ضمیمہ 4

ہمام بن یحییٰ کی حضرت انس بن مالک سے روایت

بخاری، رقم 3887

حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام بن يحيى، حدثنا قتادة، عن أنس بن مالك، عن مالك بن صعصعة رضي اللّٰه عنهما، أن نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم حدثهم، عن ليلة أسري به قال: ’’بينما أنا في الحطيم‘‘، وربما قال: في الحجر، ’’مضطجعًا إذ اتاني آت فقد‘‘، قال: وسمعته يقول: ’’فشق ما بين هذه إلى هذه‘‘، فقلت للجارود وهو إلى جنبي: ما يعني به، قال: من ثغرة نحره إلى شعرته، وسمعته يقول: من قصه إلى شعرته ’’فاستخرج قلبي، ثم أتيت بطست من ذهب مملوءة إيمانًا فغسل قلبي، ثم حشي.

’’ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، اُن سے قتادہ نے بیان کیا، اُن سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور اُن سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے شبِ معراج کا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا۔ـــــبعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجاے حجر بیان کیا ـــــکہ میرے پاس ایک صاحب (جبریل علیہ السلام) آئے اور میرا سینہ چاک کیا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک۔ میں نے جارود سے سنا، جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے۔ پوچھا کہ انس رضی اللہ عنہ کی اِس لفظ سے کیا مراد تھی؟ تو اُنھوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا (قتادہ نے بیان کیا کہ) میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، اُنھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا،پھر میرا دل نکالا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا، جو ایمان سے بھرا ہوا تھا، اُس سے میرا دل دھویا گیا اور پہلے کی طرح رکھ دیا گیا۔

ثم أتيت بدابة دون البغل وفوق الحمار أبيض‘‘، فقال له الجارود: هو البراق يا أبا حمزة، قال انس: نعم يضع خطوه عند أقصى طرفه.

اِس کے بعد ایک جانور لایا گیا، جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا اور سفید تھا۔ جارود نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابو حمزہ، کیا وہ براق تھا؟ اُنھوں نے کہاکہ ہاں۔ اُس کا ہر قدم اُس کے منتہاے نظر پر پڑتا تھا۔

فحملت عليه فانطلق بي جبريل حتى أتى السماء الدنيا فاستفتح، فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء. ففتح فلما خلصت فإذا فيها آدم، فقال: هذا أبوك آدم فسلم عليه، فسلمت عليه فرد السلام، ثم قال: مرحبًا بالابن الصالح، والنبي الصالح.

(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) مجھے اُس پر سوار کیا گیا اور جبریل مجھے لے کر چلے، آسمان دنیا پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: کون ہے؟ اُنھوں نے بتایا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اُنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا: جی ہاں۔ اِس پر آواز آئی: خوش آمدید! کیا ہی مبارک آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھول دیا۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا، جبریل نے کہاکہ یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے اُنھیں سلام کیا اور اُنھوں نے جواب دیا۔ اُنھوں نے کہا: خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی!

 ثم صعد بي حتى أتى السماء الثانية فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل ومن معك؟ قال محمد، قيل: وقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، ففتح، فلما خلصت إذا يحيى وعيسى وهما ابنا الخالة، قال: هذا يحيى، وعيسى فسلم عليهما، فسلمت فردا، ثم قالا: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح.

پھر جبریل علیہ السلام اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر پہنچے۔ وہاں بھی دروازہ کھلوایا گیا تو آواز آئی: کون صاحب ہیں؟ بتایا: جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ اور کوئی صاحب بھی ہیں؟ کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا آپ کو اِنھیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ جبریل نے کہا: جی ہاں۔ پھر آواز آئی اِنھیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھلا اور میں اندر گیا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام موجود تھے۔ یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبریل بولے: یہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے سلام کیا اور اِن حضرات نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی!

ثم صعد بي إلى السماء الثالثة فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، ففتح، فلما خلصت إذا يوسف، قال: هذا يوسف فسلم عليه، فسلمت عليه فرد، ثم قال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح.

یہاں سے جبریل مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے کر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اِنھیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اِس پر آواز آئی: اِنھیں خوش آمدید، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھلا اور جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں یوسف علیہ السلام موجود تھے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ یوسف علیہ السلام ہیں اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے سلام کیا تو اُنھوں نے اُس کا جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی!

ثم صعد بي حتى أتى السماء الرابعة فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: أوقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، ففتح، فلما خلصت إلى إدريس، قال: هذا إدريس فسلم عليه، فسلمت عليه فرد، ثم قال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر اوپر چڑھے اور چوتھے آسمان پر پہنچے۔ دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اِنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا کہ اِنھیں خوش آمدید، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ! جب دروازہ کھلا تو میں ادریس علیہ السلام کے پاس پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ ادریس علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے اُنھیں سلام کیا اور اُنھوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید، پاک بھائی اور نیک نبی۔

ثم صعد بي حتى أتى السماء الخامسة فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، فلما خلصت فإذا هارون، قال: هذا هارون فسلم عليه، فسلمت عليه فرد، ثم قال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح.

پھر جبریل مجھے لے کر پانچویں آسمان پر آئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا کہ اِنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اب آواز آئی: خوش آمدید، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ یہاں میں ہارون علیہ السلام کے پاس پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے اُنھیں سلام کیا۔ اُنھوں نے جواب کے بعد کہا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی!

ثم صعد بي حتى أتى السماء السادسة فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: من معك؟ قال: محمد، قيل: وقد ارسل إليه، قال: نعم، قال: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، فلما خلصت فإذا موسى، قال: هذا موسى فسلم عليه، فسلمت عليه فرد، ثم قال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح، فلما تجاوزت بكى، قيل: له ما يبكيك، قال: ابكي لان غلامًا بعث بعدي يدخل الجنة من أمته أكثر ممن يدخلها من أمتي.

پھر جبریل مجھے لے کر آگے بڑھے اور چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کوئی دوسرے صاحب بھی آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اِنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا گیا: اِنھیں خوش آمدید، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو جبریل نے کہا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے سلام کیا اور اُنھوں نے جواب دے کر کہا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے۔ کسی نے پوچھا کہ آپ رو کیوں رہے ہیں؟ تو اُنھوں نے کہا: میں اِس بات پر رو رہا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا ہے، لیکن جنت میں اِس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ ہوں گے۔

ثم صعد بي إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قال: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، فلما خلصت فإذا إبراهيم، قال: هذا أبوك فسلم عليه، قال: فسلمت عليه فرد السلام، قال: مرحبًا بالابن الصالح والنبي الصالح.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اِنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا: اِنھیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر جب میں اندر گیا تو ابراہیم علیہ السلام موجود تھے۔ جبریل نے کہا کہ یہ آپ کے والد ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اُنھیں سلام کیا تو اُنھوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے!

ثم رفعت إلي سدرة المنتهى، فإذا نبقها مثل قلال هجر وإذا ورقها مثل آذان الفيلة، قال: هذه سدرة المنتهى وإذا أربعة أنهار: نهران باطنان، ونهران ظاهران، فقلت: ما هذان يا جبريل، قال: أما الباطنان فنهران في الجنة، وأما الظاهران فالنيل، والفرات، ثم رفع لي البيت المعمور، ثم أتيت بإناء من خمر، وإناء من لبن، وإناء من عسل، فأخذت اللبن، فقال: هي الفطرة التي أنت عليها وأمتك.

پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کر دیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ اُس کے پھل مقام حجر کے مٹکوں کی طرح (بڑے بڑے) تھے اور اُس کے پتے ہاتھیوں کے کان کی طرح تھے۔ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ سدرۃ المنتہی ٰ ہے۔ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں، دو باطنی اور دو ظاہری۔ میں نے پوچھا: جبریل، یہ کیا ہیں؟ اُنھوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں، وہ جنت سے تعلق رکھتی ہیں اور جو دو ظاہری نہریں ہیں، وہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو لایا گیا۔ وہاں میرے سامنے ایک گلاس میں شراب، ایک میں دودھ اور ایک میں شہد پیش کیا گیا۔ میں نے دودھ کا گلاس لے لیا۔اِس پر جبریل علیہ السلام بولے: یہی فطرت ہے اور آپ اِس پر قائم ہیں اور آپ کی امت بھی۔

ثم فرضت علي الصلوات خمسين صلاةً كل يوم، فرجعت فمررت على موسى، فقال: بما أمرت، قال: أمرت بخمسين صلاةً كل يومٍ، قال: إن أمتك لا تستطيع خمسين صلاةً كل يومٍ، وإني واللّٰه قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة، فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف لامتك، فرجعت فوضع عني عشرًا.

پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا: آپ کو کیاحکم ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ روزانہ پچاس وقت کی نمازوں کا حکم ملا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ کی امت میں اِتنی طاقت نہیں ہے۔ اِس سے پہلے میرا واسطہ لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اِس لیے آپ اپنے رب کے حضور میں دوبارہ تشریف لے جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست پیش کریں۔ چنانچہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں دوبارہ حاضر ہوا اور تخفیف کے لیے عرض کی تو دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں۔

فرجعت إلى موسى فقال مثله، فرجعت فوضع عني عشرًا، فرجعت إلى موسى فقال مثله، فرجعت فوضع عني عشرًا فرجعت إلى موسى، فقال مثله، فرجعت فأمرت بعشر صلوات كل يوم، فرجعت فقال مثله، فرجعت فأمرت بخمس صلوات كل يوم.

وہاں سے واپسی پر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے وہی سوال کیا (اور وہی مشورہ دیا)۔ چنانچہ میں ایک بار پھر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا (اور تخفیف کی درخواست پیش کی)۔ اِس مرتبہ بھی دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں۔ میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے پھر اپنا مشورہ دہرایا۔ میں واپس بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہوا، جس کے نتیجے میں دس وقت کی نمازیں کم ہو گئیں۔ اب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے اپنی بات پھر دہرائی۔ میں پھر واپس چلا گیا تو دس نمازوں کی مزید کمی ہو گئی۔ یہی عمل ایک بار اور دہرایا گیا اور میں بارگاہِ الٰہی میں حاضرہوا۔ اِس کے نتیجے میں پانچ وقت کی نمازوں کا حکم باقی رہ گیا۔

فرجعت إلى موسى، فقال: بم أمرت، قلت: أمرت بخمس صلوات كل يوم، قال: إن أمتك لا تستطيع خمس صلوات كل يوم وإني قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة، فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف لامتك، قال: سألت ربي حتى استحييت ولكني أرضى وأسلم، قال: فلما جاوزت نادى مناد أمضيت فريضتي وخففت عن عبادي.

اِس کے بعد جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اُنھوں پوچھا کہ اب کیا حکم ہوا ہے؟ میں نے بتایا کہ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہوا ہے۔ اُنھوں نے پھر وہی مشورہ دیا اور کہا کہ آپ کی امت اِس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، میرا واسطہ آپ سے پہلے لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اپنے رب کے دربار میں ایک مرتبہ پھر جائیے اور مزید تخفیف کی درخواست کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اب اپنے رب سے بار بار سوال کر چکا ہوں، اب مجھے مزید تقاضا کرتے ہوئے حیا محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا اب میں اِسی پر راضی ہوں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں وہاں سے جانے لگا تو ندا آئی کہ ہم نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں کے لیےتخفیف کر دی ہے۔‘‘

____________