ضمیمہ 1 میں صحاح کی محولہ روایات میں سے بیش تر وہ روایات ہیں، جن میں واقعے کو بالتفصیل نقل کیا گیا ہے۔ اِن کے علاوہ مختصر روایات بھی ہیں، جن میں یہی واقعہ جزوا ً بیان ہوا ہے۔ مذکورہ روایات میں بھی مقابلتاً بعض کے متن مختصر اور بعض کے جامع ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ راویوں نے اپنے فہم،اپنی یادداشت اور صواب دید کے مطابق جو سمجھا، جو محفوظ رکھا اور جسے ترجیح دی، اُسے اپنے الفاظ میں آگے نقل کر دیا ہے۔[74] تاہم، ثابت البنانی کی روایت کے سوا باقی روایتوں میں فی الجملہ اتفاق و اشتراک پایا جاتا ہے۔ لیکن، اِس کے باوجود بیانِ واقعات میں تعدد، تنوع اور تکثیر و تقلیل کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
ذیل میں اِن کے مندرجات کا تقابلی تجزیہ درج ہے۔
* پانچ روایتوں میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الحرام میں موجود تھے۔
* دو روایتوں میں ذکر ہے کہ آپ اپنے گھر میں آرام فرما رہے تھے۔
* دو روایتوں میں کچھ مذکور نہیں ہے۔
ماحصل: بیت الحرام میں یا گھر میں موجودگی، دونوں میں سے کوئی صورت بھی ممکن ہے۔ روایتوں میں اِس ضمن میں اختلاف ہے۔ تاہم، اِس کا نفس واقعہ پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک،چونکہ زیادہ روایتوں میں بیت الحرام کی صراحت ہے، اِس لیے اِسی بیان کو قرین حقیقت ماننا چاہیے۔
* اِن میں سے کسی روایت میں بھی بیداری اور جسمانی معراج کی صراحت نہیں ہے۔
* ایک روایت میں، البتہ نیند اور روحانی معراج کی تصریح ہے۔
* تین روایتوں میں نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت کا ذکر ہے۔
ماحصل: روایتوں میں اِس معاملے میں کوئی اختلاف یا تعارض نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ بعض میں بیداری کا اور بعض میں نیند کا ذکر ہو۔ اِس تناظر میں اگر بعض روایتوں میں نیند کی صراحت ہے تو اُسے لازماً قبول کرنا چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ علم و استدلال کا مسلمہ ہے کہ کوئی واقعہ اگر ایک سے زیادہ راویوں سے منتقل ہوا ہو تو اُس کی تفصیلات کو تمام روایات کو جمع کر کےمتعین کرنا چاہیے۔
* روایتوں میں اِس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام دیگر فرشتوں کے ہم راہ تشریف لائے۔
* اِس پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کا سینہ شق کیا، اندرون کو آب زم زم سے دھویا اور پھر اُسے ایمان اور حکمت سے لبریز کر کے بند کر دیا۔
ماحصل: مذکورہ روایتوں میں اِس معاملے میں کوئی تعارض نہیں ہے، لہٰذا اِسے قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ مزید برآں، چونکہ یہ عالم رؤیا میں ہوا ہے، اِس لیے اِس پر کوئی اشکال بھی پیدا نہیں ہوتا۔
* چارروایتوں میں براق پر سواری کا ذکر ہے، باقی میں یہ ذکر نہیں ہے۔
ماحصل: کسی برق رفتار سواری کا وجود بعید از قیاس نہیں ہے۔ روایتوں میں بھی اِس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اِس لیے اِسے قبول کرنا بالکل بجا ہے۔ مزید یہ کہ رؤیا کا واقعہ ہونے کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ اِس کی نوعیت تمثیل کی ہو۔
* ایک روایت میں اِس کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر جانے سے پہلے مسجدِ اقصیٰ تشریف لے گئے۔
* باقی روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ آپ مسجدِ حرام ہی سے آسمانوں کی طرف روانہ ہوئے۔
ماحصل: ضمیمہ 1 میں مذکور تفصیل اور تجزیے سے واضح ہے کہ یہ صرف ثابت البنانی کی روایت ہے، جس میں بیت المقدس کے سفر کا اضافہ ہے۔ باقی روایتیں اِس ذکر سے خالی ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کا سفر، یعنی واقعۂ اسرا ایک الگ واقعے کے طور پر قرآنِ مجید میں مذکور ہے اور اُس میں آسمانوں کا سفر شامل نہیں ہے۔ مزید برآں اُن روایتوں میں بھی آسمانی سفر کا ذکر نہیں ہے، جن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المقدس کو ممثل کر کے پیش کیا تھا۔[75] اِس بنا پر قرین صحت یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے سفر کا ذکر راوی سے سہواً شامل ہوا ہے، جو ایک الگ واقعہ ہے اور آسمانوں کے سفر معراج سے متعلق نہیں ہے۔
* تمام روایتوں میں مذکور ہے کہ آپ کو آسمانوں پر لے جانے کا فریضہ حضرت جبریل علیہ السلام نے انجام دیا۔
* بارگاہِ الٰہی میں حاضری کے علاوہ تمام سفر کے دوران میں وہ آپ کے ہم راہ رہے۔
ماحصل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبریل امین کے ہم راہ آسمان کی بلندیوں کی طرف روانہ ہونے پر احادیث میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ عقل و نقل بھی اِس کی مخالفت نہیں کرتے، اِس لیے اِس بات کو درست ماننا چاہیے۔
* یہ بات تمام روایتوں میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باری باری تمام سات آسمانوں میں سے گزرے۔
* ہر آسمان پر آپ کو مختلف مشاہدات کرائے گئے۔
ماحصل: سات آسمانوں کی سیر کا واقعہ بھی عقل و نقل سے مطابقت رکھتا ہے۔ روایتوں میں بھی اِس پر کوئی اختلاف نقل نہیں ہوا ہے۔اِس لیے اِس کی صحت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔
* ہر آسمان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نہ کسی نبی سے ملایا گیا۔
* پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات پر تو تمام روایتوں کا اتفاق ہے۔
* اِسی طرح جن انبیا سے ملاقاتیں ہوئیں، اُن کے اسما بھی کم وبیش تمام روایتوں میں ایک جیسےہیں۔
* کس آسمان پر کس نبی سے ملاقات ہوئی، اِس کے بیان میں کچھ اختلافات ہیں۔ مگراِن سے ملاقاتوں کے وقوع پر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا۔
ماحصل: مختلف آسمانوں پر انبیا سے جو ملاقاتیں ہوئیں، اُن کی حقیقت ہم نہیں جان سکتے، البتہ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اِن کی نوعیت روحانی ملاقاتوں ہی کی ہو گی۔ اِس کے دو بنیادی وجوہ ہیں: اول یہ کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم رؤیا کی وجہ سے روحانی کیفیت میں تھے تو ملنے والے انبیا بھی یقیناً روحانی کیفیت میں ہوں گے۔ دوم یہ کہ وفات کی وجہ سے اُن انبیا کو چونکہ قیامت تک جسموں کے بغیر رہنا ہے، اِس لیے اِن ملاقاتوں کے جسمانی ہونے کا امکان نہیں ہے۔
* پانچ روایتوں میں سدرۃ المنتہیٰ کے مشاہدے کا ذکر ہے، باقی میں نہیں ہے۔
ماحصل: سورۂ نجم میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ پر حضرت جبریل علیہ السلام کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایا تھا۔ اِس موقع پر آپ خود زمین پر موجود تھے۔ اِس سے واضح ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے ایک قطعی حقیقت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ تاہم، اُس واقعے کا روایتوں میں مذکور واقعۂ معراج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس لیے معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہیٰ کے مشاہدے کو ایک الگ مشاہدے پر محمول کرنا چاہیے۔ دونوں میں یہ فرق بھی ہے کہ قرآن میں مذکور مشاہدہ کھلی آنکھوں سے ہوا تھا اور روایتوں میں بیان کردہ مشاہدہ عالم رؤیا میں ہوا تھا۔
* ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ باری تعالیٰ نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نہایت درجہ قرب عطا فرمایا۔ اِس کے لیے ’قاب قوسین‘ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کے اِس قدر قریب ہوئے کہ گویا باہمی فاصلہ اتنا ہی رہ گیا،جتنا ایک کمان کے دو کناروں کے درمیان میں ہوتا ہے۔اِس طرح کا تقرب، ظاہر ہے کہ رؤیت کو مستلزم ہوتا ہے۔
* باقی روایتوں میں اِس نوعیت کی کوئی صراحت نہیں ہے۔
ماحصل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم رؤیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا واقعہ بعض دیگر روایتوں میں بھی نقل ہوا ہے، اِس لیے اِس کا وقوع بالکل قرین قیاس ہے۔ بلا شبہ، قرآنِ مجید کی بعض آیات اور بعض دیگر روایتوں میں اللہ تعالیٰ کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے امکان کو رد کیا گیا ہے، مگر چونکہ معراج کی رؤیت عالم رؤیا سے متعلق ہے، لہٰذا اِن روایتوں کا قرآن سے کوئی تخالف یا دیگر روایتوں سے کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا۔
* یہ بات بھی تمام روایتوں میں نقل ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےآپ کو پچاس نمازیں عطا فرمائیں۔ آپ یہ حکم لے کر واپس ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مشورہ دیا کہ آپ اللہ کی بارگاہ میں واپس جا کر اِن کی تعداد میں تخفیف کی درخواست پیش کریں۔
* اِس طرح اِس بات پر بھی روایتوں کا اتفاق ہے کہ آپ تخفیف کے لیے بار بار اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور بالآخر پانچ نمازوں کی فرضیت کا حکم لے کر دنیا میں واپس آئے۔
ماحصل: نماز کی عبادت ہمیشہ سے اللہ کے دین کا جزوِ لازم رہی ہے۔قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ اللہ نے تمام انبیا اور اُن کی امتوں کو اِس فریضے کی تاکید فرمائی۔ سنن ابوداؤد کی ایک روایت، رقم 393 میں بیان ہوا ہے کہ جبریل امین نے ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ نماز ہمیشہ سے پانچ وقت ہی ادا کی جاتی رہی ہے۔ اِس لیے قرین صواب یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز بعثت کے ساتھ ہی مشروع ہو گئی ہو گی اور معراج میں اِسی مشروعیت کے پس پردہ حقائق کو ممثل کر کے دکھایا گیا ہو گا۔
____________