ضمیمہ 5

ابن شہاب زہری کی حضرت انس بن مالک سے روایت

مسلم، رقم 433

وحدثني حرملة بن يحيى التجيبي، أخبرنا ابن وهب، قال: أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال: كان ابو ذر يحدث أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’فرج سقف بيتي وأنا بمكة، فنزل جبريل عليه السلام، ففرج صدري، ثم غسله من ماء زمزم، ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمةً وإيمانًا، فأفرغها في صدري، ثم أطبقه، ثم اخذ بيدي فعرج بي إلى السماء، فلما جئنا السماء الدنيا، قال جبريل عليه السلام لخازن السماء الدنيا: افتح، قال: من هذا؟ قال: هذا جبريل، قال: هل معك أحد؟ قال: نعم، معي محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: فأرسل إليه؟ قال: نعم، ففتح، قال: فلما علونا السماء الدنيا، فإذا رجل عن يمينه أسودة، وعن يساره أسودة، قال: فإذا نظر قبل يمينه ضحك، وإذا نظر قبل شماله بكى، قال: فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والابن الصالح، قال: قلت: يا جبريل، من هذا؟ قال: هذا آدم عليه السلام وهذه الاسودة عن يمينه، وعن شماله نسم بنيه، فأهل اليمين أهل الجنة والاسودة التي عن شماله أهل النار، فإذا نظر قبل يمينه ضحك، وإذا نظر قبل شماله بكى.

’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مکے میں تھا کہ میرے گھر کی چھت توڑی گئی اور جبریل علیہ السلام نازل ہوئے۔اُنھوں نے میرا سینہ چیرا، پھر اُس کو زمزم کے پانی سے دھویا، پھر سونے کا ایک طشت لائے، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پھر اُسے میرے سینے میں انڈیل دیا اور پھر میرے سینے کو ملا دیا۔ اِس کے بعد میرا ہاتھ پکڑا اور قریبی آسمان پر پہنچے۔ پھر اُنھوں نے نگہ بان سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ اُس نے پوچھا: کون ہے؟ جواب دیا: جبریل۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا: کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ کہا: جی ہاں۔ تب اُس نے دروازہ کھول دیا۔ جب ہم آسمان کے اوپر گئے تو ایک شخصیت کو دیکھا، جن کے دائیں اور بائیں، دونوں طرف لوگوں کے جھرمٹ تھے۔ وہ جب داہنی طرف دیکھتے تو ہنستے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو رو پڑتے۔ اُنھوں نے مجھے دیکھ کر کہا: مرحبا، اے نیک بخت نبی اور نیک بخت بیٹے! میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے کہا: یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جو لوگوں کے جھنڈ اُن کے دائیں اور بائیں موجود ہیں، یہ اُن کی اولاد ہے۔ دائیں جانب وہ لوگ ہیں، جو جنت میں جائیں گے اور بائیں جانب وہ لوگ ہیں، جن کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اِس لیے جب وہ داہنی طرف دیکھتے ہیں تو (خوشی سے) ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو  (رنج سے) رو پڑتے ہیں۔

قال: ثم عرج بي جبريل، حتى أتى السماء الثانية، فقال لخازنها: افتح، قال: فقال له خازنها: مثل ما قال خازن السماء الدنيا، ففتح‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِس کے بعد جبریل مجھ کو لے کر اوپر چڑھے، یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور اُس کے نگہ بان سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ اُس نے بھی ویسے ہی کہا، جیسا کہ پہلے آسمان کے نگہ بان نے کہا تھا۔ پھر دروازہ کھولا گیا۔

فقال أنس بن مالك: فذكر أنه وجد في السماوات، آدم، وإدريس، وعيسى، وموسى، وإبراهيم صلوات اللّٰه عليهم أجمعين، ولم يثبت كيف منازلهم، غير أنه ذكر، أنه قد وجد آدم عليه السلام في السماء الدنيا وإبراهيم في السماء السادسة.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں پر حضرت آدم، حضرت ادریس، حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی۔ تاہم، اُنھوں نے یہ تفصیل بیان نہیں کی کہ اِن میں سے کون کس آسمان پر ملا۔ البتہ، یہ نقل کیا ہے کہ آدم علیہ السلام سے پہلے آسمان پر ملاقات ہوئی اور ابراہیم علیہ السلام سے چھٹے آسمان پر۔

قال: فلما مر جبريل ورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بإدريس صلوات اللّٰه عليه، قال: مرحبًا بالنبي الصالح والاخ الصالح، قال: ’’ثم مر، فقلت: من هذا؟ فقال: هذا إدريس‘‘.

پھر جب جبریل علیہ السلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ادریس علیہ السلام کے پاس پہنچے تو اُنھوں نے کہا: مرحبا اے نیک نبی اور نیک بھائی! آپ نے جبریل سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے جواب دیا: یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔

قال: ’’ثم مررت بموسى عليه السلام، فقال: مرحبا بالنبي الصالح والاخ الصالح، قال: قلت: من هذا؟ قال: هذا موسى‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا، اے صالح نبی اور صالح بھائی! میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ اُنھوں نے بتایا:یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔

قال: ’’ثم مررت بعيسى، فقال مرحبًا بالنبي الصالح والاخ الصالح، قلت: من هذا؟ قال: هذا عيسى ابن مريم‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر میں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو اُنھوں نے کہا: مرحبا اے نیک نبی اور نیک بھائی! میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے کہا: یہ عیسٰی علیہ السلام ہیں مریم علیہا السلام کے بیٹے۔

قال: ’’ثم مررت بإبراهيم عليه السلام، فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والابن الصالح، قال: قلت: من هذا؟ قال: هذا إبراهيم‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اِس کے بعد میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا اے صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔

قال ابن شهاب: وأخبرني ابن حزم، ان ابن عباس وأبا حبة الانصاري، كانا يقولان: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’ثم عرج بي، حتى ظهرت لمستوًى اسمع فيه صريف الاقلام‘‘.

ابنِ شہاب بیان کرتے ہیں: مجھ سے ابنِ حزم نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوحبہ انصاری رضی اللہ عنہ (عامر یا مالک یا ثابت)، دونوں کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں چڑھایا گیا ایک ہموار بلند مقام پر، جہاں میں نے قلموں کی آواز سنی۔

قال ابن حزم وانس بن مالك: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’ففرض اللّٰه على أمتي خمسين صلاةً، قال: فرجعت بذلك حتى أمر بموسى، فقال موسى عليه السلام: ماذا فرض ربك على أمتك؟ قال: قلت: فرض عليهم خمسين صلاةً، قال لي موسى عليه السلام: فراجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، قال: فراجعت ربي فوضع شطرها، قال: فرجعت إلى موسى عليه السلام فاخبرته، قال: راجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، قال: فراجعت ربي، فقال: هي خمس، وهي خمسون لا يبدل القول لدي، قال: فرجعت إلى موسى، فقال: راجع ربك، فقلت: قد استحييت من ربي‘‘.

ابنِ حزم اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ واپسی پر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا کہ اللہ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ اُن پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ اپنے رب کے پاس لوٹ جائیے (اور اُس سے کمی کی درخواست کیجیے)، کیونکہ آپ کی امت میں اِس قدر طاقت نہیں ہے۔ چنانچہ میں اپنے پروردگار کے پاس واپس گیا اور اُس نے ایک حصہ معاف فرما دیا۔ واپسی پر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور ان سے ماجرا بیان کیا تو اُنھوں نے کہا: آپ اپنے رب کے پاس لوٹ جائیے (اور اُس سے کمی کی درخواست کیجیے)، کیونکہ آپ کی امت میں اِس قدر طاقت نہیں ہے۔ چنانچہ میں اپنے پروردگار کے پاس واپس گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پانچ نمازیں فرض ہیں اور وہ پچاس کے برابر ہیں۔ میری جناب سے صادر کی گئی بات بدلا نہیں کرتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ حکم لے کر میں لوٹ آیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے وہی بات دہرائی اور پروردگار کے پاس واپس جانے کے لیے کہا: اِس پر میں نے کہا: اب مجھے شرم آتی ہے کہ میں اپنے پروردگار کے پاس پھر اِس کام کے لیے جاؤں۔

قال: ’’ثم انطلق بي جبريل، حتى نأتي سدرة المنتهى، فغشيها ألوان لا أدري ما هي، قال: ثم أدخلت الجنة، فإذا فيها جنابذ اللؤلؤ وإذا ترابها المسك‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چلے اور سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے۔ اُس پر ایسے رنگ تھے، جنھیں میں نہیں سمجھتا تھا۔ پھر وہ مجھے جنت میں لے گئے، وہاں موتیوں کے گنبد تھے اور اُس کی مٹی  مشک کی تھی۔ “

____________