اختلاطِ مردوزن کے آداب مقرر ہوئے تو صحابہ کے ہاں کچھ سوالات اور اشکالات پیدا ہوئے، جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے توضیحی آیات نازل فرمائیں۔
عورتوں کو بچوں اور غلاموں کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت دی گئی تھی۔ اِس سے سوال پیدا ہوا کہ اجازت طلبی کے معاملے میں بھی کیا اُنھیں استثنا حاصل ہوگا؟
زیب و زینت عمر رسیدہ عورتوں میں وہ کشش پیدا نہیں کرتی، جو جوان عورتوں میں پیدا کر دیتی ہے، اور جس کی وجہ سے اِخفاے زینت کا حکم اُنھیں دیا گیا تھا۔ سوال پیدا ہوا کہ کیا بوڑھی عورتوں کو اِخفاے زینت کے اہتمام میں رعایت مل سکتی ہے؟
کچھ لوگوں نے شاید محسوس کیا کہ اختلاط کے آداب سے اسلام اُن کی سماجی آزادیوں کو محدود کرنا چاہتا ہے، جس سے اُنھیں کچھ مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
اِس تناظر میں درج ذیل ہدایات نازل ہوئیں:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِیَسۡتَاۡذِنۡکُمُ الَّذِیۡنَ مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَبۡلُغُوا الۡحُلُمَ مِنۡکُمۡ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ؕ مِنۡ قَبۡلِ صَلٰوۃِ الۡفَجۡرِ وَ حِیۡنَ تَضَعُوۡنَ ثِیَابَکُمۡ مِّنَ الظَّہِیۡرَۃِ وَ مِنۡۢ بَعۡدِ صَلٰوۃِ الۡعِشَآءِ ۟ ثَلٰثُ عَوۡرٰتٍ لَّکُمۡ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ وَ لَا عَلَیۡہِمۡ جُنَاحٌۢ بَعۡدَہُنَّ ؕ طَوّٰفُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ بَعۡضُکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ وَ اِذَا بَلَغَ الۡاَطۡفَالُ مِنۡکُمُ الۡحُلُمَ فَلۡیَسۡتَاۡذِنُوۡا کَمَا اسۡتَاۡذَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ.(النور24: 58- 59) | ”ایمان والو، (تمھارے قلب و نظر کی پاکیزگی کے لیے جو ہدایات ہم نے دی ہیں، تم اُن کی مزید وضاحت چاہتے ہو تو سنو)، تمھارے غلام اور لونڈیاں اورتم میں جو بلوغ کو نہیں پہنچے، تین وقتوں میں تم سے اجازت لے کر تمھارے پاس آیا کریں: نماز فجر سے پہلے؛ جب دوپہر کو تم کپڑے اتارتے ہو اور نماز عشا کے بعد۔ یہ تین وقت تمھارے لیے پردے کے وقت ہیں۔ اِن کے علاوہ (وہ بلا اجازت آجائیں تو) نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر، اِس لیے کہ تم ایک دوسرے کے پاس آنے جانے والے ہی ہو۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔ تم میں جو بچے ہیں، وہ جب بلوغ کو پہنچ جائیں تو اُسی طرح اجازت لے کر آئیں، جس طرح اُن کے اگلے اجازت لیتے رہے ہیں۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔“ |
غامدی صاحب اپنی کتاب’’میزان‘‘میں اِس مقام کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
” ...فرمایا ہے کہ گھروں میں آمد و رفت رکھنے والے غلاموں اور نابالغ بچوں کے لیے ہر موقع پر اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ اُن کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ تین اوقات میں اجازت لے کر داخل ہوں: نماز فجر سے پہلے، جب کہ لوگ ابھی بستروں میں ہوتے ہیں؛ ظہر کے وقت جب وہ قیلولہ کے لیے کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہیں اور عشا کے بعد جب وہ سونے کے لیے بستروں میں چلے جاتے ہیں۔ یہ تین وقت پردے کے وقت ہیں۔ اِن میں اگر کوئی اچانک آ جائے گا تو ممکن ہے کہ گھر والوں کو ایسی حالت میں دیکھ لے جس میں دیکھا جانا پسندیدہ نہ ہو۔ اِن کے سوا دوسرے اوقات میں نابالغ بچے اور گھر کے غلام عورتوں اور مردوں کے پاس، اُن کے تخلیے کی جگہوں میں اور اُن کے کمروں میں اجازت لیے بغیر آ سکتے ہیں۔ اِس میں کسی کے لیے کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن اِن تین وقتوں میں ضروری ہے کہ جب وہ خلوت کی جگہ آنے لگیں تو پہلے اجازت لے لیں۔ نابالغ بچوں کے لیے، البتہ بالغ ہو جانے کے بعد یہ رخصت باقی نہ رہے گی۔ اِس دلیل کی بنا پر کہ یہ بچپن سے گھر میں آتے جاتے رہے ہیں، اُنھیں ہمیشہ کے لیے مستثنیٰ نہیں سمجھا جائے گا۔ بلوغ کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد اُن کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ عام قانون کے مطابق اجازت لے کر گھروں میں داخل ہوں۔“ ( 469)
بچوں کو استیذان، یعنی اجازت طلبی سے استثنا اُن کے عدم بلوغ اور غلاموں کو اُن کی زیردستی کے باعث دیا گیا تھا۔ زیر دستی کے سبب سے اُن میں گھر کی عورتوں کی طرف میلان پیدا ہونا متوقع نہیں ہوتا، لیکن اِس آیت میں استیذان سے استثنا کی ایک اور وجہ بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ گھر میں بچوں اور خاص طور پرغلاموں کا آنا جانا مسلسل لگا رہتا ہے۔ اُن کے لیے ہر بار اجازت طلب کرنا غیر معمولی زحمت کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس زحمت سے بچانے کے لیے اُنھیں آرام کے اوقات کے سوا اجازت طلب کرنے کی پابندی سے استثنا دے دیا گیا۔ یہ استثنا اصول یسر کے تحت دیا گیا ہے۔
عرب میں آرام کے تین مذکورہ اوقات تھے۔ خلوت و استراحت کے جو اوقات بھی کہیں مقرر ہوں، اشتراکِ علت کی بنا پر اجازت طلبی کی یہ ہدایت اُن اوقات سے متعلق ہو جائےگی۔
عمر رسیدہ عورتوں میں بناؤ سنگھار کرنے کے باوجود وہ کشش پیدا نہیں ہوتی جس کو حدود کا پابند بنانے کے لیے گریبان کو آنچل سے ڈھانپنے کی ہدایت کی گئی تھی، اِس لیے اِنھیں رخصت دی گئی کہ نا محرم مردوں کی موجودگی میں اُنھیں اپنے سینے اور گریبان کی زینت کو آنچل سے ڈھانپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ، پاکیزگی نفس کے اعلیٰ درجے کا حصول مقصود ہو تو اُن کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ نا محرم مردوں کی موجودگی میں اپنی زیب و زینت ڈھانپ کر رکھیں۔ارشاد ہوا ہے:
وَ الۡقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَا یَرۡجُوۡنَ نِکَاحًا فَلَیۡسَ عَلَیۡہِنَّ جُنَاحٌ اَنۡ یَّضَعۡنَ ثِیَابَہُنَّ غَیۡرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیۡنَۃٍ ؕ وَ اَنۡ یَّسۡتَعۡفِفۡنَ خَیۡرٌ لَّہُنَّ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ.(النور 24 : 60)
| ’’اور بڑی بوڑھی عورتیں جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، وہ اگر اپنے دوپٹے گریبانوں سے اتار دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم وہ بھی احتیاط کریں تو اُن کے لیے بہتر ہے اور اللہ سمیع و علیم ہے۔‘‘ |
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
” ...ارشاد ہوا ہے کہ سینے اور گریبان کی زینت کو ڈھانپ کر رکھنے کا حکم اُن بڑی بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، بشرطیکہ وہ زینتوں کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ عورت کی خواہشات جس عمر میں مر جاتی ہیں اور اُس کو دیکھ کر مردوں میں بھی کوئی صنفی جذبہ پیدا نہیں ہوتا، اُس میں سینے اور گریبان کی زینت کو چھپانے کے لیے اُن پر آنچل ڈالے رکھنا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا بوڑھی عورتیں اپنا یہ کپڑا مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم، پسندیدہ بات اُن کے لیے بھی یہی ہے کہ وہ احتیاط کریں اور مردوں کی موجودگی میں اُسے نہ اتاریں۔ یہ اُن کے لیے بہتر ہے۔“ (میزان 470)
آیتِ بالا میں ’ثِیَاب‘ سے مراد اوڑھنی یا دوپٹا ہے، جو گریبان پر ڈالا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے اِس کا مصداق جلباب یا ردا، یعنی بڑی چادر کو قرار دیا ہے۔[16] سعید بن جبیر کے مطابق، بڑی چادر اتارنے کی اجازت ہے، لیکن گریبان پر آنچل بہرحال رہنا چاہیے۔[17] اِس تخصیص کے لیے، لیکن الفاظ میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔
عمررسیدہ خواتین کو آنچل یا چادر اتار دینے کی اجازت اُس صورت میں دی گئی ہے جب اُنھوں نے گریبان پر زینت کر رکھی ہو۔ اِس کا تعلق عدم زینت سے نہیں ہے۔ یہ اجازت عدم تبرج کی شرط کے ساتھ بیان ہوئی ہے، عدم زینت کی شرط کے ساتھ نہیں۔ تبرج غیرمعمولی اظہارِ زینت کو کہتے ہیں۔
لغت میں’تبرج‘کا مطلب یہ بیان ہوا ہے:
إظهار الزينة وما يستدعى به شهوة الرجال.(تاج العروس 5/ 417) | ’’زینت کا اظہار کرنا، جس سے مردوں میں شہوت اجاگر کرنا مقصود ہو۔‘‘ |
تبرج تبھی ممکن ہے جب زینت موجود ہو۔ اِس بنا پر یہ حکم بوڑھی عورتوں کو گریبان پر زینت کی صورت میں آنچل اتارنے کی اجازت دیتا ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں متنبہ بھی کرتا ہے کہ اِس رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زیب و زینت کی غیر معمولی انداز سے نمایش نہ کریں۔ تاہم، اُن کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ نامحرم مردوں کے سامنے اپنی زیب و زینت ڈھانپ کر رکھیں۔
آدابِ اختلاط کے تقرر سے کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ اسلام اِن کے ذریعے سے اُن کی سماجی آزادیوں کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ اب وہ اپنے رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں کے گھروں میں آزادی و بے تکلفی کے ساتھ آ جا نہیں سکتے۔ معذور اور مجبور لوگ، جو اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے گھروں پر انحصار کرتے تھے، اُنھوں نے بھی یہ محسوس کیا کہ اب اُن کی آزادی محدود ہو گئی ہے۔ اِس طرح کے شبہات دور کرنے کے لیے ارشاد ہوا:
لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اِخۡوَانِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَعۡمَامِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخۡوَالِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمۡ اَوۡ مَا مَلَکۡتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوۡ صَدِیۡقِکُمۡ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوۡ اَشۡتَاتًا ؕ فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ. (النور24: 61) | ”(اللہ اِن ہدایات سے تمھارے لیے کوئی تنگی پیدا نہیں کرنا چاہتا، اِس لیے) نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے، نہ لنگڑے کے لیے اور نہ مریض کے لیے اور نہ خود تمھارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ پیو۔ تم پر کوئی گناہ نہیں، چاہے (مرد و عورت) اکٹھے بیٹھ کر کھاؤ یا الگ الگ۔ البتہ، جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔“ |
اِس حوالے سےغامدی صاحب لکھتے ہیں:
” ...وضاحت فرمائی ہے کہ لوگ خود ہوں یا اُن کے مجبور و معذور اعزہ اور احباب جو اُنھی کے گھروں پر گزارہ کرتے ہیں، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے گھروں میں آئیں جائیں، ملیں جلیں اور مرد و عورت الگ الگ یا اکٹھے بیٹھ کر کھائیں پئیں، نہ اُن کے اپنے گھروں میں کوئی حرج ہے، نہ باپ دادا کے گھروں میں، نہ ماؤں کے گھروں میں، نہ بھائیوں اور بہنوں کے گھروں میں، نہ چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں اور خالاؤں کے گھروں میں، نہ زیر تولیت افراد کے گھروں میں اور نہ دوستوں کے گھروں میں۔ اتنی بات، البتہ ضروری ہے کہ گھروں میں داخل ہوں تو اپنے لوگوں کو سلام کریں۔ یہ بڑی بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے جس سے باہمی تعلقات میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ ملنے جلنے کے جو آداب اُنھیں بتائے گئے ہیں، اُن سے ربط و تعلق کے لوگوں کو سہارے سے محروم کرنا یا اُن کی سوشل آزادیوں پر پابندی لگانا مقصود نہیں ہے۔ وہ اگر سمجھ بوجھ سے کام لیں تو اِن آداب کی رعایت کے ساتھ یہ سارے تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں۔ اِس سے مختلف کوئی بات اگر اُنھوں نے سمجھی ہے تو غلط سمجھی ہے۔ اِن میں سے کسی چیز کو بھی ممنوع قرار دینا پیش نظر نہیں ہے۔“ (میزان 470- 471)
یہ رخصتیں بھی دین کے اصول یسر کے تحت دی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توضیحی ہدایات نہ آتیں تو اِن اطلاقی معاملات کو اجتہاد سے طے کیا جاتا، جن میں اختلافِ راے اور افراط و تفریط ممکن تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ دے کر یہ معاملات بھی، از راہ عنایت، خود طے کردیے۔
اختلاطِ مردوزن کے آداب درج ذیل ہیں: