باب اول

 

خواتین کے پردے سے متعلق

غامدی صاحب کا موقف

عام حالات میں اختلاطِ مرد و زن کے آداب

اجازت طلبی  کے آداب

 مرد و زن کے اختلاط کے آداب سورۂ نور میں بیان ہوئے ہیں۔ اُن کا آغاز استیذان، یعنی اجازت طلبی کے حکم سے ہوتا ہے۔ اِس کے لیے تعلیم دی گئی ہے کہ دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے سلام اور تعارف کراتے ہوئے اجازت طلب کی جائے۔

ارشاد ہوا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ  بُیُوۡتِکُمۡ  حَتّٰی تَسۡتَاۡنِسُوۡا وَ تُسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَہۡلِہَا  ذٰلِکُمۡ  خَیۡرٌ لَّکُمۡ  لَعَلَّکُمۡ  تَذَکَّرُوۡنَ فَاِنۡ  لَّمۡ تَجِدُوۡا فِیۡہَاۤ  اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡہَا حَتّٰی یُؤۡذَنَ لَکُمۡ وَ  اِنۡ قِیۡلَ لَکُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ہُوَ اَزۡکٰی لَکُمۡ وَ اللّٰہُ  بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ مَسۡکُوۡنَۃٍ فِیۡہَا مَتَاعٌ لَّکُمۡ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ  مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ.

(24 : 27- 29)

 

’’ایمان والو، (اِسی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے کہ) تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، جب تک کہ اپنے آنے کا احساس نہ دلا دو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہی طریقہ تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تمھیں یاددہانی حاصل رہے۔ پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اُن میں داخل نہ ہو، جب تک کہ تمھیں اجازت نہ دے دی جائے۔ اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ۔ یہی طریقہ تمھارے لیے پاکیزہ ہے اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے خوب جانتا  ہے۔ اِس میں، البتہ تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جن میں تمھارے لیے کوئی منفعت ہے اور وہ رہنے کے گھر نہیں ہیں۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو۔‘‘

غامدی صاحب اپنی کتاب”میزان ‘‘میں لکھتے ہیں:

”ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ اِس طرح کے موقعوں پر ضروری ہے کہ آدمی پہلے گھر والوں کو اپنا تعارف کرائے، جس کا شایستہ اور مہذب طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا جائے۔ اِس سے گھر والے معلوم کر لیں گے کہ آنے والا کون ہے، کیا چاہتا ہے اور اُس کا گھر میں داخل ہونا مناسب ہے یا نہیں۔ اِس کے بعد اگر وہ سلام کا جواب دیں اور اجازت ملے تو گھر میں داخل ہو، اجازت دینے کے لیے گھر میں کوئی موجود نہ ہو یا موجود ہو اور اُس کی طرف سے کہہ دیا جائے کہ اِس وقت ملنا ممکن نہیں ہے تو دل میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر واپس چلا جائے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس حکم کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ اجازت کے لیے تین مرتبہ پکارو، اگر تیسری مرتبہ پکارنے پر بھی جواب نہ ملے تو واپس ہو جاؤ۔[3] 

اِسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ اجازت عین گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور اندر جھانکتے ہوئے نہیں مانگنی چاہیے، اِس لیے کہ اجازت مانگنے کا حکم تو دیا ہی اِس لیے گیا ہے کہ گھر والوں پر نگاہ نہ پڑے۔[4] ‘‘ (466)

’بیوتًا مسکونۃ ‘سے مراد رہایشی گھر ہیں، جہاں کوئی فرد یا خاندان رہتا ہے۔ مدینے کی معاشرت ایک دیہاتی معاشرت تھی۔ گھرانوں  میں عموماً کواڑ نہیں ہوتے تھے۔ اُن پر پردے لٹکانے کا رواج  بھی نہیں تھا۔ رہنے کا اصل گھر بھی صحن کے بعد شروع ہوتا تھا، جیسے اب بھی دیہاتوں میں ہوتا ہے۔ لوگ بے دھڑک صحنوں تک چلے آتے۔ چنانچہ اجازت طلبی کے آداب مقرر کیے گئے تاکہ لوگ میل ملاقات کےحدود سے آشنا  ہوں۔

آیتِ بالا میں ’بیوتًا غیر مسکونۃ‘سے مراد غیر رہایشی مکانات اور مقاماتِ عامہ ہیں۔ اِن میں ہوٹل، سراے، مہمان خانے، دکانیں، دفاتر، مردانہ نشست گاہیں وغیرہ شامل ہیں۔ اِن کے ساتھ چار دیواری کا تقدس لاحق نہیں ہوتا۔ اِن جگہوں پر لوگ بے تکلفانہ نہیں رہتے۔ اِن میں داخل ہونے کے لیے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں بھی اگر اجازت طلبی کی پابندی عائد کر دی جاتی تو غیر معمولی زحمت کا سبب بنتی۔ چنانچہ دین کے اصولِ یسر (آسانی)[5]کے تحت یہ زحمت نہیں دی گئی۔ اِن مقامات پر موجود مرد و زن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لباس، اندازو اطوار اور نشست و برخاست میں با سلیقہ اور باوقار رہیں۔

مردو زن کی ملاقات  کے آداب

گھروں میں اجازت طلب کرکے اور پبلک مقامات پر بغیر اجازت داخل ہونے کے بعد جب مردوں اور عورتوں کا آمنا سامنا ہو تو اِس موقع کے لیے شریعت کے مقرر کردہ آداب  درج ذیل ہیں:  

قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ  اَبۡصَارِہِمۡ وَ یَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ  بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ. وَ قُلۡ  لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ  زِیۡنَتَہُنَّ  اِلَّا مَا ظَہَرَ  مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ  اِلَّا  لِبُعُوۡلَتِہِنَّ  اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ  اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ  اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ  یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ  مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ.

(النور24: 30-31)

’’(اے پیغمبر)، اپنے ماننے والوں کو ہدایت کرو کہ (اِن گھروں میں عورتیں ہوں تو) اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ، اپنے شوہروں کے باپ، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھائیوں کے بیٹوں، اپنی بہنوں کے بیٹوں، اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے یا اُن زیر دست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے۔ ایمان والو، (اب تک کی غلطیوں پر) سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

اِن ہدایات کی وضاحت ذیل میں پیش کی جاتی ہے:

غض بصر

’غض ‘کا مطلب پست یا دھیما کرنا ہے۔ لغت میں اِس کے معنی یہ ہیں:

(غض) خفضه و كفه و كسره و يقال: اغضض من صوتك أى اخفض منه و…بصره: منعه مما لا يحل له رؤيته.

(اقرب الموارد 2/786)

’’اُس نے اُسے جھکایا  اور روکا اور توڑ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ’اغضض من صوتك‘،  یعنی اپنی آواز کچھ دھیمی کرو، ’غضّ بصرہ ‘،  یعنی اُس نے اُسے ایسی چیز سے روک دیا جس کا دیکھنا اُس کے لیے جائز نہیں۔‘‘

قرآن مجید میں ’غضّ ‘ کا لفظ اِسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے:

اِنَّ  الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ  اَصۡوَاتَہُمۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ  اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ  لِلتَّقۡوٰی ؕ لَہُمۡ  مَّغۡفِرَۃٌ  وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ. (الحجرات49: 3)

’’(یاد رکھو)، جو اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کی افزایش کے لیے جانچ کر منتخب کر لیا ہے۔ اُن کے لیے مغفرت بھی ہے اور اجر عظیم بھی۔‘‘

وَ اقۡصِدۡ فِیۡ  مَشۡیِکَ وَ اغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِکَ ؕ اِنَّ  اَنۡکَرَ  الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡرِ.(لقمان 31: 19) 

’’اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو، حقیقت یہ ہے کہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔‘‘

’غضّ ‘کے بارے میں مولانا مودودی کی لغوی تشریح بھی اسی مفہوم کے موافق ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’’غض ‘کے معنی ہیں کسی چیز کو کم کرنے، گھٹانے اور پست کرنے کے۔ غض بصر کا ترجمہ عام طو رپر نگاہ نیچی کرنا یا رکھنا کیا جاتا ہے۔ لیکن دراصل اس حکم کا مطلب ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے۔ بلکہ پوری طرح نگاہ بھر کر نہ دیکھنا، اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے۔ یہ مفہوم ’’نظر بچانے‘‘ سے ٹھیک ادا ہوتا ہے، یعنی جس چیز کودیکھنا مناسب نہ ہو، اس سے نظر ہٹا لی جائے، قطع نظر اس سے کہ آدمی نگاہ نیچی کرے یا کسی اور طرف اسے بچا لے جائے۔‘‘(تفہیم القرآن 3/ 380)

اِس سے واضح ہے کہ غض بصر کے مفہوم میں نظریں مسلسل جھکائے رکھنا یا دیکھنے سے مکمل اجتناب جیسا کوئی مفہوم شامل نہیں ہے۔

زیرِ بحث آیت میں ’يغضوا أبصارهم‘کے بجاے ’يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ‘ آیا ہے۔ صاحبِ ”الکشاف“ لکھتے ہیں:

من للتبعيض والمراد غضّ البصر عما يحرم والاقتصار به على ما يحل. (3 / 229)

’’’من‘تبعیض کے لیے ہے۔ اور غض بصر سے مراد نظر کو ممنوع  مقام سے پھیرنا اورجائز محل تک محدود رکھنا ہے۔‘‘

مولانا مودودی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’”من ابصارهم ‘میں’من‘تبعیض کےلیے ہے، یعنی حکم تمام نظروں کو بچانے کا نہیں ہے بلکہ بعض نظروں کو بچانے کا ہے۔ بالفاظ دیگر، اللہ تعالیٰ کا منشا  یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کو بھی نگاہ بھر کر نہ دیکھا جائے، بلکہ وہ صرف ایک مخصوص دائرے میں نگاہ پر پابندی عائد کرنا چاہتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن 3/ 380)

 غامدی صاحب غض بصر کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

”دونوں ہی قسم کے مقامات (بیت مسکونہ اور غیر مسکونہ) پر اگر عورتیں موجود ہوں تو اللہ کا حکم ہے کہ مرد بھی اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور عورتیں بھی۔ اِس کے لیے اصل میں ’یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مردو عورت ایک دوسرے کے حسن و جمال سے آنکھیں سینکنے، خط و خال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں تو اِس حکم کا منشا یقیناً پورا ہو جاتا ہے ، اِس لیے کہ اِس سے مقصود نہ دیکھنا یا ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے، بلکہ نگاہ بھر کر نہ دیکھنا اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے۔ اِس طرح کا پہرا اگر نگاہوں پر نہ بٹھایا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ آنکھوں کی زنا ہے۔ اِس سے ابتدا ہو جائے تو شرم گاہ اِسے پورا کر دیتی ہے یا پورا کرنے سے رہ جاتی ہے۔[6]چنانچہ یہی نگاہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اِسے فوراً پھیر لینا چاہیے۔

جریر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور سے پوچھا: اِس طرح کی نگاہ اچانک پڑ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا : فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو۔[7]

حجۃ الوداع کا قصہ ہے کہ قبیلۂ  خثعم کی ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں روک کر مسئلہ پوچھنے لگی تو فضل بن عباس نے اُس پر نگاہیں گاڑ دیں ۔ آپ نے دیکھا تو اُن کا منہ پکڑ کر دوسری طرف کر دیا۔ [8] “ (میزان 466)

حفظِ فروج

فروج سے مراد انسانی جسم میں اندیشوں کی وہ سب جگہیں ہیں جہاں سے جنسی میلانات راہ پاتے ہیں۔ اِن میں مرد وعورت کے جنسی اعضا کے علاوہ عورت کے نسوانی اعضا، یعنی اُس کا سینہ بھی شامل ہے۔ اندیشوں کی اِن جگہوں کو چھپانے کی غرض سے ڈھانپ کر رکھنا انسانی تہذیب و معاشرت میں ایک مسلمہ امر ہے۔

قرآنِ مجید نے سترِ فروج، یعنی شرم گاہوں کو محض ڈھانپ کر رکھنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ حفظِ فروج، یعنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے، جو اِنھیں پوشیدہ رکھنے کے اہتمام پر دلالت کرتا ہے۔ یہ ہدایت مرد وعورت ،دونوں کے لیے یکساں طورپر دی گئی ہے۔

غامدی صاحب  اِس ہدایت کے ضمن میں لکھتے ہیں:

”اس طرح کے موقعوں پر شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ مدعا یہ ہے کہ نہ اُن کے اندر دوسروں کے لیے کوئی میلان ہو اور نہ وہ اُن کے سامنے کھولی جائیں، بلکہ عورتیں اور مرد ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی جگہوں کو اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپا کر رکھا جائے۔ اِس میں ظاہر ہے کہ بڑا دخل اِس چیز کو ہے کہ لباس باقرینہ ہو۔ عورتیں اور مرد، دونوں ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی پوری طرح چھپانے والا ہو۔ پھر ملاقات کے موقع پر اِس بات کا خیال رکھا جائے کہ اٹھنے بیٹھنے میں کوئی شخص برہنہ نہ ہونے پائے۔ شرم گاہوں کی حفاظت سے یہاں قرآن کا مقصود یہی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی معاشرت میں غض بصر کے ساتھ یہ چیز بھی پوری طرح ملحوظ رکھی جائے۔“

(میزان  467)

قرآنِ مجید میں حفظِ فروج کے حکم سے عموماً زنا سے اجتناب مراد ہوتا ہے، مگر سورۂ نور میں حفظِ فروج کی  ہدایت چونکہ آدابِ ملاقات کے ذیل میں آئی ہے، اِس لیے یہاں اِس کا مفہوم شرم گاہوں کو نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا ہے۔ زنا سے اجتناب یہاں براہِ راست مراد نہیں، تاہم یہ اِس اہتمام کا نتیجہ اور مقصود ہے۔

ابن زید اور ابو العالیہ سے آیتِ بالا میں’حفظِ فروج ‘کی یہی تفسیر مروی ہے:

وعن ابن زيد: كل ما في القرآن من حفظ الفرج فهو عن الزنا إلا هذا فإنه أراد به الاستتار.

(الكشاف  3/ 229)

”ابن زید کہتے ہیں کہ قرآن میں تمام جگہوں پر حفظ فرج سے مراد زنا سے حفاظت ہے، سواے اِس آیت کے، یہاں اِس سے مراد چھپانا ہے۔“

وقال أبو العالية: كل آية نزلت في القرآن يذكر فيها حفظ الفروج فهو من الزنى إلا هذه الآية: ”وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ“ألا يَرَاهَا أحد.

    (تفسير ابن كثير 6/ 45)

”ابو العالیہ کہتے ہیں کہ قرآن کی ہر وہ آیت جس میں حفظ فروج کا ذکر ہوا، اُس سے مراد زنا سے حفاظت ہے، سواے اِس آیت کے: ’وَيَحْفَظْنَ  فُرُوجَهُنَّ‘، مطلب یہ کہ اُنھیں کوئی نہ دیکھے۔“

حفظِ فروج کا تقاضا ہے کہ مخصوص جنسی اعضا کے ملحقہ اطراف کو بھی ڈھانپ لیا جائے۔ اِس کے لیے جنسی اعضا کا ستر ناف سے گھٹنوں تک مقرر کیا گیا ہے۔ شرم گاہ سے ناف تک اوپر کا حصہ اور شرم گاہ سے نیچے گھٹنوں تک کا حصہ حفظِ فروج کی کم سے کم حد مانی جاتی ہے۔ اِس کے ساتھ پشت کا حصہ بھی شامل ہے، کیونکہ شرم گاہ پیچھے بھی ہوتی ہے۔ یہ ستر مرد و عورت، دونوں کے لیے یکساں ہے۔

اِن اعضا کے علاوہ عورت کا سینہ بھی چونکہ شرم گاہ ہے، اِس لیے اُس کا ستر اِس معاملے میں مرد سے زائد ہے۔ حفظِ فروج کے تقاضے سے عورت کے سینے کے ساتھ اُس کے اطراف،  یعنی گریبان، کندھے، بغل  اور پیٹ سمیت ناف تک  کے حصے بھی سینے کے ستر میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یوں عورت کا مکمل ستر، بہ شمول اُس کی پشت کے، گریبان سے لے کر اُس کے گھٹنوں تک ہے۔

مردوں اور عورتوں میں شرم گاہوں کے اِس فرق کے سوا، مزید کسی حد و اضافہ کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

حفظِ فروج کی کم از کم صورت یہ ہے کہ جنسی اور نسوانی اعضا اور اُن کے ساتھ ملحق اعضا ڈھانپ لیے جائیں۔ اِس سے بہتر صورت یہ ہے کہ پنڈلیوں اور بازوؤں کو بھی اِس میں شامل کر لیا جائے اور بہترین صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بیرونی کپڑوں پر ایک چادر بھی اوڑھ لی جائے۔ تہذیب و ثقافت کے حسن کا تقاضا تب پورا ہوتا ہے، جب بہترین صورتوں پر عمل کیا جائے۔ بعض تہذیبی روایات میں نہ صرف عورتوں کے لیے، بلکہ مردوں کے لیے بھی سر ڈھانپنا لباس کے تہذیبی حسن میں شمار ہوتا رہا ہے۔

حفظِ فروج کے اہتمام میں یہ بھی شامل ہے کہ لباس اِتنا تنگ نہ ہو کہ اعضا کو نمایاں کرے اور نہ اِتنا باریک ہو کہ اعضا اُس میں سے جھلکیں، ورنہ ستر اور حفظِ فروج کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

اِس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد نقل ہوا ہے:

صنفان من أهلِ النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقرِ يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رءوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا.

(مسلم، رقم 2131)

’’دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں، جن کو میں نے نہیں دیکھا: ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اِس سے مارتے ہیں۔ دوسرے وہ عورتیں جو کپڑے پہنتی ہیں، مگر ننگی ہیں، سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی اور اُن کے سر بختی اونٹ [9] کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں۔ [10] وہ جنت میں نہ جائیں گی، بلکہ اُس کی خوشبو بھی اُن کو نہ ملے گی، حالاں کہ جنت کی خوشبو اتنی (بہت) دور سے آ رہی ہو گی۔‘‘

قرآنِ مجید کا عمومی اسلوب یہ ہے کہ کوئی حکم یا ہدایت عمومی نوعیت کی ہو تو مذکر کے صیغے کے تحت دی جاتی ہے، جس میں عورتوں کو بھی شامل سمجھا جاتا ہے، اُنھیں الگ سے مخاطب نہیں کیا جاتا، جیسے’اَقِیمْوُا الصَّلوٰۃ‘[11] ( نماز قائم کرو)، اِس میں فعل امر جمع مذکر ہے اور عورتیں اِس میں شامل سمجھی جاتی ہیں، لیکن غض بصر اور حفظِ فروج کا حکم ایک جیسے الفاظ میں مردوں اور عورتوں، دونوں کو الگ الگ مخاطب کر کے دیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں اصناف سے اِن آداب کی کس قدر رعایت مطلوب ہے۔

سورۂ نور میں اِن آداب کا مقصد بھی ساتھ ہی بیان ہوا ہے اور وہ پاکیزگی کا حصول ہے، ’اَزۡكىٰ لَهُمۡ‘۔ یہی دین کا بنیادی مقصد ہے، جس کی وجہ سے دین کے احکام اور ہدایات عام فرد سے متعلق ہو جاتے ہیں، کیونکہ  تزکیۂ نفس  ہر فرد سے مطلوب ہے۔

حفظِ فروج اسلامی تہذیب کی بنیادی اقدار میں سے ایک قدر ہے۔ [12]

اِخفاے زینت کی ہدایت

زیب و زینت اختیار کرنا عورت کی فطرت کا تقاضا ہے۔ اِس سےعورت کے حسن اور کشش میں جو اضافہ ہو جاتا ہے، اُس کا تقاضا تھا کہ تزکیۂ اخلاق  کے مقصد کے پیشِ نظر جس طرح حفظِ فروج کی ہدایت سے جنسی میلانات کو ادب و لحاظ کے ایک دائرے میں محدود کر دیا گیا ہے، اُسی طرح زیب و زینت  کے حدود بھی واضح کر دیے جائیں۔ انسانی عقل اِس معاملے میں بھی حدِ اعتدال پر قائم نہیں رہ سکی، اِس لیے اِس کا دائرہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود متعین کر دیا۔ چنانچہ عورتوں کو زیب و زینت کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ نا محرم مردوں کے سامنے اپنی زیب و زینت کا اظہار نہ کریں، اُسے چھپا کررکھیں، لیکن  جواعضا عادتاً آشکار رہتے ہیں، اُنھیں اُن کی آرایش سمیت کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ارشاد  ہوا ہے:

وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ  زِیۡنَتَہُنَّ  اِلَّا مَا ظَہَرَ  مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ  اِلَّا  لِبُعُوۡلَتِہِنَّ  اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ  اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ  اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ  یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ  مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ.(النور 24: 31)

’’اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ، اپنے شوہروں کے باپ، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھائیوں کے بیٹوں، اپنی بہنوں کے بیٹوں، اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے یا اُن زیر دست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے۔ ایمان والو، (اب تک کی غلطیوں پر) سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

سورۂ نور کی مذکورہ بالا آیت کی وضاحت میں غامدی صاحب لکھتے ہیں:

”عورتوں کے لیے خاص طور پر ضروری قرار دیا گیا کہ وہ زیب و زینت کی کوئی چیز اپنے قریبی اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں ۔ اِس سے زیبایش کی وہ چیزیں، البتہ مستثنیٰ ہیں جو عادتاً کھلی ہوتی ہیں ۔ یعنی ہاتھ، پاؤں اور چہرے کا بناؤ سنگھار اور زیورات وغیرہ۔ اِس کے لیے اصل میں ’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘ کے جو الفاظ آئے ہیں، اُن کا صحیح مفہوم عربیت کی رو سے وہی ہے جسے زمخشری نے ’إلا ما جرت العادۃ والجبلۃ علی ظھورہ والأصل فیہ الظھور‘ر[13]کے الفاظ میں بیان کر دیا ہے، یعنی وہ اعضا جنھیں انسان عادتاً اور جبلی طور پر چھپایا نہیں کرتے اور وہ اصلاً کھلے ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اِن اعضا کے سوا باقی ہر جگہ کی زیبایش عورتوں کو چھپانی چاہیے اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال کر رکھنے چاہییں۔ یہاں تک کہ مردوں کی موجودگی میں اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت ظاہر نہ ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پرعورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔[14]“ (میزان 467)  

اِخفاے زینت سے استثنا میں عورت کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کے علاوہ لباس کا وہ حصہ بھی شامل ہے جو عموماً آشکار رہتا ہے۔ گریبان کو ، البتہ اہتمام کے ساتھ ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اِس لیے کہ گریبان کا تعلق شرم گاہ، یعنی عورت کے سینے سے ہے۔ اُس پر اگر زینت کی گئی ہو تو اب اِس زینت کو بھی ڈھانپ کر رکھا جائے۔ کپڑوں کا بقیہ حصہ بھی ’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘ کے تحت استثنا میں شامل ہے، کیونکہ یہ حصہ  بھی عموماً ظاہر ہی رہتا ہے، اِسے چھپانا غیر معمولی مشقت کا سبب بنتا ہے۔

عورتوں کے معمولاً ظاہر رہنے والے اعضا پر مردوں کی  نظر پڑ جانے کی ممانعت نہیں ہے، تاہم غض بصر کا تقاضا ہے کہ نگاہیں حدِ ادب کی پابند رہیں۔ اِن میں تاڑنے اور لطف لینے جیسا انداز نہ ہو۔

جلیل القدر تابعی امام ابراہیم نخعی (وفات: 96ھ) ’اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

أبیح للناس أن ینظروا إلی ما لیس بمحرم علیھم من النساء إلی وجوھھن وأکفھن، وحرم ذالک علیھم من أزواج النبي صلی اللّٰه علیه وسلم لما نزلت آیة الحجاب ففضلن بذالک علی سائر الناس.

(شرح معانی الآثار4/ 332)

’’عام لوگوں کے لیے اِس کو مباح رکھا گیا ہے کہ وہ غیر محرم خواتین کے چہروں اور ہاتھوں کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن جب آیت ِحجاب نازل ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے باب میں اِس کو لوگوں پر حرام ٹھیرا دیا گیا۔ یوں ازواج مطہرات کو باقی تمام لوگوں پر ایک فضیلت عطا کر دی گئی ، (یعنی اُنھیں ممتاز کر دیا گیا)۔“

مختلف تہذیبی روایات میں زینتوں کے اظہار و اخفا کے حدود و قیود میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ اِس میں لازم اور مستحب کی رعایت رکھتے ہوئے مختلف صورتوں کی گنجایش دی جاتی ہے۔ عادتًا کھلے رہنے والے اعضا اور کپڑوں سے چھپانے کا استثنا غیر معمولی زحمت سے بچانے کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ شریعت کے اصولِ یسر کے تحت دی گئی رخصت ہے۔

اِخفاے زینت سے مستثنیٰ متعلقین

اِخفاے زینت سے دوسرا استثنا اُن اعزہ و متعلقین کا ہے، جن کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی پابندی بھی نہیں ہے۔ پوشیدہ زینتوں میں گریبان  کے زیورات، گریبان پر کپڑے کی آرایش اور بالوں کی زیبایش وغیرہ شامل ہیں۔ جن متعلقین کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت ہے، وہ یہ ہیں:

ا۔ شوہر

ب۔ باپ

ج۔ شوہروں کے باپ

اپنے اور شوہر کے باپ کے لیے اصل میں لفظ ’اٰبَآء‘ استعمال ہوا ہے ۔ اِس کے مفہوم میں صرف باپ ہی نہیں، بلکہ اجداد و اعمام، سب شامل ہیں۔ لہٰذا ایک عورت اپنے ددھیال اور ننھیال اور اپنے شوہر کے ددھیال اور ننھیال کے اُن سب بزرگوں کے سامنے زینت کی چیزیں اُسی طرح ظاہر کر سکتی ہے، جس طرح اپنے والد اور خسر (Father in Law) کے سامنے کر سکتی ہے۔

د۔ بیٹے

ہ۔ شوہروں کے بیٹے

و۔ بھائی

ز۔ بھائیوں کے بیٹے

ح ۔ بہنوں کے بیٹے

بیٹوں میں پوتے، پڑپوتے اور نواسے، پڑ نواسے، سب شامل ہیں اور اِس معاملے میں سگے اور سوتیلے کا بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ یہی حکم بھائیوں اور بھائی بہنوں کی اولاد کا ہے۔ اِن میں بھی سگے، سوتیلے اور رضاعی، تینوں قسم کے بھائی اور بھائی بہنوں کی اولاد شامل سمجھی جائے گی۔

ط۔ اپنے میل جول اور تعلق و خدمت کی عورتیں

اِس سے واضح ہے کہ اجنبی عورتوں کو بھی مردوں کے حکم میں سمجھنا چاہیے اور اُن کے سامنے بھی مسلمان عورتوں کو اپنی چھپی ہوئی زینت کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کے صنفی جذبات بھی بعض اوقات عورتوں سے متعلق ہو جاتے ہیں۔ اِسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ اُن کے محاسن سے متاثر ہو کر وہ مردوں کو اُن کی طرف اور اُنھیں مردوں کی طرف مائل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

جن عورتوں کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت ہے،اُن کے لیے الفاظ ’نِسَآئِھِنَّ‘، یعنی’’اُن کی عورتیں‘‘آئے ہیں۔ اِس سے مراد میل جول اور تعلق و خدمت کی راہ سے متعلق ہو جانے والی عورتیں ہیں۔ یہاں صرف مسلمان عورتیں مراد لینے کا کوئی قرینہ موجود نہیں۔ مسلمان عورت اجنبی ہو تو وہ ’نِسَآئِھِنَّ‘کی مصداق نہیں ہے۔ اِخفاے زینت کے باب میں اُس سے ویسی ہی احتیاط کی جائے گی، جیسی نامحرم مردوں سے کی جاتی ہے۔ اِس کے برعکس، غیرمسلم عورت اگر تعلق اور جان پہچان والی ہو تو وہ ’نِسَآئِھِنَّ‘کے مصداق میں شامل ہے، اُس کے سامنے پوشیدہ زینتوں کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔

ی۔ غلام

یہ  اُس زمانے میں موجود تھے۔ ’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ‘ کے جو الفاظ اُن کے لیے اصل میں آئے ہیں، اُن سے بعض فقہا نے صرف لونڈیاں مراد لی ہیں، لیکن اِس کا کوئی قرینہ اِن الفاظ میں موجود نہیں ہے۔

مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

”اگر صرف لونڈیاں ہی مراد ہوتیں تو صحیح اور واضح تعبیر ’اَوْ اٰمَآئِھِنَّ‘ کی ہوتی، ایک عام لفظ، جو لونڈیوں اور غلاموں، دونوں پر مشتمل ہے، اِس کے لیے استعمال نہ ہوتا۔ پھر یہاں اِس سے پہلے ’نِسَآئِھِنَّ‘ کا لفظ آ چکا ہے جو اُن تمام عورتوں پر، جیسا کہ واضح ہو چکا ہے، مشتمل ہے جو میل جول اور خدمت کی نوعیت کی وابستگی رکھتی ہیں۔ اِس کے بعد لونڈیوں کے علیحدہ ذکر کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔‘‘ (تدبرقرآن  5/ 398)

ک۔ وہ لوگ جو گھر والوں کی سرپرستی میں رہتے ہوں اور زیردستی کے باعث یا کسی اور وجہ سے اُنھیں عورتوں کی طرف رغبت نہ ہو سکتی ہو۔ اِس کے لیے اُن کا نا مرد یا  مخبوط الحواس ہونا ضروری نہیں۔

ل۔ بچے جو ابھی بلوغ کے تقاضوں سے واقف نہ ہوئے ہوں۔ [15]

شریعت کا قاعدہ ہے کہ دین کی ہدایات اپنی حقیقت یا علت پر مبنی ہوتی ہیں۔ جہاں وہ حقیقت پائی جاتی ہے، حکم وہاں متعلق ہو جاتا ہےاور جہاں نہیں پائی جاتی، وہاں حکم بھی متعلق نہیں ہوتا۔ زیب و زینت کے اخفا کے حکم کی حقیقت یا علت اُن سے پیدا ہونے والی غیرمعمولی کشش کو حد اعتدال میں رکھنا ہے تاکہ جنس مخالف کو دعوت نگاہ نہ ملے اور گناہ کے لیے خصوصی میلان پیدا نہ ہو۔ مذکورہ متعلقین میں وہ علتِ ممانعت نہیں پائی جاتی، اِس لیے اُنھیں استثنا دیا گیا ہے۔

اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

شوہر کا معاملہ واضح ہے۔زیب و زینت سے عورت کے حسن میں جو کشش پیدا ہوتی ہے، وہ اُس کے لیے ممنوع نہیں، بلکہ مطلوب ہے۔

محرم رشتوں سے توقع نہیں ہوتی کہ وہ اپنی محارم خواتین کی زینت سے جنسی کشش محسوس کریں۔ یہی معاملہ میل جول اور خدمت گار خواتین کا ہے۔

زیر دستوں کے معاملے میں استثنا کی علت اُن کی زیر دستی ہے۔ اُن کے لیے سلبِ حواس، نا مردی یا کہنہ سالی کا ہونا ضروری نہیں۔ زیر دستی اور اپنی ضروریات کے لیے دوسروں پر انحصار خود ایک کافی وجہ ہے کہ ایسا شخص اپنے کفیل گھرانے کی خواتین سے متعلق  اپنے اندر  جنسی کشش یا میلان نہیں پاتا۔ اُس میں  ایسا میلان پیدا ہو جائے تو اِس کے اظہار کی جرأت ‍ نہیں کر سکتا۔ البتہ  زیر دستی کے باوجود اِس میں یہ میلان ظاہر ہو تو اُسے بھی استثنا نہیں ملے گا، کیونکہ جس علت کی بنا پر یہ  استثنا  دیا گیا تھا، وہ اِس صورت میں نہیں پائی جاتی۔

غلاموں میں زیر دستی کا عنصر بہت نمایاں ہے، اِسی بنا پر اُنھیں بھی استثنا حاصل ہے۔

نابالغ بچوں میں جنس مخالف کے لیے جنسی کشش کا داعیہ موجود نہیں ہوتا، اِس لیے اُنھیں بھی استثنا دیا گیا ہے۔

عام حالات میں مرد یا عورت کی طرف سے کسی بے اعتدالی یا تجاوز کا اندیشہ فریق مخالف کی سلبِ آزادی کا سبب نہیں بن سکتا۔ چنانچہ جس طرح  عورتوں کی وجہ سے مردوں میں کسی فتنے کے پیدا ہونے کے اندیشے کی وجہ سے عورتوں  پر بیان کردہ آدابِ  اختلاط سے زائد کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، اُسی طرح مردوں کی وجہ سےعورتوں میں  کوئی  فتنہ پیدا ہونے کے  خدشے سے مردوں کی آزادیوں کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ کسی فریق کی بے اعتدالی اور تجاوز کے اقدامات کو وعظ و نصیحت اور، اگر ضروری ہو تو، قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کی برپا کردہ آزمایش کی اسکیم کا یہ تقاضا ہے کہ نیکی اور بدی کے امکانات بالکل معدوم نہ کر دیے جائیں۔ رہبانیت اِسی رجحان سے پیدا ہوتی ہے۔ آداب کی رعایت کے ساتھ تزکیے کی تربیت کے لیے بھی ضروری ہے کہ مردوزن کے اختلاط کی صورت میں آزمایش کا ایک میدان میسر رہے۔ نیز اِسی سے سماجی روابط  پیدا ہوتے اور اُنھیں  حدِ اعتدال میں رکھنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔