8۔لوگوں کے ردِ عمل سے استدلال

اسرا و معراج کو جسمانی سفر کا واقعہ قرار دینے کے لیے لوگوں کے ردِ عمل سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔ یہ استدلال احادیث اور تاریخ و سیرت کی بعض روایتوں پر مبنی ہے۔ جن میں  بیان ہوا ہے کہ واقعۂ اسرا سے اگلے روز جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اِس سے آگاہ فرمایا تو کفارِ قریش نے اِس کو جھٹلا دیا اور  مسلمانوں میں سے کئی لوگ مرتد ہو گئے۔ علما کے نزدیک تکذیب اور ارتداد کا یہ واقعہ دلیل ہے کہ یہ سفر نہایت محیر العقول اور بہ ظاہر ناقابلِ یقین تھا۔ چنانچہ اِسے جسمانی ماننا ضروری ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ سفر کی نوعیت اگر فقط روحانی ہوتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِسے خواب میں پیش آنے والے ایک واقعے کے طور پر بیان فرماتے تو نہ کفار اِس کا انکار کرتے اور نہ بعض مسلمان اسلام چھوڑنے کا فیصلہ کرتے۔ وہ سب اِسے عام انسانی خواب سمجھ کر تسلیم کر لیتے۔ اُن کا اِنکار ثابت کرتا ہے کہ یہ واقعہ بیداری میں جسمانی طور پر پیش آیا تھا۔ گویا اُن کے لیے عقلاً محال تھاکہ دو تین ماہ کے سفر کو ایک رات میں طے ہونے پر یقین کر لیں۔’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:

فالتسبيح إنما يكون عند الأمور العظام، فلو كان منامًا لم يكن فيه كبير شيء ولم يكن مستعظمًا، ولما بادرت كفار قريش إلى تكذيبه، ولما ارتدت جماعة مما كان قد أسلم. (5/40)

’’(واقعۂ اسرا کے جسمانی ہونے کی دلیل تسبیح کے الفاظ ہیں) اللہ کی پاکی بیان کرنے کا لازمی تقاضا ہے کہ اِس کے بعد نہایت عظیم الشان بات کا تذکرہ کیا جائے۔ لیکن اگر اِس سفر کو خواب پر محمول کیا جاتا ہے تو اِسے بہت بڑا اور غیر معمولی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا (اور تسبیح کے الفاظ سے اِس کی مطابقت نہیں ہوتی)، کیونکہ اِس صورت میں نہ کفار ِ قریش آپ کی تکذیب کرنے میں جلدی کرتے اور نہ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ایک گروہ ارتداد اختیار کرتا۔‘‘

علامہ قرطبی نے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے الفاظ ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے حوالے سے لکھا ہے:

وكانت الفتنة ارتداد قوم كانوا أسلموا حين أخبرهم النبي صلى اللّٰه عليه وسلم أنه أسري به. وقيل: كانت رؤيا نوم. وهذه الآية تقضي بفساده، وذلك أن رؤيا المنام لا فتنة فيها، وما كان أحد لينكرها.

                          (الجامع لاحکام القرآن 5/282)

’’’’فتنہ‘‘سے مراد اُن لوگوں کا مرتد ہونا ہے، جو اسلام لا چکے تھے۔ یہ اُس وقت ہوا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں بتایا کہ آپ کو (مسجدِ اقصیٰ) لے جایا گیا ہے۔ اِس واقعے کو نیند میں دیکھے جانے والے خواب پر بھی محمول کیا گیا ہے۔ لیکن یہ آیت اِس قول کے فاسد ہونے کو لازم کرتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خواب کے عالم میں اِس طرح کا بیان کوئی فتنہ یا آزمایش نہیں بنتا اور اِسے سن کر کوئی شخص بھی اِس کا انکار نہیں کرتا۔ ‘‘

اِس موضوع سے متعلق روایتوں کی صحت یا عدم صحت سے قطع نظر، مذکورہ استدلال اور طرزِ استدلال، دونوں بے بنیاد ہیں۔ اِس کے پیچھے شعوری یا غیر شعوری طور پر جو تصور کارفرما ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے لیے اسلام قبول کرنے، اُس پر قائم رہنے یاکفر اختیار کرنے کا ایک بڑا سبب خارقِ عادت واقعات اور حسی معجزات بھی تھے۔ قرآنِ مجید اِس تصور کی نفی کرتا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کی طرف سے کیے گئے خارقِ عادت معجزات کے مطالبات بیان کیے ہیں اور اُن پر تبصرہ کرتے ہوئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو  فرمایا ہے کہ قریش سے پوچھیے: ’’ کیا میں ایک انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں، جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے‘‘؟استاذِ گرامی کے الفاظ میں اِس جملے کا مطلب یہ ہے: 

’’... (ایسے مطالبات کرنے والوں سے کہیےکہ)میں نے خدا ہونے کا دعویٰ کب کیا ہے؟ میں نے کب تم سے کہا ہے کہ میں ہر چیز پر قدرت رکھتا ہوں؟ میں نے کب کہا ہے کہ زمین و آسمان میری مٹھی میں ہیں اور میں اُن میں جو تصرف چاہوں، کر سکتا ہوں؟ میں نے پہلے دن سے صرف اِتنی بات کہی ہے کہ میں ایک انسان ہوں اور خدا نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ مجھے بتاؤ کہ میری اِس بات کا تمھارے اِن مطالبات سے کیا تعلق ہے؟ یہ سب تو خدا کے کام ہیں اور میں نے ایسا کوئی دعویٰ کبھی نہیں کیا ہے۔‘‘ 

(البیان 3/109)

متعلقہ آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا. وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا. اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا.

’’ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کے لیے طرح طرح سے ہر قسم کی حکمت کی باتیں بیان کی ہیں، پھر بھی اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہیں رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم تمھاری بات نہ مانیں گے، جب تک تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ نہ جاری کر دو۔ یا تمھارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ پیدا نہ ہو جائے، پھر اُس کے بیچ میں تم بہت سی نہریں نہ دوڑا دو۔

اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا. اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا.

یا جیسا کہ تم کہتے ہو، ہمارے اوپر ٹکڑے ٹکڑے آسمان نہ گرا دو یا اللہ اور اُس کے فرشتوں کو لا کر ہمارے سامنے کھڑا نہ کردو۔ یا تمھارے پاس سونے کا کوئی گھر نہ ہو جائے یا (ہماری آنکھوں کے سامنے) تم آسمان میں نہ چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمھارے چڑھنے کو بھی ماننے کے نہیں ہیں، جب تک تم (وہاں سے) ہم پر کوئی کتاب نہ اتارو، جسے ہم پڑھیں ــــ اِن سے کہو، پاک ہے میرا پروردگار، کیا میں ایک انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں، جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰۤی اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا. قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا. قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا.

( بنی اسرائیل 17: 89- 96)

جب اِن کے پاس ہدایت آ گئی تو اِن لوگوں کے ایمان لانے میں یہی چیز رکاوٹ بن گئی ہے کہ اِنھوں نے کہہ دیا کہ کیا اللہ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ اِن سے کہو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے کہ اطمینان کے ساتھ چل پھر رہے ہوتےتو ہم آسمان سے اُن پر کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر اتار دیتے۔کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو جاننے والا ہے، وہ اُن کو دیکھ رہا ہے۔‘‘

اِن آیتو ں سے معلوم ہوتا ہے کہ کفارِ قریش نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے اِن معجزات کا مطالبہ کیا تھا:

1۔ زمین سے یک بہ یک چشمہ جاری کر دیں۔

2۔ دفعۃً کھجوروں اور انگوروں کا باغ وجود میں لے آئیں، جس کے اندر نہریں جاری ہوں۔

3۔ اپنے دعوے کے مطابق آسمان کو پاش پاش کر کے ہمارے اوپر گرا دیں۔

4۔ اللہ اور اُس کے فرشتے ہمارے سامنے رونما ہو جائیں۔

5۔ اپنے لیے سونے کا ایک گھر تخلیق کر دیں۔

6۔   آسمان کی طرف معراج فرمائیں اور وہاں سے ہمارے لیے کوئی کتاب لے کر آئیں۔

اللہ چاہتا تو اِن مطالبات کو بعینہٖ پورا کر دیتا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اِنھیں صادر فرما دیتا، مگر ایسا کرنے کے بجاے اُس نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ اُنھیں اِس حقیقت سے آگاہ  کر دیجیے کہ آپ ایک فردِ بشر ہیں، جو اپنی ذات میں ایسے کرشمے دکھانے کا اختیارنہیں رکھتا۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’اِن سارے مطالبات کے جواب میں ارشاد ہوا:’قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا‘، ’’اُن سے کہہ دو کہ میرا رب ہر قسم کی شرکت سے پاک ہے، میں تو بس ایک بشر اور رسول ہوں۔‘‘ یعنی میں نے خدائی یا خدائی میں شرکت کا دعویٰ نہیں کیا ہے کہ تم مجھ سے اِس قسم کے مطالبے کرتے ہو، میرا رب ہر قسم کی شرکت سے منزہ، ارفع اور بالاتر ہے، میں تو صرف ایک بشر ہوں اور خدا کا ایک رسول ہوں۔ رسول کی حیثیت سے میرا فریضہ صرف یہ ہے کہ میں تم کو خدا کا پیغام پہنچا دوں۔ اِن کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی کر دینے کا مجھے اختیار نہیں ملا ہوا ہے۔‘‘(تدبر قرآن 4/542)

مزید برآں، سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آخری نبوت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ ہی نہیں ہے کہ لوگوں کی تنبیہ و تخویف کے لیے اُس طرح کے معجزات و خوارق ظاہر کرے، جو بعض سابقہ نبوتوں میں ظاہر کیے گئے تھے۔ یہ بات سورۂ بنی اسرائیل کی درجِ ذیل آیت سے واضح ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ. وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا. وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا. (17 :59)

’’ ہم کو عذاب کی نشانیاں بھیجنے سے اِسی بات نے روک رکھا ہے کہ اگلوں نے اُنھیں جھٹلا دیا تھا۔ ثمود کو ہم نے اونٹنی (اِسی طرح کی) ایک آنکھیں کھول دینے والی نشانی کے طور پر دی تھی، لیکن اُنھوں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اُس کی تکذیب کر دی۔ (پھر نشانیاں بھیجنے سے کیا حاصل)؟ ہم نشانیاں اِسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ (عذاب سے پہلے لوگوں کو اُن کے انجام سے) ڈرا دیں۔‘‘

اِس کی تفسیر میں ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’یعنی جب لوگ (اللہ کی نشانیوں سے) نہیں ڈرتے، بلکہ اور زیادہ سرکش ہو جاتے اور اُنھیں جھٹلا دیتے ہیں تو اُن کو بھیجنے سے کیا حاصل؟ اِس تجربے سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ تنبیہ و تخویف اِس طرح کے سرکشوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ یہ اگر قائل ہو سکتے ہیں تو اصل عذاب ہی سے قائل ہو سکتے ہیں۔‘‘(3/ 94)

اِس تفصیل سے قرآنِ مجید کا موقف پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ معجزات کی نوعیت یا اُن کے ظہور اور  مخاطبین رسالت کے ردِ عمل یا مطالبات میں باہمی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا اِنھیں ایک دوسرے سے متعلق کرنا یا ایک دوسرے کے تناظر میں سمجھنا درست نہیں ہے۔

 ا ِس کے بعد اب متعلقہ روایات کے بیانات کا جائزہ لے لیجیے۔ اُن میں سے جتنی بات صحیحین میں نقل ہے، اُس میں کسی طرح کا اشکال نہیں ہے۔

بخاری کی روایت ہے:

قال أبو سلمة: سمعت جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰه عنهما، قال: سمعت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: ’’لما كذبتني قريش قمت في الحجر، فجلى اللّٰه لي بيت المقدس، فطفقت أخبرهم عن آياته وأنا أنظر إليه‘‘. (رقم 4710)

’’ابوسلمہ روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اور اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: جب قریش نے مجھے اسرا کے معاملے میں جھٹلایا تو میں (کعبہ میں )حجر کے مقام پر کھڑا ہوا تھا۔ اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا۔ چنانچہ میں اُسے دیکھ دیکھ کر اُنھیں اُس کی نشانیاں بیان کرنے لگا۔ ‘‘

مسلم میں ہے:

عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’لقد رأيتني في الحجر، وقريش تسألني عن مسراي، فسألتني عن أشياء من بيت المقدس لم أثبتها. فكربت كربةً ما كربت مثله قط‘‘، قال: ’’فرفعه اللّٰه لي أنظر إليه ما يسألوني عن شيء، إلا أنباتهم به‘‘.

 (رقم 448)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں حجر میں ہوں اور قریش مجھ سے میرے سفر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ چنانچہ اُنھوں نے بیت المقدس کی کئی چیزوں کے متعلق سوال کیا، مگر میں اُن کے بارے میں جواب نہ دے سکا۔ اِس پر میں اِس قدر مضطرب ہوا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ پھر اللہ نے بیت المقدس کو اٹھا کر میرے سامنے کر دیا۔ میں اُس کو دیکھنے لگا اور جو کچھ وہ پوچھتے رہے، میں اُنھیں بتاتا رہا۔‘‘

اِن روایتوں میں فقط کفارِ قریش کے ردِ عمل کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کے مرتد ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جن روایتوں میں ارتداد کا ذکر ہے، وہ علما و محدثین کے معیاراتِ صحت پر پوری نہیں اترتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اصحاب علم نے اُنھیں قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے ’’سیرت النبی‘‘ میں اُن پر ایک جامع اور وقیع تبصرہ کیا ہے۔ یہ تبصرہ درجِ ذیل ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ  اِن میں بعض روایتیں بلا اسناد ہیں اور بعض کے راوی قصہ خواں اور دروغ گو ہیں۔ بخاری و مسلم کی درج بالا روایتوں میں مذکور واقعے کا ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں:

’’اتنا واقعہ تو صحیحین میں مذکور ہے، لیکن واقدی، ابنِ اسحاق، ابنِ جریر طبری، ابنِ ابی حاتم، بیہقی اور حاکم میں، جن کا مرتبہ کتبِ روایات میں بلند نہیں، اِس واقعے پر لوگوں نے عجیب و غریب حاشیے لگائے ہیں۔ حضرت ام ہانی سے روایت ہے کہ صبح اٹھ کر آں حضرت نے گھر والوں سے شب کا واقعہ بیان کر کے باہر جانا چاہا کہ اور لوگوں سے بیان کریں تو میں نے دامن تھام لیا کہ اِس کا قصد نہ کیجیے، کفار صریح جھٹلائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کو جب آپ کے اعزہ نے آپ کو بستر پر نہ پایا تو اُن کو قریش کا خوف ہوا کہ اُنھوں نے آپ کو گزند تو نہیں پہنچایا، اور پہاڑوں اور غاروں میں آپ کو ڈھونڈنے لگے۔ ایک روایت میں ہے کہ معراج کی واپسی میں قریش کے ایک تجارتی قافلہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی اور اُن کے ساتھ کچھ واقعات پیش آئے۔ جب لوگوں نے جھٹلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمھارا قافلہ پرسوں تک آ جائے گا،اُس سے پوچھ لینا۔ چنانچہ وہ آیا اور اُس نے تصدیق کی۔ اِنھی روایتوں کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ کچھ کفار دوڑے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے کہ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ رات کو وہ بیت المقدس گئے اور آئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا واقعی یہ آپ فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا :ہاں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو میں آپ کو سچا جانتا ہوں اور اِس پر ایمان لاتا ہوں۔ کفار نے کہا: تم کھلم کھلا ایسی خلافِ عقل بات کیوں کر صحیح سمجھتے ہو؟ جواب دیا :میں تو اِس سے بھی زیادہ خلافِ عقل بات پر یقین رکھتا ہوں۔ میں تو یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہر روز آپ کی خدمت میں آسمان سے فرشتے آتے ہیں۔اُسی دن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق ہو گیا۔

لیکن یہ تمام قصے سرتا پا لغو اور باطل ہیں۔ ابنِ اسحاق اور ابنِ سعد نے تو سرے سے اِن واقعات کے اسناد ہی نہیں لکھے ہیں، ابنِ جریر طبری، بیہقی، ابنِ ابی حاتم، ابو یعلیٰ، ابنِ عساکر اور حاکم نے اِن کی سندیں ذکر کی ہیں۔ اِن کے روات ابو جعفر رازی، ابوہارون عبدی اور خالد ابن یزید بن ابی مالک ہیں، جن میں پہلے صاحب، جو بجاے خود ثقہ ہیں، مگر بے سروپا حدیثوں کو بیان کرنے میں بے باک ہیں، بقیہ دو مشہور دروغ گو، کاذب اور قصہ خواں ہیں۔ اِن ہی لغوقصوں کا اختتامی جز یہ ہے کہ جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے معراج کا واقعہ بیان کیا تو بہت سے مسلمانوں کے ایمان بھی متزلزل ہو گئے اور مرتد ہو گئے۔ ’فارتد کثیر ممن أسلم‘ (سیرت ابن ہشام1/241)۔ یہ قصہ غالباً قرآنِ مجید کی اِس آیت کی غلط توضیح میں گھڑا گیا ہے:’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘(بنی اسرائیل 60)، (ہم نے یہ دکھاوا جو تجھ کو دکھایا ہے، اِس کو لوگوں کی آزمایش ہی کے لیے کیا ہے۔)

ابنِ سعد اور واقدی نےاِس قصے کو یوں ہی بے سند بیان کیا ہے۔ طبری، ابنِ ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ کے معتمد ارکان وہی اصحاب ثلاثہ ہیں، جن کے اوصافِ گرامی ابھی اوپر گزر چکے ہیں۔ ابنِ جریر نے اِس آیت کے تحت جو روایتیں درج کی ہیں، اُن میں حسن، قتادہ اور ابنِ زید سے یہ واقعۂ ارتداد مذکور ہے، لیکن اُن کا سلسلہ اِن سے آگے نہیں بڑھتا۔ اِس واقعے کے انکار کی سب سے پرزور دلیل ہمارے پاس یہ ہے کہ اِس وقت تک مکہ میں جو اصحاب اسلام لائے تھے، وہ گنے چنے لوگ تھے، جو ہم کو نام بہ نام معلوم ہیں۔ اُن میں سے کسی کی پیشانی پر ارتداد کا داغ نہیں۔ واقعے کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کافروں میں بعض لوگ ایسے ہوں گے، جو اِس سے پہلے آپ کے سخت مخالف نہ ہوں اور اگر آپ کو پیغمبر نہ جانتے ہوں، مگر آپ کو مفتری اور کاذب بھی نہ کہتے ہوں، لیکن اِس واقعۂ معراج کے بعد سے اُنھوں نے بھی آپ کے ساتھ اِس نیکی اور حسن ظن کا خیال اٹھا دیا ہو۔ قرآنِ مجید نے اِس کو ’فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ‘، ’’لوگوں کے لیے آزمایش‘‘ کہا ہے، ’فتنۃً للمؤمنین‘ یعنی ’’مومنوں اور مسلمانوں کے لیے آزمایش‘‘ نہیں کہا ہے اور اگر اُن کے لیے بھی آزمایش ہو تو اِس آیت سےکہاں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اِس آزمایش میں پورے نہیں اترے۔‘‘

(3/ 235- 236)

____________