واقعۂ معراج کے بارے میں متعددمرفوع روایات حدیث کی کتابوں میں منقول ہیں۔ صحاح میں سے اِنھیں بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابنِ ماجہ نے نقل کیا ہے۔ موطا امام مالک اور سنن ابی داؤد میں یہ مذکور نہیں ہیں۔ اِن کے بنیادی راوی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ بعض طرق میں وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست روایت کر رہے ہیں اور بعض میں حضرت ابوذر غفاری اور حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہما کے توسط سے نقل کر رہے ہیں۔ مذکورہ کتب میں اگر اِن روایتوں کے اسنادکا استقصا کیا جائے تو درجِ ذیل نمایندہ روایتیں متعین ہوتی ہیں:
1۔ بخاری، رقم 7517۔
سلیمان (تبع تابعی) - شریک بن عبداللہ (تابعی) - انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
2۔ بخاری، رقم 349۔
یونس (تبع تابعی) - ابن شہاب زہری (تابعی) -انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ (صحابی) - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
3۔ بخاری، رقم 3887۔
ہمام بن یحییٰ(تبع تابعی) - قتادہ (تابعی) - انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ (صحابی) -رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
4۔ مسلم، رقم 429۔
حماد بن سلمہ (تبع تابعی ) - ثابت البنانی(تابعی) - انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
5۔ مسلم، رقم 433۔
یونس (تبع تابعی) - ابن شہاب زہری (تابعی) - انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ (صحابی) - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
6۔ مسلم، رقم 434۔
سعید (تبع تابعی) -قتادہ (تابعی) - انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ (صحابی) - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
7۔ ترمذی، رقم 3346۔
سعید (تبع تابعی) - قتادہ (تابعی) - انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ (صحابی) - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
8۔ ابن ماجہ، رقم 1399۔
یونس بن یزید(تبع تابعی) - ابن شہاب زہری (تابعی) - انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
9۔ نسائی، رقم 448۔
ہشام دستوائی (تبع تابعی) - قتادہ (تابعی) - انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) - مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ (صحابی) - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
اِن نو(9) روایتوں کے راویوں میں چھ تبع تابعین، چار تابعین اور تین صحابی ہیں۔ جن چار تابعین نے اِنھیں نقل کیا ہے، اُن کے اسما ے گرامی یہ ہیں:
1۔شریک بن عبداللہ،
2۔ ابن شہاب زہری،
3۔ قتادہ،
4۔ثابت البنانی۔
یہ چاروں تابعین مختلف صحابہ سے روایت نہیں کر رہے، بلکہ ایک ہی صحابی سے روایت کر رہے ہیں۔ یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس امرِ واقعہ کے لازمی نتیجے کے طور پر دو حقائق کو ماننا ضروری ہے:
ایک یہ کہ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ایک ہی روایت ہے،جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔اُن سے آگے اِسے چار مختلف راویوں نے نقل کیا ہے۔ یعنی یہ ایک ہی حدیث ہے، جو چار مختلف طرق سے آگے روایت ہوئی ہے۔
دوسرےیہ کہ اِس کے متن میں جو اختلاف سامنے آئے ہیں، وہ ممکنہ طور پر تابعین یا اُن کے بعد کے راویوں کے سہو و نسیان یا حک و اضافے کا نتیجہ ہیں۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ کسی معتبر راوی سے اِس بات کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ وہ ایک واقعے کو اِس طرح بیان کرے کہ وہ اپنی ذات میں متناقض یا مختلف ہو۔ یعنی کسی بھی صاحب ِ عقل و دانش سے اِس کی توقع محال ہوتی ہے کہ وہ مثال کے طور پر ایک واقعے کو بہ یک وقت خواب اور بیداری کا واقعہ قرار دے۔
اِس تناظر میں جب ہم درجِ بالا طرق کا تقابل کرتے ہیں تو بنیادی واقعات کے لحاظ سے ایک طریق باقی طرق سے مختلف معلوم ہوتا ہے۔ یہ ثابت البنانی کا طریق ہے، جسے مسلم نے نقل کیا ہے۔ یعنی بخاری میں رقم شریک بن عبداللہ، ابن شہاب زہری اور قتادہ کی روایتوں میں فی الجملہ مشابہت پائی جاتی ہے، جب کہ مسلم میں رقم ثابت البنانی کی روایت اُن سے مختلف ہے۔ یہ اختلاف حک و اضافہ، دونوں پہلوؤں سے ہے۔ بخاری کی تینوں روایتوں میں شق صدر کا واقعہ مذکور ہے، جب کہ مسلم کی روایت میں اِس کا نہ کوئی ذکر ہے اور نہ کوئی اشارہ ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کا سفر بخاری کی تینوں روایتوں کے واقعے کا حصہ نہیں ہے، اِس کے برعکس مسلم کی روایت میں اِسی سے واقعے کا آغاز کیا گیا۔ اِس تجزیے کی بنا پر یہ بات قرین قیاس لگتی ہے کہ اصل واقعہ وہی ہے، جو شریک بن عبداللہ، ابن شہاب زہری اور قتادہ سے منقول ہے۔ جب کہ ثابت البنانی کا روایت کردہ واقعہ بعض تسامحات کا حامل ہے۔
مزید برآں، ثابت البنانی کی روایت قرآن میں مذکور واقعۂ اسرا سے بُعد اور مغائرت کو نمایاں کرتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں صرف واقعۂ اسرا، یعنی مسجدِ حرام سے مسجد اقصیٰ کے سفر کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اُس کے ساتھ معراج کا آسمانی سفر شامل نہیں ہے، جب کہ ثابت البنانی کی روایت میں یہ دونوں سفر جمع کر کے بیان ہوئے ہیں۔دیگر روایتوں میں قرآن سے ناموافقت کا یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ اِن میں واقعۂ اسرا سرے سے مذکور ہی نہیں ہے۔
ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ثابت البنانی کی روایت کو صحیح مسلم کے علاوہ صحاح کے کسی اور محدث نے نقل نہیں کیا۔ سنن نسائی میں، البتہ اِسی مضمون کی ایک روایت، رقم 450 نقل ہے، جسے یزید بن ابی مالک حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے ہیں۔ تاہم،اِسے علامہ ناصر الدین البانی نے منکر قرار دیا ہے۔ [73]
اِس تفصیل کی بنا پر قرین صواب یہی ہے کہ مسلم میں رقم ثابت البنانی کی روایت کے بعض اجزا کو ثابت البنانی یا اُن سے آگے کسی راوی کے سہو و نسیان یا حک و اضافے کا نتیجہ خیال کرتے ہوئے اِس روایت کے بارے میں توقف کیا جائے اور واقعۂ معراج کی تفصیلات کو اِس کے علاوہ دیگر طرق سے اخذ کیا جائے۔
____________