’رؤیا‘ سے مراد ـــــــــ روایتی موقف کا جائزہ
قرآنِ مجید میں واقعۂ اسرا سورۂ بنی اسرائیل (17) میں بیان ہوا ہے۔ اِس کی ابتدائی آیت میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے کا ذکر آیاہے اور آ یت60 میں لے جانے کی کیفیت مذکور ہے۔ ارشاد ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ. (1:17) | ’’ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گئی، جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہےتاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیرہے۔‘‘ |
...وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ....(60:17) | ’’...ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا...۔‘‘[40] |
اِن آیات کے حوالے سے دو باتوں پر اتفاق پایا جاتا ہے:
ایک یہ کہ سورۂ بنی اسرائیل میں فقط اُس سفر کا ذکر ہے، جو بیت الحرام سے بیت المقدس تک ہوا ہے۔ آسمانوں کا سفر یہاں مذکور نہیں ہے۔
ثانیاً، آیت 60 میں ’الرُّءْيَا ‘ کا جو لفظ آیا ہے، اُس کی نسبت سفراقصیٰ کے اُسی واقعے سے ہے، جو آیت 1 میں بیان ہوا ہے۔
صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی تفاسیر کے جامع امام ابن جریر طبری کا قول ہے کہ اِس پر جلیل القدر مفسرین کا اتفاق ہے کہ آیت 60 میں ’رُءْيَا‘ کا لفظ شبِ اسراکے لیے آیا ہے۔تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:
... ولهذا اختار ابن جرير أن المراد بذلك ليلة الإسراء ... قال لإجماع الحجة من أهل التأويل على ذلك.(5/85) | ’’...لہٰذا امام ابنِ جریر نے اِس موقف کو اختیار کیا ہے کہ (آیت 60 کے اِس مقام سے) اسرا کی رات مراد ہے۔ ...اُن کے نزدیک اہل تفسیر کے جلیل القدر ائمہ کا اِس بات پر اتفاق ہے۔‘‘ |
امام ابو عبداللہ قرطبی نے اپنی تفسیر’’الجامع لاحکام القرآن ‘‘میں آیت 60 کے تحت لکھا ہے :
قوله تعالٰى: ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘‘. لما بين أن إنزال آيات القرآن تتضمن التخويف ضم إليه ذكر آية الإسراء، وهي المذكورة في صدر السورة. (10/282) | ’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘. اِس آیت میں جب یہ فرمایا کہ قرآن کی آیات کا نزول تنبیہ و تخویف کو شامل ہے تو اِس سے آیتِ اسرا کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہ آیت اِس سورہ کے آغاز میں آئی ہے۔‘‘ |
واضح ہوا کہ سلف و خلف کے علما اِس بات پر متفق ہیں کہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے الفاظ ’الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ‘ (ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا) میں جس واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ واقعۂ اسرا ہے، اور اِسی کا ذکر سورہ کی آیت 1 میں ہوا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ علما کی یہ متفقہ راے ہے کہ واقعۂ اسرا عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔
’رؤیا‘ عربی زبان کا نہایت معروف اور مستعمل لفظ ہے۔اِس میں یہ نیند میں دیکھنے کے معنوں میں ایسے ہی استعمال ہوتا ہے، جیسے ہم انگریزی، ہندی اور اردو میں ڈریم (Dream)، سپنا اور خواب کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ عربی لغات میں اِس کے یہی معنی درج ہیں۔ اِس کے شعر و ادب میں خواب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اِسی لفظ کو اختیار کیا جاتا ہے۔ احادیث میں یہ کم و بیش سات سو مقامات پر استعمال ہوا ہےاور اِسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔قرآنِ مجید میں بھی یہ مختلف سورتوں میں سات مرتبہ آیا ہے۔ ہر جگہ اِس سے خواب ہی مرادہے۔
ہمارے علما خواب کے معنوں میں اِس کے عمومی استعمال کا انکارتو نہیں کرتے، بلکہ قرآن و حدیث کی شرح و تفسیر میں خواب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے خود بھی یہی لفظ اختیار کرتے ہیں، لیکن اسرا کے سفر کو چونکہ وہ جسمانی سفر قرار دیتے ہیں، اِس لیے اُس کی نسبت سے آنے والے لفظ ’رؤیا‘ کو خواب کے بجاے بیداری میں دیکھنے پر محمول کرتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر جسمانی تھا۔ اِس سفر کے دوران میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مشاہدات کرائے گئے، وہ عالم بیداری میں تھے اور آپ نے جو کچھ بھی دیکھا، بہ چشم سر اور کامل بصارت سے دیکھا۔
علما کا یہ موقف جن دلائل پر مبنی ہے، اُن کا خلاصہ درجِ ذیل ہے۔ یہی دلائل ہیں، جو اِس موضوع پر استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کی تردید کے لیے پیش کیے جاتےہیں۔
1۔’ رؤیا‘ کا لفظ زیادہ تر خواب کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ تاہم، یہ فقط اِس مفہوم کے لیے خاص نہیں ہے۔ اِس کے ساتھ یہ کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اِس کی مثال عربی زبان کے مشہور شاعرمتنبی کا ایک شعر ہے۔اِس میں یہ لفظ نیند میں دیکھنے کے بجاے بیداری میں دیکھنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل کے لفظ ’ رؤیا‘سے ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کا مفہوم اخذ کرنا اور اِس بنا پر مسجدِ اقصیٰ کے سفر کو جسمانی سفر پر محمول کرنا عربی زبان و ادب کے بالکل مطابق ہے۔ امام ابنِ حجر عسقلانی نے ’’فتح الباری‘‘ میں آیۂ اسرا کے تحت لکھا ہے:
وممنِ استعمل الرؤيا في اليقظة المتنبي في قوله: ورؤياك أحلى في العيون من الغمض.(5/673) | ’’اور جن لوگوں نے ’الرؤیا‘ کو بیداری کے معنی میں استعمال کیا ہے، اُن میں سےایک متنبی ہے۔ اُس کا قول ہے: ’ورؤياك أحلى في العيون من الغمض‘ (یہ تیرا رؤیا آنکھوں کے لیےنیند سے بھی زیادہ شیریں ہے)۔‘‘ |
یہی معاملہ عربی کے معروف شاعر راعی کے ایک شعر کا بھی ہے۔ اُس میں اُس کے الفاظ ہیں: ’فکبر للرؤیا وھش فؤادہ‘ (اُس نے یہ ’رؤیا‘ (منظر )دیکھا تو اللہ اکبر کہا اور اُس کا دل خوشی سے سرشار ہو گیا)۔ اِس سے بھی واضح ہے کہ عربی زبان میں ’رؤیا‘ کا لفظ بیداری میں دیکھنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
2۔عربی زبان و ادب سے استشہاد اور قرآن و حدیث کی شرح و تفسیر کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حیثیت مسلم ہے۔ صحیح بخاری میں اُن سے منقول ہے کہ سورۂ بنی اسرائیل میں لفظِ ’رؤیا‘سے مراد ’رؤیت عین‘، یعنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔[41] اب اگر اُن جیسے جلیل القدر مفسر نے یہ تفسیر کر دی ہے تو پھر ہمیں اپنی قیاس آرائی کی ضرورت نہیں ہے۔اُن کے قول کو اِس معاملے میں دلیل قاطع کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:
عن ابن عباس: هي رؤيا عين أريها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ليلة أسري به.(5/84) | ’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کی تفسیر میں) بیان کرتے ہیں کہ اِس میں’رؤیا‘ سے مراد آنکھوں کا دیکھنا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس رات دکھایا گیا، جب آپ کو لے جایا گیا۔‘‘ |
3۔ اب جب کہ یہ طے ہے کہ ’رؤیا‘کے معنی کھلی آنکھوں سے دیکھنےکے بھی ہو سکتے ہیں اور حبرالامہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے اِس کے یہی معنی بتائے ہیں تو پھر یہ ضروری ہے کہ آیت 60 کی تاویل آیت 1 کی روشنی میں کی جائے۔یہ درست نہیں ہو گا کہ آیت 1 کی تفصیلات کو آیت60 کی روشنی میں دیکھا جائے۔ آیت 1 کے افعال، اسما اور اسالیب روحانی کے بجاے جسمانی واقعے کے لیے موزوں ہیں۔ لہٰذا ’رؤیا‘ کے مفہوم کو اِنھی کی روشنی میں متعین کرنا چاہیے۔
4۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں یہ واقعہ بیان کرنےسے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزگی بیان فرمائی ہے۔ اِس کے لیے ’سُبۡحٰن‘ (ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات) کا لفظ آیا ہے۔ اِس اسلوب کا تقاضا ہے کہ اِس کے بعد کوئی نہایت غیر معمولی بات ذکر کی جائے۔ اگر یہ واقعہ خواب کا مانا جائے تو ’سُبۡحٰن‘کے کلمۂ تنزیہ کا اگلی بات سے تعلق واضح نہیں ہوتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خواب میں دور دراز کا سفر کر لینا یا خلافِ قیاس چیزوں کا مشاہدہ کر لینا عام انسانی تجربہ ہے۔ اِس کیفیت کا واقعہ مخاطبین کے لیے محیر العقول اور خارقِ عادت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ لفظ ’سُبۡحٰن‘ کا تقاضا ہے کہ اِس کے بعد بیان ہونے والے واقعے کو ایسا غیر معمولی معجزہ سمجھا جائے، جس سے اللہ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہو۔ یہ ظہور، ظاہر ہے کہ اُسی صورت میں نمایاں ہوتا ہے، جب چالیس دن کی مسافرت ایک رات کی چند ساعتوں میں طے ہو جائے۔
امام ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
والدليل على هذا قوله تعالٰى: سُبْحَان الَّذِي ... فالتسبيح إنما يكون عند الأمور العظام، ولو كان منامًا لم يكن فيه كبير شىء، ولم يكن مستعظمًا.(تفسیر ابن کثیر 5/40) | ’’اِس بات کی ایک دلیل ’سُبْحَانَ الَّذِيْ‘... کے الفاظ ہیں۔ (یعنی اللہ نے اپنی پاکیزگی بیان فرمائی ہے) تسبیح کے الفاظ اِس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اِن کے بعد کوئی بہت اہم بات بیان ہو۔ چنانچہ اگر یہ واقعہ خواب کا مانا جائے تو خواب میں ایسے واقعات کا مشاہدہ کوئی بڑی اور غیر معمولی بات نہیں ہے۔‘‘ |
5۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی ’’جو لے گیا اپنے بندے کو‘‘۔ یہاں ’اَسْرٰي‘کا فعل خواب کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اِس کے معنی لے جانے کے ہیں۔ یہ ایک عمل ہے، جو کسی جسمانی وجود ہی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اِس کا اطلاق خواب پر نہیں ہو سکتا۔ اِسی طرح لفظ ’عَبْد‘ (بندے) کا اطلاق تنہا روح پر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عبد روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اِس لفظ کا استعمال تقاضا کرتا ہے کہ یہاں جسمانی وجود مراد لیا جائے، جو روح و بدن کا مجموعہ ہے۔ ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:
... فإن العبد عبارة عن مجموع الروح والجسد وقد قال ’’أَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا‘‘.(5/41) | ’’... مزید برآں، یہاں ’أَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں لفظ ’عَبْد ‘ کا اطلاق روح اور جسم کے مجموعے پر ہوتا ہے۔‘‘ |
6۔ آیت 60 میں اِس واقعے کے لیے ’فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ آئے ہیں، جن سے واضح ہے کہ اِس واقعے کو لوگوں کے لیے آزمایش بنا دیا گیا۔ فتنہ یا آزمایش،ظاہر ہے کہ کوئی ایسا واقعہ ہی بن سکتا ہے، جو غیر معمولی ہو۔ خواب میں انسان غیر معمولی چیزوں کا مشاہدہ کرتے رہتےہیں۔ جب وہ ایک دوسرے کو ایسے مشاہدات سے آگاہ کرتے ہیں توکسی کے لیے حیرت اور اچنبھے کی بات نہیں ہوتی۔ لہٰذا وہ کسی تعجب کے بغیر دوسروں کے خواب سنتے اور اپنے خواب اُنھیں سناتے ہیں۔کوئی خواب نہ اُن کے لیے تردد پیدا کرتا ہے اور نہ فتنہ و آزمایش بنتا ہے۔اگر انسانوں کا عام رویہ یہ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناخواب سنایا ہو اور وہ لوگوں کے لیے فتنہ بن گیا ہو؟ یہ فتنہ اُسی صورت میں بن سکتا ہے،جب اُسے ایک جسمانی واقعہ قرار دیا جائے۔ اِس صورت میں آزمایش بننے کے تمام لوازم اُس کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں۔
امام ابنِ حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
’’اِس بات میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے کہ بیت المقدس تک آپ کا ایک رات میں سیر کرنا بیداری میں تھا، اِس لیے کہ اِس پر ظاہر قرآن ناطق ہے اور اِس لیے کہ قریش نے اِس کا انکار کیا اور اگر بیت المقدس تک سیر کرنا خواب میں ہوتا تو قریش انکار نہ کرتے۔‘‘ (فتح الباری 1/460)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اِس بات کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ آیت 60 کے تحت لکھتے ہیں:
’’اشارہ ہے معراج کی طرف۔ اِس کے لیے یہاں لفظ ”رؤیا“ جو استعمال ہوا ہے، یہ ”خواب“ کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ آنکھوں سےدیکھنے کے معنی میں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ محض خواب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے خواب ہی کی حیثیت سے کفار کے سامنے بیان کیا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ اُن کے لیے فتنہ بن جاتا۔ خواب ایک سے ایک عجیب دیکھا جاتا ہے، اور لوگوں سے بیان بھی کیا جاتا ہے، مگر وہ کسی کے لیے بھی ایسے اچنبھے کی چیز نہیں ہوتا کہ لوگ اِس کی وجہ سے خواب دیکھنے والے کا مذاق اڑائیں اور اُس پر جھوٹے دعوے یا جنون کا الزام لگانے لگیں۔‘‘ (تفہیم القرآن 2/627)
7۔روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ واقعۂ اسرا کی روداد سن کر لوگوں نے اِس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔کفار نے اِس کی ہنسی اڑائی اور مسلمانوں میں سے بعض مرتد ہوگئے۔ لوگوں کا یہ ردِ عمل ثابت کرتا ہے کہ یہ جسمانی سفر کا واقعہ تھا، کیونکہ اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو اِسے معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا۔ نہ منکرین اِسے رد کرتے اور نہ مسلمانوں کے ارتداد کی نوبت آتی۔
’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:
فالتسبيح إنما يكون عند الأمور العظام، ولو كان منامًا لم يكن فيه كبير شىء ولم يكن مستعظمًا، ولما بادرت كفار قريش إلى تكذيبه، ولما ارتدت جماعة مما كان قد أسلم. (5/40) | ’’(واقعۂ اسرا کے جسمانی ہونے کی دلیل تسبیح کے الفاظ ہیں) اللہ کی پاکی بیان کرنے کا لازمی تقاضا ہے کہ اِس کے بعد نہایت عظیم الشان بات کا تذکرہ کیا جائے۔ لیکن اگر اِس سفر کو خواب پر محمول کیا جاتا ہے تو اِسے بہت بڑا اور غیر معمولی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا (اور تسبیح کے الفاظ سے اِس کی مطابقت نہیں ہوتی)، کیونکہ اِس صورت میں نہ کفار ِقریش آپ کی تکذیب کرنے میں جلدی کرتے اور نہ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ایک گروہ ارتداد اختیار کرتا۔‘‘ |
اِن دلائل کی بنا پر ہمارے علما کا اصرار ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس سفر کو روحانی سفر یا رؤیا کے سفرپر محمول کرنا درست نہیں ہے، اِسے جسمانی سفر سمجھنا چاہیے۔
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک واقعۂ اسراکے حوالے سے علما کا یہ موقف درست نہیں ہے۔ اُن کی جلالتِ علمی اور دینی حمیت کے اعتراف کے باوجود، واقعہ یہ ہے کہ یہ موقف زبان و بیان کے مسلمات، علم و استدلال کےمحکمات اورقرآن و حدیث کے نظائر کے منافی ہے اور نتیجے کے لحاظ سے کتاب اللہ اور رسول اللہ کی بات کو اپنا مفہوم دینے کے مترادف ہے۔
واقعۂ اسراکے اجزا اور اِس کی نوعیت کے بارے میں جملہ تفصیلات ابتدا میں بیان ہو چکی ہیں۔ یہاں ہم علما کے موقف پر استاذِ گرامی کا نقد پیش کریں گے۔
____________