باب دوم

خواتین کے پردے سے متعلق علما کا موقف

جمہور متقدمین کے ہاں عورتوں کے پردے کے مستقل احکام کا تصور موجود نہیں ہے۔ ازواجِ مطہرات کے حجاب کے خصوصی احکام کی تعمیم کا رجحان بھی اُن کے ہاں نہیں ملتا۔ یہ موقف  پہلی بارمتاخرین اہل علم میں سے امام ابو بکر جصاص، امام ابن العربی اور امام قرطبی کے ہاں سامنے آتا ہے۔ دور جدید میں یہ موقف مقبول ہوتا چلا گیا۔ مولانا مودودی نے اِسے ایک منظم استدلال کی صورت میں پیش کیا۔ دیگر اہل علم نے بھی اِس میں اپنے استدلالات کا اضافہ کیا۔

عورتوں کے حجاب کے حدود سے متعلق اختلاف کی بنیاد عہد صحابہ ہی میں موجود تھی۔ یہ بنیاد حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا اختلاف آرا ہے، جو سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں’اِلاَّ مَا ظَھَرَمِنْھَا‘ کے مصداق کی تعیین میں پیدا ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اِن الفاظ سے عورت کے چہرے اور ہاتھوں پر کی گئی زینت و آرایش مراد لیتے ہیں، جب کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اِن کا مصداق عورت کے لباس اور چادر کو قرار دیتے ہیں ۔[34] پہلی راے کی رو سے غیر محرم مردوں کے سامنے عورت کے چہرے اورہاتھوں کو اُن کی زینت سمیت کھلا رکھنے کی اجازت متبادر ہوتی ہے، جب کہ دوسری راے کے مطابق عورت کو صرف اُس زینت  کے اظہار کی اجازت ہے کہ جو اضطراری طور پر آشکار رہتی ہے، یعنی  لباس یا لباس پر اوڑھی گئی چادر۔ جمہور اہل علم نے حضرت عبد اللہ بن عباس کی راے کو اختیار کیا، جب کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی راے ماضی میں امام احمد بن حنبل، آٹھویں صدی ہجری میں امام ابن تیمیہ،  تیرھویں صدی میں قاضی ثناء اللہ مظہری [35]اور دور حاضر میں مولانا مودودی اور محمد علی صابونی[36]جیسے چند قابل ذکر علما نے اختیار کی۔

نا محرم مردوں سے عورتوں کے مکمل حجاب کے لیے اصل بناے استدلال سورۂ احزاب کی آیت جلباب ہے۔  اِس آیت میں ازواجِ نبی، آپ  کی بیٹیوں اور عام مسلمان عورتوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ہدایت کی گئی تھی کہ گھروں سے باہر نکلتے وقت اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں تاکہ پہچانی جائیں اور کوئی اُنھیں ستانے کی جرأت نہ کرے۔ اِس چادر کے اوڑھنے کا جو طریقہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے منقول ہے ،اِس میں چہرہ بھی فی الجملہ چھپ جاتا ہے۔ اِس سے چہرے کے گھونگھٹ، نقاب اور جسم کو چادر سے مکمل ڈھانپنے کا استدلال کیا جاتا ہے۔

اب ایک طرف  سورۂ نور (24) کی آیت 31 کی رو سے عورتوں کے چہرے اور ہاتھ (پاؤں) کواُن کی زینت سمیت کھلا رکھنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے اور دوسری طرف آیت جلباب سے چہرے سمیت پورے جسم کو ڈھانپنے کا حکم سامنے آتا ہے۔ مسئلے کی اِس نوعیت پر ڈاکٹر عمار خان ناصر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اب اگر سورۂ نور کی آیت کو عبد اللہ بن عباس کی تفسیر کے مطابق حکم کا بنیادی ماخذ مانا جائے تو چہرے کے پردے کو شرعاً‌ لازم قرار نہیں دیا جا سکتا، جب کہ سورۂ احزاب کی ہدایات کو بنیادی ماخذ سمجھا جائے تو حجاب لازم قرار پاتا ہے۔ یوں قرآن مجید کی اِن ہدایات کا مفہوم اور اِن  کا باہمی ربط وتعلق متعین کرنے کا سوال سامنے آتا ہے۔ فطری طور پر اِس ضمن میں اہلِ علم میں اختلاف پایا جاتا ہے اور مختلف اہل علم نے اِن نصوص کی تعبیر و تشریح سے چہرے کے پردے کے لازم ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے مختلف نتائج اخذ کیے ہیں۔“  [37]

اہلِ علم کی نمایندہ تعبیرات، اِن کے استدلالات اور اِن کا تنقیدی جائزہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

’اِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘   کا مفہوم اور مصداق

جن  اہل علم نے  عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ کی راے کو اختیار کرتے ہوئے سورۂ نور میں اِخفاے زینت سے استثنا کا مصداق عورت کے لباس یا چادر کو قرار دیا، اُن کے ہاں آیتِ جلباب کی مراد اور سورۂ نور میں دی گئی اظہارِ زینت کی اجازت کے درمیان کوئی تعارض پیدا نہیں ہوتا۔ ہر دو صورتوں میں عورت کے مکمل حجاب کا مفہوم سامنے آتا ہے۔ اُن کے مطابق اِخفاے زینت سے استثنا صرف اضطراری یا اتفاقی صورتوں کا ہے، جیسے ہوا سے چادر کا اٹھ جانا، جس سے کوئی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہو جائے یا کوئی چیز پکڑتے ہوئے ہاتھ یا چلتے ہوئے پاؤں کا ظاہر ہو جانا وغیرہ۔  

مولانا مودودی کے ہاں یہ استدلال  متعدد پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ایک جامع انداز میں مرتب ہوتا ہے۔ اُن کے مطابق ’اِلاَّ مَا ظَھَرَ‘میں لفظ’ظَھَرَ‘ کا مطلب ’یُظْھِرُ‘نہیں ہو سکتا، یعنی وہ زینت جو خواتین خود ظاہر کریں۔’ظَھَرَ‘کے لفظ میں ارادتاً ظاہر کرنے کا مفہوم مراد نہیں۔ یہ فقط خود بہ خود ظاہر ہو جانے کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ عورت کا تمام بدن اُس کی زینتوں سمیت چھپایا جائے گا، سواے اُس زینت کے جس کا چھپانا ممکن نہ ہو یا وہ اتفاقاً کھل جائے تو اُس کی اجازت ہے۔مولانا لکھتے ہیں:

”ہم یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں کہ’مَا ظَھَرَ‘کے معنی’مَا یُظْھِرُ‘عربی زبان کے کس قاعدے سے ہو سکتے ہیں۔”ظاہر ہونے“ اور”ظاہر کرنے“میں کھلا فرق ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن صریح طور پر”ظاہر کرنے“ سے روک کر”ظاہر ہونے“ کے معاملے میں رخصت دے رہا ہے۔ اس رخصت کو”ظاہر کرنے“ کی حد تک وسیع کرنا قرآن کے بھی خلاف ہے۔“ (تفہیم القرآن 3/ 386)

اِس تفہیم کے مطابق عورت کے مکمل حجاب کا حکم سورۂ نور (24) کی آیت 31 اور سورۂ احزاب کی آیتِ جلباب،  دونوں سے ثابت ہے۔ اِن میں کوئی تعارض نہیں۔  

مولانا کا یہ موقف محل نظر ہے۔’مَا ظَھَرَ‘  کا معنی ظاہر ہونا ہے اور نہ ظاہر کرنا۔ یہ بہ صیغۂ ماضی ”جو ظاہر ہے“ کا مفہوم  دیتا ہے۔  ارادتاً ظاہر کرنے کا مفہوم مراد ہوتا تو الفاظ بھی اِس کے مطابق لائے جاتے، جیسے’اِلا أن یظھر منھا‘۔

علامہ زمخشری نے’اِلاَّ مَا ظَھَرَ‘ کا مفہوم یوں بیان کیا ہے:

إلا ‌ما ‌جرت ‌العادة ‌والجبلة ‌على ‌ظهوره ‌والأصل ‌فيه ‌الظهور.

(الكشاف3/ 231)

”اِن زینتوں کا استثنا ہے جو عادتاً اور جبلتاً ظاہر رہتی ہیں،  اِس میں اصل چیز اِن کا ظہور ہے۔“

شاہ عبد القادر نے’’موضح القرآن“ میں الفاظ کی رعایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترجمہ  یوں کیا ہے:

”اور نہ دکھائیں اپنا سنگار مگرجو کھلی چیز ہے۔ “

قرآن مجید کی ایک اور آیت میں’مَا ظَھَرَ‘  کا استعمال  اِس بات کو مزید واضح کر دیتا ہے:

قُلۡ  اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ  مِنۡہَا وَ  مَا بَطَنَ.(الاعراف 7: 33)

”کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے۔“

”تفہیم القرآن “میں درج بالا آیت کا ترجمہ یوں ہے :

”اے محمد، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے  ۔ “  (2/ 23)

مولانا تقی عثمانی کا ترجمہ یہ ہے:

”کہہ دو کہ: میرے پروردگار نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بے حیالی کھلی ہوئی ہو یا چھی ہوئی۔“ (آسان ترجمۂ قرآن 1/ 452)

مترجمین نے اِس آیت میں’مَا ظَھَرَ‘   کا وہی مطلب لیا ہے  جو الفاظ سے متبادر ہے، یعنی  کھلی یا  کھلی ہوئی ۔ یہاں بھی اگر مفہوم’جو ظاہر ہو جائیں‘، لیا جائے تو مطلب ہوگا کہ  صرف وہ فواحش حرام ہیں جو خود بہ خود ظاہر ہو جائیں یا ناگزیر طور پر ظاہر ہو جائیں، یعنی وہ فواحش جو عام طور پر کھلے ہی ہوتے ہیں، وہ اِن میں شامل نہ ہوں گے اور حرام بھی  قرار نہ پائیں گے۔ بالبداہت یہ مفہوم درست نہیں۔ چنانچہ سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں بھی الفاظ کا وہی مفہوم لیا جائے گا جو اِن سے متبادر ہے،  یعنی  ”جو کھلا ہے“ ،” جو ظاہر ہے “ یا   ”ظاہر رہنے والا ہے“۔  اِسی کو ہم ’الظاہر منھا‘، یعنی”ان میں سے ظاہر رہنے والی“زینتوں کے مفہوم سے ادا کر سکتے ہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ سورۂ نور کی آیتِ زیر بحث میں’اِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘سے وہ زینتیں مراد ہیں جو ظاہر رہتی ہیں اور عام طور پر لباس سے ڈھانپی نہیں جاتیں۔ یہ لباس اور چادر کی زینت کے علاوہ ہیں۔ اِن میں چہرے اور ہاتھوں کی زینت شامل ہے، کیونکہ چہرہ اور ہاتھ معمول کے مطابق ملبوس نہیں رکھے جاتے۔ اِنھیں ڈھانپنے کے لیے الگ سے اہتمام کرنا پڑتا ہے، جس سے غیر معمولی مشقت پیش آتی ہے۔ اِس سے بچانے کے لیے اِنھیں کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہاں شریعت کے اصولِ یُسر کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

قرآن مجید میں اظہارِ زینت کے حدود کی تعیین اِس اصول پر مبنی ہے کہ خواتین کی زینت غیر معمولی طور پرمردوں کے لیے دعوت نگاہ نہ بنے، اِسی لیے معمولاً ظاہر رہنے والے اعضا کی زینت کو چھپانے کی ہدیت نہیں کی گئی۔ گریبان کی زینت کو چھپانے کا اہتمام اور آواز والے زیور کی آواز زور سے پیدا کرنے کی ممانعت کی وجہ بھی یہی ہے کہ اِن سے صنفِ مخالف کی غیرمعمولی توجہ حاصل ہوتی ہے۔

خمار اور چہرے کا پردہ

سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کو اپنے گریبان کی زینت کو اپنے آنچلوں سے ڈھانپ کر رکھنے کی خاص  تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

وَ لَا یُبۡدِیۡنَ  زِیۡنَتَہُنَّ  اِلَّا مَا ظَہَرَ  مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ.

”اور اپنی زینت کی چیزیں  نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔“

آیت میں لفظ’خُمُر‘آیا ہے جو’خِمار‘کی جمع ہے۔ خِمار سرپوش کو کہتےہیں۔ خِمار سے سر ڈھانپنا اِس کا  ایک عام استعمال ہے۔ اِس کے اِس استعمال سے  یہ استدلال کیا گیا ہے کہ خِمار  چونکہ سر پر ہوتا ہی ہے، اِس لیے جب گریبان  پر اِسے ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے  تو سر سے گریبان تک آتے ہوئے یہ چہرے کو بھی چھپا لیتا ہے، اِس لیے چہرے کو ڈھانپنا گریبان کو ڈھانپنےکے حکم میں شامل ہے۔

ابن عثیمین لکھتے ہیں:

فإن الخمار ما تخمر به المرأة رأسها وتغطيه به كالغدفة فإذا كانت مأمورة بأن تضرب بالخمار على جيبها كانت مأمورة بستر وجهها، إما لأنه من لازم ذلك، أو بالقياس فإنه إذا وجب ستر النحر والصدر كان وجوب ستر الوجه من باب أولى؛ لأنه موضع الجمال والفتنة.

 (رسالۃ الحجاب11)

”خمار وہ کپڑا ہے جس سے عورت اپنے سر کو ڈھانپتی ہے، جیسے پردہ۔ جب عورت کو حکم دیا گیا کہ وہ خمار کو اپنی گریبان پر ڈالے تو اُسے اپنے چہرے کو ڈھانپنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، ایک تو اِس لیے کہ یہ اِس کا لازمی نتیجہ ہے  یا یہ قیاسی طور پر واجب ہے، کیونکہ جب گردن اور سینے کو ڈھانپنا واجب ہے تو چہرے کو ڈھانپنے کی ضرورت تو بدرجۂ اولیٰ ہوگی، کیونکہ چہرہ حسن اور فتنہ کا مقام ہے۔“

اِس استدلال کی غلطی یہ ہے کہ چیز کے استعمال کو اُس کے مفہوم میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ لغوی مفہوم میں استدلالی یا عقلی معنی پیدا کرنے کی ایک مثال ہے، جو درست نہیں۔ چیز کے استعمالات اُس کے مفہوم میں شامل نہیں ہوتے۔ اِس بات کو اِس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اردو میں  دوپٹا اُس کپڑے کو کہتے ہیں جوعام طور پر دو (2) پٹّے  بنا کر دونوں کاندھوں کے اطراف میں ڈالا جاتا ہے۔ اِس مناسبت سے اِس کا نام  دوپٹا پڑا۔ اب  اِس وجہ سے کہ اِس کپڑے کا نام  دوپٹا  ہے، یہ لازم نہیں  کہ اِسے جب بھی اوڑھا جائے تو وہ دونوں کاندھوں سے ہوتا ہوا آئے۔ دوپٹا سر پر ہو، کمر پر باندھا ہو، ایک کاندھے پر ڈال لیا گیا ہو یا سارے بدن پر پھیلا کر لیا گیا ہو، ہر صورت میں یہ دوپٹا لینا یا دوپٹا اوڑھنا کے مفہوم میں داخل ہے۔  

یہی معاملہ خِمار کا ہے۔ خِمار کے نام یا  اُس سے سرپوشی کے عمومی  استعمال  سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہی ایک مخصوص انداز  اِس کے مفہوم میں بھی شامل ہے۔ خِمار کو گریبان پر ڈالنے کے لیے ضروری نہیں کہ یہ سر سے گریبان تک آئے۔ گریبان کو ڈھانپنے کا حکم گریبان تک ہی رکھا جائے گا۔

قیاسی طور پر بھی یہ لازم نہیں کہ گریبان کو ڈھانپنے کے حکم سے چہرے کو بدرجۂ اولیٰ ڈھانپنا مراد لیا جائے، کیونکہ چہرہ  محل جمال و فتنہ  ہے، جو گریبان سے زیادہ پرکشش ہے۔ درحقیقت، شرم گاہ محل شہوت ہوتی ہے، اِسے آشکار کرنا فتنے کا سبب بن سکتا ہے، اِس لیے شرم گاہوں کو ڈھانپنے کا حکم ہے۔ عورت کا سینہ شرم گاہ ہے اور  گریبان اُس سے ملحق ہے، اِس لیے اُس پر زینت کی گئی ہو تو اُسے ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اِس کے برعکس، چہرہ محل جمال ہے، جو جمالیاتی احساس کو چھوتا ہے، اِس لیے چہرے کو گریبان پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

اِس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ عورتوں کے لیے مردوں کا چہرہ بھی محل جمال ہے۔ مگر اِس وجہ سے کہ عورتیں مردوں کا چہرہ دیکھ کر کسی فتنے کا شکار ہو سکتی ہیں، مردوں کو چہرے ڈھانپنے کا حکم نہیں دیا جاتا، بلکہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنی نگاہوں اور جذبات کو قابو میں رکھیں۔ اِسی طرح عورتوں کے چہرے کو اِس وجہ سے ڈھانپنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا کہ کچھ مردوں کی اخلاقی تربیت میں کمی کی وجہ سے محل جمال بھی اُن کے لیے شہوت انگیزی کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسے مردوں کو بھی غض بصر کی ہدایت یاد دلائی جائے گی۔

آنچل کو گریبان پر ڈالنے کے اِس حکم میں چہرے کو ڈھانپنے کا ذکر نہ ہونا اِس بات کا  واضح قرینہ ہے کہ چہرے کو ڈھانپنا آیت کا مقصود نہیں، ورنہ یہی موقع اِس کے ذکر کا تھا،  لیکن چہرے کو ڈھانپنے کی ہدایت اگر یہاں دی جاتی تو یہ’اِلَّا مَا ظَھَرَمِنْھَا‘کے تحت اِخفاے زینت میں دیے گئے استثنا کے خلاف ہو جاتی ، جو اُن اعضاے زینت کو کھلا رکھنے کی اجازت دیتا ہے  جو عام طور پر کھلے رہتے ہیں اور چہرہ اُن میں شامل ہے۔

عورت کی سرپوشی کا حکم بھی اِس آیت سے نہیں نکلتا۔ سر  شرم گاہ میں شامل نہیں ہے اور نہ شرم گاہ سے ملحق حصہ ہے کہ اُسے ڈھانپنے کا حکم دیا جاتا۔ یہ عادتاً کھلے رہنے والے اعضا میں بھی شمار نہیں ہوتا کہ’اِلاَّ مَا ظَھَرَمِنْھَا‘ کے استثنا میں   اِسے شامل سمجھا جائے۔ اِس بنا پر سرپوشی کا کوئی شرعی حکم تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم،  ایک تہذیبی قدر کے طور پر مسلم خواتین ہمیشہ سے سر ڈھانپتی رہی ہیں۔ یہ رویہ بھی قرآن مجید کے اشارات سے پیدا ہوا ہے:

اِس حوالے سے غامدی صاحب اپنی کتاب”مقامات“ میں لکھتے ہیں:

”اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے ہاتھ، پاؤں اور چہرے کے سوا جسم کے کسی حصے کی زیبایش، زیورات وغیرہ اجنبی مردوں کے سامنے نہیں کھولیں گی۔ قرآن نے اِسے لازم ٹھیرایا ہے۔ سر پر دوپٹا یا اسکارف اوڑھ کر باہر نکلنے کی روایت اِسی سے قائم ہوئی ہے اور اب اسلامی تہذیب کا حصہ بن چکی ہے۔ عورتوں نے زیورات نہ پہنے ہوں اور بناؤ سنگھار نہ بھی کیا ہو تو وہ اِس کا اہتمام کرتی رہی ہیں۔ یہ رویہ بھی قرآن ہی کے اشارات سے پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دوپٹے سے سینہ اور گریبان ڈھانپ کر رکھنے کا حکم اُن بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، بشرطیکہ وہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ وہ اپنا یہ کپڑا مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر ساتھ ہی وضاحت کر دی ہے کہ پسندیدہ بات اُن کے لیے بھی یہی ہے کہ احتیاط کریں اور دوپٹا سینے سے نہ اتاریں۔ اِس سے واضح ہے کہ سر کے معاملے میں بھی پسندیدہ بات یہی ہونی چاہیے اور بناؤ سنگھار نہ بھی کیا ہو تو عورتوں کو دوپٹا سر پر اوڑھ کر رکھنا چاہیے۔ یہ اگرچہ واجب نہیں ہے، لیکن مسلمان عورتیں جب مذہبی احساس کے ساتھ جیتی اور خدا سے زیادہ قریب ہوتی ہیں تو وہ یہ احتیاط لازماً ملحوظ رکھتی ہیں اور کبھی پسند نہیں کرتیں کہ کھلے سر اور کھلے بالوں کے ساتھ اجنبی مردوں کے سامنے ہوں۔“  (307 - 308)

گریبان کو ڈھانپنے کا حکم اُس صورت میں دیا گیا ہے جب گریبان پر زینت کی گئی ہو، اِس کا مفہوم مخالف یہ نکلتا ہے کہ گریبان پر زینت نہ کی گئی ہو تو اُس پر آنچل ڈالنے کا حکم  اِس آیت کی مراد نہیں۔

معاصر اہل علم  ڈاکٹر عامر گزدر نے حجاب کے موضوع پر اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے ”مواقف العلماء من احکام الحجاب و الاختلاط قدیمًا و حدیثًا“  میں اِس موقف پر درج ذیل اعتراضات وارد کیے ہیں:

”’لا یبدین زینتھن‘ (اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں) کے عموم میں عورت کے سینے سمیت تمام اعضاے زینت شامل ہیں، سواے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کے، جنھیں ’الا ما ظھر منھا‘ (سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں) کے تحت استثنا حاصل ہے۔ سینہ، گردن اور گریبان اِس استثنا میں شامل نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِخفاے زینت کے حکم میں سینے، گریبان اور گردن کی زینت کو ڈھانپنا بھی شامل ہے۔ اب اگر’ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن‘(اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں)کو ’لا یبدین زینتھن‘ (اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں)کی تفسیر مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ عورتیں فقط گریبان کی زینت کو ڈھانپیں، دیگر زینتوں کو ڈھانپنا اِس حکم میں شامل نہیں، جیسے کلائیوں، بازوؤں کے بالائی حصے اور پنڈلیوں پر کی گئی زینت۔ یہ مراد لینے سے حکم اول اور حکم ثانی میں تعارض لازم آتا ہے۔ کیونکہ حکمِ اول کا عموم اِسے تسلیم نہیں کرتا، جس میں چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کی زینت کے علاوہ تمام  زینتوں کو ڈھانپنا شامل ہے۔

اگر  گریبان اورسینے پر زینت ہونے کی صورت ہی میں لازم ہے  کہ اُسے ڈھانپا جائے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ سینے پر زینت نہ کی گئی ہو تو اُسے ڈھانپنے کا حکم نہیں ہے۔ اِس صورت میں حفظِ فروج کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ گریبان ڈھانپا ہوا نہ ہو تو اُس میں سے سینے کا جھلک جانا ممکن ہے۔

عمر رسیدہ عورتوں کو مردوں کے سامنے اپنا دوپٹا اتارنے کی رخصت عدمِ تزیین اور عدمِ تبرج کی شرط کے ساتھ دی گئی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو عورتیں بوڑھی نہیں ہیں، اُنھیں عدمِ زینت کے باوجود مردوں کی موجودگی میں دوپٹا اتارنے کی اجازت نہیں ہے،اِ س لیے گریبان ڈھانپنے کا حکم اخفاے زینت کے حکم کی تفصیل نہیں ہوسکتا۔“

(297 - 298)

اِس کے جواب میں عرض ہے کہ گریبان کو ڈھانپنے کا حکم’وَلاَ یُبْدِیْنِ زِیْنَتَھُنَّ‘(اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں) کی تفسیرمطلق نہیں ہے، بلکہ خصوص کا بیان ہے، یعنی اگر زینت کی گئی ہو تو خاص طور پر گریبان کو ڈھانپا جائے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف گریبان ہی کو ڈھانپا جائے۔  اِسی آیت میں آگے دوسرا عطف بھی ہے جو ایک اور خصوص کو بیان کرتا ہے، یعنی ’وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ‘ (اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے)۔ یہ دونوں عطف،  عطف الخاص علی العام ہیں۔

چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ اعضاے زینت میں سے گریبان  کی زینت ہی نمایاں ہوتی ہے۔گردن اور اُس سے متصل گریبان کا اوپری حصہ (نحر  اور عنق) عموماً ملبوس  نہیں ہوتے۔  اِس لیے اِنھیں’اِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘کے استثنا میں شامل سمجھ کر اِن پر کی گئی زینت کو بھی ظاہر رکھنے کا استنباط کیا جا سکتا تھا، مگر گریبان سینے سے متصل ہے اورسینہ فروج میں شامل ہے۔اِس وجہ سے اِسے چھپانے کا حکم بھی سمجھا جا سکتا تھا۔ چنانچہ یہاں ابہام پیدا ہوتا ہے، جسے دور کرنے کے لیے گریبان کی زینت کو ڈھانپنے کا واضح حکم دیا گیا۔

زینت کی صورت میں گریبان کو ڈھانپنے کے خصوصی ذکرسے یہ لازم نہیں آتا کہ بغیر زینت کے گریبان کھلا رہنے دیا جائے۔یہ معلوم ہے کہ  سینہ فروج میں شامل ہے، اِس لیے حفظِ فروج کے حکم کے تحت ایسا اہتمام بہرحال ضروری ہے کہ گریبان سے سینہ نہ جھلکے، بلکہ سینے کے ابھار بھی کپڑے کے اندر سے نمایاں نہ ہوں۔

کلائیاں ہاتھوں سے متصل ہیں، اِس لیے ان پر کی گئی زینت کا شمار ہاتھوں کی زینت کے ساتھ کرنا ہی مناسب ہے، جسے اِخفاے زینت سے استثنا حاصل ہے ۔چنانچہ کلائیوں پر کی گئی زینت ظاہر رکھی جا سکتی ہے۔ البتہ بازوؤں کا بالائی حصہ اور پنڈلیاں  حفظِ فروج کے حکم کے تحت ڈھانپ کر رکھی جائیں گی، کیونکہ یہ اعضا فروج کے قریب ہیں۔ اِن پر اگر زینت کی گئی ہو تو بدرجۂ اولیٰ اُنھیں ڈھانپ کر رکھا جائے گا۔ اِن کا حکم حفظِ فروج کے حکم سے برآمد ہوتا ہے۔

سینے کو بہ اہتمام ڈھانپنے کا حکم حفظِ فروج کی ہدایت میں پہلے سے شامل ہے۔’وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ‘ (اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں)کے حکم میں سینے کو ڈھانپ کر رکھنے کے حکم کو دہرایا نہیں گیا اور نہ ہی اِس کی ضرورت تھی۔ یہاں’جیوب ‘،یعنی گریبان کی زینت کو ڈھانپنے کا حکم ہے۔ سینہ یہاں زیرِبحث  ہی نہیں۔  اگر کسی وجہ سے  سینے کو ڈھانپنے کا حکم علیحدہ سے بیان کرنے کی ضرورت تھی تو اُس کی جگہ حفظِ فروج کے حکم کے متصل بعد تھی، نہ کہ اِخفاے زینت کے بیان کے ذیل میں، جو’و لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ‘ (اور اپنی زینت کی چیزیں  نہ کھولیں) کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔

عمر رسیدہ عورتوں کو دوپٹا اتارنے کی اجازت عدمِ زینت کی شرط کے ساتھ نہیں، بلکہ عدمِ تبرج کی شرط کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ ہر اظہارِ زینت تبرج نہیں ہوتا۔ تبرج کا مطلب یہ ہے کہ زینت کی نمایش اِس طرح کی جائے کہ وہ شہوت انگیز ہو جائے۔ تبرج سے بچنے کی ہدایت اُسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب زینت کی گئی ہو، اِس لیے بوڑھی عورتوں کے لیے دوپٹا  اوڑھنے سے رخصت  کا تعلق اُن کے لیے اظہارِ زینت کی اجازت سے متعلق ہے،  اور یہ رخصت جوان عورتوں کے لیے نہیں ہے۔اِس کا پردے کے حکم سے کوئی تعلق نہیں۔ آدابِ اختلاط کے علاوہ عورتوں کے لیے پردہ کا کوئی مستقل حکم موجود نہیں ہے۔

چہرے کا پردہ

آیتِ جلباب میں خواتین کو ہدایت کی گئی تھی کہ گھروں سے اندیشے کی جگہوں کے لیے نکلیں تو اپنی چادروں  میں سے کوئی بڑی چادر اوڑھ لیا کریں۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے جلباب اوڑھنے کا جو طریقہ منقول ہوا ہے، اُس میں چہرہ بھی فی الجملہ چھپ جاتا ہے۔ اِس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ چادر اوڑھنے میں چہرے  کا پردہ شامل ہے۔

یہ استدلال بھی شے کے استعمال سے اُس کا معنی متعین کرنے کا ہے،  یعنی چادر اوڑھنے کے ایک انداز کو چادر اوڑھنے کے مفہوم میں شامل کر دیا گیا ہے۔ خواتین کپڑوں کے اوپر اوڑھنے کی بڑی چادر مختلف انداز سے لیتی ہیں۔ اِن میں سے کچھ طریقے صحابہ کے آثار میں بیان ہوئے ہیں۔اِن میں سے ایک طریقہ  چادر کو سر اور چہرے پر ڈال لینا بھی ہے،  مگر اِن میں سے کوئی   ایک طریقہ جلباب اوڑھنے کے مفہوم میں داخل نہیں۔ قرآن مجید میں جلباب اوڑھنے کے لیے ’یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کا مطلب ہے: چادر اپنے قریب کر لیں،  اپنے اوپر ڈال لیں۔ یہ چادر کسی بھی مناسب اور معروف طریقے سے اوڑھی جا سکتی ہے۔

علامہ طبری جلباب اوڑھنے کے اِن مختلف طریقوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اختلف أهل التأويلِ في صفة الإدناء.(تفسير الطبری 19/ 181)

”اہل تاویل نے ادناء (اوڑھنے) کی کیفیت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔“

علامہ ناصر الدین البانی کے نزدیک ادناے جلباب کا مطلب اپنے اوپر چادر لے لینا ہی ہے۔ اِس میں چہرے کو چھپانے کا مفہوم از خودشامل نہیں۔ [38]

مولانا عمار خان ناصر لکھتے ہیں:

”اِس حوالے سے جمہور مفسرین کا زاویۂ نظر دو نکتوں سے واضح ہوتا ہے:

ایک یہ کہ وہ آیت کے الفاظ ’يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ‘ کا مفہوم یا تو صرف یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی چادر لے کر جسم پر ڈال لی جائے اور یا اِس جملے کی دونوں تفسیروں کا بلا ترجیح ذکر کر دیتے ہیں جو عربیت کی رو سے ممکن ہیں: پہلی یہ کہ اِس کا مطلب کوئی چادر لے کر اپنے اوپر ڈال لینا ہے اور دوسری یہ کہ اِس سے مراد اوڑھی ہوئی چادر کو اپنے چہرے پر لٹکا لینا ہے۔ مفسرین کا اِن دونوں احتمالات کو ذکر کر دینا اور کسی ایک کو لازمی طور پر ترجیح نہ دینا اِسی وجہ سے ہے کہ وہ اِس حکم کو اصلاً‌ چہرے کو چھپانے کا کوئی حکم نہیں سمجھتے۔“۔“[39]

       علامہ ابن عثیمین ایک دوسرے زاویے سے ادناے جلباب سے چہرے کے پردے پر استدلال کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق،ازواجِ مطہرات کے حجاب میں اُن کے چہرے کو ڈھانپنے کا مفہوم ایک مسلمہ امر ہے۔ آیتِ جلباب میں ازواجِ مطہرات کو شامل کرتے ہوئے  دیگر تمام خواتین کو جلباب اوڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، اِس لیے سب خواتین کے چہرے کے پردے کا مفہوم از خود اِس حکم میں شامل ہو جاتا ہے۔ [40]

یہ استدلال معکوس ہے۔ ازواجِ مطہرات کے لیے حجاب یہ تھا کہ وہ غیر محرم مردوں کی نگاہوں سے مکمل طور پر اوجھل رہیں گی۔ اِس سبب سے گھر سے باہر مردوں کی موجودگی میں اپنے چہرے کو ڈھانپنا اُن کے لیے ضروری تھا، مگر اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سبھی خواتین ازواجِ مطہرات کو ملنے والے خصوصی حکم کی وجہ سے اپنے لیے جلباب اوڑھنے کا یہی طریقہ اختیار کر لیں۔

آیتِ جلباب: مولانا امین احسن اصلاحی کا موقف

مولانا امین احسن اصلاحی کے مطابق،  آیتِ جلباب میں مسلم عورتوں کونا محرم مردوں کی موجودگی میں اُن کے پورے جسم کے حجاب کا مستقل حکم دیا گیا ہے۔ اِس حکم کا محرک اگرچہ منافقین کی فتنہ پردازی اور شر انگیزی کی ایک مخصوص صورت حال تھی، مگر محض اِس سبب سے یہ حکم ایک وقتی تدبیر تک محدود نہیں ہو جاتا۔

مولانا لکھتے ہیں:

” ...احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں، سب محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہو جائیں۔ دوسرے یہ کہ جن حالات میں یہ حکم دیا گیا تھا، کیا کوئی ذی ہوش یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس زمانے میں حالات کل کی نسبت ہزار درجہ زیادہ خراب ہیں، البتہ حیا اور عفت کے وہ تصورات معدوم ہو گئے جن کی تعلیم قرآن نے دی تھی۔‘‘ (تدبر قرآن 6/270)

مولانا  کی یہ بات درست ہے کہ احکام محرکات اور اسباب کی بنا ہی پروارد ہوتے ہیں، اور محض اپنے محرک یا سبب کی وجہ سے اُن کی تخصیص نہیں کی جاتی۔ تاہم،  احکام کی تعمیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس حقیقت یا علت پر مبنی ہوں، وہ تعمیم قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ مثلاً ظہار کی آیات کا محرک ایک عورت کا شکوہ  تھا،[41] مگر اُس کے جواب میں ملنے والے حکم کی حقیقت یا علت میاں بیوی کے رشتوں میں خود ساختہ حرمت پیدا کرنے کی نفی ہے۔[42] اِس لیے یہ حکم اِس جیسی دیگر صورتوں کے لیے بھی عام  ہو جاتا ہے اور محض اپنے محرک، یعنی ایک عورت کو درپیش مسئلے تک محدود نہیں رہتا۔

لیکن آیتِ جلباب میں چادر اوڑھنے کی ایسی کوئی حقیقت یا علت بیان نہیں ہوئی اور نہ مفہوم ہوتی ہے، جو اِسے عام حالات اور عام خواتین کے لیے عام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اِس کی علت عورتوں کی پہچان کرانا بیان ہوئی ہے تاکہ اُن کو اوباشوں کی اذیت رسانی کے عمل سے محفوظ کرنے کا انتظام کیا جائے۔ یہ پہچان، ظاہر ہے کہ اُن کی خاندانی حیثیت کا اظہار تھا، جو لونڈیوں اور آبروباختہ عورتوں کو حاصل نہ تھی۔ مدینے کے اوباشوں کا عذر یہ نہیں تھا کہ رات کے اندھیرے میں چادر کے بغیر عورتوں کو دیکھ کر اُن کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، جس کی روک تھام کے لیے عورتوں کے چادر اوڑھنے کی پابندی عائد کی گئی۔  چادر اوڑھنے کی یہ تدبیر اِس لیے اختیار کی گئی کہ اوباش جان لیں کہ یہ باحیا خاندانی خواتین ہیں، جن کو چھیڑنے اور ستانے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

عورتوں کے پردے کے حکم کے اثبات میں جتنی علتیں بیان کی جاتی ہیں، اُن میں سے کوئی بھی اِس  ہدایت کےموقع پر  بیان نہیں ہوئی، جیسے پاکیزگی کا حصول، مردوں کو عورتوں کے حسن و جمال کے فتنے سے بچانا، مسلمان عورت کی پہچان قائم کرنا  وغیرہ۔ چادر اوڑھنے کی ہدایت کا مقصد اگر عصمت و عزت کی حفاظت ہوتا تو اِس کے لیے 5یا 6 ہجری تک کے غیرمعمولی حالات درپیش ہونے کا انتظار نہ کیا جاتا، پہلے دن  سے اُنھیں بتایا جاتا کہ باہرنکلتے ہوئے لباس کے کیا آداب ملحوظ رکھیں جائیں۔

جلباب اوڑھنے کی ایک عمومی علت جو آیتِ جلباب سے مفہوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ خاتون کا لباس ایسا ہونا چاہیے  جس سے اوباشوں کو عورت کے حلیے ہی سے یہ پیغام ملے کہ وہ ایک معزز خاتون ہے، اُسے ہلکے کردار کی عورت نہ سمجھا جائے۔ خاتون کا پروقار لباس کیا ہو؟ اِس کا فیصلہ عورت اور اُس کا کلچر کرسکتے ہیں، اِس کے لیے کسی ایک طرز کے لباس یا لباس میں کسی خاص ہیئت  کے اختیار کر لینے پر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔    

دورِ رسالت میں مسلمان خواتین پہلے ہی سے باوقار لباس پہنتی تھیں۔ گھروں سے باہر نکلتے وقت چادر لینے کا رواج بھی پہلے سے موجود تھا،  یعنی ایسا نہیں تھا کہ عورتیں لباس کے معاملے میں کسی کوتاہی کی مرتکب تھیں اور اُنھیں  اِس پر توجہ دلاتے ہوئے چادر اوڑھنے کا حکم دیا گیا ۔ آیتِ جلباب کی مخاطَب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں اور بیویاں بھی ہیں، جن کے بارے میں تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اُن کے لباس میں ایسی کوئی کمی تھی، جس کی طرف اُنھیں بھی متوجہ کیا گیا اور چادر اوڑھنے کی تلقین کی گئی۔’ جَلَابِیۡبِہِنَّ‘،(اپنی چادروں) کے الفاظ ہی سے واضح ہے کہ اُن خواتین کی چادریں اُن کے پاس پہلے سے موجود تھیں اور وہ گھروں سے باہر نکلتے وقت اُنھیں اوڑھتی بھی تھیں۔ چادر اوڑھنے کے اِسی رواج کو اُن خاص حالات میں مسلمان خواتین کی سماجی حیثیت کے اظہار کی باقاعدہ امتیازی علامت بنا دیا گیا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اِس کے لیے کوئی اور علامت مقرر کر دی جاتی، مگر آسانی سے دستیاب چادر جو پہلے ہی حیا اور وقار کی ایک نشانی سمجھی جاتی تھی، اِسی کو اِس مقصد کے لیے بہ طور خاص مقرر کر دیا گیا۔ چنانچہ جو خواتین رات کے اندھیرے کی وجہ سے چادر اوڑھنے کا لحاظ نہیں کرتی تھیں، وہ بھی اب کرنے لگیں، کیونکہ  اب یہ اُن کی امتیازی علامت تھی۔

آیتِ جلباب کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ  خواتین کے لیے چادر اوڑھنے کا یہ معاملہ شرعی تقاضے کی حیثیت  سے نہیں دیا گیا تھا، اِسی لیے اِس ہدایت کے ساتھ تقویٰ کی تلقین اور ثواب اور عذاب کی نوعیت کی چیزیں بھی وابستہ نہیں کی گئیں۔ اِسے ایک تدبیر کے طور پر بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔

ستر و حجاب کا فرق

حجاب کے قائلین کا ایک موقف قرآن مجید سے ستر اور حجاب کے احکام کو الگ الگ متعین کرنے کا ہے۔ اِس کے مطابق، عورت کا سارا بدن ستر ہے۔ اُس کا سارا بدن مستور رہنا چاہیے۔ یہ موقف درج ذیل روایت پر مبنی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

المرأة عورة. (ترمذی،رقم  1173)

”عورت (سراپا) پردہ ہے۔“

عورت کو چہرہ، ہاتھوں اور پاؤں کو مسلسل ڈھانپ کر رکھنے میں غیر معمولی مشقت پیش آتی ہے۔ اُسے اسِ زحمت سے بچانے کے لیے اِن اعضا کو محارم کے سامنے کھولنے کی اجازت ہے۔  رفع حرج کے  تحت ہی، اُس کےاِنھی اعضا کو نماز اور احرام میں بھی ڈھانپنے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے،  جب کہ حجاب ایک مستقل حکم ہے۔ اِس کا ماخذ آیتِ جلباب ہے۔ اُس کی رو سے عورتیں غیر مردوں کی موجودگی میں مکمل حجاب میں رہیں گی۔ اُن کے چہرے سمیت تمام بدن پردے میں رہے گا۔[43]

عورت کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کو سترمیں شمار کرنے کا یہ موقف دین اور فطرت، دونوں کے لیے اجنبی ہے۔ انسانی تہذیب کی مسلمہ روایت نے عورت کے چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کو ستر میں شمار نہیں کیا۔ اِنھیں ستر میں شامل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شرم گاہوں کا کچھ حصہ محارم کے سامنے اور نماز اور احرام کی حالت میں بھی کھول کر رکھنے کی اجازت ہے، یہ عجیب ہے۔ قرآن مجید میں  اِس بارے میں کوئی چیز اشارتاً بھی موجود نہیں۔

سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘ کے الفاظ میں عام طور پر ظاہر رہنے والی زینتوں کو ظاہر رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اِن میں چہرہ، ہاتھ اور پاؤں شامل ہیں۔ یہ اجازت ستر سے متعلق نہیں ہے۔ ستر کو ڈھانپ کر رکھنے کا حکم اِس سے پہلے  حفظ فروج کے تحت دیا گیا ہے اور وہاں کوئی استثنا بیان نہیں ہوا، کیونکہ شرم گا ہوں کے لیے لازم ہے کہ وہ پوشیدہ ہی رکھی جائیں، اُن میں استثنا نہیں دیا جا سکتا۔

عورت کو سراپا سترقرار دینے کا استدلال مذکورہ بالا روایت کے فہم پر کھڑا ہے۔ اصولی طور پرخبرِ واحد کسی مستقل حکم کا ماخذ نہیں بن سکتی۔ اِس سے کوئی ایسا استدلال نہیں کیا جا سکتا جس کی زد قرآن مجید کے کسی حکم پر پڑتی ہو۔مزید برآں، یہ روایت سنداً ایسی قوی اور بے غبار  نہیں کہ کسی حکم کے لیے بناے استدلال بن سکے۔ امام ترمذی کے مطابق، یہ روایت حسن غریب ہے۔ محدثین نے اِس کی سند میں ضعف کی نشان دہی کی ہے۔[44] تاہم،  غور کیا جائے تو معنوی طور پر اِس میں ایسی کوئی بات نہیں جو دین کے مسلمات کے خلاف ہو۔ روایت کے الفاظ صرف یہ بتاتے ہیں کہ عورت کا بدن ڈھانپا ہوا ہونا چاہیے۔ حیا اور شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ عورت کا جسم ڈھانپا  ہوا ہو، مگر عرف وعادت میں جن اعضا کو ڈھانپا نہیں جاتا، اُن کا استثنا بہرحال اِس کے مفہوم میں برقرار ہی رہے گا۔

زبان و بیان کا مسلمہ اصول ہے کہ عقلی مستثنیات ہر مطلق اور عام ہدایت میں مقدر (Understood/Implicit) مانے جاتے ہیں۔ مثلاً   ایک استاد یہ کہے کہ سب طلبہ کے لیے لازم ہے کہ کل جماعت میں حاضر ہوں، غیر حاضر ہونے والے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اگلے روز کسی طالب علم کو حادثہ پیش آ جائے تو یہ اُس کی غیر حاضری کے لیے ایک معقول عذر ہے، جو اُسے سزا سے استثنا  کا جواز فراہم کرتا ہے۔ استاد کے الفاظ  اگرچہ مطلق ہیں،  مگر عقلی استثنا یہاں مقدر ہے، جو متاثرہ طالب علم کو جرمانے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔

یہی معاملہ مذکورہ روایت کا ہے۔ اِس میں بھی چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کا استثنا  پہلے سے مقد رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے چہرے اور ہاتھوں کو حالت احرام میں کھلے رکھنے کی تاکید کی ہے، دراں حالیکہ اِس موقع پرمردوں کا ازدحام  ہوتا ہے۔

آپ کا ارشاد ہے:

ولا تنتقب المرأة المحرمة، ولا تلبس القفازين.

(بخاری، رقم 1838)

”احرام کی حالت میں عورت منہ پر نقاب نہ ڈالے اور دستانے بھی نہ پہنے۔“

حالتِ احرام میں عورتوں کو نقاب اوڑھنے اور دستانے پہننے کی ممانعت کی وجہ غالباً یہ تھی کہ عورت کے لباس میں یہ چیزیں طبقۂ اشرافیہ میں  عام لوگوں سے امتیاز  برتنےاور اپنی بڑائی  کے اظہار کے لیے رائج تھیں۔ حج کے موقع کے لیے اِسے اختیار کرنے سے منع کیا گیا، کیونکہ یہ احساسِ عبدیت کے خلاف تھا۔ اِن کی ممانعت کی یہ وجہ نہیں تھی کہ  عورتیں عموماً نقاب اوڑھتی اور دستانے پہنتی تھیں اور حج کے موقع پر اُنھیں اِن سےمنع کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ نقاب اوڑھنا اور دستانے پہننا  عورتوں کا معمول کبھی نہیں رہا۔عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں خواتین چہرے اور ہاتھوں کے پردے کے بغیر سامنے آیا کرتی تھیں۔ نقاب اوڑھنے والی خواتین کے اکا دکا واقعات ہی نقل ہوئے ہیں۔  چند عورتوں کے نقاب اوڑھنے کا بہ طور خاص ذکر ظاہر کرتا ہے کہ نقاب اوڑھنا معمول نہیں تھا، ورنہ  اِس طرح  یہ ذکر میں نہ آتا۔ لباس میں کوئی غیر معمولی بات ہی نوٹس کی جاتی اور  بیان میں آتی ہے۔ اِن روایات پر تبصرہ الگ ضمیمے میں کیا جائے گا۔

ازواج مطہرات کا معاملہ مختلف تھا۔ اُنھیں حجاب کا خصوصی حکم دیگر وجوہات کی بنا پر دیا گیا تھا، جنھیں اِس کتاب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اُن کا حجاب حج کے موقع پر بھی قائم رکھا جاتا تھا۔ اِسی مناسبت سے وہ مناسکِ حج بھی عام لوگوں سے علیحدہ  رہ کر ادا کرتی تھیں۔

درست بات یہی ہے کہ عورت کا چہرہ، ہاتھ اور اِسی طرح اُس کی کلائیاں اور پاؤں ستر کے اعضا نہیں ہیں۔ اِنھیں عام طور پر ملبوس نہیں رکھا جاتا ۔ اِنھیں ظاہر رہنے والے اعضا کو اِن پر کی گئی زینت اور سنگھار سمیت ظاہر رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

عام عورتوں کے حجاب کے استدلال پر اعتراضات

سورۂ احزاب اور سورۂ نور سے عورتوں کے مکمل حجاب کے استدلالات پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں:

سورۂ احزاب کی آیت جلباب اور سورۂ نور کی آیت 31 ،دونوں جگہ اگر عورتوں کے مکمل پردے کا حکم دیا گیا ہے تو ایک ہی حکم کو دہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔

سورۂ نور میں اِخفاے زینت سے استثنا اگر صرف چادر یا ظاہری لباس کا ہے تو وہ آیتِ جلباب سے از خود متبادر تھا، اُسے بھی دہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔ نیز ایسے بدیہی استثنا بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

’اِلاَّ مَا ظَھَرَمِنْھَا ‘کا استثنا اظہارِ زینت کے باب میں دیا گیا ہے، یعنی اعضاے زینت اپنی زینتوں سمیت ظاہر رکھے جا سکتے ہیں۔ جسم کے مکمل حجاب میں اِن اعضا کو چھپانے کا استدلال درست نہیں ہو سکتا۔  

آیتِ حجاب کی رو سے گھر میں داخل ہونے والے مردوں سے عام عورتوں کو بھی اگر حجاب میں رہنا ہے  تو سورۂ نور میں مردوزن کے اختلاط کے موقع پر غض بصر اور حفظِ فروج کا اہتمام اور زینتوں کو ڈھانپنے کی ہدایات دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ سورۂ نور کی ہدایات مردوزن کی ناگزیر یا اتفاقی ملاقات کے ذیل میں دی گئی ہیں تو آیت کے الفاظ میں ایسی کوئی صراحت یا تقیید نہیں۔ اِس کے برعکس، اجازت طلبی اور تعارف کرانے کی ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقاعدہ اجازت کے بعد معمول کی ملاقات کے لیے بیان کردہ آداب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابن تیمیہ کو یہ راے اختیار کرنا پڑی کہ سورۂ احزاب میں پردے کے حکم سے سورۂ نور کے آدابِ اختلاط کے احکام منسوخ ہو گئے ہیں،[45] لیکن یہ درست نہیں ہو سکتا، اِس لیے کہ آیتِ جلباب میں مسلمان عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت چادریں اوڑھنے کی ہدایت اُن کی سماجی حیثیت کے اظہار کے لیے دی گئی تھی تاکہ اوباش اُن کو ہراساں کرنے کی جرأت نہ کریں، جب کہ سورۂ نور (24) کی آیت 30 اور 31 مردوزن کے عام اختلاط کے آداب بیان کرتی ہے۔ نیز  سورۂ احزاب پہلے نازل ہوئی ہے، جب کہ سورۂ نور بعد میں۔ پہلے نازل ہونے والا حکم بعد والے حکم کو منسوخ نہیں کر سکتا، دوسرے یہ کہ خود اِن احکام میں ایسی کوئی لسانی دلالت یا قرینہ یا عقلی تقاضا موجود نہیں، جو ایک کو دوسرے کا ناسخ ثابت کر سکے۔

سورۂ نور میں ستر کی حفاظت کی ہدایت (يَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ)حفظِ فروج کی ہدایت کے تحت آ چکی تھی ۔ اِس میں عورت کا سینہ بھی شامل ہے۔ اِس کے بعد عورتوں کو اپنے گریبانوں پر آنچل ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ ہدایت اِخفاے زینت کے ذیل میں آئی ہے (وَ لَا یُبۡدِیۡنَ  زِیۡنَتَہُنَّ  اِلَّا مَا ظَہَرَ  مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ)۔ یہاں گریبان کی زینت کو خصوصیت سے ڈھانپنے کا مفہوم متبادر ہے۔ تاہم،  اگر اِس سے گریبان ڈھانپنے کا مطلَق حکم مراد لیا جائے، یعنی گریبان پر زینت کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو، ہر دو صورتوں میں اِسے ڈھانپا جائے تو یہ دوبارہ حفظِ فروج کی ہدایت قرار پاتی ہے، جو پہلے دی جا چکی ہے۔ یوں تکرار لازم  آتی ہے۔ کسی وجہ سے اگر بغیر زینت کے بھی گریبان کو ڈھانپنے کا حکم مستقل طور پر بیان کرنے کی ضرورت تھی تو اُسے حفظِ فروج کی ہدایت کے متصل بعد آنا چاہیے تھا، نہ کہ اِخفاے زینت کی ہدایت کے ذیل میں۔

سورۂ نور میں عورتوں کو اپنی چھپی ہوئی زینتیں اپنے جن متعلقین کے سامنے ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے  اُن میں شوہر بھی شامل ہے۔ چھپی ہوئی زینت سے اگر ستر کے اعضا مراد لیے جائیں تو شوہر کے لیے بھی عورت کا اُتنا ستر دیکھنا ہی جائز قرار پاتا ہے، جتنا دیگر محرم مردوں کے لیے روا ہے۔ یہ بداہتاً غلط مفہوم ہے۔ چنانچہ زینت کے معاملے کو ستر کے معاملے پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔

نماز اور حالت احرام میں مردوں کی موجودگی کے باوجود عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو کھلا رکھنے کی تاکید کی گئی ہے، مگر عام حالات میں مردوں کی موجودگی میں اُنھیں ڈھانپ کر رکھنے کو شریعت کا حکم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک تضاد ہے، لہٰذا درست بات یہی ہے کہ عورت کے چہرے اور ہاتھوں کے لیے پردے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں ’اِلاَّ مَا ظَھَرَ‘کے تحت اِن اعضا کو اپنی زینتوں سمیت کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

آواز کا پردہ

ترمذی کی مذکورہ بالا روایت”عورت (سراپا) پردہ ہے“ کی رو سے بعض اہلِ علم عورت کی آواز کو بھی اُس کے سراپا میں شمار کرتے ہوئے[46] نامحرم مردوں سے عورت کی آواز کے پردے پر استدلال کرتے ہیں۔ عورت کی آواز کےپردے کے اثبات میں سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں  پاؤں کے زیور کی آواز کو پوشیدہ رکھنے کی ہدایت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ یہ استدلال  امام ابو بکر جصاص کے مطابق یوں ہے کہ عورتوں کو ہدایت کی گئی  ہے کہ اُنھوں نے جھنکار والی پازیب پہن رکھی ہو تو اپنے پاؤں زور سے مار کر نہ چلیں تاکہ اُس کی آواز زیادہ پیدا نہ ہو۔ عورت کی آواز میں زیور کی آواز سے زیادہ کشش ہوتی ہے، اِس لیے غیر محرم مردوں تک وہ بھی نہیں پہنچنی چاہیے۔[47]

اِس استدلال میں کئی مسائل ہیں۔ جھنکار والی پازیب پہن کر چلنے سے اُس کی معمول کی آواز لا محالہ پیدا ہوتی ہے۔ مقصود اگر یہ ہوتا ہے کہ اُس کی آواز پیدا ہی نہ ہو، جو مردوں کے کانوں تک پہنچ سکے تو ایسے زیور پہننے کی ممانعت کی جاتی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ممانعت صرف زور سے پاؤں مار کر اُن سے غیر معمولی آواز پیدا کرنے کی ہے۔ قیاس ہو سکتا ہے تو یہ کہ عورت کی معمول کی آواز مردوں کے کانوں تک پہنچنے کی ممانعت نہیں، البتہ خلافِ معمول بلند آواز نہیں نکالنی چاہیے، جو مردوں کو غیر معمولی طور پر متوجہ کرنے کا باعث بنے۔ اِس صورت میں یہ آدابِ محفل کی نوعیت کی ایک ہدایت ہے۔ اِس سے آواز کے پردے کا استدلال قائم نہیں ہوتا۔

عورت کی آواز کو زیور کی آواز پر قیاس کرنا بھی درست نہیں۔ زیورعورت کے وجود کا حصہ نہیں، زینت کی ایک چیز ہے اور زیور کی آواز بھی زینت ہے۔ عورت کی آواز زینت نہیں ہے،  اُس کے وجود کا حصہ ہے۔ زینت وجود سے الگ اور  اُس پر اضافی چیز ہوتی ہے،  اِس لیے ایک کو دوسرے پر قیاس کرنے کے لیے کوئی قدرِ مشترک نہیں  ہے۔ رہی یہ بات کہ عورت کی آواز میں مردوں کے لیے کشش ہوتی ہے تو یہ معمول کی کشش اُس کے چہرے، بلکہ  اُس کے پورے وجود میں ہوتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے عورت کے لیے مرد کے چہرے، اُس کی آواز، بلکہ اُس کے پورے وجود میں کشش ہوتی ہے، لیکن مردوں کو  اپنی اِن چیزوں میں سے کسی چیز کو عورتوں سے چھپانے کی ہدایت نہیں کی گئی۔ معمول کی اِس باہمی کشش کو حد ادب میں رکھنے کے لیے غض بصر اور حفظِ فروج کی ہدایات دی گئی  ہیں۔ اِس کشش کو کسی فتنے کا پیش خیمہ سمجھ کر شریعت میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی فتنے کا اندیشہ اگر قوی ہو تو معاشرے کا فرض ہے کہ اپنا کردار ادا کرے۔ وعظ و نصیحت سے تربیت کی جائے، ورنہ قانون اور نظم اجتماعی کی طاقت سے فسادِ طبیعت کو حدود کا پابند بنایا جائے، مگرایسے خدشات کے پیشِ نظر عورتوں پر کوئی اضافی پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابہ رضون اللہ علیہم اجمعین کی سوانح میں عورت کی آواز کے پردے کا تصور یا  اُس کی کوئی مثال، بلکہ کوئی شائبہ بھی نہیں پایا جاتا۔ عہد ِرسالت کی خواتین اجتماعی عبادات، جہاد اور روز مرہ کی سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھیں، مردوں سے معاملات طے کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تشریف لانے کے بعد مدینہ کے طرزِ معاشرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

اِس کی تفصیل ایک مستقل ضمیمے میں بیان کی گئی ہے۔

عورت کے مکمل حجاب اور اُس کی آواز کا  پردہ، البتہ  بعض عجمی معاشروں کے طبقۂ اشرافیہ میں رائج رہا ہے۔ غالباً، اُسی کے زیرِ اثر عورت کی آواز کا پردہ تجویز  کر دیا گیا۔

فتنے کا اندیشہ

حجاب کے قائلین کا ایک موقف اُس تعارض کو حل کرنے کی کوشش  کرتا ہے  جو سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں’اِلَّا مَا ظَھَرَ‘کے مصداق کی تعیین میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی دو مختلف آرا  کو بہ یک وقت اختیار کر لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ موقف یہ ہےکہ زینت اور اعضاے زینت کی اجازت اُسی صورت میں ہے، جب فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اگر یہ اندیشہ ہو تو نا محرم مردوں کے سامنے عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ موقف سدِ ذریعہ کے اصول پر مبنی ہے۔ اِس کے مطابق، کسی حرمت میں پڑ جانے کا قوی اندیشہ ہو  تو اُس کی طرف لے جانے والے جائز وسائل اور صورتوں  پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

مفتی شفیع عثمانی  اپنی تفسیر قرآن ”معارف القرآن“میں لکھتے ہیں:

”اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر چہرہ اور ہتھیلیوں پر نظر ڈالنے سے فتنہ کا اندیشہ ہو تو ان کا دیکھنا بھی جائز نہیں اور عورت کو ان کا کھولنا بھی جائز نہیں۔“ (6/ 402)

یعنی غیر مردوں کی موجودگی میں عورتوں کو اپنا چہرہ، ہاتھ اور پاؤں بغیر زینت کے بھی ظاہر کرنے کی اجازت نہیں، چہ جائیکہ اُن پر زینت بھی کی گئی ہو۔ زینت کی صورت میں یہ ممانعت بدرجۂ اتم ہوگی۔ اُن کے مطابق فتنے کے اندیشے کا اصل محل عورت کا حسن ہے اور عورت کا چہرہ ہی اُس کے حسن کا اصل مرکز ہوتا ہے، اِس لیے عام حالات میں بھی اُس کو چھپایا جائے گا، البتہ صرف ضرورت کے مواقع پر اُسے کھولنے کی اجازت ہے۔ [48]

اِن علما کے خیال میں حالات پہلے کی نسبت زیادہ فتنہ انگیز ہیں، اِس لیے’اِلَّا مَا ظَھَرَ‘کے تحت جن اعضا اور اُن کی زینتوں کو آشکار رکھنے کی اجازت تھی، وہ اب نہیں دی جا سکتی۔ جدید دور کے علما میں یہی راے مقبول ہے۔

فتنے کے اندیشے کے اِس موقف کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقت سے زیادہ تاثر پر مبنی ہے۔ اِس کا ہدف یک طرفہ طور پر عورت کو بنایا گیا ہے، اِس لیے یہ مبنی برانصاف بھی نہیں ہے۔

فتنے سے مراد اگر مردوں میں عورتوں کو دیکھ کر معمول کی فطری کشش کا پیدا ہونا ہے تو یہ معاملہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ یہ اُس وقت بھی تھا جب قرآن مجید میں مردوزن کے اختلاط کے آداب بیان ہو رہے تھے۔ اِس اندیشے کے باوجود اُن کے درمیان اختلاط ممنوع نہیں کیا گیا اور نہ خواتین کو زیب و زینت اختیار کرنے ہی سے منع کیا گیا، بلکہ آداب کی رعایت کے ساتھ اختلاط اور اظہارزینت، دونوں کی اجازت دی گئی۔

مرد کے لیے عورت کے چہرے اور وجود میں اُتنی ہی کشش ہے، جتنی عورت کے لیے مرد کے چہرے اور  اُس کے وجود میں۔ قرآن مجید نے سورۂ نور میں دونوں کے درمیان جذبات و احساسات کی برابری کی اِسی نسبت سے دونوں اصناف کو ایک جیسے الفاظ میں غض بصر اور حفظِ فروج کی ہدایت کی ہے۔ دونوں اصناف کے لیے اِس حکم میں کسی امتیاز اور کوئی اضافہ کرنے کی گنجایش نہیں ہے، لیکن ایسا  کیا گیا ہے۔مفتی شفیع”معارف القرآن“ میں فقہا کا موقف بیان کرتے ہیں کہ بغیر نیت  کے مرد کا عورت کو دیکھنا مکروہ ہے، جب کہ عورت کے لیے محارم کے علاوہ کسی کو دیکھنا سرے سے حرام ہے۔ [49] اِس کے برعکس، مولانا مودودی مردوزن کے اختلاط کی مختلف روایات کی بنیاد پر امام غزالی اور حافظ ابن حجر عسقلانی  کے حوالے سے لکھتے ہیں:

” ...ان روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے مردوں کو دیکھنے کے معاملے میں اتنی سختی نہیں ہے، جتنی مردوں کےعورتوں  کو دیکھنے کے معاملے میں ہے۔ ایک مجلس میں آمنے سامنے بیٹھ کر دیکھنا ممنوع ہے۔ راستہ چلتے ہوئے یا دور سے کوئی جائز قسم کا کھیل تماشا دیکھتے ہوئے مردوں پر نگاہ پڑنا ممنوع نہیں ہے۔ اور کوئی حقیقی ضرورت پیش آ جائے تو ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی دیکھنے میں مضائقہ نہیں ہے۔ امام غزالی اور ابن حجر عسقلانی نے بھی روایات سے قریب قریب یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ شوکانی نیل الاوطار میں ابن حجر کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ  جواز کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ عورتوں کے باہر نکلنے کے معاملے میں ہمیشہ جواز ہی پر عمل رہا ہے۔ مسجدوں میں، بازاروں میں، اور سفر میں عورتیں تو نقاب منہ پر ڈال کر جاتی تھیں کہ مرد ان کو نہ دیکھیں، مگر مردوں کو کبھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ بھی نقاب اوڑھیں تاکہ عورتیں ان کونہ دیکھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے معاملے میں حکم مختلف ہے۔(ج6، ص101)“

(تفہیم القرآن 3/ 384)

یہ دو متضاد مواقف ہیں، مگر دونوں ہی درست نہیں ہیں۔ قرآنِ مجید کے الفاظ میں اِن مجوزہ تخصیصات کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔

روایات سے پیدا ہونے والا مذکورہ بالا تاثر بھی درست نہیں ہے۔ نقاب اوڑھنا عرب ثقافت میں بھی معمول سے ہٹ کر ایک چیز تھی۔ اِسی وجہ سے اکا دکا واقعات میں یہ چند عورتوں کے انفرادی عمل کی حیثیت سے راویوں کے بیان میں آیا ہے۔ یہ اگر معمول ہوتا  تو معمول کے ایک عمل کی صورت میں بیان کیا جاتا۔

عورتوں کےنقاب اوڑھنے سے متعلق درج ذیل روایت دیکھیے:

عن عبد الخبير بنِ ثابت بنِ قيسِ بنِ شماس، عن أبيه، عن جده، قال: جاءت امرأة إلى النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يقال لها أم خلاد وهي منتقبة تسأل عن ابنها وهو مقتول، فقال لها بعض أصحاب النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: جئت تسألين عن ابنك وأنت منتقبة، فقالت: إن أرزأ ابني فلن أرزأ حيائي.(ابو داؤد،رقم2488)

”عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے اور وہ اُن کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا۔ وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے اُس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئے ہے؟ اُس نے کہا: اگرچہ میں اپنے لڑکے کی جانب سے پریشان ہوں، مگر میری حیا کو کوئی پریشانی لاحق نہیں۔“

اِس روایت کی سند اگرچہ ضعیف ہے، تاہم  اِس سے کوئی استدلال ہو سکتا ہے تو یہ کہ اُس موقع پر خاتون کے چہرے پر نقاب دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا گیا۔  یہ ظاہر کرتا ہے کہ نقاب اوڑھنا عمومی عمل نہ تھا، ورنہ صحابی مذکورہ سوال نہ کرتے۔

فتنے سے مراد اگرمردوں یا عورتوں کے  جذبات کا ایک دوسرے کو دیکھ کر بے قابو ہو جانا ہے تو  یہ ہمہ وقت اور ہمہ گیر مسئلہ نہیں۔ کسی غیر تربیت یافتہ فرد کو یہ مسئلہ، البتہ پیش آ سکتا ہے۔ ایسا ہو تو اُس فرد کی اصلاح کی جائے گی، مگر اُس کی وجہ سے مقابل فریق کی آزادیوں کو سلب نہیں کیا جائے گا۔ کسی کی اخلاقی تربیت کی کمی کی کوئی ذمہ داری دوسرے فریق پر عائد نہیں ہوتی۔ ہم جانتے ہیں کہ مصر کی عورتوں کے تجاوز کی بنا پر حضرت یوسف علیہ السلام پر یہ لازم نہیں تھا کہ وہ اب گھر سے نکلنا چھوڑ دیں یا اپنے حسین چہرے کو ڈھانپ کر رکھیں۔ اِسی طرح یہ عورتوں کی ذمہ داری نہیں کہ بعض مردوں کی عدم تربیت کا جرمانہ خود پر پابندیاں عائد کر کے ادا کریں۔ مردوں ہی سے کہا جائے گا کہ اپنے حدود میں رہیں اور اگر کوئی اپنے حدود سے تجاوز کرتا ہے تو  ضرورت پڑنے پرقانون کی طاقت سے اُسے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ قانون اور ریاست کی طرف سےتحفظ بھی اگر میسر نہ ہو تو یہ اب غیرمعمولی صورت حال ہوگی۔ اِس صورت میں افراد کی آزادیاں سلب ہو جاتی ہیں، مگر ایمرجنسی کی صورتِ حال  میں اختیار کردہ اقدامات کا اطلاق عام حالات پر نہیں کیا جا سکتا۔

غیرحقیقی اندیشوں یا استثنائی واقعات کی وجہ سےغیر معمولی پابندیاں عائد کرنے کا   جواز بھی پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ حادثات کی بنا پر معمولات متاثر نہیں کیے جاتے۔ مثلاً  ٹریفک کے حادثات غیر معمولی واقعات ہوتے ہیں، لیکن اِن کی بنا پر لوگوں کے سفر کرنے پر پابندی عائد نہیں کی جاتی، بلکہ معمول کے قواعد اور آداب کی پابندی کی طرف ہی توجہ دلائی جاتی ہے۔ یہی اصول مردوزن کے تعلقات میں تجاوز کے معاملے میں برتا جائے گا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ سبھی افراد یا اُن کی اکثریت آبرو باختہ یا دوسروں کی عصمت پر حملہ آور ہو جایا کرتی ہے۔ ایسا تجاوز کرنے والے افراد ہی کو توجہ دلائی جائے گی کہ اختلاط کے آداب کی پابندی کریں،خدا کا تقویٰ اختیار کریں  اور اگر وہ  پھر بھی  دوسروں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بننے کی کوشش کریں تو قانون کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہ تاثر بھی درست نہیں کہ عہدِ رسالت میں فتنے کا اندیشہ کم تھا اور اب زیادہ ہو گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں جنسی ہراسانی کی  صورتِ حال فساد فی الارض کی حد کو پہنچ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانا منافقین کی ریشہ دوانیوں کا خصوصی ہدف تھا۔ حضرت عائشہ پر تہمت کا واقعہ اسی کا شاخسانہ تھا۔ عام مسلمان مردوں اور عورتوں کی عزت و عصمت بھی اُن منافقین سے محفوظ نہ تھی۔ اِس کا اندازہ  اُس تہدید سے ہوتا ہے  جو قرآن مجید میں اُن منافقین کو دی گئی۔ارشاد ہواہے:

لَئِنۡ لَّمۡ  یَنۡتَہِ  الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ  مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ  لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ  فِیۡہَاۤ   اِلَّا   قَلِیۡلًا مَّلۡعُوۡنِیۡنَ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا  تَقۡتِیۡلًا سُنَّۃَ اللّٰہِ  فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ لَنۡ  تَجِدَ لِسُنَّۃِ  اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا.

(الاحزاب 33: 60- 62)

”یہ منافقین اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں لوگوں کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اُن پر تمھیں اکسا دیں  گے، پھر وہ تمھارے ساتھ اِس شہر میں کم ہی رہنے پائیں گے۔اُن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے، پکڑے جائیں گے اور بے دریغ قتل کر دیے جائیں گے۔ یہی اُن لوگوں کے بارے میں اللہ کی سنت ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کی اِس سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔“

اِن حالات میں بھی خواتین پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی کہ وہ گھروں میں ٹک کر بیٹھ جائیں یا مردوں کی موجودگی میں مکمل طور پر پردہ میں رہیں۔

مولانا مودودی کی ایک منفرد راے

مولانا مودودی کی ایک منفرد راے یہ ہے کہ مردوں کے لیے اپنی بیوی کے سوا محرم عورتوں کا تمام بدن، سواے اُن کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کے، ستر ہے۔ اِن اعضا کے سوا وہ اُن کے بدن کے کسی حصے کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ چھو سکتے ہیں۔مولانا کے الفاظ یہ ہیں:

”اُنھیں (عورتوں کو) حکم دیا گیا ہے کہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کے سوا تمام جسم کو لوگوں سے چھپائیں۔ اِس حکم میں باپ، بھائی، اور تمام رشتہ دار مرد شامل ہیں اور شوہر کے سوا کوئی مرد اِس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔“ (پردہ  225)

مولانا استدلال میں دو روایات پیش کرتے ہیں:

 ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھتیجے  عبد اللہ بن الطفیل  کے سامنے بہ حالت زینت سامنے آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے پسند نہیں کیا اور فرمایا کہ عورت جب بالغ ہو جائے تو اُس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے ، سواے چہرے اور ہاتھوں کے۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی پر ہاتھ رکھ کر دکھایا کہ گرفت کے مقام اور  ہتھیلی کے مقام کے درمیان ایک مٹھی کی جگہ باقی تھی۔

دوسری روایت حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے متعلق ہے۔ وہ باریک لباس میں آپ کے سامنے آئیں تو اُنھیں بھی آپ نے مذکورہ ہدایت فرمائی۔ [50]

اصولی طور پر، خبرِ واحد کسی نئے اور مستقل حکم کا ماخذ نہیں بن سکتی۔ نیز  مولانا کا استدلال جن روایات پر مبنی ہے ، وہ صحت کے معیار پر بھی پوری نہیں اترتیں۔[51]

اس کے برعکس، قرآن مجید میں سورۂ نور  (24) کی آیت 31 میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ نامحرم مردوں کی موجودگی میں آشکار زینتوں کو چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِن میں چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کی زینت شامل ہے۔ پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قریبی متعلقین کے سامنے چھپی ہوئی زینتیں ظاہر کی جا سکتی ہیں۔ یہ زینتیں  آشکار زینتوں (چہرہ، ہاتھ اور پاؤں) سے زائد ہیں، [52] جیسے گریبان اور سر کی زینت، جب کہ ستر کا معاملہ الگ ہے۔ ستر کے اعضا شوہر کے سوا کسی کے سامنے بغیر کسی ناگزیر ضرورت کے کھولنا جائز نہیں، اِس لیے مولانا کا استدلال درست قرار نہیں پاتا۔

غیر محرم کی دو اقسام ـــــــ مولانا مودودی کا منفرد استدلال

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے متعلق مذکورہ بالا روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نامحرم مرد سے عورت کے چہرے اور ہاتھوں کا پردہ نہیں ہے۔ نیز اِسی قبیل کی متعدد روایات میں صحابیات نامحرم مردوں سے مکمل حجاب کرتی نظر نہیں آتیں۔ یہ روایات مولانا مودودی کے عورتوں کے پردے کے موقف کے خلاف پڑتی ہیں۔ اِس تعارض کو دور کرنے کے لیے مولانا نامحرموں کی دو اقسام بیان کرتے ہیں: ایک وہ جان پہچان اور اعتماد کے لوگ جن کے سامنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کو چھپانے کی ضرورت نہیں اور دوسرے وہ اجنبی مرد جن کے سامنے مکمل حجاب اختیار کیا جائے گا، یعنی وہ حجاب جس کا حکم آیتِ جلباب سے اخذ کیا جاتا ہے۔[53]

 قرآن مجید میں نامحرموں کی کوئی اقسام بیان نہیں ہوئیں۔ کوئی عقلی تقاضا بھی ایسا نہیں، جو قرآن مجید میں کسی جگہ نامحرموں کے  اِس فرق کو لازم کرے۔ روایات کی بنا پر قرآن مجید کے کسی حکم میں ایسی تخصیص پیدا نہیں کی جا سکتی، جس کی اجازت اُس کے الفاظ نہ دیتے ہوں۔ درست بات یہی ہے کہ نامحرم مردوں سے عورت کے چہرے اور ہاتھوں کے پردے کا کوئی حکم دین نے نہیں دیا۔ سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں نا محرم مردوں کی موجودگی میں معمولاً آشکار رہنے والی زینتوں کو ظاہر رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، جن میں چہرہ اور ہاتھ شامل ہیں۔ یہ اعضا اگر اپنی زینت سمیت ظاہر رہ سکتے ہیں تو بغیر زینت کے اُن کا ظاہر رہنا بہ درجۂ اولیٰ واضح ہے۔ اِسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے خواتین، چاہے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار، اپنے چہرے کو ڈھانپے بغیر سامنے آتی تھیں، بلکہ پورے معاشرے کا یہی معمول تھا۔ عورتیں مردوں سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن مجید نامحرموں سے مکمل پردے کا حکم دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ اور صحابیات اِس میں کوئی استثنا پیدا کر لیں۔

 

زینت کے مفہوم کا جسمانی حسن پر اطلاق

لغت اور قرآن مجید کے استعمالات سے واضح ہے کہ’زینت‘ سے مراد وہ آرایش ہے جو اصل شے یا فرد پر خارج سے کی جاتی ہے۔ اِس کا اطلاق جسمانی حسن پر نہیں ہوتا۔ جسمانی حسن کے لیے لفظ ’حسن‘ اور’جمال‘ بولا جاتا ہے۔

”اقرب الموارد “میں ہے:

‌الزينة: ما يتزين به .(1/ 485)

”وہ چیز جس سے آراستگی حاصل کی جائے، وہ زینت ہے۔“

”تاج العروس“ میں اِس کی تعریف یوں کی گئی ہے:

الزينة بالكسر: ما يتزين به كما في الصحاح. وفي التهذيب: وقال الحرالي: الزينة: تحسين الشيء بغيره من لبسة أو حلية أو هيئة.

(35/ 161)  

”زینت کا مطلب وہ چیزیں ہیں جن سے آراستگی حاصل کی جاتی ہے، جیسا کہ ”صحاح“ میں بیان ہوا ہے۔ ”التہذیب“ میں الحرالی نے کہا ہے کہ  زینت شے سے الگ اور اُس کی خوب صورتی ہے جو لباس، زیور یا ہیئت سے پیدا ہوتی ہے۔“[54]

قرآن مجید میں ’زینت‘ کا لفظ لباس، [55] زیورات،[56]  مال و اولاد،[57]  سواری کے جانوروں[58] اور آسمان کے تاروں کے خوش کن مناظر[59] کے لیے استعمال ہوا ہے، جب کہ جسمانی خوب صورتی کے لیے لفظ ’حسن‘ استعمال کیا گیا ہے۔ارشاد ہوتا ہے:

لَا یَحِلُّ  لَکَ النِّسَآءُ  مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ  اَنۡ تَبَدَّلَ  بِہِنَّ مِنۡ  اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ  اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ.(الاحزاب33: 52)

”اِن کے بعد اب دوسری عورتیں تمھارے لیے جائز نہیں ہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، اگرچہ اُن کا حسن تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔“

اِس سے واضح ہے کہ ’زینت ‘کے مفہوم میں جسمانی حسن کے مفہوم کا اضافہ کرنے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ تاہم، امام رازی نے زینت کے مفہوم میں جسمانی حسن کو شامل کیا ہے۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ بعض خواتین دوسری خواتین سے زیادہ حسین ہوتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ گریبان کو ڈھانپنے کا حکم اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عورت اپنے سینے کو ہر صورت میں ڈھانپ کر رکھے گی، چاہے اُس پر زینت کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔ دونوں صورتوں میں عورت کے صنفی اعضا زینت میں شامل ہیں۔[60]

جسمانی اعضا کو زینت میں شمار کرنے کی راے مولانا شبیر احمد عثمانی[61]اور مولانا تقی عثمانی[62] نے بھی اختیار کی ہے۔ اُن کے مطابق زینت سے مراد عورت کے سجاوٹ کے اعضا ہیں۔

امام رازی کا پہلا استدلال، درحقیقت کوئی استدلال ہی نہیں ہے۔ جسمانی حسن عورتوں میں کم و بیش ہوتا ہی ہے۔

اُن کا دوسرا استدلال، البتہ قابل اعتنا ہے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں گریبان کو ڈھانپنے کی ہدایت اِخفاے زینت کے ذیل میں دی گئی ہے۔ یعنی یہ ہدایت اُس صورت میں ہے جب گریبان پر زینت کی گئی ہے۔ یہاں بھی زینت ہی کو ڈھانپنا مقصود ہے، نہ کہ سینے کو۔ سینے کو ڈھانپنے کی ہدایت حفظِ فروج کے حکم میں پہلے دی جا چکی تھی اور وہ معاملہ شرم گاہوں کے ڈھانپنے سے متعلق ہے، اِس لیے امام صاحب کا یہ استدلال بھی درست نہیں۔

امام رازی نے زینت کے مفہوم میں جسمانی حسن کا جو اضافہ کیا ہے، وہ ایک استدلالی معنی ہے۔ عقلی استدلال سے لغوی مفاہیم پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ لغوی استعمالات سماعی ہوتے ہیں۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے موقف کی توجیہات کا جائزہ

سورۂ نور (24) کی آیت 31 کے الفاظ ’اِلاَّ مَا ظَھَرَ‘کے بارے میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی راے کی متعدد توجیہات کی گئی ہیں۔ اُن میں ایک یہ ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے چہرے اور ہاتھوں کا ذکر ’وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ‘کی وضاحت میں بیان کیا تھا، نہ کہ ’اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا‘کے استثنا کی وضاحت میں، یعنی اُن کا مطلب تھا کہ اِن اعضا کی زینت کو چھپایا جائے، یہ مطلب نہیں تھا کہ اِنھیں کھلا رکھا جا سکتا ہے۔ ابن کثیر اِسے نقل کرتے ہیں:

وَهَذَا يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ تَفْسِيرًا لِلزِّينَةِ الَّتِي نُهِينَ عَنْ إِبْدَائِهَا، كَمَا قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ السَّبيعي، عَنْ أَبِي الأحْوَص، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فِي قَوْلِهِ: ”وَلا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ“: الزِّينَةُ القُرْط والدُّمْلُج وَالْخَلْخَالُ وَالْقِلَادَةُ.

(تفسير القرآن العظیم 6/ 45)

”ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ اُس زینت کی وضاحت ہو جس کے ظاہر کرنے سے اُنھیں منع کیا گیا ہے، جیسا کہ ابو اسحاق سبیعی نے ابو الاحوص سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عباس نے اللہ کے اِس فرمان’وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ‘ کے بارے میں کہا: زینت سے مراد کانوں کی بالیاں، بازوؤں کے کنگن، پازیب اور ہار ہیں۔“

یہ توجیہ ایک احتمال کے طو پر بیان کی گئی ہے۔ اہلِ علم نے اِسے قبول نہیں کیا۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے موقف کی ایک دوسری توجیہ یہ ہے کہ اُن کی راے سورۂ احزاب کی آیتِ حجاب سے پہلے خواتین کے حالات کے تناظر میں پیش کی گئی تھی۔[63] 

یہ راے کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، اِس لیے کہ اُن کی راے سورۂ نور کی آیت کی وضاحت میں نقل ہوئی ہے اور سورۂ نور سورۂ احزاب کے بعد نازل ہوئی تھی۔[64] اُن کی راے سورۂ احزاب کے بعد کے دور میں سورۂ نور کی مذکورہ آیت کی وضاحت کرتی ہے۔

’نِسَآئِھِنَّ ‘   کا مصداق

سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں عورتوں کی پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت جن متعلقین کے لیے بتائی گئی ہے، اُن میں’نِسَآئِھِنَّ‘، (اُن کی عورتیں) بھی شامل ہیں۔یہ عورتیں کون ہیں؟ تفسیری روایت میں  اِن سے مسلمان عورتیں مراد لی گئی ہیں۔ یہ موقف ایک روایت کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔[65]  مجاہد کی راے بھی  اِس کے موافق ہے۔[66]

آیت میں اصل الفاظ’نِسَآئِھِنَّ‘آئے ہیں، جن میں بلا تخصیص مذہب وہ تمام عورتیں شامل ہیں جنھیں ”اُن کی عورتیں“یا  ”اپنی عورتیں  “کہا جا سکتا ہے، یہ ایسی عورتیں ہی ہو سکتی ہیں  جو جان پہچان اور تعلق و خدمت کی راہ سے متعلق ہوتی ہیں۔ اِن میں مسلمان عورتوں کی تخصیص پیدا کرنے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔

 اِسی آیت میں مذکورالفاظ ’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھّنَّ‘میں لونڈیوں کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت دی گئی ہے۔ لونڈی چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم، اُس کے سامنے اظہارِ زینت کی اجازت میں مفسرین کا اختلاف نہیں ہے۔[67] اب اگر’نِسَآئِھِنَّ‘سے صرف مسلمان عورتیں مراد لی جائیں تو غیر مسلم لونڈیوں کے سامنے اظہار زینت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر لونڈیوں کے معاملے میں’مَامَلَکَتْ‘کی عمومیت کو برقرار رکھتے ہوئے مسلم اور غیر مسلم کی تقسیم نہیں کی گئی ہے تو’نِسَآئِھِنّ‘کے عموم میں بھی مسلم عورتوں کا اختصاص پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن مجید کا مقصود اگر مسلمان عورتیں ہی ہوتا تو الفاظ بھی اُسی مناسبت سے آتے۔ چنانچہ’نِسَآئِھِنَّ‘سے وہی مفہوم مراد لیا جا سکتا ہے جو الفاظ سے متبادر ہے، یعنی اُن کی عورتیں،  یعنی جو رشتہ داری، جان پہچان اور تعلق و خدمت کے واسطے سے متعلق ہو جاتی ہیں، جن کی عادات سے واقفیت ہوتی ہے، اِن میں مسلم اور غیر مسلم تمام عورتیں شامل ہیں، جب کہ اجنبی عورت، چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم، اُس کے سامنے مسلمان عورتیں چھپی ہوئی زینتوں کے اظہار سے اجتناب برتیں گی۔ اجنبی عورتیں بھی نا محرم مردوں کے حکم میں داخل ہیں۔

’مَامَلَکَتْ ‘کا مصداق

قرآن مجید میں خواتین کو جن افراد کے سامنے اظہارِ زینت کی اجازت دی گئی ہے، اُن میں مملوک بھی شامل ہیں۔ اُن کے لیے قرآن مجید نے وہی جامع تعبیر استعمال کی ہے جس میں غلام اور لونڈی، دونوں شامل ہوتے ہیں، یعنی ’مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ‘، اُن کے داہنے ہاتھ جن کے مالک ہیں۔ چنانچہ مفسرین کی اکثریت اِسی کی قائل ہے کہ اِس میں غلام اور لونڈی، دونوں شامل ہیں۔[68] تاہم،  مفسرین کا ایک گروہ اِس سے صرف لونڈیاں مراد لیتا ہے۔ اِن میں عبد اللہ بن مسعود، مجاہد، حسن بصری، ابن سیرین، سعید ابن مسیب، طاؤس  اور امام  ابوحنیفہ شامل ہیں۔ لیکن یہ موقف الفاظ کی دلالت کے خلاف ہے۔ ’مَا مَلَکَتْ‘کے الفاظ عام ہیں، جس طرح اِس میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص داخل نہیں کی جا سکتی، اُسی طرح مرد اور عورت کی تخصیص بھی داخل نہیں کی جا سکتی۔

یہاں صرف لونڈیاں مراد ہوتیں تو اُن کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ ’نِسَآئِھِنَّ ‘میں وہ پہلے ہی شامل سمجھی جا سکتی تھیں۔

لونڈی کا ستر

فقہا  کے مطابق، لونڈی کا ستر مرد کے ستر کے برابر، یعنی ناف سے گھٹنے تک ہے۔[69]

یہ موقف کسی نص پر مبنی نہیں ہے۔ یہ اُس دور سے متعلق ہے جب غلام لونڈیوں کا رواج تھا اور لونڈیاں اپنی اخلاقی تربیت کی کمی کی وجہ سے اپنا بدن ڈھانپنے میں زیادہ احتیاط نہیں برتتی تھیں۔ اُنھیں سر ڈھانپ کر رکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔[70] نیز اُن کی خرید و فروخت کے دوران میں اُن کے خد و خال کا جائزہ لینے کا بھی معمول تھا۔ اِس کلچر کو تبدیل ہونے میں وقت لگا۔ شریعت سے اِس کا تعلق نہیں ہے۔ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

فإن الفقهاء يسمون ذلك: باب ستر العورة وليس هذا من ألفاظ الرسول ولا في الكتاب والسنة أن ما يستره المصلي فهو عورة.

(حجاب المرأة ولباسہا فی الصلاة 27)

”ان (احکام) کو فقہا نے ستر کا موضوع بنایا ہے، دراں حالیکہ اِن معنوں میں یہ الفاظ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال فرمائے، نہ قرآن میں آئے، نہ سنت میں کہ نمازی کے لیے جن اعضا کو ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے، وہی ستر ہے۔“

اسلام جس قسم کی معاشرت پیدا کرتا ہے، اُس میں مرد وعورت، دونوں کے جنسی اور صنفی اعضا کو ڈھانپ کر رکھنا مطلوب ہے، چاہے وہ لونڈی ہی کیوں نہ ہو۔

اصول یسر اور اصولِ اضطرار کا اطلاق

سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں اِخفاے زینت سے استثنا بتانے کے لیے لائے گئے الفاظ ’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘کے مصداق کے تعین میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کی آرا کا اختلاف معلوم ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود کی راے اِس اصول پر مبنی ہے کہ  دینی اعمال میں رخصت اور استثنا کی بنیاد اضطرار ہے،  اِس لیے اظہارِ زینت میں اجازت فقط اُس زینت کی ہونی چاہیے جو اضطراراً ظاہر ہو جائے، لیکن یہ اصول ’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘ کے استثنا پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہ حرمتوں سے متعلق ہے، جہاں حالتِ اضطرار میں حرام اشیا کے استعمال کی بہ قدرِ ضرورت اجازت دی جاتی ہے، جیسے جان پر بن آئے تو لقمۂ حرام کھا کر یا کلمۂ کفر کہہ کرزندگی بچائی جا سکتی ہے۔  اِس کے برعکس، حرمتوں کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے سد ذریعہ کی پابندیاں بہ قدرِ ضرورت عائد کی جاتی ہیں اور غیر معمولی زحمت پیش آنے پر حالتِ اضطرار کا انتظار کیے بغیر رخصت دے دی جاتی ہے۔ ایسا اصول یسر کے تحت کیا جاتا ہے۔ مثلاً گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کی پابندی فواحش کے سدِّ باب کے لیے لگائی گئی ہے، مگر بچوں اور خادموں کو اجازت طلب کرنے سے مستثنیٰ کر دیا گیا، کیونکہ اُنھیں بار بار آنا جانا ہوتا ہے اور بار بار اجازت طلب کرنا زحمت کا باعث بنتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اِس اصول کو یوں بیان فرمایا ہے:

يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ ‌الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الۡعُسۡرَ. (البقرہ 2: 185)

”اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ تمھارے ساتھ سختی کرے۔“

یہی معاملہ زینتوں کو پوشیدہ رکھنے کی ہدایت کا ہے۔  یہ سد ذریعہ کی ہدایت ہے۔ اصل ممانعت زنا کی ہے، جس سے بچانا مقصود ہے۔ چنانچہ  یہاں بھی بہ قدرِ ضرورت زینتوں کو چھپانے کی ہدایت کی گئی ہے اور جن زینتوں کو پوشیدہ رکھنے میں زحمت ہوتی ہے، اُنھیں کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ’اِلَّا مَاظَھَرَ مِنْھَا‘کا یہ وہ مفہوم ہے جسے حضرت عبد اللہ بن عباس  بیان کرتے ہیں ، یہ اصول یسر پر مبنی ہے۔

ازواجِ مطہرات کے خصوصی احکام کی تعمیم کے استدلال کا جائزہ  

ازواجِ مطہرات کو دیے گئے خصوصی احکام کی تعمیم کا موقف صحابہ، تابعین اور متقدمین علما کے ہاں نہیں پایا جاتا۔ یہ متاخرین اہل علم کی طرف سے سامنے آیا۔ سب سے پہلے چوتھی صدی ہجری میں امام ابو بکر الجصاص (متوفیٰ:  370 ھ) نے اِسے بیان کیا۔ امام ابن العربی (متوفیٰ: 543 ھ) اور اُن کے بعد امام  قرطبی (متوفیٰ: 671ھ) نے اِسے اپنایا۔ دور حاضر میں مولانا مودودی نے ازواجِ مطہرات کے خصوصی احکام کی تعمیم کا موقف ایک منظم استدلال کے ساتھ پیش کیا۔ دورِ جدید  اہلِ علم کی اکثریت کے ہاں اب یہی موقف مقبول ہے۔

جصاص سورۂ احزاب (33) کی آیت 32 کے تحت لکھتے ہیں کہ فتنے کے جس اندیشے سے ازواجِ مطہرات کو اجنبی مردوں سے نرم لہجے میں بات کرنے کی ممانعت کی گئی تھی، شہوت انگیزی کا وہ فتنہ عام مردوں اور عورتوں کے درمیان مکالمے میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اِس بنا پر ازواجِ مطہرات کو نا محرم مردوں سے اجتناب سے متعلق دیے گئے احکام تمام  مسلم عورتوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے بھی مردوں سے  نرم لہجے میں گفتگو کرنا جائز نہیں۔   وہ لکھتے ہیں:

وفيه الدلالة على أن ذلك حكم سائر النساء في نهيهن عن إلانة القول للرجال على وجه يوجب الطمع فيهن ويستدل به على رغبتهن فيهم.

(احكام القرآن 5/ 229)

”اِس میں اِس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم تمام عورتوں کے لیے ہے کہ وہ مردوں سے اِس انداز میں نرم لہجے میں بات نہ کریں جو اُن کے دل میں اُن کی طرف رغبت پیدا کرے اور جس سے اُن پر مردوں کی طرف مائل ہونے کا گمان کیا جائے۔“

سورۂ احزاب کی آیتِ حجاب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں پر پابندی عائد کی تھی کہ اُنھیں ازواجِ مطہرات سے کوئی چیز طلب کرنی ہو تو حجاب کے پیچھے سے طلب کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اُن کے سامنے نہیں آئیں گی اور نہ وہ اُن کے حرم میں داخل ہو سکتے ہیں۔

ابن العربی اِس آیت کی رو سے استدلال کرتے ہیں کہ عورتوں کا  تمام  بدن ستر ہے۔ اُن کے جسم کا کوئی حصہ بھی بغیر ضرورت کے کسی پر ظاہر نہیں ہونا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں:

وهذا يدل على أن اللّٰه أذن في مساءلتهن من وراء حجاب في حاجة تعرض أو مسألة يستفتى فيها والمرأة كلها عورة بدنها وصوتها فلا يجوز لها كشف ذالك إلا لضرورة أو لحاجة كالشهادة عليها أو داء يكون ببدنها أو سؤالها عما يعن ويعرض عندها.

(احکام القرآن 3/616)

”یہ اِس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ضرورت پیش آنے پر یا کسی مسئلے میں عورتوں کی راے لینے کے لیے پردے کے پیچھے رہتے ہوئے اُن سے کوئی بات پوچھنے کی اجازت دی ہے۔ عورت کا پورا جسم اور اُس کی آواز پوشیدہ ہونی چاہیے اور اُس کے لیے جسم کو کھولنا جائز نہیں، سواے اِس کے کہ کوئی ضرورت پیش آ جائے، جیسا کہ اُسے اپنے متعلق گواہی دینی ہو یا  اُس کے جسم میں کوئی بیماری ہو یا عورت کے سامنے پیش آنے والے کسی واقعے کے متعلق اُس سے استفسار کرنا ہو۔“

امام قرطبی اِسی استدلال کو قدرے تفصیل سے دہراتے ہیں:

في هذه الآية دليل على أن اللّٰه أذن في مساءلتهن من وراء حجاب في حاجة تعرض أو مسألة يستفتين فيها ويدخل في ذالك جميع النساء بالمعنى وبما تضمنته أصول الشريعة من أن المرأة كلها عورة بدنها وصوتها كما تقدم فلا يجوز كشف ذالك إلا لحاجة كالشهادة عليها أو داء يكون ببدنها أو سؤالها عما يعرض وتعن عندها.

 (الجامع لاحکام القرآن17/208)

”یہ آیت اِس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ضرورت پیش آنے پر یا کسی مسئلے میں امہات المومنین کی راے لینے کے لیے پردے کے پیچھے رہتے ہوئے اُن سے کوئی بات پوچھنے کی اجازت دی ہے۔ علت کی رو سے اِس حکم میں باقی تمام عورتیں بھی داخل ہیں۔ نیز، جیسا کہ گزر چکا، شریعت کے اصولوں کا مقتضا بھی یہی ہے کہ عورت کا پورا جسم اور اُس کی آواز پوشیدہ ہونی چاہیے۔ چنانچہ عورت کے لیے جسم کو کھولنا جائز نہیں، سواے اِس کے کہ کوئی ضرورت ہو، جیسا کہ اسے  اپنے متعلق گواہی دینی ہو یا اُس کے جسم میں کوئی بیماری ہو یا عورت کے سامنے پیش آنے والے کسی واقعے کے متعلق اُس سے استفسار کرنا ہو۔“

ازواجِ مطہرات کے پردے کی تعمیم ایک فقہی قاعدے کی رو سے بھی کی گئی ہے۔ اِس کے مطابق مخاطب کی تخصیص سے حکم کی تخصیص لازم نہیں آتی۔ حکم کا تقاضا ہو تو اُسے عام سمجھا جا سکتا ہے۔ سورۂ احزاب میں ازواجِ مطہرات کو پردے کے جو احکام دیے گئے ہیں، وہ محض اِس وجہ سے ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص نہیں ہو جاتے کہ وہ اُن کی مخاطب تھیں۔

اِس حوالے سے ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ عام مسلمان خواتین تبعاً اُن احکام کی مخاطب اور مکلف ہیں  جو ازواجِ مطہرات کو دیے گئے ہیں۔[71] 

یہی موقف مولانا مودودی کے ہاں زیادہ وضاحت سے پیش کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

”ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو مخاطب کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے گھر سے اس پاکیزہ طرز زندگی کی ابتدا ہوگی تو باقی سارے مسلمان گھرانوں کی خواتین خود اس کی تقلید کریں گی، کیونکہ یہی گھر ان کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا۔“ (تفہیم القرآن 4/ 88)

اِسی نکتے کو محور بنا کر مولانا امین احسن اصلاحی ازواجِ مطہرات کے پردے کے معاملے میں کی جانے والی غیر معمولی سختی کا جواز پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’خطاب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو خاص طور پر پیش نظر رکھنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شروع شروع میں معاشرتی اصلاح کا یہ مشکل قدم آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں ہی سے اٹھایا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تمام امت کی خواتین کے لیے نمونہ ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اور آپ کے اہل بیت پر ان ہدایات و  احکام کی ذمہ داری زیادہ قوت اور شدت کے ساتھ عائد ہوتی تھی۔‘‘

(قرآن میں پردے کے احکام7)

اِس موقف پر اعتراض یہ ہے کہ بات اِتنی نہیں کہ متعلقہ آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو مخاطب کیا گیا ہے، بلکہ دیگر عورتوں کو خارج کرتے ہوئے مخاطب کیا گیا ہے، یعنی یوں کہا گیا ہے کہ اے نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اِس لیے یہ احکام تمھیں دیے جا رہے ہیں۔ اِس کا واضح مطلب ہے کہ یہ احکام دیگر خواتین کے لیے نہیں ہیں۔

مولانا مودودی آیت کے  اِس طرز تخاطب کا وزن محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ اِس نکتے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’” لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ (تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو) کا اندازِ بیان بالکل اس طرح کا ہے جیسے کسی شریف بچے سے کہا جائے کہ تم کوئی عام بچوں کی طرح تو ہو نہیں کہ بازاروں میں پھرو اور بے ہودہ حرکات کرو، تمھیں تمیز سے رہنا چاہیے۔“(پردہ 193)

مولانا کی یہ توجیہ درست نہیں، اِس لیے کہ آیت میں لفظ ’النِسَآء‘ آیا ہے، جو دیگر عورتوں کو بیان کر رہا ہے، نہ کہ صرف آبرو باختہ یا آوارہ عورتوں کو۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم میں یہ بحث بھی پیدا ہوئی کہ اِس آیت کی رو سے ازواجِ مطہرات تمام خواتین سے افضل ہیں تو کیا اُن میں حضرت مریم علیہا السلام بھی شامل ہیں۔

آیت میں مذکور ’النِسَآء‘ سے غیر پارسا یا آوارہ عورتیں مراد لینے کی یہ غلط فہمی، غالباً اِسی آیت کے اُس ٹکڑے سے پیدا ہوئی ہے کہ’لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ  الۡاُوۡلٰی‘ (اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو)۔  آیت میں ’تبرُّج‘،’النساء‘ سے متعلق نہیں ہے، اِس لیے یہ ٹکڑا  ’لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ (تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو)  کی تفسیر یا توضیح نہیں ہے، بلکہ الگ تبصرہ ہے، یعنی ازواجِ مطہرات کی طرف سے اُس قسم کے رویے کا مظاہرہ بھی نہیں ہونا چاہیے جو نمایش کی شوقین عورتوں کا طریقہ ہے۔

یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ’لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ  الۡاُوۡلٰی‘ (اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو) کی مخاطب ازواجِ مطہرات ہیں، مگر خطاب کا رخ بد خصلت منافق مردوں اور عورتوں کی طرف ہے، جو ازواجِ مطہرات کو ٹھاٹ کی زندگی گزارنے کا لالچ دیتے اور اِس کے لیے امرا کی  طرف سے نکاح کے پیغام پہنچاتے تھے۔ اِس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں رخنہ اندازی کی کوشش کرتے تھے۔

قرآن مجید کا یہ معروف اسلوب ہے کہ بعض اوقات براہِ راست مخاطب، درحقیقت مخاطب نہیں ہوتا، خطاب کا رخ کسی اور کی طرف ہوتا ہے، یعنی کہا کسی کو جاتا ہے اور سنانا کسی کو مقصود ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں  اِس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ قرآن مجید کے بارے میں کسی شک کا شکار نہ ہوں، آپ مشرک نہ بن جائیں، مگر ظاہر ہے کہ خطاب کا رخ منکرین اور مشرکین کی طرف ہے۔

درج ذیل آیات ملاحظہ کیجیے:

الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ. (آل عمران 3: 60)

”تمھارے پروردگار کی طرف سے یہی حق  ہے، لہٰذا تم کسی شبہے میں نہ رہو۔“

وَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ.

 (یونس 10: 105)

”اور (مجھے) حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رخ یک سوئی کے ساتھ سیدھا اِسی دین کی طرف کر لو اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو۔“

 ازواجِ مطہرات سے یہ کسی طرح متوقع نہیں تھا کہ وہ ایسی طرزِ بود و باش کی خواہش مند رہی ہوں ، جس پر تنبیہ کی ضرورت پیش آگئی ہو۔

سورۂ احزاب میں ازواجِ مطہرات کو پردے کے احکام کے ساتھ کچھ عام احکام بھی دیے گئے ہیں۔ مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی، دونوں یہ استدلال کرتے ہیں کہ اِس بات کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ اِس مجموعۂ احکام میں سے نماز، تلاوت قرآن اور ذکر اللہ جیسے احکام کو تو عام مان لیا جائے اور اُن کے ساتھ حجاب کے احکام کو ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص تصور کیا جائے۔

دوسرے یہ کہ اِس مجموعۂ احکام کا مقصد ازواجِ مطہرات کی طہارتِ نفس بیان ہوا ہے۔ یہ عام مسلمان خواتین سے بھی مطلوب ہے۔ اِس بنا پر یہ احکام عام خواتین پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔مولانا مودودی لکھتے ہیں:

” ...آگے ان آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اسے پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ کون سی بات ایسی ہے جو حضور کی ازواج کے لیے خاص ہو اور باقی مسلمان عورتوں کے لیے مطلوب نہ ہو؟ کیا اللہ تعالیٰ کا منشا یہی ہو سکتا تھا کہ صرف ازواج مطہرات ہی گندگی سے پاک ہوں، اور وہی اللہ و رسول کی اطاعت کریں، اور وہی نمازیں پڑھیں اور زکوٰۃ دیں؟ اگر یہ منشا نہیں ہو سکتا تو پھر گھروں میں چین سے بیٹھنے اور تبرج جاہلیت سے پرہیز کرنے اور غیر مردوں کے ساتھ دبی زبان سے بات نہ کرنے کا حکم ان کے لیے کیسے خاص ہو سکتا ہے اور باقی مسلمان عورتیں اس سے مستثنیٰ کیسے ہو سکتی ہیں؟ کیا کوئی معقول دلیل ایسی ہے جس کی بنا پر ایک ہی سلسلۂ کلام کے مجموعی احکام میں سے بعض کو عام اور بعض کو خاص قرار دیا جائے؟ “

(تفہیم القرآن 4/ 88)

عام اور خاص احکام کے ایک مجموعہ کے خاص احکام کو عام قرار دینے کے لیے یہ استدلال قوی نہیں کہ  اِس میں عام احکام بھی موجود ہیں، اِس لیے اِس کے خاص احکام بھی عام ہیں یا عام ہونے چاہییں۔ اِسی مجموعۂ احکام میں ایسے خاص احکام بھی ہیں جن کی تعمیم ممکن ہی نہیں۔ وہ یہ ہیں:

ا۔  ازواجِ مطہرات امت کی مائیں ہیں۔

ب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اُن سے نکاح کرنا جائز نہیں۔

ج۔ اُن کے لیے دہرے اجر اور دہری سزا کا قانون ہے۔

د۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ازدواجی معاملات میں اُن کے درمیان عدل قائم کرنا لازم نہیں۔

ہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے رشتۂ نکاح ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

غرض یہ کہ خاص اور عام احکام کا مجموعہ سب احکام کو عام کر سکتا ہے، یہ استدلال درست نہیں۔

یہ احکام نبی کی بیویوں کے منصبی احکام ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اُن کے خصوصی پروٹوکولز ہیں کہ وہ عام لوگوں سے بات کرنے میں عام عورتوں کی نسبت زیادہ محتاط رویہ اختیار کریں اور نا محرم مردوں سے اوجھل اپنے گھروں میں محدود رہیں۔ اِسی رو میں  اُنھیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے، نماز، تلاوت قرآن اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ تلقین دین کی اصل روح کے ساتھ متعلق رہنے کی یاد دہانی ہے، جو اُن سے بھی مطلوب ہے۔

یہ ایسے ہی ہے، جیسے کسی صاحبِ منصب کو اُس کے منصبی تقاضوں کے خاص احکام دیتے ہوئے، اُسے امانت و دیانت برتنے کی تلقین بھی کی جائے۔ اِس بنا پر کہ امانت و دیانت کی رعایت ہر شخص سے مطلوب ہے، یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اب اُس کی منصبی ذمہ داریوں کے احکام میں دوسرے لوگ بھی شریک ہیں۔

ازواجِ نبی کو دی گئی اِن خصوصی ہدایات کو عام خواتین کے لیے لائق پیروی سمجھنے کا یہ نتیجہ ہے کہ اِن ہدایات کی نوعیت سمجھنے میں متعدد سنگین قسم کی غلط فہمیاں لاحق ہو گئیں۔ اِن کے ایسے مفاہیم باور کیے گئے  جو عام خواتین کے لیے حسن عمل کی بنا تو بن سکتے ہیں، مگر اُن سے ازواجِ مطہرات کی تنقیص لازم آتی ہے۔

اِن میں سے پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ’لَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ‘ (نرمی کا لہجہ اختیار نہ کرو) سے مردوں کو لبھانے والا نسوانی لہجہ مراد لے لیا گیا، جب کہ یہاں اِس سے مراد وہ نرم لہجہ ہے جو شرفا اور بھلے مانس لوگوں کا بات کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس ہدایت کے مقابل معروف طریقے سے بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے: ’وَ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا‘ ( اور معروف کے مطابق بات کرو) نہ کہ باحیا طریقے سے بات کرنے کا۔

شاہ عبد القادر دہلوی اِس حوالے سے لکھتے ہیں:

”یہ ایک ادب سکھایا کہ کسی مرد سے بات کہو تو اس طرح کہو جیسے ماں کہے بیٹے کو۔ “

(موضح القرآن739)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے والے سبھی منافق اور بد نیت نہیں ہوتے تھے اور نہ ہر موقع سختی کا ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں سختی کا لہجہ بد اخلاقی کے مترادف ہوجاتا ہے۔ آیت میں ازواجِ مطہرات کو سختی کا لہجہ اختیار کرنے کی ہدایت نہیں کی گئی، بلکہ معروف کے مطابق دو ٹوک انداز میں بات کرنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ منافقین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں رخنہ اندازی کی امید لے کر آتے تھے، اُنھیں کوئی بات بنانے کا موقع نہ ملے۔

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ آیت میں مذکور منافقین کی  طمع سے مراد وہ شہوانی جذبات مراد لے لیے گئے ہیں جوعورتوں کے لبھانے والے انداز سے مردوں میں پیدا ہو جاتے ہیں، جب کہ آیت میں منافقین کے دلوں کی کیفیت بتانے کے لیے جو لفظ استعمال ہوا ہے، وہ مرض، یعنی بیماری ہے۔ قرآن مجید میں منافقین کے لیے اِس لفظ کے استعمالات اُن کی منافقت اور حسد کی بیماری کے لیے آئے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی طمع بھی شہوانی نہیں تھی، بلکہ یہ اُن کی سازشوں کی کامیابی کی طمع تھی کہ تہمت طرازی اور رخنہ اندازی کے لیے کوئی بات ہاتھ آئے۔

ازواجِ مطہرات سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے وقار اور حیثیت سے فروتر کسی ایسے انداز میں لوگوں سے مخاطب ہوتی ہوں گی یا ہو سکتی تھیں جس پر اُن کی تنبیہ کی ضرورت پیش آ گئی۔

ازواجِ مطہرات اور اُن کے ملاقاتیوں کی طہارتِ نفس کا معاملہ بھی خصوصی تھا۔ وہ یوں کہ ازواجِ مطہرات کو امت کی مائیں قرار دے دیا گیا تھا۔ عام مردوں سے اُن کا یہ تعلق حقیقی نسبی رشتہ نہیں تھا، جس کے ساتھ پاکیزہ جذبات فطری طور پروابستہ ہو جاتے ہیں، اِس لیے اِن کے بارے میں عام لوگوں کے جذبات اور خود ازواجِ مطہرات کے احساسات میں اِس درجے کی پاکیزگی پیدا کرنا مقصود تھا کہ وہ لوگوں کے لیے ماؤں جیسی مقدس اور محترم ہستیاں بن جائیں اور وہ خود بھی ایسا ہی محسوس کریں۔

اِس حوالے سےعلامہ ابن عاشورلکھتے ہیں:

والمعنى: ذلك أقوى طهارة لقلوبكم وقلوبهن فإن قلوب الفريقين طاهرة بالتقوى وتعظيم حرمات اللّٰه وحرمة النبي صلى اللّٰه عليه وسلم ولكن لما كانت التقوى لا تصل بهم إلى درجة العصمة أراد اللّٰه أن يزيدهم منها بما يكسب المؤمنين مراتب من الحفظ الإِلهي من الخواطر الشيطانية بقطع أضعف أسبابها وما يقرب أمهات المؤمنين من مرتبة العصمة الثابتة لزوجهن صلى اللّٰه عليه وسلم فإن الطيبات للطيبين بقطع الخواطر الشيطانية عنهن بقطع دابرها ولو بالفرض.

وأيضًا فإن للناس أوهامًا وظنونًا سُوأَى تتفاوت مراتب نفوس الناس فيها صرامة ووهنًا، ونَفَاقًا وضعفًا، كما وقع في قضية الإِفك المتقدمة في سورة النور فكان شَرع حجاب أمهات المؤمنين قاطعًا لكل تقول وإرجاف بعمد أو بغير عمد.

ووراء هذه الحِكَم كلها حكمة أخرى سامية وهي زيادة تقرير معنى أمومتهن للمؤمنين في قلوب المؤمنين التي هي أُمومة جَعلية شرعية بحيث إن ذالك المعنى الجعلي الروحي وهو كونهن أمهات يرتد وينعكس إلى باطن النفس وتنقطع عنه الصور الذاتية وهي كونهن فلانة أو فلانة فيصبحْن غير متصوَّرات إلا بعنوان الأمومة فلا يزال ذالك المعنى الروحي ينمى في النفوس، ولا تزال الصور الحسية تتضاءل من القوة المدركة حتى يصبح معنى أمهات المؤمنين معنى قريبًا في النفوس من حقائق المجردات كالملائكة، وهذه حكمة من حكم الحجاب الذي سنه الناس لملوكهم في القدم ليكون ذالك أدخل لطاعتهم في نفوس الرعية .

وبهذه الآية مع الآية التي تقدمتها من قوله :”يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ“تحقق معنى الحجاب لأمهات المؤمنين المركبُ من ملازمتهن بيوتهن وعدمِ ظهور شيء من ذواتهن حتى الوجه والكفين، وهو حجاب خاص بهن لا يجب على غيرهن، وكان المسلمون يقتدون بأمهات المؤمنين ورعًا وهم متفاوتون في ذالك على حسب العادات.

(التحریر والتنویر 22/91)

”مراد یہ ہے کہ یہ تمھارے دلوں اور ازواج نبی کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ موثر ہے، اِس لیے کہ اگرچہ دونوں کے دل تقویٰ سے بہرہ ور اور اللہ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمتوں کی تقدیس کے جذبے سے معمور ہیں، لیکن یہ تقویٰ اُنھیں عصمت کے درجے تک نہیں پہنچا سکتا، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ شیطانی وساوس کے کم زور ترین اسباب کو بھی دور کر کے اہل ایمان کو مزید تقویٰ عطا فرمائے، جس سے اُنھیں شیطانی وساوس سے حفاظت الٰہی کے مزید مراتب حاصل ہو جائیں اور امہات المومنین سے شیطانی وساوس کے بالکل موہوم کو بھی دور کر کے اُنھیں عصمت کے اُس مرتبہ کے قریب تر  پہنچا دیا جائے جو اُن کے شوہر کو حاصل ہے، کیونکہ پاکیزہ خواتین پاکیزہ مردوں ہی کے لیے ہیں۔

مزید یہ کہ لوگوں کے دلوں میں کئی طرح کے خیالات اور برے گمان پیدا ہو جاتے ہیں، جس میں لوگوں کے نفوس کے مراتب مختلف ہوتے ہیں اور بعض لوگوں کے دل کم زوری اور نفاق کا زیادہ شکار بن سکتے ہیں، جیسا کہ سورۂ نور میں مذکورہ واقعۂ افک میں ہوا۔ اِس تناظر میں امہات المومنین کے حجاب کی پابندی سے ہر طرح کی الزام تراشی یا کردار کشی کا سد باب ہو گیا، چاہے کوئی عمداً‌ ایسا کرے یا بلاقصد  اِس کا شکار ہو جائے۔

مذکورہ تمام حکمتوں کے علاوہ ایک اور بڑی اعلیٰ حکمت یہ ملحوظ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں ازواج نبی کے ماں ہونے کے تصور کو راسخ کردیا جائے، جو دراصل شریعت کا قائم کردہ ایک مصنوعی رشتہ تھا۔ مقصود یہ تھا کہ ازواجِ نبی کے امہات ہونے کا تصور لوگوں کے دلوں میں رچ بس جائے اور وہ ازواج کو اُن کی انفرادی شخصیت کے لحاظ سے دیکھنے کے بجاے کہ وہ فلاں اور فلاں ہیں، صرف اِس نظر سے دیکھیں کہ وہ اُن کی مائیں ہیں۔ یوں یہ روحانی رشتہ دلوں میں مضبوط ہوتا چلا جائے اور ازواج کی حسی شکل و صورت لوگوں کے ذہنوں میں دھندلی ہوتی چلی جائے، تا آنکہ اُن کے دلوں میں امہات المومنین کا تصور اُسی طرح ایک مجرد قسم کا تصور بن جائے، جس طرح فرشتوں کا ہوتا ہے۔ یہی حکمت حجاب کی اُس قدیم رسم میں بھی ملحوظ ہے جو لوگوں نے اپنے بادشاہوں کے لیے مقرر کی تھی تاکہ اُن کی رعیت کے دلوں میں اُن کی اطاعت کا جذبہ زیادہ جاگزیں ہو جائے۔

اِس آیت کے ساتھ ایک سابقہ آیت، یعنی ’یٰنِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘(نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو) کو ملا کر دیکھا جائے تو امہات المومنین کے لیے حجاب کا حکم مکمل ہو جاتا ہے، جو اِن دو ہدایات کا مجموعہ ہے کہ وہ اپنے گھروں کے اندر ہی رہا کریں اور اُن کے بدن کا کوئی حصہ، حتیٰ کہ چہرہ اور ہاتھ بھی لوگوں کو دکھائی نہ دیں۔ یہی وہ حجاب ہے جو امہات کے ساتھ خاص تھا اور اُن کے علاوہ دوسروں پر واجب نہیں، البتہ لوگ تقویٰ کے پہلو سے امہات المومنین کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس کی نوعیت اُن کی اپنی اپنی عادات کےلحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔“[72]

 ازواجِ مطہرات کے خصوصی حجاب کی نوعیت واضح ہو جانے کے بعد محولہ بالا آیت کی رو سے عام مردوں اور عورتوں کے اختلاط کی ممانعت کا استدلال قائم نہیں رہتا۔ ازواجِ مطہرات کو دیے گئے خصوصی احکام کو عام ماننے سے سورۂ نور میں مر دوزن کے اختلاط کے آداب سے تضاد لازم آتا ہے، جن کے مخاطب عام مومنین اور مومنات ہیں۔ عام خواتین کواپنی ظاہری زینتوں کے ساتھ مردوں کے سامنے آنے کی اجازت ہے، اُنھیں نظروں سے اوجھل ہو جانے کا حکم نہیں دیا گیا۔

یہ واضح ہو جانے کے بعد کہ ازواجِ مطہرات کے حجاب کی نوعیت کیا تھی، مولانا اصلاحی کے درج ذیل اقتباس کی بنیادی غلطی از خود واضح ہو جاتی ہے۔ مولانا اصلاحی اپنی کتاب ”اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام“میں آیتِ حجاب کے تحت لکھتے ہیں:

’’اس آیت سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ عورتوں اور مردوں کا آزادانہ اختلاط، ان کا ایک مجلس میں بیٹھ کر خوش گپیاں کرنا، دعوتوں میں باہم مل جل کر کھانا پینا، تفریحات میں ایک ساتھ شریک ہونا اسلام کی تہذیب نہیں ہے۔ یہ آیت بھی اگرچہ ظاہر الفاظ کے لحاظ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے متعلق معلوم ہوتی ہے، لیکن اس میں جو ہدایات دی گئی ہیں، وہ ان ہی سے متعلق نہیں ہیں، بلکہ آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ بعینہٖ یہی ہدایات خود قرآن مجید کے اندر پوری اسلامی سوسائٹی کے لیے نازل ہوئی ہیں۔‘‘ (116)

مولانا اصلاحی کا یہ تاثر کہ ”بعینہٖ یہی ہدایات خود قرآن مجید کے اندر پوری اسلامی سوسائٹی کے لیے نازل ہوئی ہیں“ حقیقت نہیں ہے۔ قرآن مجید میں عام خواتین کے لیے اُنھیں مخاطب کر کے ایسی کوئی ہدایات نازل نہیں ہوئیں جو اُنھیں گھروں میں محدود اور مردوں کی نگاہوں سے اوجھل  حجاب میں رہنے کا حکم دیتی ہوں۔ آیتِ جلباب گھر سے باہر کے ایک مسئلے کو موضوع بناتی ہے، جب کہ سورۂ نور (24) کی آیت 31، مولانا کے تاثر کے برعکس، مردوں اور عورتوں کو ایک مجلس میں جمع ہونے کی صورت میں اختلاط کے آداب اور حدود سکھاتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ سورۂ نور ہی میں بتایا گیا ہے کہ اِس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ مرد و زن اپنے باہم مل کر کھانا کھائیں یا الگ الگ۔ارشاد ہوا ہے:

لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی  اَنۡفُسِکُمۡ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمۡ  اَوۡ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمۡ  اَوۡ  بُیُوۡتِ  اِخۡوَانِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمۡ  اَوۡ  بُیُوۡتِ اَعۡمَامِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمۡ  اَوۡ  بُیُوۡتِ  اَخۡوَالِکُمۡ  اَوۡ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمۡ  اَوۡ  مَا مَلَکۡتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ  اَوۡ صَدِیۡقِکُمۡ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ  اَنۡ  تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوۡ اَشۡتَاتًا ؕ فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً  طَیِّبَۃً ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ .

(النور  24: 61)

”(اللہ اِن ہدایات سے تمھارے لیے کوئی تنگی پیدا نہیں کرنا چاہتا، اِس لیے) نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے، نہ لنگڑے کے لیے اور نہ مریض کے لیے اور نہ خود تمھارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ پیو۔ تم پر کوئی گناہ نہیں، چاہے (مرد و عورت) اکٹھے بیٹھ کر کھاؤ یا الگ الگ۔ البتہ، جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔“

ازواجِ مطہرات کے خصوصی احکام سے پیدا ہونے والے تقاضے

ازواجِ مطہرات کو گھروں میں بٹھا دینے کے حکم کا مقتضا تھا کہ اُنھیں اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے بھی گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔ اُن کی معاشی ضروریات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری کرتے ہی تھے، آپ کے بعد اُن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری امت کو سونپ دی گئی۔اپنے بعد امت کو اُن کی ذمہ داری سونپنے کے معاملے میں آپ نے بڑے اہتمام کے ساتھ کام لیا۔آپ کا ارشاد ہے:

أذكركم اللّٰه في أهل بيتي، أذكركم اللّٰه في أهل بيتي، أذكركم اللّٰه في أهل بيتي .(مسلم،رقم6225)

”میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔“

آپ کے بعد خلفا بڑے اہتمام اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ امہات المومنین کی ضروریات کو پورا کیا کرتے تھے۔

ازواجِ مطہرات کے معاشی انتظام کے اِس خصوصی بندوبست کا یہ معاملہ بھی عام خواتین سے متعلق نہیں۔ پردہ نشین خواتین کے معاش کے بندوبست کی کوئی خصوصی ذمہ داری معاشرے پر نہیں ڈالی گئی۔

ازواجِ مطہرات کے خصوصی حجاب ہی کا تقاضا تھا کہ اُن کا حج بھی لوگوں سے علیحدہ کرایا جاتا تھا، جب کہ عام خواتین مردوں کے ساتھ ہی حج کے مناسک ادا کرتی تھیں۔

صحیح بخاری کی روایت ہے:

عن أم سلمة رضي اللّٰه عنها زوج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قالت: شكوت إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أني أشتكي، فقال: ”طوفي من وراء الناس وأنت راكبة“، فطفت ورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم حينئذ يصلي إلى جنب البيت وهو يقرأ:”وَالطُّوْرِ وَكِتَابٍ مَّسْطْوْرٍ.“ (رقم  1619)

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی (کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری پر چڑھ کر اور لوگوں سے علیحدہ رہ کر طواف کر لو۔ چنانچہ میں نے عام لوگوں سے الگ رہ کر طواف کیا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ’وَالطُّوْرِ، وَكِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ‘  قراءت کر رہے تھے۔“

صحیح بخاری  کی ایک اور روایت ہے:

إذ منع ابن هشام النساء الطواف مع الرجال، قال: كيف يمنعهن وقد طاف نساء النبي صلى اللّٰه عليه وسلم مع الرجال؟ قلت: أبعد الحجاب أو قبل، قال: إي لعمري، لقد أدركته بعد الحجاب، قلت: كيف يخالطن الرجال؟  قال: لم يكن يخالطن، كانت عائشة رضي اللّٰه عنها تطوف حجرة من الرجال لا تخالطهم، فقالت امرأة: انطلقي نستلم يا أم المؤمنين، قالت: انطلقي عنك وأبت. كن يخرجن متنكرات بالليل فيطفن مع الرجال، ولكنهن كن إذا دخلن البيت قمن حتى يدخلن وأخرج الرجال، وكنت آتي عائشة أنا وعبيد بن عمير وهي مجاورة في جوف ثبير، قلت: وما حجابها، قال: هي في قبة تركية لها غشاء وما بيننا وبينها غير ذلك، ورأيت عليها درعًا موردًا. (رقم 1618)

”جب ابن ہشام (جب وہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے مکہ کا حاکم تھا) نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کر دیا تو عطا نے اُس سے کہا کہ تم کس دلیل پر عورتوں کو اِس سے منع کر رہے ہو، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیویوں نے مردوں کے ساتھ طواف کیا تھا؟ ابن جریج نے پوچھا: یہ پردہ (کی آیت نازل ہونے) کے بعد کا واقعہ ہے یا اُس سے پہلے کا؟ اُنھوں نے کہا: میری عمر کی قسم! میں نے اُنھیں پردہ (کی آیت نازل ہونے) کے بعد دیکھا۔ اِس پر ابن جریج نے پوچھا کہ پھر مرد عورت مل جل جاتے تھے۔ اُنھوں نے فرمایا کہ اختلاط نہیں ہوتا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے الگ رہ کر ایک الگ کونے میں طواف کرتی تھیں، اُن کے ساتھ مل کر نہیں کرتی تھیں۔ (وقرہ نامی) ایک عورت نے اُن سے کہا:ام المومنین، چلیے (حجر اسود کو) بوسہ دیں تو آپ نے انکار کر دیا اور کہا: تم جا کر چوم لو، میں نہیں چومتی۔ ازواج مطہرات رات میں پردہ کر کے نکلتی تھیں تاکہ پہچانی نہ جائیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں۔ البتہ عورتیں جب کعبہ کے اندر جانا چاہتیں تو اندر جانے سے پہلے باہر کھڑی ہو جاتیں اور مرد باہر آ جاتے (تو وہ اندر جاتیں)۔ میں اور عبید بن عمیر عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اُس وقت حاضر ہوئے جب آپ ثبیر (پہاڑ) پر ٹھیری ہوئی تھیں، (جو مزدلفہ میں ہے)۔ ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ اُس وقت پردہ کس چیز سے کیا تھا؟ عطا نے بتایا کہ ایک ترکی قبہ میں ٹھیری ہوئی تھیں۔ اُس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہمارے اور اُن کے درمیان اُس کے سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ اُس وقت میں نے دیکھا کہ اُن کے بدن پر ایک گلابی رنگ کا کرتا تھا۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اپنے ساتھ حج کرانے کے بعد گھروں میں ٹکے رہنے کی تلقین کی تھی۔ اِسی سبب سے حضرت زینب  بنت جحش اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کبھی سفر بھی نہیں کیا۔ ازواجِ مطہرات حج پر بھی نہیں جاتی تھیں اور جو جانا چاہتیں، اُنھیں حضرت عمر جانے کی اجازت نہ دیتے تھے، البتہ اپنی زندگی کے آخری برس میں اُنھوں نے اِس کی اجازت دی اور جب دی تو ازواج کے پروٹوکولز کا یہ عالم تھا:

أن عمر رضي اللّٰه عنه أذن لأزواج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم في الحج وبعث معهن عثمان، وابن عوف فنادى عثمان رضي اللّٰه عنه بالناس: لا يدن منهن أحد ولا ينظر إليهن إلا مد البصر وهن في الهوادج على الإبلِ  وأنزلهن صدر الشعب، ونزل عبد الرحمن وعثمان رضي اللّٰه عنهما بذنبه فلم يصعد إليهن أحد.

(السنن الكبرىٰ 5/373 )

”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج کی اجازت دی تو حضرت عثمان اور عبد الرحمٰن  بن عوف رضی اللہ عنہما کو اُن کے ساتھ بھیجا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا کہ کوئی اِن کے قریب نہ جائے اور نہ اُن کی طرف دیکھے، سواے دور سے، جب کہ  وہ اونٹوں پر ہودج میں تھیں۔ اُنھوں نے اُنھیں وادی کے ابتدائی حصے میں اتارا۔ عبد الرحمٰن اور عثمان رضی اللہ عنہما وادی کے اختتامی حصے میں ٹھیرے، اور کوئی ان کے قریب نہ گیا۔“

اِس سارے معاملے سے یہ واضح ہے کہ ازواجِ مطہرات کے خصوصی احکام ایک مکمل پیکج تھا۔ یہ خصوصی پروٹوکولز تھے، جو اُن کی رضامندی کے حصول کے بعد اُن پر لاگو کیے گئے۔ اِس خصوصی ایثار اور ذمہ داری کے بدلے میں اُنھیں دہرے اجر کا مژدہ سنایا گیا اور اِس نازک ذمہ داری میں کسی فاحشہ کے ارتکاب پر دہری سزا کی وعید بھی سنائی گئی۔ اُن کے گھروں میں محدود رہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے نکاح نہ کرنے کی وجہ سے اُن کے معاش کا بندوبست بھی کیا گیا۔[73]

ازواجِ مطہرات کے اِن احکام کی یہ نوعیت تمام تر اختصاصی ہے۔ عام خواتین اِن کی مخاطب ہیں، نہ مکلف۔ اِن احکام سے مسلمان عورت کا سماجی دائرہ متعین نہیں ہوتا۔ عام خواتین کا سماجی دائرہ مردوں کے سماجی دائرے کی طرح  اُن کا تمدن، اُن کی ضروریات، اُن کے اذواق اور رجحانات سے طے ہوتا ہے۔ دین نے اِس بارے میں اخلاقی تقاضوں کی پاس داری کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

ازواجِ مطہرات عام مسلمان خواتین کے لیے اپنی اخلاقی حیثیت اور خدا اور رسول کی تابع داری کے معاملے میں نمونۂ عمل ہیں، لیکن اپنے مخصوص احکام میں اُن کے لیے نمونہ نہیں ہیں۔ ایسے ہی، جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ دین و اخلاق میں عام مسلمانوں کے لیے نمونۂ عمل ہے، لیکن آپ کی منصبی حیثیت کے خصوصی معاملات محل تقلید نہیں ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلانِ ہجرت کرنا،  اُس کی طرف سے کفار ومشرکین پر جنگ مسلط کرنا، اُنھیں عذاب و عقاب کی وعید سنانا وغیرہ۔

خصوصی پروٹوکولز کا معاملہ خصوصی لوگوں کے ساتھ اُن کی منصبی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر کیا جاتا ہے۔ ہر سماج میں سرکاری سطح پر سربراہان اور نازک ذمہ داریوں پر فائز عہدے داروں کے لیے خصوصی پروٹوکولز اختیار کیے جاتے ہیں۔ اِن کا مقصد اُن کی حفاظت کے علاوہ اُن کے منصب کا ضروری احترام اور تاثر قائم کرنا بھی ہوتا ہے۔ اِس لحاظ سے سماج کے یہ نمایاں لوگ عام لوگوں کی طرح نہیں ہوتے، کیونکہ اُن کی ایک ایک حرکت اُن کے وسیع دائرۂ اختیار میں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اُن پر اُن کے حامی و مخالف، سب کی نظر ہوتی ہے، اِس وجہ سے اُنھیں غیر معمولی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے، اِسی لیے اُن کے لیے پروٹوکولز وضع کرنے پڑتے ہیں۔ عام لوگ اُنھیں اختیار نہیں کرتے اور نہ ایسا  کرنے کی اُنھیں اجازت ہوتی ہے۔

پروٹوکولز کا یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھرانے کے لیے بہت اہم ہو گیا تھا۔ آپ کے مخالفین اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کے پیشِ نظر یہاں آپ کے سیاسی اقتدار اور نیک نامی کے خطرے میں پڑنے کا مسئلہ ہی نہ تھا، کوئی معمولی رخنہ اندازی اور بے احتیاطی آپ اور آپ کے گھرانے کی اخلاقی ساکھ  کو اگر متاثر کر دیتی تو نبوی مشن کی بساط ہی لپیٹ دی جاتی۔ اِسی بنا پر ازواجِ مطہرات کے خصوصی پروٹوکولز مقرر کیے گئے۔ یہ عام خواتین سے متعلق نہیں ہیں۔

پردے کی روایات پر تبصرہ

احادیث و روایات دین میں کسی مستقل حکم کا ماخذ نہیں بن سکتیں۔ یہ اطلاقی اور اتفاقی نوعیت کے واقعات پر مبنی ہوتی ہیں، یعنی اِن میں کسی اصول کے اطلاق کا ذکر ہوتا ہے یا یہ کسی اتفاقی صورت حال کا بیان ہوتی ہیں۔ معاملہ دینی نوعیت کا ہو تو اُس کی اصل قرآن مجید اور سنت متواترہ یا عمومی اخلاقیات میں موجود ہوگی اور روایت میں اُس کی اطلاقی صورت کا بیان ہوگا۔ دوسری صورت میں یہ کوئی اتفاقی معاملہ ہو سکتا ہے۔

اپنی نوعیت کے لحاظ سے حجاب کی روایات دو اقسام میں تقسیم کی جا سکتی ہیں:

1۔ وہ روایات جن میں ازواجِ مطہرات کے خصوصی پردے کا بیان آیا ہے۔ عام خواتین اِس خصوصی حجاب کی مخاطَب اور مکلف نہیں، اِس لیے اِس نوعیت کی روایات عام خواتین کے پردے کے لیے بناے استدلال نہیں بن سکتیں۔

2۔ وہ روایات جن میں عام خواتین کے چہرے کے حجاب کا ذکر ہے۔ یہ اُن کے ذاتی ذوق کا بیان ہے۔ اِس نوعیت کی روایات میں ایسی کوئی صراحت نہیں کہ ایسا اُنھوں نے کسی دینی حکم کی تعمیل میں کیا تھا۔

اِس سلسلے میں درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:

 عن عبد الخبير بن ثابت بن قيس بن شماس، عن ابيه، عن جده، قال: جاءت امرأة الى النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يقال لها أم خلاد وهي منتقبة تسأل عن ابنها وهو مقتول، فقال لها بعض أصحاب النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: جئت تسألين عن ابنك وأنت منتقبة، فقالت: إن أرزأ ابني فلن أرزأ حيائي. (ابو داؤد،رقم 2488)

”عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے اور وہ اُن کے دادا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا۔ وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے اُس سے کہا: تم اپنے بیٹے کو پوچھنے آئی ہو اور نقاب پہنے ہوئے ہو؟ اُس نے کہا: اگرچہ میں اپنے لڑکے کی جانب سے پریشان ہوں، مگر میری حیا کو کوئی پریشانی لاحق نہیں۔“

اِس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تاہم، اِس سے کوئی استدلال ہو سکتا ہے تو یہ کہ خاتون کے چہرے پر نقاب ہونے پر حیرت کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ نقاب اوڑھنا معمول نہ تھا، ورنہ یہ سوال پیدا نہ ہوتا۔

عن أسماء بنت أبي بكر رضي اللّٰه عنهما قالت: كنا نغطي وجوهنا من الرجال، وكنا نتمشط قبل ذلك في الإحرام.(المستدرک، رقم1668)

”حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اُنھوں نے کہا: ہم مردوں سے اپنے چہرے ڈھانپ لیا کرتی تھیں اور اِس سے پہلے احرام کی حالت میں اپنے بالوں میں کنگھی کیا کرتی تھیں۔“

یہ معلوم ہے کہ حالتِ احرام میں خواتین کے لیے چہرہ اور ہاتھ نہ ڈھانپنے کا حکم ہے۔ روایت  اگر درست ہے اور معاملہ حالتِ احرام سے متعلق ہے تو یہ کسی موقع پر اُن کے انفرادی عمل کا بیان ہے۔ یہ دین کا حکم نہ تھا اور نہ حضرت اسماء نے اِسے دینی حکم کے طور پر بیان کیا۔

حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ ابن عباس سے مروی ایک اثر میں بیان ہوا ہے کہ حالتِ احرام میں نقاب اوڑھنے کی ممانعت کی وجہ سے عورت چاہے تو چہرہ چھپانے کے لیے چادر کو سر سے چہرے پر لٹکا سکتی ہے۔وہ اثر یہ ہے:

عن معاذة العدوية قالت: سألتُ عائشة رحمھا اللّٰه ‌ما ‌تلبسُ ‌المحرمة؟ فقالت: لا تنتقب ولا تتلثم، وتسدل الثوب على وجهها. (اظہار الحق والصواب فی حكم الحجاب 159)

”حضرت معاذہ العدویہ کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: احرام کی حالت میں عورت کیا پہنے؟ تو اُنھوں نے جواب دیا: وہ نقاب نہ باندھے نہ ڈھاٹا، اور اپنے چہرے پر پردہ لٹکا لے۔“

یہ اثر چادر کو چہرے تک  لٹکا لینے کو تجویز کرتا ہے، مگر لازم قرار نہیں دیتا۔ یہ’ان شاءت‘ (اگر وہ چاہے) کے اضافے کے ساتھ بھی روایت ہوا ہے۔وہ روایت یہ ہے:

المحرمة تلبس من الثياب ما شاءت إلا ثوبًا مسه ورس أو زعفران ولا تتبرقع ولا تلثم وتسدل الثوب على وجهها إن شاءت.

(السنن الكبرىٰ5/75)

”محرم عورت جو چاہے لباس پہن سکتی ہے، سواے اُس کپڑے کے جسے ورس یا زعفران لگا ہو۔ اور وہ نہ نقاب پہنے اور نہ کپڑے سے منہ ڈھانپے، تاہم، اگر چاہے تو اپنے چہرے پر کپڑا لٹکا سکتی ہے۔“

اس اثر کی بنیاد پر بعض فقہا نے حالتِ احرام میں عورتوں کے لیے یہ صورت تجویز کی ہے کہ چہرے کو چھپانے کے لیے ایسا کپڑا لٹکا لیں جو چہرے کو نہ چھوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حالتِ احرام میں خواتین کے چہرے کو کھلا رکھنے کی  صریح ہدایت کے باوجود ایک اثر کی بنا پر عورت کا چہرہ چھپانے کی تجویز قابل قبول نہیں ہو سکتی۔  یہ اصول یسر کے بھی خلاف ہے، جس کے تحت چہرے اور ہاتھوں کو کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔ ایسا کپڑا جو چہرے پر ذرا فاصلے سے لٹکا رہے، اُسے برقرار رکھنے میں عام  طریقے سے نقاب اوڑھنے سے زیادہ مشقت پیش آتی ہے۔

حج کے موقع پر چہرے اور ہاتھوں کو ڈھانپنے کی خصوصی ممانعت کی وجہ غالباً یہ ہے کہ عوام سے پردے میں رہنا طبقۂ اشراف کا وتیرہ رہا ہے۔ حج عبادت اور عاجزی کے اظہار کا موقع ہے، چنانچہ بڑائی کے اظہار کی علامات اپنانے سے منع کیا گیا ہے۔

مفسرین کے بعض بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مدینے کے سماج میں خواتین حیا و عفت کے بارے میں، بالعموم کوتاہی کا شکار تھیں۔ اُن کا لباس پوری طرح ساتر نہ ہوتا تھا۔ 5 یا 6 ہجری تک اِس صورت حال کو گوارا کیا گیا، یہاں تک کہ مرد و زن کے اختلاط کے آداب اور جلباب اور حجاب سے متعلق ہدایات نازل ہوئیں تو لوگوں نے اُنھیں اختیار کر کے عفّت و حیا کا سبق سیکھا۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی سماج کی طرح عرب معاشرت میں بھی عورتوں کے مختلف طبقات کے مختلف رجحانات پائے جاتے تھے۔ زیب و زینت کی نمایش کرنے والی بیگمات بھی تھیں اور لونڈیاں بھی، جو لباس و ستر کے معاملے میں زیادہ احتیاط نہیں برتتی تھیں، آبرو باختہ عورتیں بھی تھیں اور ایسی غریب بھی جن کے پاس تن ڈھانپنے کو پورے کپڑے نہ ہوتے تھے، مگر عمومی طور پر عورتیں ساتر لباس ہی پہنتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں گاہے گاہے کسی خاتون کے غیر ساتر یا نا مناسب لباس پر تبصرے ملتے ہیں، لیکن عورتوں کے لباس کی کسی عمومی خرابی کا ذکر نہیں ملتا، اور نہ ایسا ممکن ہے کہ  اِس قسم کی عمومی بے حیائی کو ایک عرصہ تک گوارا کیا گیا ہو۔

ایک روایت میں ذکر ہوا ہے کہ  سورۂ نور کی آیات میں گریبانوں  پر آنچل ڈال لینے کا حکم سن کر ایک موقع پر موجود خواتین نے اپنے سینے اور سر کو اہتمام کے ساتھ ڈھانپ لیا۔

اِس سلسلے کی اہک روایت یہ ہے:

عن عائشة رضي اللّٰه عنها قالت: يرحم اللّٰه نساء المهاجرات الأول، لما أنزل اللّٰه:”وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ“، شققن مروطهن ‌فاختمرن به.  (بخاری،رقم  4758)

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  بیان کرتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ’وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ‘ (اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں) تو (انصار کی عورتوں نے) اپنے تہ بند کو دونوں کنارے سے پھاڑ کر اُن کی اوڑھنیاں بنا لیں۔“

اِس واقعے سے یہ سمجھنا درست نہ ہوگا کہ اِس ہدایت کے نازل ہونے سے پہلے عورتیں دوپٹے وغیرہ سے بے نیاز رہا کرتی تھیں اور اِس کے بعد وہ سینہ اور سر ڈھانپنے کی طرف متوجہ ہوئیں۔ یہ ایک موقع پر چند عورتوں سے متعلق ایک روایت ہے۔ معاملہ یوں ہوا کہ جب اُن کو علم ہوا کہ دوپٹا اوڑھنے سے متعلق اِس معاشرتی ادب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی حکم نازل ہو گیا ہے  تو اُنھوں نے اِس کے لیے مزید اہتمام سے کام لیا اور جن کے ہاں اِس بارے میں کوئی کوتاہی پائی جاتی تھی، وہ بھی متنبہ ہو گئیں۔

بعض روایات میں ذکر ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح سے پہلے عورت کو اُس کے گھر والوں کی اجازت سے دیکھ لینے کا مشورہ دیتے تھے۔ اِس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ خواتین چونکہ مستور رہتی تھیں، اِس لیے اُنھیں دیکھنے کے لیے اہتمام اور اجازت کی ضرورت تھی۔

یہ استدلال بھی درست نہیں، اِس لیے کہ عورت کو نکاح کی غرض سے دیکھنے کی نظر عورت کے جسمانی محاسن کا جائزہ لینے کی نظر تھی، جس کی اجازت عام حالات میں، ظاہر ہے کہ  نہیں تھی۔ اِس کے لیے خصوصی اجازت لینا ضروری تھا۔ مردوں اور عورتوں کے عمومی سماجی تعامل سے اِس کا کوئی تعلق نہیں۔

عہد رسالت میں خواتین کی سرگرمیاں

ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے اپنی تحقیقی کتب، خاص طور پر”رسول اکرم اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ“ میں عرب دور کی معاشرت کی ضروری تفصیلات مہیا کر دی ہیں۔ ابن حجر عسقلانی کے حوالے سے ڈاکٹر صدیقی صراحت کرتے ہیں کہ حجاب کے حکم کے بعد بھی خواتین کی بیرونی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔[74]یہ اِسی وجہ سے تھا کہ حجاب کا حکم عام عورتوں کے لیے تھا ہی نہیں۔ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ دین اُنھیں گھروں میں محدود رہنے کا حکم دے اور اُن کی بیرونی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ فرق، البتہ  ازواج مطہرات کے طرزِ زندگی پر پڑا تھا۔ روایات میں بہ صراحت ذکر کیا جاتا ہے کہ ازواجِ مطہرات نے کسی سے ملاقات کی  یا کسی نے ازواجِ مطہرات کو دیکھا یا ازواج کسی سفر پر نکلیں تو یہ آیتِ حجاب سے پہلے کا واقعہ ہے، لیکن عام خواتین کے معاملے میں ایسی صراحت کا کوئی التزام نہیں ملتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خواتین کے تعامل کے واقعات کے تحت ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں:

’’...رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن (انصاری خواتین) کے گھروں میں بکثرت جایا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ ان کی خواتین مطہرات سے بھی ملتے، ان سے کلام و گفتگو فرماتے تھے، ان کے ساتھ کھاتے پیتے، ان کی میزبانی اور مدارات قبول فرماتے تھے۔ دوپہر سر پر آ جاتی تو ان ہی کے گھروں میں قیلولہ فرماتے تھے۔ رات چھا جاتی تو کبھی کبھی شب بسری بھی فرماتے تھے۔ خواتین انصار اور خاتونان مدینہ مہر و محبت کی پتلیاں تھیں اور اسلامی عقیدت اور نبوی محبت سے سرشار بھی۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دباتی تھیں، بالوں میں چمپی کرتی تھیں اور دوسری خدمات انجام دیتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود اور پاکیزہ جسم اطہر کا گلاب جیسا پسینہ جمع کر لیتی تھیں، موئے مبارک ہاتھ آ جاتے تو سنبھال کر تبرک جان کر سینت لیتی تھیں۔‘‘

(رسول اکرم اور خواتین : ایک سماجی مطالعہ  23)

اِس حوالے سے درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:

عن اسماء بنت ابي بكر رضي اللّٰه عنهما قالت: تزوجني الزبير وما له في الارض من مال ولا مملوك ولا شيء غير ناضح وغير فرسه فكنت أعلف فرسه وأستقي الماء وأخرز غربه وأعجن ولم أكن أحسن أخبز وكان يخبز جارات لي من الانصار وكن نسوة صدق وكنت أنقل النوى من أرض الزبير التي أقطعہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم على رأسي وهي مني على ثلثي فرسخ فجئت يومًا والنوى على رأسي فلقيت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ومعه نفر من الانصار فدعاني ثم قال:”اخ اخ“. ليحملني خلفه فاستحييت أن أسير مع الرجال وذكرت الزبير وغيرته وكان أغير الناس فعرف رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أني قد استحييت فمضي فجئت الزبير فقلت لقيتني رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وعلي رأسي النوى ومعه نفر من أصحابه فأناخ لاركب فاستحييت منه وعرفت غيرتك، فقال: واللّٰه لحملك النوى كان أشد علي من ركوبك معه. (بخاری، رقم 5224)

”حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو اُن کے پاس ایک اونٹ اور اُن کے گھوڑے کے سوا روے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی۔ میں ہی اُن کا گھوڑا چراتی، پانی پلاتی، اُن کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں۔ یہ بڑی سچی اور باوفا عورتیں تھیں۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں دی تھی، اُس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلۂ انصار کے کئی آدمی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا: پھر (اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے) کہا: اخ اخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں، لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی باغیرت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں، اِس لیے آپ آگے بڑھ گئے۔ پھر میں زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اُن سے واقعے کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی۔ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھانے کے لیے بٹھایا، لیکن مجھے اِس سے شرم آئی اور تمھاری غیرت کا بھی خیال آیا۔  اِس پر زبیر نے کہا کہ اللہ کی قسم، مجھ کو تو  اِس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لیے نکلی۔ اگر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی، (کیونکہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج، دونوں ہوتی تھیں)۔“

روایات میں بیان ہوا ہے کہ  حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں آپ  کثرت سے تشریف لے جاتے تھے اور وہ آپ کی مدارات کرتی تھیں:

كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يدخل على أم حرام بنت ملحان، وكانت تحت عبادة بن الصامت، فدخل عليها يومًا فأطعمته، وجعلت تفلي رأسه.

(بخاری،رقم 7001)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ اُن کے یہاں گئے تو اُنھوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔“

عن أنس رضي اللّٰه عنه، دخل النبي صلى اللّٰه عليه وسلم على أم سليم فأتته بتمر وسمن، قال:”أعيدوا سمنكم في سقائه، وتمركم في وعائه، فإني صائم.“ ثم قام إلى ناحية من البيت فصلى غير المكتوبة، فدعا لأم سليم وأهل بيتها.

(بخاری،رقم 1982)

”حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے۔ اُنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گھی اُس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اُس کے برتن میں رکھ دو، کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور اُن کے گھر والوں کے لیے دعا کی۔“

حدثنا جابر بن عبد اللّٰه أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم دخل على أم السائب أو أم المسيب فقال:”ما لك يا أم السائب أو يا أم المسيب ‌تزفزفين؟“ قالت: الحمى لا بارك اللّٰه فيها، فقال: ”لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد“.

(مسلم،رقم 2575)

”حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سائب یا ام مسیب رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے۔ (آپ بخار سے کانپ رہی تھیں تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے پوچھا: کیا ہوا، کیوں کانپ رہی ہو؟ عرض کی: بخار ہے۔ اور ساتھ ہی کہا: اللہ پاک اِس میں برکت نہ دے۔ اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اُن کی اصلاح کرتے ہوئے) فرمایا: بخار کو بُرا نہ کہو، کیونکہ یہ بنی آدم کے گناہوں کو ایسا مٹاتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کرتی ہے۔“

عن هشام، قال: سمعت أنس بن مالك رضي اللّٰه عنه، قال: جاءت امرأة من الأنصار إلى النبي صلى اللّٰه عليه وسلم فخلا بها، فقال: ”واللّٰه، إنكن لأحب الناس إلي.“

(بخاری، رقم 5234)

”حضرت ہشام سے روایت ہے کہ میں نے  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ قبیلۂ انصار کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک طرف ہو کر اُس سے تنہائی میں گفتگو کی، اُس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ، مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو۔“

عن جابر أن النبى صلى اللّٰه عليه وسلم دخل على أم مبشر الأنصارية فى نخل لها فقال لها النبى صلى اللّٰه عليه وسلم:  ”من غرس هذا النخل، أمسلم أم كافر؟“ فقالت  بل مسلم. فقال:”لا يغرس مسلم غرسا ولا يزرع زرعا فيأكل منه إنسان ولا دابة ولا شىء إلا كانت له صدقة“.(مسلم، رقم 4051)

”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر نامی ایک انصاری عورت کے پاس اُس کے نخلستان میں تشریف لے گئے  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اُس سے دریافت فرمایا: یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کیا وہ مسلمان تھا یا کافر؟اس نے جواب دیا: وہ مسلمان تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی پودا لگاتا ہے یا کوئی پیداوار کاشت کرتا ہے، پھر اُس سے کوئی انسان یا کوئی حیوان، جان دار یا کوئی چیز کھاتی ہے تو وہ اُس کے لیے صدقہ بنتا ہے۔“

عن جابر قال: شهدت الصلاة مع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم في يوم عيد فبدأ بالصلاة قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامۃ فلما قضى الصلاة قام متوكئًا على بلال فحمد اللّٰه وأثنى عليه ووعظ الناس وذكرهم وحثهم على طاعته ثم مال ومضى إلى النساء ومعه بلال فأمرهن بتقوى اللّٰه و وعظهن و ذكرهن وحمد اللّٰه وأثنى عليه ثم حثهن على طاعته ثم قال: ”تصدقن فإن أكثركن حطب جهنم.“ فقالت امرأة من سفلة النساء سفعاء الخدين: بم يا رسول اللّٰه؟ قال: ”تكثرن الشكاة وتكفرن العشير“، فجعلن ينزعن قلائدهن وأقرطهن وخواتيمهن يقذفنه في ثوب بلال يتصدقن به.(نسائی، رقم 1575)

”حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھی، پھر جب نماز پوری کر لی  تو آپ بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، لوگوں کو نصیحتیں کیں، اور اُنھیں (آخرت کی) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر آپ مڑے اور عورتوں کی طرف چلے، بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ نے اُنھیں (بھی) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا، اور اُنھیں نصیحت کی اور (آخرت کی) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر اُنھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر فرمایا: تم صدقہ کیا کرو، کیونکہ عورتیں ہی زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی، تو ایک عام درجہ کی ہلکے کالے رنگ کے گالوں والی عورت نے پوچھا: کس سبب سے، اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: (کیونکہ) تم شکوے اور گلے بہت کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ عورتوں نے یہ سنا تو وہ اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں، وہ یہ صدقے کے طور پر دے رہی تھیں۔“

صحابہ و صحابیات کے سماجی تعامل کے حوالے سے ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں:

”شادی بیاہ اور ولیمہ کے مواقع پر دعوتوں کا ایک اسلامی طریقہ تھا اور اِسی طرح عقیقہ وغیرہ کی معاشرتی دعوتیں تھیں، جن میں صحابیات اور صحابہ کا اجتماعی اختلاط ہوتا تھا۔ بنفس نفیس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ولیموں پر اپنے گھروں یا خیموں میں دونوں کو جمع کیا تھا اور حضرت زینب بنت جحش سے شادی کے موقع پر ایسی مبارک دعوت کی تھی جس کا ذکر آیاتِ الٰہی میں آیا ہے۔“

(رسول اکرم اور خواتین : ایک سماجی مطالعہ 169)

اس سلسلے میں درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:

عن سهل قال: لما عرس ابو اسيد الساعدي، دعا النبي صلى اللّٰه عليه وسلم واصحابه، فما صنع لهم طعامًا ولا قربه اليهم الا امرأته ام اسيد، بلت تمرات في تور من حجارة من الليل. فلما فرغ النبي صلى اللّٰه عليه وسلم من الطعام، اماثته له فسقته، تتحفه بذلك.

 (بخاری، رقم5182)

”حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دعوت دی، اِس موقع پر کھانا اُن کی دلہن ام اسید ہی نے تیار کیا تھا اور اُنھوں نے ہی مردوں کے سامنے کھانا رکھا۔ اُنھوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو انھوں نے ہی اِس کا شربت بنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تحفے کے طور پر پینے کے لیے پیش کیا۔“

حضرت ام شریک کا ذکرآتا ہے کہ وہ ایک فیاض خاتون تھیں، جو اکثر کھانے کی دعوت دیتیں اور اُن کے ہاں صحابہ کا بہ کثرت آنا جانا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو اُن کی طلاق کے بعد عدت کا وقت گزارنے کے لیے ام شریک کا گھر تجویز نہیں کیا کہ اُنھیں وہاں مشکل پیش آئے گی۔ چنانچہ اُنھیں ایک نابینا صحابی، عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھیرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ روایت یہ ہے:

عن فاطمة بنت قيس أن أبا عمرو بن حفص طلقها البتة وهو غائب، فأرسل إليها وكيله بشعير فسخطته، فقال: واللّٰه ما لك علينا من شيء، فجاءت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فذكرت ذلك له، فقال:”ليس لك عليه نفقة“. فأمرها أن تعتد في بيت أم شريك، ثم قال: ”تلك امرأة يغشاها أصحابي، اعتدي عند ابن أم مكتوم، فإنه رجل أعمى تضعين ثيابك، فإذا حللت فآذنيني.“

 (مسلم، رقم 1480)

”فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے اُنھیں طلاق بتہ (حتمی، تیسری طلاق) دے دی، اور وہ خود غیرحاضر تھے، اُن کے وکیل نے اُن کی طرف سے کچھ جَو (وغیرہ) بھیجے تو وہ اِس پر ناراض ہوئیں، اُس (وکیل) نے کہا: اللہ کی قسم، تمھارا ہم پر کوئی حق نہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ بات آپ کو بتائی۔ آپ نے فرمایا: اب تمھارا خرچ اِس کے ذمے نہیں۔ اور آپ نے اُنھیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں، پھر فرمایا: اُس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لو، وہ نابینا آدمی ہیں، تم اپنے (اوڑھنے کے) کپڑے بھی اتار سکتی ہو۔ تم جب (عدت کی بندش سے) آزاد ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“

مرد و خواتین کے سماجی تعامل کے سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اثر بھی یہاں پیش کیا جاتا ہے:

عن زيد بن اسلم عن ابيه قال خرجت مع عمر بن الخطاب رضي اللّٰه عنه الى السوق فلحقت عمر امرأة شابة فقالت: يا امير المؤمنين، هلك زوجي وترك صبية صغارا واللّٰه ما ينضجون كراعًا ولا لهم زرع ولا ضرع وخشيت ان تأكلهم الضبع وانا بنت خفاف بن ايماء الغفاري وقد شهد أبي الحديبية مع النبي صلى اللّٰه عليه وسلم فوقف معها عمر ولم يمض، ثم قال: مرحبا بنسب قريب، ثم انصرف الى بعير ظهیر كان مربوطًا في الدار فحمل عليه غرارتين ملأهما طعامًا وحمل بينهما نفقةً وثيابًا ثم ناولها بخطامه ثم قال: اقتاديه فلن يفنى حتى يأتيكم اللّٰه بخيرٍ. فقال رجل: يا أمير المؤمنين، اكثرت لها، قال عمر: ثكلتك امك واللّٰه إني لارى أبا هذه وأخاها قد حاصرا حصنًا زمانًا فافتتحاه ثم أصبحنا نستفيء سهمانهما فيه.

(بخاری، رقم 4160)

”حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار کے لیے نکلا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کی: امیرالمومنین، میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم ، اب نہ اُن کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ اُن کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے، نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ اُن کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے، آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا: مرحبا، تمھارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے، جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اُس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیے۔ اُن دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیے اور اُس کی نکیل اُن کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا: اِسے لے جاؤ، یہ ختم نہ ہو گا کہ اِس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اِس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اِس پر کہا: اے امیر المومنین، آپ نے اِسے بہت دے دیا۔  عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیری ماں تجھے روئے، اللہ کی قسم، اِس عورت کے والد اور اِس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے، آخر اُسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو اُن دونوں کا حصہ مالِ غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔“

اپنے اہل تعلق مرد و خواتین کی بیماری میں مرد و عورت، دونوں ایک دوسرے کی عیادت کیا کرتے تھے۔ امام بخاری نے”کتاب المرضی “میں ایک باب’ باب عيادة النساء الرجال (عورتوں کا مردوں کی عیادت کرنا) باندھا ہے، جس میں ذکر ہے:

وعادت أم الدرداء رجلًا من أهل المسجد من الانصار.

(بخاری 14/ 256)

”ام درداء ایک انصاری صحابی کی عیادت کیا کرتی تھیں، جو مسجد میں رہتے تھے۔“

جنگوں کے دوران میں خواتین زخمی ہونے والے مردوں کی دیکھ بھال کرتیں اور اُنھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتیں۔

اِس سلسلے کی روایات  درج ذیل ہیں:

 عن الربيع بنت معوذ، قالت: كنا مع النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، نسقي ونداوي الجرحى، ونرد القتلى الى المدينة.

(بخاری ،رقم2882)

”حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ میں) شریک ہوتی تھیں، مسلمان فوجیوں کو پانی پلاتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور جو لوگ شہید ہو جاتے، اُنھیں اٹھا کر مدینے لاتی تھیں۔“

 عن أم عطية الأنصارية، قالت: غزوت مع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، سبع غزوات، أخلفهم في رحالهم، فأصنع لهم الطعام، وأداوي الجرحى، وأقوم على المرضى.  (مسلم ،رقم1812)

”حضرت  ام عطیہ  انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے اُنھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک رہی۔ میں مردوں کے ٹھیرنے کی جگہ میں رہتی اور اُن کا کھانا پکاتی اور زخمیوں کی دوا کرتی اور بیماروں کی خدمت کرتی۔“

ڈاکٹر صدیقی رفیدہ یا کعیبہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ  وہ مستقل جراح و طبیب نبوی تھیں۔ مسجد کے صحن میں اُن کا خیمہ مستقل طور پر لگا رہتا تھا، جہاں وہ مردوں کا علاج بھی کیا کرتی تھیں اور آپ اُن سے مسلسل ملاقاتیں فرماتے تھے۔ [75]

روایت یہ ہے:

عن محمود بن لبيد، قال: لما أصيب أكحل سعد يوم الخندق، فثقل، حولوه عند امرأة يقال لها: ‌رفيدة، وكانت تداوي الجرحى، فكان النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، إذا مر به، يقول: كيف أمسيت؟، وإذا أصبح: كيف أصبحت؟، فيخبره. 

(الادب المفرد، رقم   1129)

”حضرت محمود بن لبید کہتے ہیں کہ جب غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ کی کلائی زخمی ہوگئی اور اُن کی حالت بگڑ گئی تو اُنھیں ایک عورت کے پاس لے جایا گیا جسے ‌رُفیدہ کہا جاتا تھا، اور وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اُن کے پاس سے گزرتے تو پوچھتے: تم نے شام کیسے گزاری؟ اور صبح پوچھتے: تم نے صبح کیسے گزاری؟ تو سعد بن معاذ اُنھیں اپنی حالت بتاتے۔“

معاش اور کاروبار کے سلسلے میں مرد اور خواتین کے تعامل کے بارے میں ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں:

”تجارت و کاروبار سے لے کر مزدوری اور بازار میں خرید و فروخت سے لے کر گھر گھر جا کر اشیا کی خرید و فروخت تک،  کسب معاش کے تقریباً ہر شعبہ میں خواتین  کی بھرپور شمولیت کا تذکرہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے۔ حضرت شفاء رضی اللہ عنہا کو آپ نے بازار کی نگران افسر کے طور پر تعینات کیا تھا۔“

(رسول اکرم اور خواتین : ایک سماجی مطالعہ 156)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

” ...متعدد مردوں نے خاتون تاجرات سے مضاربت، اجرت اور اشتراک کی بنیاد پر کاروبار کیا اور ان کے گماشتے تک بننے کی جرأت کی۔ باغات، کھیتوں اور اموال میں دونوں کے شانہ بشانہ کام کرنے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے کاموں میں حصہ لینے کا پکا ثبوت ہے۔‘‘ ( رسول اکرم اور خواتین : ایک سماجی مطالعہ 170)

اس سلسلے کی ایک روایت یہ ہے:

عن أبي بلج يحيى بن أبي سليم، قال: رأيت ‌سمراء ‌بنت ‌نهيك، وكانت قد أدركت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، عليها درع غليظ، وخمار غليظ، بيدها سوط تؤدب الناس، وتأمر بالمعروف، وتنهى عن المنكر. (المعجم الكبير ، رقم 785)

”حضرت ابوبلج یحییٰ بن ا بو سلیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سمراء بنت نہیک کو دیکھا ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پا چکی تھیں کہ اُن کے جسم پر ایک موٹا زرع اور دوپٹا تھا اور اُن کے ہاتھوں میں ایک کوڑا تھا۔ وہ لوگوں کو ادب سکھا رہی تھیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر رہی تھیں ۔“

ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں کہ گانے بجانے والی عورتوں کا ایک ایسا طبقہ بھی تھا جو لوگوں کو اپنے گانے سے لطف اندوز کرتا اور پیسے کماتا تھا۔[76] اُن کے علاوہ میت پر ماتم و نوحہ کر کے پیسے کمانے والیاں بھی تھیں۔ اِس طبقے کاخاتمہ کر دیا گیا،[77] کیونکہ نوحہ گری کی مذمت کی گئی ہے، مگر گانے بجانے والیوں کا طبقہ بدستور قائم رہا۔ اُن میں سے بعض خواتین نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کئی بار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔ تاہم، جن صحابہ کے مزاج میں سختی تھی، جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ، اُن کے سامنے وہ گانے بجانے سے جھجکتی تھیں۔

مرد و خواتین کے یہ سماجی روابط اتنے عام تھے کہ بعض اوقات کوئی  ناپسندیدہ صورت حال بھی پیش آ جاتی تھی۔ ایسی ہی ایک صورت جب پیش آئی تو تنبیہ بھی کی گئی:

أن نفرًا من بني هاشم دخلوا على ‌أسماء بنت عميس، فدخل ‌أبو ‌بكر الصديق - وهي تحته يومئذٍ - فرآهم فكره ذلك، فذكر ذلك لرسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، وقال: لم أر إلا خيرًا! فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:”إن اللّٰه قد برأها من ذلك“. ثم قام رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم على المنبر، فقال: ”لا يدخلن رجل بعد يومي هذا على مغيبة إلا ومعه رجل أو اثنان.“

 (مسلم،رقم 2173)

”بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اُس وقت اُن کے نکاح میں تھیں۔ اُنھوں نے اُن لوگوں کو دیکھا تو اُنھیں ناگوار گزرا۔ اُنھوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، ساتھ ہی کہا: میں نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (بھی) اُنھیں (حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو) اِس سے بری قرار دیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الاّ یہ کہ اُس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں۔“

درج ذیل روایت دورِ رسالت کے آخرکی ہے۔ اِس میں صراحت ہے کہ ایک خاتون نے حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کیے۔ اِس موقع پر اُس کا چہرہ ڈھانپا ہوا نہیں تھا۔ فضل بن عباس اُسے بار بار دیکھ رہے تھے۔ آپ اُن کا منہ بار بار پھیر رہے تھے، مگر آپ نے خاتون کو چہرہ ڈھانپنے کا حکم نہیں دیا۔روایت یہ ہے:

عن عبد اللّٰه بن عباس رضي اللّٰه عنهما، قال: كان الفضل رديف رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فجاءت امرأة من خشعم، فجعل الفضل ينظر إليها وتنظر إليه، وجعل النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يصرف وجه الفضل إلى الشق الآخر فقالت: يا رسول اللّٰه، إن فريضة اللّٰه على عباده في الحج، أدركت أبي شيخًا كبيرًا لا يثبت على الراحلة، أفأحج عنه؟ قال:”نعم“. وذلك في حجة الوداع. (بخاری، رقم 1513)

”حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: حجۃ الوداع میں اُن کے بھائی  فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے کہ اِسی دوران میں خشعم قبیلے کی ایک عورت آئی۔ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اُس کی طرف اور وہ فضل کی طرف دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب کر دیا۔  اُس نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ کے بندوں پر حج فرض ہے اور میرے والد بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، تو کیا میں اُن کی طرف سے حج  کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ “

ڈاکٹر صدیقی نے اپنی کتاب کا اختتام درج ذیل عبارت پر کیا ہے:

” ...سیرت و حدیث اور تاریخی واقعات، بلکہ قرآنی آیات سے بھی یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی حدود و شرعی قیود کے ساتھ مرد و زن کے ارتباط اور صنفی اختلاط کی پوری اجازت تھی اور نہ صرف اجازت تھی، بلکہ وہ ایک سماجی روایت بھی تھی جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کی متواتر سنت کا پشتہ حاصل تھا۔ مرد و زن کے اختلاط و ارتباط کا اصل اصول اور صحیح طریقہ یہی طریق نبوی اور انداز صحابہ تھا، نہ بعد کے خود پسند اور دقت پرست علماو فقہا کا طریقہ اور نہ ہی جدت طراز اور اباحت پسند سماجی دانشوروں کا بے محابا اور بے سلیقہ فکر و عمل۔ دنیاوی فلاح و مسرت اور اخروی بہبود و نجات صرف سنت نبوی اور تعامل صحابہ میں ہے۔“

(رسول اکرم اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ205)

_________