ضمیمہ 3

یونس کی حضرت انس بن مالک سے روایت

بخاری، رقم  349

حدثنا يحيى بن بكير، قال: حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال: كان أبو ذر يحدث، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’فرج عن سقف بيتي وأنا بمكة، فنزل جبريل صلى اللّٰه عليه وسلم ففرج صدري، ثم غسله بماء زمزم، ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمةً وإيمانًا، فأفرغه في صدري، ثم أطبقه، ثم أخذ بيدي فعرج بي إلى السماء الدنيا.

’’ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا : ہم سے لیث بن سعد نے یونس کے واسطہ سے بیان کیا، اُنھوں نے ابنِ شہاب سے، اُنھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، اُنھوں نے بیان کیا کہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر کی چھت کھول دی گئی، اُس وقت میں مکہ میں تھا۔ پھر جبریل علیہ السلام اترے اور اُنھوں نے میرا سینہ چاک کیا۔ پھر اُسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ پھر ایک سونے کا طشت لائے، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اُس کو میرے سینے میں رکھ دیا، پھر سینے کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے۔

فلما جئت إلى السماء الدنيا، قال جبريل لخازن السماء: افتح، قال: من هذا؟ قال: هذا جبريل، قال: هل معك أحد؟ قال: نعم، معي محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، فقال: أرسل إليه؟ قال: نعم، فلما فتح علونا السماء الدنيا، فإذا رجل قاعد على يمينه أسودة وعلى يساره أسودة، إذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل يساره بكى، فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والابن الصالح، قلت لجبريل: من هذا؟ قال: هذا آدم، وهذه الاسودة عن يمينه وشماله نسم بنيه، فأهل اليمين منهم أهل الجنة والاسودة التي عن شماله اهل النار؟ فإذا نظر عن يمينه ضحك، وإذا نظر قبل شماله بكى. حتى عرج بي إلى السماء الثانية، فقال لخازنها: افتح، فقال له خازنها مثل ما قال الاول، ففتح.

جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا: کھولو۔ اُس نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل، پھر اُنھوں نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کیا اِن کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا: جی ہاں۔ پھر جب اُنھوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اُن کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے۔ جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو رو پڑتے۔ اُنھوں نے مجھے دیکھ کر کہا: آؤ، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور اُن کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں، یہ اُن کے بیٹوں کی روحیں ہیں۔ جو جھنڈ دائیں طرف ہیں، وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں۔ اِس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) روتے ہیں۔ پھر جبریل مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اُس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو۔ اُس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے کی طرح پوچھا، پھر کھول دیا۔

قال أنس: فذكر أنه وجد في السمٰوات آدم وإدريس وموسى وعيسى وإبراهيم صلوات اللّٰه عليهم، ولم يثبت كيف منازلهم، غير أنه ذكر أنه وجد آدم في السماء الدنيا، وإبراهيم في السماء السادسة.

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو موجود پایا۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانا نہیں بیان کیا۔ البتہ، اتنا بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدم علیہ السلام کو پہلے آسمان پر پایا اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر۔

قال انس: فلما مر جبريل بالنبي صلى اللّٰه عليه وسلم بإدريس، قال: مرحبًا بالنبي الصالح والاخ الصالح، فقلت: من هذا؟ قال: هذا إدريس، ثم مررت بموسى، فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والاخ الصالح، قلت: من هذا؟ قال: هذا موسى، ثم مررت بعيسى، فقال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح، قلت: من هذا؟ قال: هذا عيسى. ثم مررت بإبراهيم، فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والابن الصالح، قلت: من هذا؟ قال هذا إبراهيم عليه وسلم.“

انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے۔ تو اُنھوں نے فرمایا کہ آئیے، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بھائی! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو اُنھوں نے کہا: آئیے، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بھائی! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، اُنھوں نے کہا: آئیے، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بھائی! میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا۔ اُنھوں نے کہا: آئیے، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔

قال ابن شهاب: فأخبرني ابن حزم، أن ابن عباس، وأبا حبة الانصاري كانا يقولان: قال النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’ثم عرج بي حتى ظهرت لمستوًى اسمع فيه صريف الاقلام‘‘، قال ابن حزم، وانس بن مالك: قال النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’ففرض اللّٰه على امتي خمسين صلاةً‘‘.

ابنِ شہاب نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن حزم نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابوحبہ الانصاری رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے جبریل علیہ السلام لے کر چڑھے، اب میں اُس بلند مقام تک پہنچ گیا، جہاں میں نے قلم کی آواز سنی (جو لکھنے والے فرشتوں کے قلموں کی آواز تھی) ابنِ حزم نے (اپنے شیخ سے) اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں۔

فرجعت بذلك حتى مررت على موسى، فقال: ما فرض اللّٰه لك على أمتك؟ قلت: فرض خمسين صلاةً، قال: فارجع إلى ربك، فإن امتك لا تطيق ذلك، فراجعت فوضع شطرها. فرجعت إلى موسى، قلت: وضع شطرها، فقال: راجع ربك، فإن امتك لا تطيق، فراجعت: فوضع شطرها، فرجعت إليه، فقال: ارجع إلى ربك فإن امتك لا تطيق ذلك، فراجعته، فقال: هي خمس وهي خمسون لا يبدل القول لدي.

میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا۔ جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر اللہ نے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا کہ پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اُنھوں نے مشورہ دیا: آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے، کیونکہ آپ کی امت اِتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ میں واپس بارگاہِ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اُن میں سے ایک حصہ کم کر دیا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کر دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے، کیونکہ آپ کی امت میں اِس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے۔ پھر میں بارگاہ ِ رب العزت میں حاضر ہوا۔ پھر ایک حصہ کم ہوا۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے کہا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے، کیونکہ آپ کی امت اِس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی۔ چنانچہ میں باربار آیا گیا، بالآخر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نمازیں (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس (کے برابر) ہیں۔ میری بات بدلی نہیں جاتی۔

فرجعت إلى موسى فقال: راجع ربك، فقلت: استحييت من ربي، ثم انطلق بي حتى انتهى بي إلى سدرة المنتهى، وغشيها ألوان لا أدري ما هي، ثم أدخلت الجنة فإذا فيها حبايل اللؤلؤ وإذا ترابها المسك.

اب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اُنھوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جائیے، لیکن میں نے کہا: مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر جبریل مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے، جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا۔ جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں۔ اِس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اُس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اُس کی مٹی مشک کی ہے۔‘‘

____________