ضمیمہ 6

قتادہ کی حضرت انس بن مالک سے روایت

مسلم، رقم 434

حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن أبي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن أنس بن مالك، لعله قال: عن مالك بن صعصعة، رجل من قومه، قال: قال نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’بينا أنا عند البيت بين النائم واليقظان، إذ سمعت قائلاً، يقول: أحد الثلاثة بين الرجلين، فاتيت فانطلق بي، فأتيت بطست من ذهب فيها من ماء زمزم، فشرح صدري إلى كذا وكذا‘‘، قال قتادة: فقلت للذي معي: ما يعني؟ قال: إلى أسفل بطنه، فاستخرج قلبي، فغسل بماء زمزم، ثم أعيد مكانه، ثم حشي إيمانًا وحكمةً.

’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے غالباً اپنی قوم کے ایک فرد مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں خانۂ کعبہ کے پاس تھا اور میری کیفیت نیند اور بیداری کے درمیان کی سی تھی۔ یک بہ یک میں نےایک شخص کو کچھ کہتے ہوئے سنا، جو (آنے والے) دو مردوں کے درمیان میں تیسرا تھا۔ پھر وہ میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا۔ پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، جس میں زم زم کا پانی تھا۔ پھر میرا سینہ یہاں اور یہاں تک چیرا گیا۔ ــــــقتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: اِس سے کہاں تک چیرنا مراد ہے؟ اُس نے بتایا کہ پیٹ کے نیچے تک۔ ـــــــ پھر آپ نے فرمایا: اُس نے میرا دل نکال کر اُسے زم زم سے دھویا۔ پھر دل کو اُس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور اُسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔

ثم أتيت بدابة أبيض، يقال له البراق فوق الحمار ودون البغل، يقع خطوه عند أقصى طرفه، فحملت عليه، ثم انطلقنا حتى اتينا السماء الدنيا، فاستفتح جبريل عليه السلام، فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قال: ففتح لنا، وقال: مرحبًا به ولنعم المجيء جاء، قال: فاتينا على آدم عليه السلام.

پھر ایک سفید رنگ کا جانور لائے، جسے براق کہتے تھے۔ وہ گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا۔ وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا، جہاں تک اُس کی نگاہ پہنچتی تھی۔ مجھے اُس پر سوار کیا گیا اور پھر ہم روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ پہلے آسمان پر پہنچ گئے۔ جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبریل۔ کہا: تمھارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ پوچھا گیا کہ کیا اُنھیں بلوایا گیا ہے؟ جبریل نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر دروازہ کھلا اور فرشتوں نے کہا: مرحبا، آپ کی تشریف آوری مبارک ہو۔ پھر ہم آدم علیہ السلام کے پاس آئے۔

أنه لقي في السماء الثانية عيسى ويحيى عليها السلام، وفي الثالثة يوسف، وفي الرابعة إدريس، وفي الخامسة هارون، صلوات اللّٰه عليهم.

پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے آسمان پر عیسٰی علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام سے ملے۔ تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے، چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے اور پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے آپ کی ملاقات ہوئی۔

قال: ثم انطلقنا حتى انتهينا إلى السماء السادسة، فاتيت على موسى عليه السلام، فسلمت عليه، فقال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح، فلما جاوزته بكى، فنودي ما يبكيك، قال: رب، هذا غلام بعثته بعدي يدخل من أمته الجنة أكثر مما يدخل من أمتي.

 پھر ہم آگے روانہ ہوئے،یہاں تک کہ چھٹے آسمان پر پہنچے۔ وہاں موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اُنھیں سلام کیا۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا،نیک بھائی نیک نبی۔ پھر جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے، ندا آئی کہ موسیٰ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اُنھوں نے کہا: پروردگار، اِس لڑکے کو تو نے میرے بعد پیغمبر بنایا ہے، مگر جنت میں اِس کی امت کے زیادہ لوگ جائیں گے اور میری امت کے لوگ کم ہوں گے۔

قال: ’’ثم انطلقنا حتى انتهينا إلى السماء السابعة، فأتيت على إبراهيم‘‘، وقال في الحديث: وحدث نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أنه رأى أربعة أنهار يخرج من أصلها نهران ظاهران، ونهران باطنان، فقلت: يا جبريل، ما هذه الانهار؟ قال: أما النهران الباطنان فنهران في الجنة، وأما الظاهران فالنيل والفرات.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہم آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچے۔ وہاں میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا۔ پھرمیں نے چار نہریں دیکھیں، جو سدرہ کی جڑ سے نکلتی تھیں۔ دو نہریں کھلی تھیں اور دو نہریں ڈھانپی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا: اے جبریل، یہ نہریں کیسی ہیں؟ اُنھوں نے کہا: ڈھانپی ہوئی دو نہریں تو جنت کی ہیں اور کھلی ہوئی نہریں نیل و فرات ہیں۔

ثم رفع لي البيت المعمور، فقلت: يا جبريل، ما هذا؟ قال: هذا البيت المعمور، يدخله كل يوم سبعون الف ملك، إذا خرجوا منه لم يعودوا فيه آخر ما عليهم.

پھر میرے سامنے بیت المعمور کو پیش کیا گیا۔ میں نے پوچھا کہ جبریل، یہ کیا ہے؟ اُنھوں نے بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے۔ اِس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں، جو پھر کبھی واپس نہیں آتے۔ پس یہی اُن کا آخر ہے۔

ثم أتيت بإناءين أحدهما خمر والآخر لبن، فعرضا علي فاخترت اللبن، فقيل: أصبت أصاب اللّٰه بك أمتك على الفطرة.

پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ۔ دونوں میرے سامنے کیے گئے تو میں نے دودھ کو پسند کیا۔ ندا آئی: آپ نے ٹھیک انتخاب کیا ہے۔ اللہ آپ کو ٹھیک راستے پر لایا ہے اور آپ کی امت بھی اِسی راستے پر چلے گی۔

ثم فرضت علي كل يوم خمسون صلاةً، ثم ذكر قصتها إلى آخر الحديث.

پھر میرے اوپر ہر روز پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ پھر بیان کیا گیا سارا قصہ آخر تک۔ “

____________