جسمانی یا روحانی  کی بحث میں قطعی دلیل

سوال یہ ہے کہ کیا واقعۂ اسرا کے جسمانی یا روحانی ہونے کے حوالے سے نصوص میں کوئی ایسی قطعی دلیل موجود ہے، جو بحث کو حتمی طور پر فیصل کر دے؟ اِس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس معاملے کو مبہم نہیں رکھا، بلکہ واضح طور پر بتا دیا ہے کہ یہ واقعہ کس کیفیت میں پیش آیا تھا۔ چنانچہ نص قطعی کی حیثیت سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کو حاصل ہے۔ اُس سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو جاتی ہے کہ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔

آئیے، اِس بات کو سمجھ لیتے ہیں۔ دیکھیے، ہم نے سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا۔ اِس بیان میں دونوں احتمالات موجود تھے۔یعنی اِسے حالت بیداری میں جسمانی معراج بھی سمجھا جا سکتا تھا اور عالم رؤیا کا سفر بھی قرار دیا جا سکتا تھا۔[37] بات اگر آیت 1 ہی میں محصور ہوتی تو ’سُبۡحٰنَ ‘،’ اَسۡرٰی‘ اور ’عَبۡد ‘ کے اشاراتی یا ظنی دلائل[38] اصل قرار پاتے اور اِن کی روشنی میں دونوں آرا میں سے کوئی ایک راے قائم کر لی جاتی۔  مگر واقعہ یہ ہوا ہے کہ بات آیت 1 تک محدود نہیں ہے۔ آیت 60 میں ایک دوسرے پہلو سے اِس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہاں کلام اللہ نے واضح کر دیاہے کہ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اِس صراحت کے بعد اب اِس معاملے میں قطعی اور فیصلہ کن دلیل سامنے آ گئی ہے۔ چنانچہ درجِ ذیل نکات اِس کا لازمی نتیجہ ہیں:

 1۔ لفظ ’الرؤیا‘ کو بنیادی دلیل کی حیثیت حاصل ہو گی اور باقی تمام دلائل اِس کے توابع کی حیثیت رکھیں گے۔

2۔ ’الرؤیا‘ کا معنی و مفہوم عربی زبان کے عرف کے مطابق طے کیا جائے گا۔

3۔عربی زبان میں ’رؤیا‘ کے معروف معنی نیند میں یا خواب میں دیکھنے کے ہیں، اِس لیے واقعے کو جسمانی نہیں، بلکہ روحانی  قرار دیا جائے گا اور باقی تمام احتمالات کو رد کر دیا جائے گا۔

4۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں مذکور ’سُبۡحٰنَ‘،’اَسۡرٰی‘ اور ’عَبۡد‘ جیسے اشاراتی دلائل  کی تفسیر بھی’الرؤیا‘ کے معنی و مفہوم کو ملحوظ رکھ کر کی جائے گی۔[39] 

5۔ لفظِ ’رؤیا‘ سورۂ بنی اسرائیل کے واقعۂ اسرااور سورۂ نجم کے واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ اور واقعۂ قاب قوسین میں باہمی تعلق کے حوالے سے بھی فیصلہ کن ہو جائے گا۔ اِس کے نتیجے میں یہ لازم ہو گا کہ دونوں واقعات کو الگ الگ سمجھا جائے، کیونکہ ایک میں یہ صراحت ہو گئی ہے کہ وہ عالم رؤیا میں ہوا اور باقی دونوں کے بارے میں یہ واضح ہے کہ وہ عالم بیداری میں کھلی آنکھوں کے ساتھ ہوئے۔ گویا سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60کو  اِسی سورہ کی آیت 1 اورسورۂ نجم کی متعلقہ آیات کے مابین تفریق کے مفہوم پر قولِ فیصل کی حیثیت حاصل ہو گی۔

6۔ واقعۂ اسرا سے متعلق تمام احادیث و آثار کو اِسی حتمی دلیل کی روشنی میں سمجھا جائے گا اور جو بات اِس کے خلاف ہو گی، اُسے خلافِ قرآن قراردے کر رد کر دیا جائے گا۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ’الرؤیا‘ کی لفظی دلیل کو حجتِ قاطع کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ بہ یک قلم اُن تمام دلائل کا رد ہے، جنھیں اِس معاملے میں بالعموم بنیاد بنایا جاتا ہے اور جن کا ذکر ’’فتح الباری‘‘، ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ اور دیگر حوالہ جات کی صورت میں اوپر ہو چکا ہے۔ اِسی طرح یہ اُن دلائل کی تردید کے لیے بھی کفایت  کرتی ہے، جو اِس بحث میں زبان و بیان کے حوالے سے پیش کیے جاتے ہیں اور جنھیں سلف و خلف کے اکثر علما نے اختیار کیا ہے۔

 اِس کے مبرہن ہو جانے سےاستاذِ گرامی کے نقد و نظر  کا استدلال بہ تمام و کمال مکمل ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد اصلاً اِس کی کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ علما کے دلائل کی فرداً فرداً تنقیح کی جائے اور بتایا جائے کہ یہ کیسے قرآن و حدیث کے نصوص اور زبان و بیان کے مسلمات کے خلاف ہیں۔ لیکن چونکہ سلف نے اِنھیں پیش کیا ہے، خلف نے اِن پر اصرار کیا ہے اور عامۃ الناس نے اِنھیں قبول کیا ہے، اِس لیے اِن پر تبصرہ ضروری معلوم  ہوتا ہے۔ یہ تبصرہ آیندہ صفحات میں درج ہے۔ اِسے برسبیل تنزل سمجھنا چاہیے اور اِس پر نظر ڈالتے ہوئے مذکورہ بالا اصل دلیل سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے۔

____________