ضمیمہ 9

 

قتادہ کی حضرت انس بن مالک سے روایت

ترمذی، رقم 3346

حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، وابن أبي عدي، عن سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن أنس بن مالك، عن مالك بن صعصعة رجل من قومه، أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’بينما أنا عند البيت بين النائم واليقظان إذ سمعت قائلاً يقول: أحد بين الثلاثة، فأتيت بطست من ذهب فيها ماء زمزم فشرح صدري إلى كذا وكذا‘‘، قال قتادة: قلت لانس بن مالك: ما يعني؟ قال: إلى اسفل بطني، ’’فاستخرج قلبي فغسل قلبي بماء زمزم ثم أعيد مكانه ثم حشي إيمانًا وحكمةً‘‘، وفي الحديث قصة طويلة.

’’انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصعہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بیت اللہ کے پاس (لیٹا ہوا تھا) اور سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا، (یعنی نیم خوابی کے عالم میں تھا)۔ اچانک میں نے ایک کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا۔وہ کہہ رہا تھا: وہ جو تین آدمیوں میں سے ایک ہیں۔ پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا۔ اُس میں زم زم کا پانی تھا۔ اُس نے میرے سینے کو یہاں سے یہاں تک چاک کیا۔ ـــــ قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ اُنھوں نے کہا: آپ نے فرمایا: پیٹ کے نیچے تک ـــــ پھر آپ نے فرمایا: اُس نے میرا دل نکال کر اُسے زم زم سے دھویا۔ پھر دل کو اُس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور اُسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔ اِس حدیث میں ایک لمبا قصہ بیان ہوا ہے۔‘‘

____________