خلاصۂ کلام

گذشتہ صفحات میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کو بالتفصیل بیان کیا گیاہے۔ اِس کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:

* ’’اسرا و معراج‘‘ کے زیرِ عنوان بیان کی جانےوالی تفصیلات ایک واقعہ نہیں، بلکہ چار الگ الگ واقعات ہیں۔

* اِن میں سے ایک اسرا، دوسرا قاب قوسین، تیسرا سدرۃ المنتہیٰ اور چوتھا معراج ہے۔

* اول الذکر تین واقعات قرآنِ مجید میں اور چوتھا واقعہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔

* اِن واقعات کے زمانۂ وقوع اور ترتیبِ زمانی کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی حتمی بات مذکور نہیں ہے۔

* چار میں سے دو رؤیا کے اور دو بیداری کے مشاہدات ہیں۔

* چاروں من جانبِ اللہ اور نبوت کے ساتھ خاص ہیں، اِس لیے اِن کی نوعیت بہ منزلۂ وحی ہے۔

* چنانچہ خواہ یہ رؤیا کے مشاہدات ہیں یا چشم سر کے، دونوں صورتوں میں یکساں طور پر معتبر  ہیں۔ نیند اور بیداری کے فرق کی بنا پر اِن کے اعتبار میں تفریق نہیں کی جا سکتی۔

* اِن میں سے جو واقعات قرآنِ مجید میں مذکور ہیں، اُن کی قطعیت تو ہر شک و شبہے سے پاک ہے، مگر جو واقعہ روایات میں آیا ہے، اُس کی نسبت اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متحقق ہے تو اُس کی قبولیت میں بھی کسی تردد کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔

* کوئی مسلمان نہ اِن کے وقوع کا انکار کر سکتا ہے اور نہ اِنھیں عام انسانی تجربات کے مماثل قرار دے کر اِن کی الہامی شان کم کر سکتا ہے۔

* چاروں واقعات کے متعلقہ نصوص اِن کی انفرادیت کو پوری طرح واضح کر تے ہیں۔

* تاہم، احادیث و آثار کے بعض راویوں نے اِنھیں ایک واقعےکی صورت میں پیش کیا ہے۔ اِسی بنا پر علما و مفسرین اِنھیں ایک واقعے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

* اِس غلطی کا سبب  لفظی اشتراکات یا واقعاتی مماثلتیں  یا حفظ کے مسائل یا  فہم کی کوتاہیاں یا بیان کی کم زوریاں ہو سکتی ہیں۔

* قرآن کو حدیث کی روشنی میں سمجھنے کے بجاے اگر حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کا اصول اپنا یا جائےتو اِس طرح کی فرو گذاشتوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

____________