مرد و زن کے درمیان ایک دوسرے کے لیے فطری کشش اور میلان پایا جاتا ہے، جو نوعِ بشر کی بقا کا ضامن ہے۔ اُن کا یہ تعلق ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے، چنانچہ خاندان کا ادارہ وجود میں لایاجاتا ہے، جہاں ناتواں بچے کی صورت میں فرد کی نگہداشت اور تربیت اور اُس کے بڑھاپے کی لا چارگی میں اُس کی دیکھ بھال کا سامان کیاجاتا ہے۔ یہ سب نسبی رشتوں کی فطری محبت اور جذباتی تعلق کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔
خاندان کے قیام اور اُس کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ٹھیرا کہ مخالف جنس کی طرف فطری رغبت کے جذبے کو تہذیب کے دائرے میں رکھا جائے اور کچھ حدود و قیود کا پابند کیا جائے، ورنہ جنسی آوارگی خاندان اور فرد، دونوں کو تباہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ حیا اور عصمت کے معیارات تشکیل دیے گئے، مردوزن کے لباس اور اُن کی ملاقات کے آداب مقرر کیے گئے اور اِن معاملات میں تجاوز کی روک تھام کے لیے اَقدار اور قوانین وضع کیے گئے۔جنسی اعضا کو ڈھانپ کر رکھنا تہذیب اور حیا کا اولین تقاضا قرار پایا۔ اِس معاملے میں مردوں کی نسبت عورتوں نے اپنے جسموں کو ڈھانپنے میں زیادہ اہتمام سے کام لیا۔ عورتیں آرایش و زیبایش کا اہتمام بھی کرتی ہیں۔ یہاں بھی تہذیبی تقاضے اظہارِ زینت کے حدود کی تعیین کے متقاضی ہوئے۔ یہ تعیین بھی ایک مستقل بحث کا موضوع بنی۔
قرآنِ مجید نے فرد کی زندگی کا مقصد تزکیۂ نفس کا حصول قرار دیا ، اِسے اُس کی کامیابی کا مدار ٹھیرایا۔[1]اِس کے لیے فواحش کو حرام ٹھیرایا ،[2] اور لباس اور آرایش کے اظہار کے حدود بھی خود متعین کر دیے۔ یہ معاملہ انسانی عقل و فہم پر نہیں چھوڑا، کیونکہ عقل اِس معاملے میں اعتدال کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ اُس نے ایک طرف مرد و زن کے اختلاط کے تمام امکانات کو معدوم کرنا تہذیب و شرافت کا معیار ٹھیرایا، جس کے نتیجے میں عورت کے انسانی حقوق پامال ہو کر رہ گئے تو دوسری طرف فرد کی آزادی کے نام پر ہر طرح کی فحاشی اور عریانی کو سندِ جواز عطا کر دی، جس نے احساسِ پاکیزگی کو بے معنی، غیرتِ نفس کو شرمندہ اور خاندان کے ادارے کو معرضِ خطر میں ڈال دیا۔
قرآن نے جنسی ظواہر کے تجاوز کو قانون اور اخلاق، دونوں کی مدد سے روکا۔ زنا اور تہمتِ زنا کو جرائم کی فہرست میں شامل کیا، زنا کی طرف لے جانے والے ذرائع و وسائل کی حد بندی کی ، مرد و زن کے اختلاط کے آداب مقرر کیے اور اُن کے لباس اور آرایش و زیبایش کے حدود متعین کیے۔ یہ آداب سورۂ نور میں بیان ہوئے ہیں، جن کے مخاطب عام مرد اور عورتیں ہیں۔
قرآنِ مجید میں عورتوں کے لباس اور حجاب کے حوالے سے دیگر مقامات پر بھی کچھ ہدایات پائی جاتی ہیں۔ عورتوں کو کہا گیا ہے کہ گھروں سے باہر نکلتے وقت اپنی چادراوڑھ لیا کریں۔عمر رسیدہ عورتوں کو اپنے آنچلوں یا چادروں کو نا محرم مردوں کے سامنے اتار دینے کی اجازت دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو پردے کے مستقل احکام بتائے ہیں، اُنھیں گھروں میں محدود رہنے اور نا محرم مردوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر حجاب میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عورتوں سے متعلق اِن تمام احکام کی مراد و مفہوم، اِن کے حدود کی تعیین و تشریح اور اِن کے باہمی ربط کے فہم میں اہل علم کے درمیان کئی سوال پیدا ہوئے۔
ان میں سے بنیادی سوالات یہ ہیں:
کیا نا محرم مردوں سے عام خواتین کے سارے بدن کا حجاب قرآنِ مجید کا حکم یا اُس کا تقاضا ہے؟
کیا عورتوں کا چہرے کو ڈھانپنا اِن احکام کی مراد یا مقصود ہے؟
کیا ازواجِ مطہرات کو دیے گئے حجاب کے مستقل احکام کی مخاطب اور مکلف عام مسلمان خواتین بھی ہیں؟
عورتوں کو لباس اور حجاب سے متعلق دیے گئے اِن مختلف احکام میں باہمی ربط کیا ہے؟ ان سوالات کے جواب میں اہلِ علم کی آرا میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں، نیز جمہور متقدمین اہل علم کے ہاں یہ تصور نہیں ملتا کہ قرآنِ مجید میں عورتوں کے حجاب کے مستقل احکام بیان ہوئے ہیں۔ ازواجِ مطہرات کے خصوصی حجاب کی تعمیم کا موقف یا رجحان بھی اُن کے ہاں نہیں پایا جاتا۔
عام عورتوں کے لیے نا محرم مردوں سے مکمل حجاب اور ازواجِ مطہرات کے احکام کی تعمیم کا موقف ابتداءً متاخرین اہل علم کے ہاں سامنے آیا۔ امام ابو بکر جصاص (وفات : 370ھ)، امام ابن العربی (وفات: 543 ھ) اور اُن کے بعد امام قرطبی (وفات: 671 ھ) نے یہ موقف اختیار کیا۔ مولانا مودودی نے قرآنِ مجید کے نصوص کی رو سے حجاب کے مستقل احکام کے اثبات میں ایک منظم استدلال پیش کیا۔ دیگر اہل علم نے اِس میں مزید استدلالات کا اضافہ کیا۔ دورِ جدید میں علما کی اکثریت نے یہی موقف اختیار کر لیا ہے۔
عام خواتین کے حجاب کے قائل علما کے موقف کے بنیادی نکات درج ذیل ہے:
* سورۂ احزاب کی آیتِ جلباب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اور اُن کی بیٹیوں سمیت عام خواتین کو ہدایت کی گئی تھی کہ گھروں سے باہر نکلیں تو ایک بڑی چادر اوڑھ لیا کریں۔ اِس کی جو صورت مفسرین نے بیان کی ہے ،اس کے مطابق یہ چادر اِس طرح اوڑھنی چاہیے کہ پورے جسم سمیت چہرہ بھی فی الجملہ چھپ جائے۔ یہ ہدایت اگرچہ مدینے کے اوباشوں کی طرف سے مسلمان خواتین کو ستانے کے تناظر میں دی گئی تھی، مگر اِس کا مقصد عورت کو ہراسانی سے محفوظ رکھنا تھا ۔ ہراسانی کا یہ معاملہ عورتوں کو کہیں بھی پیش آ سکتا ہے، اِس لیے یہ ایک مستقل حکم ہے۔ اِس کی رو سے غیر مردوں کی موجودگی میں خواتین کو مکمل حجاب میں رہنا چاہیے۔ نیز چادر کو مسلمان عورت کی پہچان قرار دیا گیا ہے۔
* سورۂ نور (24) کی آیت31 میں خواتین کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر مردوں کی موجودگی میں اپنی زینت کو ڈھانپ کر رکھیں۔ البتہ، وہ زینت جس کا چھپانا مشکل ہو یا وہ اتفاقاً یا اضطراراً ظاہر ہو جائے، اُسے استثنا حاصل ہے، جیسے لباس یا چادر وغیرہ۔
* عورتوں کو اپنا چہرہ، ہاتھ اور پاؤں ڈھانپ کر رکھنے چاہییں، البتہ یہ اعضا اتفاقاً یا اضطراراً ظاہر ہو جائیں تو حرج نہیں۔ تاہم، مردوں کو عورتوں کے اُن اعضا کی طرف دیکھنے سے اجتناب برتنا لازم ہے۔
* جو اہل علم اخفاے زینت سے مستثنیٰ اعضاے زینت کو کھلا رکھنے میں اضطرار کی شرط نہیں لگاتے، اُن کے نزدیک بھی یہ اجازت صرف اُس صورت میں ہے، جب فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ چونکہ اِس بارے میں اطمینان نہیں ہو سکتا، نیز معاشرے کی اخلاقی حالت پہلے کی نسبت زیادہ مخدوش ہوئی ہے، اِس لیے سدِّ ذریعہ کے اصول پر اخفاے زینت سے مستثنیٰ اعضا کو بھی اب کھلا رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
* حجاب کا حکم ستر کے حکم سے الگ ہے۔ عورت کا تمام بدن ستر ہے۔ اُسے ہمہ وقت ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ تاہم، چہرے، ہاتھ اور پاؤں کو مستقل طور پر ڈھانپ کر رکھنے میں مشقت پیش آتی ہے، اِس لیے اُنھیں محارم کے سامنے کھلا رکھنے کی اجازت ہے، لیکن آیتِ جلباب کی رو سے نا محرم مردوں کی موجودگی میں عورتیں مکمل حجاب میں رہیں گی۔
* وہ عمر رسیدہ خواتین، جن میں نکاح کی رغبت نہیں رہتی، اُنھیں مردوں کے سامنے اپنے آنچل یا چادر اتار دینے کی اجازت ہے۔ بوڑھی عورتوں کو دی جانےوالی اِس رخصت سے واضح ہے کہ جوان عورتوں کو اِس کی اجازت نہیں۔
* سورۂ احزاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کوجو احکام دیے گئے ہیں، اُن کا مقصد دلوں کی پاکیزگی کا حصول بیان ہوا ہے۔ یہ مقصد عام مسلمان خواتین سے بھی مطلوب ہے۔ چنانچہ آپ کی ازواج کو دیے گئے احکام کا اطلاق عام مسلمان خواتین پر بھی ہوتا ہے۔
* ازواج مطہرات عام مسلمان خواتین کے لیے نمونۂ عمل ہیں۔ عام خواتین کو اُن کی متابعت میں اُن کے حجاب کے احکام کو اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ اُن سے بھی مطلوب ہے کہ وہ اپنے گھروں میں محدود رہیں، نا محرموں سے نرم لہجے میں بات نہ کریں، اُن سے غیرضروری گفتگو نہ کریں اور اُن سے مکمل حجاب میں رہیں تا کہ کسی کی نظر بھی اُن پر نہ پڑ سکے۔
* حجاب کے کئی درجات ہیں: ایک ادنیٰ درجے کا حجاب ہے، جس میں عورت اپنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کو کھلا رکھ سکتی ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ مردوں کے سامنے آنا ہو تو تمام بدن کو ڈھانپ کر آئے۔ تیسرا درجہ حجاب کا اعلیٰ درجہ ہے اور وہ یہ کہ ازواجِ مطہرات کا حجاب اختیار کیا جائے اور خود کو نا محرموں کی نظروں سے بھی اوجھل رکھا جائے ۔
عام عورتوں کے حجاب سے متعلق جناب جاوید احمدغامدی کا موقف مختلف ہے۔ اُن کے مطابق، قرآنِ مجید میں خواتین کے حجاب کے مستقل احکام بیان نہیں ہوئے، البتہ مردو زن کے اختلاط کے موقع کے آداب بتائے گئے ہیں۔ یہ آداب سورۂ نور میں بیان ہوئے ہیں۔ اِن کا آغاز اجازت طلبی کے موقع پر اپنا تعارف کرانے اور سلام کرنےکے آداب سے ہوتا ہے۔ اجازت نہ ملے تو بغیر برا مانے واپس لوٹ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد مردوں اور عورتوں کا آمنا سامنا ہونے پر اُنھیں اپنی نظروں کی حفاظت کرنے اور شرم گاہوں کو اہتمام کے ساتھ پوشیدہ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ حکم مردوں اور عورتوں کو یکساں طور پر الگ الگ ذکر کر کے دیا گیا ہے۔
عام حالات میں یہی حکم ہے۔
اختلاط کے موقع پر عورتوں نے زیب و زینت بھی کر رکھی ہو تو اُنھیں چند مزید ہدایات کی گئی ہیں۔ وہ ہدایات یہ ہیں کہ وہ نا محرم مردوں کے سامنے اپنا بناؤ سنگھار ڈھانپ کر رکھیں، البتہ اُن کی وہ زینتیں جو عام طور پر آشکار رہتی ہیں، اُنھیں ڈھانپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِن میں چہرے، ہاتھ اور پاؤں کو اُن کی زینتوں سمیت ظاہر رکھنے کی اجازت واضح ہے۔ گریبان کی زینت کو خاص طور پر ڈھانپ کر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عورتوں نے پاؤں میں جھنکار والی پازیب پہنی ہو تو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے پاؤں اِس طرح زور زور سے مار کر نہ چلیں کہ اُن سے غیرمعمولی آواز پیدا ہو۔
مرد و زن کے اختلاط کے تمام آداب یہی ہیں۔
آیتِ جلباب کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ وہ ایک وقتی تدبیر تھی، جس کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج، اُن کی بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین کی سماجی حیثیت کو نمایاں کرنا تھا تاکہ مدینے کے اوباش، جنھوں نے مسلمان خواتین کو ہدفِ تہمت بنا کر اُنھیں ستانے کی مہم شروع کر رکھی تھی، اُن کا یہ عذر ختم کیا جا سکے کہ اُنھوں نے کسی لونڈی وغیرہ کے دھوکے میں اُن خواتین سے کوئی بات کر لی تھی۔ اِن مفسدین کے خلاف نظم اجتماعی کی طرف سے کارروائی سے پہلے اُن کے قطع عذر کے لیے مسلمان خواتین کو حکم دیا گیا کہ اپنی سماجی شناخت کاا ظہار اِس طرح کریں کہ گھر وں سے اندیشوں کی جگہوں کے لیے نکلیں تو اپنی چادریں اوڑھ لیا کریں۔ ایک ہنگامی صورتِ حال کے لیے یہ ایک تدبیر تھی، اِسے کسی مستقل اور عمومی حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
ازواجِ مطہرات کے حجاب کے احکام سے متعلق غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ یہ اُن کے لیے خصوصی احکام تھے۔ منافقین کی ریشہ دوانیوں کے تناظر میں ازواجِ نبی کو اُن کی منصبی حیثیت کے پیشِ نظر گھروں میں ٹکے رہنے، اجنبی ملاقاتیوں سے دو ٹوک انداز میں بات کرنے اور نا محرموں سے حجاب میں رہنے کے خصوصی احکام دیے گئے تھے۔ عام خواتین اِن کی مخاطب ہیں اور نہ مکلف۔
آیندہ صفحات میں غامدی صاحب کا موقف اور اُن کا استدلال تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔اُس کے بعد پردے کے قائلین کے مواقف اور اُن کے استدلالات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے گا۔
____________