ضمیمہ 10

ثابت البنانی کی حضرت انس بن مالک سے روایت

مسلم، رقم 429

حدثنا شيبان بن فروخ، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا ثابت البناني، عن أنس بن مالك، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’أتيت بالبراق وهو دابة أبيض، طويل فوق الحمار، ودون البغل يضع حافره عند منتهى طرفه، قال: فركبته حتى أتيت بيت المقدس، قال: فربطته بالحلقة التي يربط به الانبياء، قال: ثم دخلت المسجد فصليت فيه ركعتين، ثم خرجت، فجاءني جبريل عليه السلام بإناء من خمر، وإناء من لبن، فاخترت اللبن، فقال جبريل: اخترت الفطرة.

’’‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے براق لایا گیا۔ وہ ایک سفید رنگ کا جانور تھا، جو گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا۔وہ اپنے سم وہاں رکھتا تھا، جہاں تک اُس کی نگاہ پہنچتی تھی۔ میں اُس پر سوار ہوا اور بیت المقدس تک آیا۔ وہاں اُسے اُس کھونٹے سے باندھ دیا، جس سے دوسرے پیغمبر اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد کے اندر گیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ اِس کے بعد باہر نکلا تو جبریل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے۔ ایک برتن میں شراب تھی اور ایک میں دودھ تھا۔ میں نے دودھ پسند کیا تو جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے فطرت کو پسند کیا ہے۔

ثم عرج بنا إلى السماء، فاستفتح جبريل، فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بآدم فرحب بي، ودعا لي بخير.

پھرجبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ آسمان پر چڑھے (جب وہاں پہنچے) تو فرشتوں سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں ہم نے آدم علیہ السلام کو دیکھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور میرے لیے بہتری کی دعا کی۔

ثم عرج بنا إلى السماء الثانية، فاستفتح جبريل عليه السلام، فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بابني الخالة عيسى ابن مريم ويحيى بن زكرياء صلوات اللّٰه عليهما، فرحبا ودعوا لي بخير.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے دونوں خالہ زاد بھائیوں کو دیکھا، یعنی عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور میرے لیے بہتری کی دعا کی۔

ثم عرج بي إلى السماء الثالثة، فاستفتح جبريل، فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بيوسف عليه السلام، إذا هو قد أعطي شطر الحسن، فرحب ودعا لي بخير.

 پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا۔ اللہ نے حسن کا آدھا حصہ اُن کو دے رکھا تھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور میری بہتری کے لیے دعا کی۔

ثم عرج بنا إلى السماء الرابعة، فاستفتح جبريل عليه السلام، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قال: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بإدريس، فرحب ودعا لي بخير، قال اللّٰه عز وجل: ’’وَّ رَفَعۡنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا‘‘.

 پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے كر چوتھے آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور مجھےاچھی دعا دی۔ ــــ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ہم نے اٹھا لیا ادریس کو اونچی جگہ پر‘‘۔ـــــ

ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة، فاستفتح جبريل، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بهارون عليه السلام، فرحب ودعا لي بخير.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر پانچویں آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور مجھے نیک دعا دی۔

ثم عرج بنا إلى السماء السادسة، فاستفتح جبريل عليه السلام، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بموسى عليه السلام، فرحب ودعا لي بخير.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چھٹے آسمان پر پہنچے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور مجھےاچھی دعا دی۔

ثم عرج إلى السماء السابعة، فاستفتح جبريل، فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بإبراهيم عليه السلام مسندًا ظهره إلى البيت المعمور، وإذا هو يدخله كل يوم سبعون الف ملك، لا يعودون إليه.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا۔ وہ بیت المعمور سے تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ اور اِس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں، جو پھر کبھی نہیں آتے۔

ثم ذهب بي إلى السدرة المنتهى، وإذا ورقها كآذان الفيلة، وإذا ثمرها كالقلال، قال: فلما غشيها من أمر اللّٰه ما غشي تغيرت، فما أحد من خلق اللّٰه يستطيع أن ينعتها من حسنها، فاوحى اللّٰه إلي ما أوحى، ففرض علي خمسين صلاةً في كل يوم وليلة.

 پھر جبریل علیہ السلام مجھ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے۔ اُس کے پتے اتنے بڑے تھے، جیسے ہاتھی کے کان اور اُس کے بیر بڑے بڑے گھڑوں جیسے تھے۔ پھر جب اِس درخت کو اللہ کے حکم سے ڈھانکا گیاتو اُس کی خوب صورتی ناقابل بیان ہو گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں جو کچھ ڈالنا چاہا، ڈال دیا اور دن رات میں مجھ پر پچاس نمازیں فرض کیں۔

فنزلت إلى موسى عليه السلام، فقال: ما فرض ربك على أمتك؟ قلت: خمسين صلاةً، قال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فإن أمتك لا يطيقون ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم، قال: فرجعت إلى ربي، فقلت: يا رب، خفف على أمتي، فحط عني خمسًا، فرجعت إلى موسى، فقلت: حط عني خمسًا، قال: إن أمتك لا يطيقون ذلك، فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، قال: فلم أزل أرجع بين ربي تبارك وتعالٰى، وبين موسى عليه السلام، حتى قال: يا محمد، إنهن خمس صلوات كل يوم وليلة، لكل صلاة عشر، فذلك خمسون صلاةً ومن هم بحسنة، فلم يعملها، كتبت له حسنةً، فإن عملها، كتبت له عشرًا، ومن هم بسيئة فلم يعملها، لم تكتب شيئًا، فإن عملها، كتبت سيئةً واحدةً‘‘.

 جب میں واپس اترا اور موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا: پروردگار نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: پھر اپنے پروردگار کے پاس واپس لوٹ جائیے اور اِن میں تخفیف کی درخواست کیجیے۔ کیونکہ آپ کی امت میں اِتنی طاقت نہیں ہے اور میں بنی اسرائیل کو اِس معاملے میں آزما چکا ہوں۔ چنانچہ میں اپنے پروردگار کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: اے پروردگار، تخفیف کر میری امت پر۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ میں واپس موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: آپ کی امت کو اِتنی طاقت نہ ہو گی، آپ اپنے رب کے پاس پھر جائیں اور تخفیف کی درخواست کریں۔ میں اِسی طرح لگاتار اپنے پروردگار اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد، ہر دن اور رات میں یہ پانچ نمازیں ہیں اور ہر ایک نماز میں دس نمازوں کا اجر شامل ہے، یعنی وہی پچاس نمازیں ہوئیں۔ اور اگر کوئی شخص اچھے کام کی نیت کرے، مگر اُسے کر نہ سکے تو اُسے ایک نیکی کا ثواب ملے گا اور جو اُس کو کر پائے گا، اُسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔اگر کوئی شخص برائی کی نیت کرے گا اور برائی نہ کر سکے گاتو اِس پر کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر برائی کر بیٹھے تو ایک ہی برائی لکھی جائے گی۔

قال: ’’فنزلت حتى انتهيت إلى موسى عليه السلام، فأخبرته، فقال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: فقلت: قد رجعت إلى ربي حتى استحييت منه‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر میں واپس اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انھیں اس کی خبر دی تو  اُنھوں نے کہا: پھر جائیں اپنے پروردگار کے پاس اور مزید تخفیف کی درخواست کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے پروردگار کے پاس بار بار جا کر اب شرم محسوس کرتا ہوں۔“

____________