خلاصۂ مباحث

اسرا و معراج: علما کا موقف  

 روایتی علما کے موقف کے اہم  نکات درجِ ذیل ہیں:

1۔ اسرا و معراج کے واقعے کا ذکر قرآنِ مجید اور  احادیث، دونوں میں آیاہے۔ قرآن میں اجمال ہے اور احادیث میں تفصیل ہے۔ قرآنِ مجید میں اِس کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل (17) اور سورۂ نجم (53) میں ہوا ہے۔ احادیث میں یہ کم و بیش 25 مختلف طریقوں سے روایت ہوا ہے اور بخاری و مسلم سمیت بیش تر کتب حدیث میں نقل ہے۔

2۔ قرآن و حدیث کے متعلقہ اجزا کو باہم مربوط کرنے سے جو تصویر سامنے آتی ہے، اُس کی بنا پر اِسے ایک واقعے پر محمول کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ چنانچہ اغلب یہی ہے کہ یہ ایک ہی موقعے کا سفر ہے، جو رات کے وقت مسجدِ حرام سے شروع ہو کر مسجد ِاقصیٰ تک اور وہاں سے ملاے اعلیٰ تک پہنچ کر مکمل ہوا۔

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش آیا اور آپ نے بہ چشم سر اور بہ چشم دل، دونوں طریقوں سے آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ فرمایا۔

4۔ یہ درست ہے کہ قرآن و حدیث میں جسمانی معراج اور بیداری کے سفر کی لفظی صراحت نہیں ہے، لیکن دونوں کے اسالیب ِ بیان اِس کے جسمانی ہونے اور حالتِ بیداری میں ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

5۔ یہ بھی درست ہے کہ قرآن مجید نے اِس واقعے کو رؤیا قرار دیا ہے، جس کے معروف معنی نیند میں دیکھنے، یعنی خواب کے ہیں، مگر درجِ ذیل دلائل کی بنا پر اِس سفر کو روحانی سفر یا رؤیا کے سفرپر محمول کرنا درست نہیں ہے:

  1. ’رؤیا‘ کا لفظ زیادہ تر خواب کے مفہوم میں  بولا جاتا ہے۔ تاہم، یہ فقط اِس مفہوم کے لیے خاص نہیں ہے۔ اِس کے ساتھ یہ کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اِس کی دلیل یہ ہے کہ عربی زبان کے مشہور شعرا متنبی اور راعی نے اپنے بعض اشعار میں اِسے بیداری میں دیکھنے کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔
  2. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ  کا قول ہے کہ سورۂ بنی اسرائیل میں لفظ ’رؤیا‘سے مراد ’رؤیۃ عین‘، یعنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔
  3. سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں یہ واقعہ بیان کرنےسے پہلے ’سُبۡحٰن‘ (ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات) کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس اسلوب کا تقاضا ہے کہ اِس کے بعد کوئی نہایت غیر معمولی بات ذکر کی جائے، جس سے اللہ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہو۔ یہ ظہور اُسی صورت میں نمایاں ہوتا ہے، جب چالیس دن کی مسافرت ایک رات کی چند ساعتوں میں طے ہو جائے۔
  4. سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ ’اَسْرٰي‘کے معنی لے جانے کے ہیں۔ یہ ایک عمل ہے، جو کسی جسمانی وجود ہی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اِس کا اطلاق خواب پر نہیں کیا جا سکتا۔
  5. ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِه‘ میں لفظ ’عَبْد ‘ (بندے) کا اطلاق تنہا روح پر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عبد روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اِس لفظ کا استعمال تقاضا کرتا ہے کہ یہاں جسمانی وجود مراد لیا جائے، جو روح و بدن کا مجموعہ ہوتا ہے۔
  6. آیت 60 میں اِس واقعے کے لیے ’فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس واقعے کو لوگوں کے لیے آزمایش بنا دیا گیا۔ فتنہ یا آزمایش،ظاہر ہے کہ کوئی ایسا واقعہ ہی بن سکتا ہے، جو غیر معمولی ہو۔ خواب میں دیکھا جانے والا بڑے سے بڑا واقعہ بھی غیر معمولی تصور نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ یہ ممکن نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناخواب سنایا ہو اور وہ لوگوں کے لیے فتنہ بن گیا ہو؟ یہ فتنہ اُسی صورت میں بن سکتا ہے،جب اِسے ایک جسمانی واقعہ قرار دیا جائے۔
  7. روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ اِس واقعے کی روداد سن کر  لوگوں  نے اِس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔کفار نے اِس کی ہنسی اڑائی اور مسلمانوں میں سے بعض مرتد ہوگئے۔ لوگوں کا یہ رد عمل ثابت کرتا ہے کہ یہ جسمانی سفر کا واقعہ تھا، کیونکہ اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو  اِسے معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا۔ نہ منکرین  اِسے رد کرتے اور نہ مسلمانوں کے ارتداد کی نوبت آتی۔

اسرا و معراج : جناب جاوید احمد غامدی کا موقف

جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کے اہم  نکات درج ذیل ہیں:

1۔ اسرا و معراج کے زیر عنوان بیان کی جانےوالی تفصیلات ایک واقعہ نہیں، بلکہ چار الگ الگ واقعات ہیں۔ اِن میں سے ایک، ’ واقعۂ اسرا‘ ہے، جو قرآن مجید کی سورۂ بنی اسرائیل (17)  میں بیان ہواہے۔یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔ دوسرا،’واقعۂ قاب قوسین ‘ ہے، جو سورۂ نجم  (53) کی آیات 1 تا12 میں مذکور ہے۔ یہ عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔ تیسرا، ’واقعۂ سدرہ‘ ہے، جو سورۂ نجم (53) ہی  کی آیات 13 تا18 میں درج ہے۔ یہ بھی عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔ چوتھا، [72]  ’واقعۂ معراج‘ ہے، جو صحیح بخاری کی روایت، رقم 7517اور بعض دیگر روایتوں میں نقل ہوا ہے۔ یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔

2۔ اِن کے چارالگ الگ واقعات ہونے کی دلیل یہ ہے کہ قرآن و حدیث نے اِنھیں ایک واقعے کی حیثیت سے پیش نہیں کیا، بلکہ اِن کی تفریق کو نمایاں کیا۔

3۔ یہ چاروں واقعات من جانبِ اللہ ہیں۔اِن کی نوعیت آیاتِ الٰہی کی اور اِن کی حقیقت وحی و الہام کی ہے۔ اِن میں مذکوراخبار و اطلاعات اور واقعات و مشاہدات کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ نبوت  و رسالت سے ہے۔  لہٰذا اِنھیں اِسی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے اور اِسی اعتبار سے اِن کی شرح و تفسیر کرنی چاہیے۔

4۔ واقعۂ اسرا  جسمانی ہے یا روحانی؟ اِس معاملے میں سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے لفظ ’الرُّءۡیَا‘ کو نص قطعی کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس معاملے کو مبہم نہیں رکھا، بلکہ واضح طور بتا دیا ہے کہ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔ چنانچہ اب ضروری ہے کہ ’سُبۡحٰن‘، ’اَسۡرٰی‘ اور ’عَبۡد‘ کے الفاظ کو ’الرُّءۡیَا‘ کی روشنی میں سمجھا جائے۔

5۔ ’رؤیا‘عربی زبان کا نہایت معروف لفظ ہے۔ عربی میں یہ  نیند میں دیکھنے کے معنوں میں ایسے ہی استعمال ہوتا ہے، جیسے ہم انگریزی، ہندی اور اردو میں ڈریم (Dream)، سپنا اور خواب کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اِس کے شعر و ادب میں خواب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اِسی لفظ کو اختیار کیا جاتا ہے۔ عربی لغات میں اِس کے یہی معنی درج ہیں۔ احادیث میں یہ کم و بیش سات سو مقامات پر استعمال ہوا ہےاور ہر جگہ اِسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔قرآنِ مجید میں بھی یہ مختلف سورتوں میں سات مرتبہ آیا ہے۔ ہر موقع پر اِس سے خواب ہی مرادہے۔  اِس لفظ کے معنی و مفہوم کا اگر یہ معاملہ ہے تو پھر ضروری ہے کہ مذکورہ آیت میں اِسے خواب ہی کے معنوں میں لیا جائے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر اسرا کے سفر کو روحانی سفر پر محمول کرنا چاہیے۔

 6۔ تاہم، اِس رؤیا سے وہ  خواب مراد نہیں ہے، جو انسانوں کا روز مرہ کا تجربہ ہے۔ ہرگز نہیں، یہ وہ رؤیا ہے،جو وحی الٰہی کی ایک قسم ہے اور جس سے صرف انبیاے کرام ہی مستفیض ہو سکتے ہیں۔ عام انسانوں کا اِس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انبیاے کرام کو جو کچھ رؤیا میں دکھایا جاتا ہے، وہ صادق، یقینی اور مبنی بر حقیقت ہوتا ہے اور بعض اوقات بیداری میں بہ چشم سر دیکھنے سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہوتا ہے۔

7۔رؤیا کے معنی و مفہوم کے حوالے سے روایتی استدلال کے جملہ دلائل قرآن و حدیث اور زبان و بیان کے منافی ہیں۔ اِن کی تردید کے نکات درج ذیل ہیں:

  1. رؤیا کے معنی کے تعین میں ابو طیب متنبی کا محولہ شعر اِن وجوہ سے لائق استناد نہیں ہے:

اولاً،آیت نے ایسا تقاضا نہیں کیا کہ اُس کے لفظ یا اسلوب کو سمجھنے کے لیے خود قرآن سے باہر جا کر کلام عرب سے استشہاد کرنا پڑے۔

ثانیاً، آیت اور شعر کے مابین تالیفِ کلام یا اسلوب بیان کے اشتراک یا مشابہت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں لفظ ’رءۡیَا‘ اپنے حقیقی معنوں میں آیا ہے، جب کہ متنبی نے اِسے مجازی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ یہ بات زبان و بیان کا مسلمہ ہےکہ استشہاد کی غرض سے لفظ کے حقیقی اور مجازی استعمالات ایک دوسرے کے لیے کارآمد نہیں ہو سکتے۔

ثالثًا، ابو طیب متنبی کا شمار اُن شعرا میں نہیں ہوتا،جن کے کلام سے فہم قرآن میں استشہاد کیا جا سکتا ہے۔ یہ عباسی دور کا شاعر ہے اور عربی شاعری کے چار طبقات میں سے چوتھے طبقے میں شمار ہوتا ہے، جب کہ یہ مسلمہ ہے کہ قرآن و حدیث کی زبان میں استشہاد کے لیے ابتدائی دو طبقات کے شعرا ہی کے نظائر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

  1. راعی کے جس شعر سے استشہاد کیا گیا ہے، اُس میں بھی ’رؤیا‘ کا لفظ مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مذکورہ آیت میں چونکہ یہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں آیا ہے، لہٰذا اُس کے لیےراعی کا شعر بہ طورِ نظیر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
  2.  آیۂ زیر بحث میں ’سُبۡحٰن‘ کا لفظ قدرت کی صفت کو نمایاں کرنے کے لیے نہیں آیا، جیسا کہ عام طور پر خیال کیا گیا ہے، بلکہ یہ اللہ کے سمیع و بصیر ہونے کے پہلو سے آیا ہے۔آیت کا آغاز ’سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا‘ (ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو ایک راتوں رات مسجدِ حرام سے اُس دور کی مسجدتک لے گئی) اور اختتام ’اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‘ (بے شک، وہی سمیع و بصیر ہے) کے الفاظ پر ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ’سُبۡحٰن‘ جس پہلو سے آیا ہے، اُس کا تعین’السَّمِيْعُ الْبَصِيْر‘ کے الفاظ سے کیا جائے گا اور یہ مفہوم اخذ کیا جائے گا کہ اللہ اِس سے پاک ہے کہ اُس کے سمیع وبصیر ہونے کی صفات کے بارے میں کوئی سوء ظن قائم کیا جائے۔
  3. علما کا استدلال ہے کہ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘ میں ’اَسْرٰي‘ (لے جانے) کا فعل اور ’عَبْد‘ (بندہ)  کا اسم، دونوں، چونکہ روح و بدن کے مجموعے (انسان) کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اِس لیے لازم ہے کہ یہاں جسمانی سفر مراد لیا جائے۔ یہ استدلال زبان و بیان کے مسلمات سے انکار کے مترادف ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر زبان کا مسلمہ ہےکہ جو اسالیب آپ بیداری کے افعال کے لیے اختیار کرتے ہیں، بعینہٖ وہی خواب کے لیے اختیار کرتے ہیں۔بس اتنا فرق ہوتا ہے کہ پہلے یا بعد میں اُس کے خواب ہونے کی تصریح کر دی جاتی ہے۔قرآنِ مجید میں سورۂ فتح اور سورۂ صافات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب بیان ہوئے ہیں۔ دونوں میں استعمال ہونے والے اسما و افعال وہی ہیں، جو بیداری کے واقعات کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔
  4. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے واقعۂ اسرا کی کیفیت کو واضح کرنے کے لیے ’رؤیا عین‘ کی تعبیر اختیار کی ہے۔اِس کے معنی آنکھوں سے دیکھنے کے نہیں ہیں، جیسا کہ عموماً بیان کیا جاتا ہے۔اِس کے معنی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب کے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداری میں ظاہری بصارت سے باطنی مناظر کا مشاہدہ فرمایا تھا۔ یہ تاویل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشاہدات سے غیر مطابق نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس نوعیت کے مشاہدات مبنی بر حقیقت ہیں اور معلوم و معروف ہیں۔ اِس کی مثال وہ واقعہ ہے، جب ایک موقع پر نماز کسوف کی امامت کے دوران میں جنت ممثل کر کے  آپ کے سامنے لائی گئی اور آپ نے اُس میں سے پھلوں کا خوشہ لینے کے لیے اپنے قدم آگے بڑھائے۔اِس نوعیت کے کسی واقعے کے لیے ’رؤیا عین‘ یا اِس طرح کی کوئی دوسری تعبیر اختیار کی جا سکتی ہے۔ لیکن، جہاں تک واقعۂ اسرا کا تعلق ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی جلالتِ علمی کے اعتراف اور اُن کے مقام و مرتبے کے اقرار کے باوجود اِس پر نہ ’رؤیا عین‘ (کھلی آنکھوں سے دیکھے گئے رؤیا) کی تعبیر کا اطلاق ہو سکتا ہے اور نہ اِسے بیداری کے واقعے پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خود پروردگار نے اِس واقعے کو ’رؤیا‘ قرار دیا ہے۔اِس کے بعد اِسے رؤیت بصری یا ’رؤیا عین‘ کے معنی میں لینا ممکن نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں اگر یہ صراحت نہ ہوتی تو پھر قرائن اور نظائر کی بنا پر اِس طرح کا کوئی قیاس کرنے کی گنجایش ہو سکتی تھی۔
  5. یہ استدلال بھی درست نہیں ہے کہ  ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ کسی محیر العقول واقعے کے وقوع کو لازم کرتے ہیں۔ یہ دلیل بھی باقی دلائل کی طرح نہایت کم زور ہے۔ اِس کے بنیادی وجوہ یہ ہیں:

ا۔  یہ اِس مفروضے پر مبنی ہے کہ کفار قریش  انسانی سطح پر یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کسی محیر العقول واقعے کو ناممکن الوقوع سمجھتے تھے۔ یہ مفروضہ درست نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ  اپنے اوہام اور عقائد کی وجہ سے اپنے بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں سے ہر طرح کے خارقِ عادت واقعات  کے قائل تھے۔ اِسی بنا پر اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ کاہن اور جادوگر قراردینے کا بہانہ تراش رکھا تھا۔ لہٰذا کسی واقعے کا خارقِ عادت یا محیر العقول ہونا ایسی چیز نہ تھی، جو اُن کے لیے فتنے کا باعث بن سکتی تھی۔

ب۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  اگلی صبح لوگوں کے اجتماع میں جب  مسجدِ اقصیٰ کی عمارت کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا تو کفارِ قریش کو اگر کوئی تردد تھا بھی تو اُسے اُس وقت ختم ہو جانا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا، بلکہ وہ بہ دستور واقعے کے انکار پر قائم رہے۔اِس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ واقعے کے خارقِ عادت ہونے یا نہ ہونے کا ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘ سے تعلق نہیں ہے۔

ج۔ مذکورہ استدلال کفارِ قریش کے عذر کو تسلیم کرنے پر منتج ہوتا ہے، جسے نہ آیت کے الفاظ قبول کرتے ہیں اور نہ تاریخی حقائق اِس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں گویا ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اگر کفار اِس واقعے کا مشاہدہ کر لیتے اور آپ کو آسمان کی بلندیوں کی طرف عروج کرتے ہوئے دیکھ لیتےتو پھر اُن کے لیے یہ واقعہ فتنہ نہ بنتا، دراں حالیکہ واقعہ یہ ہے کہ بے شمار معجزات کے مشاہدے کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے تھے۔

د۔ جو تجربہ و مشاہدہ  فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، وہ  عالم خواب میں تھا یا عالم بیداری میں،  لوگوں کے لیے تو اُس کی حیثیت آپ کے بیان ہی کی تھی۔چنانچہ اِس اعتبار سے اُن کے لیے دونوں کیفیات کی حیثیت یکساں تھی۔

ہ۔ آیت 60 کے آخری جملے میں خود اللہ تعالیٰ نے ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ کی تفسیر کر دی ہے۔ اِس کے بعد کوئی اندازہ قائم کرنے یا کوئی دور از کار تاویل پیش کرنے کی گنجایش ہی ختم ہو گئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ’وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا‘ (ہم تو اِن کے انجام سے اِنھیں ڈرا رہے ہیں، لیکن یہ چیز اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے)، یعنی جو چیز فتنے کا باعث بنی ہے، وہ معاملے کا خارقِ عادت ہونا یا نہ ہونا نہیں ہے، وہ انجام کا ڈراوا ہے۔ ’نُخَوِّفُهُمْ‘کے الفاظ اِس پر دلیل قاطع کی حیثیت رکھتے ہیں۔

  1. زبان و بیان کے صریح شواہد کے مقابل میں لوگوں کے رد عمل سے استدلال  عقل اور نقل، دونوں پہلوؤں سے غلط ہے۔ لہٰذا اِس معاملے میں تاریخی قصص لائق اعتنا ہی نہیں ہیں۔ تاہم، اِس کے باوجود واضح رہے کہ واقعۂ اسرا سے متعلق ارتداد کی تمام روایات  محدثین کے نزدیک ضعیف اور مردود ہیں۔

 ____________