کے صحیح فہم تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ یہ درجِ ذیل ہیں:
اول، دین میں قرآنِ مجید کی حیثیت میزان اور فرقان کی ہے۔[33] اِس کے معنی یہ ہیں کہ دین سے متعلق تمام معاملات میں اِسے فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ احادیث و آثار، تاریخ و سیرت، فقہ و تفسیر کے ہر قول، ہر روایت اور ہر راے کو اِس کی ترازو میں تولا جائے گا اور اِس کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ وہی چیز قابلِ قبول ہو گی،جسے یہ قبول کرے گا۔ جسے یہ رد کرے گا،اُسے دین یا اُس کی شرح و وضاحت کی حیثیت سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
اِس اصول پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے اور اِس میں اگر کوئی چیز قرآن و سنت کے خلاف ہو تو اُسے قبول نہ کیا جائے۔ ’’میزان ‘‘میں ہے:
’’...دین میں اُس (قرآن) کی حیثیت میزان اورفرقان کی ہے۔ وہ ہر چیز پر نگران ہے اور حق و باطل میں امتیاز کے لیے اُسے حکم بنا کر اتارا گیا ہے، لہٰذا یہ بات تو مزید کسی استدلال کا تقاضا نہیں کرتی کہ کوئی چیز اگر قرآن کے خلاف ہے تو اُسے لازماً رد ہونا چاہیے۔...نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیثیت نبوت و رسالت میں جو کچھ کیا،اُس کی تاریخ کا حتمی اور قطعی ماخذ بھی قرآن ہی ہے۔ لہٰذا حدیث کے بیش تر مضامین کا تعلق اُس سے وہی ہے، جو کسی چیز کی فرع کا اُس کی اصل سے اور شرح کا متن سے ہوتا ہے۔ اصل اور متن کو دیکھے بغیر اُس کی شرح اور فرع کو سمجھنا،ظاہر ہے کہ کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔حدیث کو سمجھنے میں جو غلطیاں اب تک ہوئی ہیں،اُن کا اگر دقت نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت صاف واضح ہو جاتی ہے۔ عہدِ رسالت میں رجم کے واقعات، کعب بن اشرف کا قتل،عذاب قبر اور شفاعت کی روایتیں، ’أمرت أن أقاتل الناس‘[34]اور ’من بدل دینه فاقتلوہ‘[35] جیسے احکام اِسی لیے الجھنوں کا باعث بن گئے کہ اُنھیں قرآن میں اُن کی اصل سے متعلق کر کے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔‘‘ (63-65)
دوم،قرآنِ مجید صاف اور واضح عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اِس کے الفاظ و اسالیب میں کوئی الجھاؤ، کوئی ابہام، کوئی شذوذ اور کوئی غرابت نہیں ہے۔ یہ اپنا مدعا پوری صراحت کے ساتھ پیش کرتا ہے، جسے اہل علم کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔
’’میزان‘‘ میں بیان ہوا ہے:
’’... قرآن صرف عربی ہی میں نہیں،بلکہ عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔ یعنی ایک ایسی زبان میں جو نہایت واضح ہے،جس میں کوئی اینچ پینچ نہیں ہے،جس کا ہر لفظ صاف اور جس کا ہر اسلوب اپنے مخاطبین کے لیے ایک مانوس اسلوب ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ. بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ. (الشعراء 26: 193- 195) | ’’اِس کو روح الامین لے کر اترا ہے۔ تمھارے دل پر، اِس لیے کہ دوسرے پیغمبروں کی طرح تم بھی خبردار کرنے والے بنو۔ نہایت صاف عربی زبان میں۔‘‘ |
قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ. (الزمر 39: 28) | ’’ایسے قرآن کی صورت میں جو عربی زبان میں ہے، جس کے اندر کوئی ٹیڑھ نہیں ہے، اِس لیے کہ وہ خدا کے عذاب سے بچیں۔‘‘ |
قرآن کے بارے میں یہ ایک واضح حقیقت ہے۔اِسے مانیے تو اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ قرآن کا کوئی لفظ اور کوئی اسلوب بھی اپنے مفہوم کے اعتبار سے شاذ نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے مخاطبین کے لیے بالکل معروف اور جانے پہچانے الفاظ اور اسالیب پر نازل ہوا ہے۔زبان کے لحاظ سے اُس کی کوئی چیز اپنے اندر کسی نوعیت کی کوئی غرابت نہیں رکھتی، بلکہ ہر پہلو سے صاف اور واضح ہے۔ چنانچہ اُس کے ترجمہ و تفسیر میں ہر جگہ اُس کے الفاظ کے معروف معنی ہی پیشِ نظر رہنے چاہییں۔ اِن سے ہٹ کر اُس کی کوئی تاویل کسی حال میں قبول نہیں کی جا سکتی۔‘‘(21-20)
ہمارے نزدیک روایتی مکاتب میں فکر و نظر کی بیش تر غلط فہمیوں کا باعث عقل و نقل کے اِنھی اصولوں سے گریز ہے۔ اسرا و معراج کے واقعات کی تفہیم میں اِنھیں کلیتاً نظر انداز کیا گیا ہے۔[36] قرآن کے قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ نصوص کو ذیلی اور احادیث کے ظنی الثبوت اور ظنی الدلالہ نصوص کو اصل مانا گیا ہے۔ احادیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کے بجاے قرآن کی احادیث کی روشنی میں تاویل کی گئی ہے۔ یہی معاملہ عربی زبان کے معروف الفاظ و اسالیب کے ساتھ ہوا ہے۔ اُنھیں اُن کے مستعمل معانی سے ہٹا کر شاذ اور اجنبی مفاہیم پر محمول کیا گیا ہے۔علم و فکر کے اِس غلط انداز اور فہم و استدلال کی اِس معکوس ترتیب سے قرآن کے میزان اور فرقان ہونے کی منزلت مجروح ہوئی ہے، زبان و بیان کے مسلمات صرفِ نظر ہوئے ہیں اور ایسےمدعا کا ابلاغ ہوا ہے، جو بعض پہلوؤں سے قرآن و حدیث، دونوں کے مطمح نظر کے خلاف ہے۔
اِس معاملے میں ہوا کیا ہے، اُسے سمجھنے کے لیے متعلقہ نصوص اور اُن سے ماخوذ نتائج کا ایک طائرانہ جائزہ ہی کفایت کر سکتا ہے۔ ہر شخص بہ ادنیٰ تامل سمجھ جائے گا کہ پہلےمختلف روایات کو ملا کر ایک واقعہ ترتیب دیا ہے اور پھر اُس کے تناظر میں آیاتِ قرآنی کی تاویل کی گئی ہے۔ قرآن کی کسی آیت نے اگر مرتب شدہ واقعے کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے تو اُس کی ایسی توجیہ کی ہے، جو قرآن کے عرف اور اُس کی زبان کے معروف کے خلاف ہے۔ اِسی طرح اگر کسی روایت میں متصورہ واقعے سے مختلف بات سامنے آئی ہے تو اُس روایت کو رد کر دیا گیا ہے، خواہ وہ جلیل القدر محدثین کے معیارِ صحت پر پوری اترتی ہو۔
____________