نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مدینے میں جہاں کھلے دشمنوں کی طرف سے جنگوں اور سازشوں کا سامنا تھا، وہاں منافقین کی صورت میں چھپے ہوئے دشمنوں کی طرف سے دھوکا دہی اورافواہ سازی اور تہمت طرازی جیسے مسائل بھی درپیش تھے۔ رات کے وقت رفع حاجت کے لیے جاتی خواتین کو حیلوں بہانوں سے ہراساں کیا جاتا تھا۔
درج ذیل آیات منافقین کی اُن ریشہ دوانیوں کو بیان کرتی ہیں :
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا.(الاحزاب 33: 57- 58) | ’’اللہ اور اُس کے رسول کو جو لوگ اذیت پہنچا رہے ہیں، اُن پر اللہ نے دنیا اور آخرت، دونوں میں لعنت کر دی ہے اور اُن کے لیے اُس نے رسوا کر دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو (اِسی طرح اُن پر تہمتیں لگا کر)، بغیر اِس کے کہ اُنھوں نے کچھ کیا ہو، اذیت دے رہے ہیں، اُنھیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اُنھوں نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر لے لیا ہے۔‘‘ |
رات کے وقت گھروں سے باہر رفعِ حاجت کے لیے تمام خواتین نکلتی ہی تھیں۔ مدینے کے اوباش اِس موقع پر اُنھیں بہانے سے ستانے کی کوشش کرتے۔[18]
سدی کا بیان ہے:
كان أناس من فساق أهل المدينة بالليل حين يختلط الظلام يأتون إلى طرق المدينة فيتعرضون للنساء، وكانت مساكن أهل المدينة ضيقة فإذا كان الليل خرج النساء إلى الطرق فيقضين حاجتهن، فكان أولئك الفساق يتبعون ذالك منهن، فإذا رأوا امرأة عليها جلباب قالوا: هذه حرة فكفوا عنها، وإذا رأوا المرأة ليس عليها جلباب قالوا: هذه أمة فوثبوا عليها. (تفسیر ابن ابی حاتم 10/3155) | ’’اہل مدینہ میں سے کچھ بدکردار لوگ رات کو اندھیرا پھیل جانے پر مدینہ کے راستوں میں آجاتے تھے اور عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ اہل مدینہ کے گھر تنگ ہوتے تھے، اِس لیے رات کے وقت خواتین راستوں کی طرف نکل جاتیں اور قضاے حاجت کرتی تھیں۔ یہ بدکردار لوگ اُن کا پیچھا کرتے تھے۔ اگر وہ کسی عورت کو چادر میں ملبوس دیکھتے تو کہتے کہ یہ آزاد عورت ہے اور اُس سے تعرض نہیں کرتے تھے، لیکن ایسی عورت کو دیکھتے جس پر چادر نہیں تو کہتے کہ یہ باندی ہے اور اُس کے پیچھے پڑ جاتے۔۔‘‘[19] |
یہ حالات تھے، جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج، آپ کی بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین کو ہدایت کی کہ وہ گھروں سے باہر اندیشے کی جگہوں پر جانے کے لیے نکلیں تو اپنی چادروں میں سے ایک چادر اوڑھ لیا کریں تاکہ وہ پہچانی جائیں کہ وہ خاندانی عورتیں ہیں اور کوئی اُن پر تہت لگانے کا موقع پا کر اُنھیں نہ ستائے۔ یہ منافقین کے قطعِ عذر کی ایک تدبیر تھی۔ اُنھیں خبردار کیا گیا کہ اِس کے بعد بھی وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو نظم اجتماعی اُن کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، اُن کے ساتھ فساد فی الارض کے مجرموں والا سلوک کیا جائے گا اوراُنھیں مدینے سے کھدیڑ دیا جائے گا۔ارشاد ہوا ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مَّلۡعُوۡنِیۡنَ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا. (الاحزاب 33: 59 – 61)
| ’’(اِن کی شرارتوں سے اپنی حفاظت کے لیے)، اے نبی، تم اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور سب مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کر دو کہ (اندیشے کی جگہوں پر جائیں تو) اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں۔ اِس سے امکان ہے کہ الگ پہچانی جائیں گی تو ستائی نہ جائیں گی۔ اِس کے باوجود (کوئی خطا ہوئی تو) اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔یہ منافقین اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں لوگوں کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اُن پر تمھیں اکسا دیں گے، پھر وہ تمھارے ساتھ اِس شہر میں کم ہی رہنے پائیں گے۔اُن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے، پکڑے جائیں گے اور بے دریغ قتل کر دیے جائیں گے۔‘‘ |
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، آپ کی بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین کو مزید یہ ہدایت فرمائی کہ اندیشے کی جگہوں پر جاتے وقت وہ اپنی کوئی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں تاکہ دوسری عورتوں سے الگ پہچانی جائیں اور اُن کے بہانے سے اُن پر تہمت لگانے کے مواقع پیدا کرکے کوئی اُنھیں اذیت نہ دے۔‘‘
(میزان 471)
منافقین کی اِن شرارتوں کا ہدف چونکہ آزاد خاندانی مسلمان خواتین تھیں، اِس لیے چادر اوڑھ کر باہر نکلنے کی یہ تدبیر بھی اُنھی کے لیے مقرر کی گئی۔خاندانی خواتین کی یہ امتیازی علامت پہلے سے معروف تھی،[20] جسے اب سرکاری اعلامیے کے ساتھ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ اوباشوں کے خلاف نظم اجتماعی کی طرف سے کارروائی سے پہلے اُن کا عذر ختم کر دیا جائے۔[21]
خواتین کے لیے چادر اوڑھنے کا جو مقصد آیت بالا میں لفظا ً بیان ہوا ہے، وہ یہ ہے:
ذالک ادنی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ. | ’’اِس سے امکان ہے کہ الگ پہچانی جائیں گی تو ستائی نہ جائیں گی۔‘‘ |
اِس ہدایت کی علت ستر پوشی، پاکیزہ روی یا تحفظِ عصمت وغیرہ بیان نہیں ہوئی، جو اِس کو ایک عمومی اور مستقل حکم بنا دیتی۔ چادر اوڑھنے کو مسلمان عورت کی پہچان کے طور پر بھی متعارف نہیں کرایا گیا۔ چادر کم حیثیت لونڈیوں کے مقابلے میں خاندانی خواتین کا امتیاز قائم کرنے کے لیے مقرر کی گئی تھی تاکہ کوئی اُنھیں ہلکا نہ لے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی نوعیت کی بعض مصلحتوں کے پیشِ نظر عورتوں کو تنہا لمبا سفر کرنے اور راستوں میں مردوں کے ہجوم کا حصہ بن کر چلنے سے منع فرمایا۔[22]
آیت جلباب میں ’يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلابِيبِهِنَّ‘ ( اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں) کے الفاظ کا مفہوم چادر اوڑھ لینا یا اپنے اوپر ڈال لینایا اپنے قریب کر لینا ہے۔ لیکن چادر کو منہ پر ڈال کر گھونگھٹ نکال لینے کا مفہوم اِن الفاظ سے نہیں نکلتا۔ یہ مفہوم اگر مقصود ہوتا تو الفاظ بھی اُس کے مطابق ہونے چاہییں تھے، جیسے ’يُدۡنِيْنَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَابِيْبِهِنَّ‘۔
یہ چادر کس انداز سے اوڑھی جائے، اِس کا کوئی طریقہ آیت میں بیان نہیں ہوا۔ اِس کی متعدد صورتیں مختلف روایات میں بیان ہوئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف خواتین اپنے ذوق اور عادت کے مطابق اِسے مختلف انداز میں اوڑھتی تھیں۔ اِن میں سے کوئی بھی طریقہ اِس ہدایت پر عمل کے لیے لازمی حیثیت نہیں رکھتا۔ نیز رات کے وقت چہرہ پہلے ہی اندھیرے میں ہوتا ہے، چادر سے اُسے چھپانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ چنانچہ الفاظ کی دلالت کی رو سے چہرہ ڈھانپنے کا مفہوم یہاں مراد نہیں لیا جا سکتا۔ کوئی قرینہ یا عقلی تقاضا بھی موجود نہیں جو چہرہ ڈھانپنے کو اِس ہدایت کی مراد باور کرا سکے۔
’يُدۡنِيْنَ عَلَيۡهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ‘میں’مِنْ ‘تبعیض کے لیے ہے، جس کے دو مطلب بیان کیے جاتے ہیں: ایک یہ کہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لے لیں اور دوسرا یہ کہ اپنی چادروں میں سے کوئی چادر اپنے اوپر لے لیں۔ غامدی صاحب نے دوسرا معنی اختیار کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
”اصل میں ’یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں تبعیض ہمارے نزدیک ’جِلْبَابًا مِّنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ‘ کے مفہوم پر دلالت کے لیے ہے، یعنی اپنے گھروں میں موجود چادروں میں سے کوئی بڑی چادر جو بالعموم اوڑھنی کے اوپر لی جاتی تھی۔“ (البیان 4/162)
خلاصہ یہ ہے کہ منافقین خواتین کے درپے آزار تھے، اُن پر تہمت دھرنے کے لیے موقع تلاش کرتے کہ انھوں نے لونڈی سمجھ کر اُن سے کوئی بات کرنا چاہی تھی۔ اِس تناظر میں خواتین کو اپنی چادریں اوڑھ کر باہر نکلنے کی تدبیر بتائی گئی تھی تاکہ منافقین پہچان لیں کہ یہ خاندانی عورتیں ہیں، اِن سے چھیڑ چھاڑ مہنگی پڑے گی۔ اِس طرح نظم اجتماعی کی طرف سے اُن کے خلاف کارروائی سے پہلے اُن کا عذر ختم کر دیا گیا۔
یہ ایمرجنسی کی صورت حال تھی، جس میں مذکورہ تدبیر اختیار کی گئی۔ ایمرجنسی کی صورتِ حال میں اختیار کردہ تدابیر کو مستقل اور عام حکم کے طور پر اختیار نہیں کیا جاتا، اِس لیے خواتین کے لیے چادر اوڑھ کر باہر نکلنے کی اِس ہدایت کو دین میں کسی مستقل حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ لباس اور حلیے میں اِس طرح کی امتیازی شناختیں جس طرح خطرات اور اندیشوں کے سد ِباب کے لیے اختیار کی جاتی ہیں، اُسی طرح تدبیر کا تقاضا ہو تو اُنھیں ترک بھی کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی مہذب سماج میں باحیا خواتین کی عزت و وقار کے اظہار کے لیے اُن کے لباس میں جو بھی انداز اور علامات مقررہوں، اُنھیں اِس طرح کی صورتِ حال میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔
مدینہ کے اشرار اور منافقین کی ریشہ دوانیوں اور ایذارسانیوں کا خصوصی ہدف نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کا گھرانا تھا۔ اُن کی پوری کوشش تھی کہ ازواجِ مطہرات سے متعلق کوئی اسکینڈل کھڑا کریں تاکہ عام مسلمان آپ سے برگشتہ اور بدگمان ہو جائیں اور یوں نبوی مشن کو زک پہنچائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کا واقعہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی مطلقہ، حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے آپ کے نکاح کے خلاف پراپیگنڈا اِسی مہم کے شاخسانے تھے۔
مولانا امین احسن اصلاحی اِن حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اِس پوری سورہ پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس دور میں منافقین کی ریشہ دوانیاں جس طرح عام مسلمانوں کو اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان و برگشتہ کرنے کے لیے بہت بڑھ گئی تھیں، اُسی طرح منافقات کے ذریعے سے اُنھوں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کے سکون کو درہم برہم کرنے کے لیے بھی بڑی خطرناک مہم چلا رکھی تھی۔ منافق عورتیں امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے گھروں میں جاتیں اور نہایت ہم دردانہ انداز میں اُن سے کہتیں کہ آپ لوگ شریف اور معزز گھرانوں کی بیٹیاں ہیں، لیکن آپ لوگوں کی زندگی ہر راحت و لذت سے محروم بالکل قیدیوں کی طرح گزر رہی ہے۔ اگر آپ دوسرے گھروں میں ہوتیں تو آپ کی زندگی ’بیگمات‘ کی طرح نہایت عیش و آرام اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ گزرتی۔ ساتھ ہی وہ یہ وسوسہ اندازی بھی کرتیں کہ اگر یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کو طلاق دے دیں تو بڑے بڑے رئیس اور سردار آپ لوگوں سے نکاح کریں گے اور آپ لوگوں کی زندگیاں قابل رشک ہو جائیں گی۔ آگے کی آیات سے یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ منافقین کو بھی جب کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں جانے اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ اِس موقع سے فائدہ اٹھا کر اُن کے اندر کچھ نہ کچھ وسوسہ اندازی کی ضرور کوشش کرتے۔ اِن کوششوں سے اُن کا اصلی مقصد تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کے اندر کوئی اُس طرح کا فتنہ کھڑا کرنا تھا، جس طرح کا فتنہ اُنھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کھڑا کر دیا تھا جس کی تفصیلات سورۂ نور میں آپ پڑھ چکے ہیں، ورنہ ادنیٰ درجے میں یہ فائدہ تو اُن کو بدیہی طور پر نظر آتا تھا کہ اِس سے ازواج نبی (رضی اللہ عنہن) کے اندر بے اطمینانی پیدا ہوگی اور کیا عجب کہ اِس طرح کوئی ایسی شکل نکل آئے کہ وہ آپ کی ازواج کے ساتھ نکاح کرنے کا جو مذموم ارادہ رکھتے ہیں، وہ پورا ہو جائے۔‘‘ (تدبرقرآن6/ 216)
اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اِس فتنے کا سدِ باب کرنے کے لیے ازواجِ مطہرات کے خصوصی پروٹوکولز مقرر کیے، لیکن اِنھیں مقرر کرنے سے پہلے اُن سے اُن کی رضامندی معلوم کی گئی۔ یہ اِس لیے کہ اِنھیں اختیار کرنے کی صورت میں ازواج مطہرات کو اپنے کچھ بنیادی حقوق کا ایثار کرنا پڑتا۔اِس حوالے سے غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...پہلے ازواج مطہرات کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو دنیا کے عیش اور اُس کی زینتوں کی طلب میں حضور سے الگ ہو جائیں اور چاہیں تو اللہ و رسول اور قیامت کے فوزو فلاح کی طلب گار بن کر پورے شعور کے ساتھ ایک مرتبہ پھر یہ فیصلہ کر لیں کہ اُنھیں اب ہمیشہ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ اِس کے بعد فرمایا کہ وہ اگر حضور کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اُنھیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آپ کی رفاقت سے جو مرتبہ اُنھیں حاصل ہوا ہے، اُس کے لحاظ سے اُن کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے۔ وہ پھر عام عورتیں نہیں ہیں۔ اُن کی حیثیت مسلمانوں کی ماؤں کی ہے ۔ اِس لیے وہ اگر صدق دل سے اللہ و رسول کی فرماں برداری اور عمل صالح کریں گی تو جس طرح اُن کی جزا دہری ہے، اُسی طرح اگر اُن سے کوئی جرم صادر ہوا تو اُس کی سزا بھی دوسروں کی نسبت سے دہری ہو گی۔‘‘ (میزان 473)
اِس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡکُنَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا . (الاحزاب33: 28-30) | ’’(اِس طرف سے مایوس ہو کر اب یہ منافقین تمھارے گھروں میں فتنے اٹھانا چاہتے ہیں، اِس لیے)، اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمھیں دے دلا کر خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دوں۔اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو اِن سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر اُسی کے لیے سرگرم رہو، اِس لیے کہ اللہ نے تم میں سے خوبی کے ساتھ نباہ کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ نبی کی بیویو، تم میں سے جو کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے گی، اُس کے لیے دہرا عذاب ہے اور یہ اللہ کے لیے آسان سی بات ہے۔‘‘ |
ازواجِ مطہرات کے باطن کی پاکیزگی میں کوئی شبہ نہیں تھا۔ اُن پر عائد ہونے والی زائد پابندیوں کا مقصد یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اُنھیں لوگوں کی نگاہ میں بھی ہر طرح کی اخلاقی نجاست اور داغِ تہمت سے بالکل پاک دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ اُن کے مقام و مرتبہ کا تقاضا ہے۔ اِس کے لیے اُنھیں جن باتوں کا پابند کیا گیا ،وہ غامدی صاحب کے الفاظ میں درج ذیل ہیں:
’’اول یہ کہ وہ اگر خدا سے ڈرنے والی ہیں تو ہر آنے والے سے بات کرنے میں نرمی اور تواضع اختیار نہ کیا کریں۔ عام حالات میں تو گفتگو کا پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ آدمی تواضع اختیار کرے، لیکن جو حالات اُنھیں درپیش ہیں، اُن میں اشرار و منافقین مروت اور شرافت کے لہجے سے دلیر ہوتے اور غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اِس سے اُنھیں یہ توقع پیدا ہو جاتی ہے کہ جو وسوسہ اندازی وہ اُن کے دلوں میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُس میں انھیں کامیابی حاصل ہو جائے گی۔ اِس لیے ایسے لوگوں سے اگر بات کرنے کی نوبت آئے تو بالکل صاف اور سادہ انداز میں اور اِس طرح بات کرنی چاہیے کہ اگر وہ اپنے دل میں کوئی برا ارادہ لے کر آئے ہیں تو اُنھیں اچھی طرح اندازہ ہو جائے کہ یہاں اُن کے لیے کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا. (32: 33) | ’’نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم خدا سے ڈرو تو (اِن لوگوں کے ساتھ) نرمی کا لہجہ اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے، وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور معروف کے مطابق بات کرو۔‘‘ |
دوم یہ کہ اپنے مقام و مرتبہ کی حفاظت کے لیے وہ گھروں میں ٹک کر رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس ذمہ داری پر اُنھیں فائز کیا ہے، اُن کے سب انداز اور رویے بھی اُس کے مطابق ہونے چاہییں۔ لہٰذا کسی ضرورت سے باہر نکلنا ناگزیر ہو تو اُس میں بھی زمانۂ جاہلیت کی بیگمات کے طریقے پر اپنی زیب و زینت کی نمایش کرتے ہوئے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ اُن کی حیثیت اور ذمہ داری، دونوں کا تقاضا ہے کہ اپنے گھروں میں رہ کر شب و روز نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام رکھیں اور ہر معاملے میں پوری وفاداری کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت میں سرگرم ہوں۔ تاہم، کسی مجبوری سے باہر نکلنا ہی پڑے تو اسلامی تہذیب کا بہترین نمونہ بن کر نکلیں اور کسی منافق کے لیے انگلی رکھنے کا کوئی موقع نہ پیدا ہونے دیں:
وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا. (33:33) | ”تم اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے، اِس گھر کی بیبیو کہ تم سے (وہ) گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے۔‘‘ |
سوم یہ کہ اللہ کی آیات اور ایمان و اخلاق کی جو تعلیم اُن کے گھروں میں دی جا رہی ہے، دوسری باتوں کے بجاے وہ اپنے ملنے والوں سے اُس کا چرچا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں جس کام کے لیے منتخب فرمایا ہے، وہ یہی ہے۔ اُن کا مقصد زندگی اب دنیا اور اُس کا عیش و عشرت نہیں، بلکہ اِسی علم و حکمت کا فروغ ہونا چاہیے۔
وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا. (33 :34) | ’’اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی حکمت کی جو تعلیم دی جاتی ہے، اُس کا چرچا کرو۔ بے شک، اللہ بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘‘‘(میزان 473- 474) |
ان آیات کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے بعد بھی اشرار اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اِسی سورہ میں آگے بڑی سخت تنبیہ کے ساتھ چند مزید ہدایات کیں۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
”فرمایا ہے کہ اب کوئی مسلمان بن بلائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہو سکے گا۔ لوگوں کو کھانے کی دعوت بھی دی جائے گی تو وہ وقت کے وقت آئیں گے اور کھانا کھانے کے فوراً بعد منتشر ہو جائیں گے، باتوں میں لگے ہوئے وہاں بیٹھے نہ رہیں گے۔
آپ کی ازواج مطہرات لوگوں سے پردے میں ہوں گی اور قریبی اعزہ اور میل جول کی عورتوں کے سوا کوئی اُن کے سامنے نہ آئے گا۔ جس کو کوئی چیز لینا ہو گی، وہ بھی پردے کے پیچھے ہی سے لے گا۔
پیغمبر کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ جو منافقین اُن سے نکاح کے ارمان اپنے دلوں میں رکھتے ہیں، اُن پر واضح ہو جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ازواج مطہرات سے کسی کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اُن کی یہ حرمت ہمیشہ کے لیے قائم کر دی گئی ہے۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان کے دل میں احترام و عقیدت کا وہی جذبہ اُن کے لیے ہونا چاہیے جو وہ اپنی ماں کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لوگوں کی یہ باتیں باعث اذیت رہی ہیں۔ اب وہ متنبہ ہو جائیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ بڑی ہی سنگین بات ہے۔ یہاں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی کسی نازیبا سے نازیبا حرکت کے لیے بھی کوئی عذر تراش لے، لیکن وہ پروردگار جو دلوں کے بھید تک سے واقف ہے، یہ باتیں اُس کے حضور میں کسی کے کام نہ آ سکیں گی۔‘‘
(میزان 474- 475)
اِس سے متعلق اصل ہدایات یہ ہیں:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰىہُ ۙ وَ لٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَ لَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَ اللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَ قُلُوۡبِہِنَّ ؕ وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا اِنۡ تُبۡدُوۡا شَیۡئًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا لَا جُنَاحَ عَلَیۡہِنَّ فِیۡۤ اٰبَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اَخَوٰتِہِنَّ وَ لَا نِسَآئِہِنَّ وَ لَا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ ۚ وَ اتَّقِیۡنَ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا. (الاحزاب 33: 53- 55)
| ’’(یہ منافقین اپنی شرارتوں سے باز نہیں آرہے، اِس لیے) ایمان والو، تم اب نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو، الاّ یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے، جب بھی اِس طرح کہ اُس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔ ہاں جب تم کو بلایا جائے تو (وقت کے وقت) داخل ہو، پھر جب کھانا کھا لو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو۔ اِس سے پیغمبر کو اذیت ہوتی ہے، مگر وہ تمھارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ حق بات کہنے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اور تمھیں جب نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور اُن کے دلوں کے لیے بھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ اُس کے بعد تم اُس کی بیویوں سے کبھی نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی سنگین بات ہے۔ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اُس کو چھپاؤ، اللہ کے لیے برابر ہے، اِس لیے کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ نبی کی بیویوں پر اپنے باپوں کے سامنے ہونے میں، البتہ کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ اپنے بیٹوں کے، نہ اپنے بھائیوں کے، نہ اپنے بھتیجوں کے، نہ اپنے بھانجوں کے، نہ اپنے میل جول کی عورتوں کے اور نہ اپنے غلاموں کے سامنے ہونے میں کوئی گناہ ہے۔ تم اللہ سے ڈرتی رہو، (بیبیو)۔ بے شک،اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔‘‘ |
ازواجِ مطہرات اور اُن کے ہاں وارد ہونے والے اجنبی مردوں کے درمیان حجاب قائم کرنے کا حکم، گھروں میں ایک آڑ قائم کر لینے کی ہدایت تھی تاکہ ازواج مطہرات اجنبی ملاقاتیوں سے بالکل اوجھل ہو جائیں۔ اِس کی ضرورت اِس لیے بھی تھی کہ اُس وقت کے سادہ تمدن میں گھروں میں الگ مردانہ بیٹھک کا رواج نہ تھا۔ یہ حجاب محض چہرے یا بدن پرنہیں تھا۔’مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘ کے الفاظ اِسی پر دلالت کرتے ہیں۔
علامہ ابن عثیمین اِس کو یوں واضح کرتے ہیں:
وكلمة’من‘ ۔ [23] تدل على أن هذا الستر لا بد أن ينفصل، وأنه غير ستر الوجه أو البدن بالثياب، بل هو ستر آخر: حجاب، وحجاب أمهات المؤمنين غير حجاب نساء المؤمنين؛ لأن حجاب نساء المؤمنين يصح أن يكون متصلاً بالبدن كالخمار والملحفة، وما أشبههما، أما حجاب أمهات المؤمنين فإنه حجاب آخر منفصل يحول بين الرجل وبين رؤية أمهات المؤمنين؛ ولهذا قال تعالىٰ: ”مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“ فتدل على أن هذا الحجاب منفصل عن المستتر به. (تفسیر العثیمین1 / 430) | ’’لفظ ’مِنْ‘ اِس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ پردہ (جسم سے) الگ ہونا چاہیے اور یہ کہ اِس سے مراد چہرے یا بدن کو کپڑے سے ڈھانپنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زائد پردہ، یعنی حجاب ہے۔ امہات المومنین کا حجاب عام مسلمان خواتین کے حجاب سے مختلف ہے، کیونکہ عام خواتین کا حجاب اُن کے بدن کے ساتھ متصل بھی ہو سکتا ہے، جیسے اوڑھنی اور بڑی چادر وغیرہ، جب کہ امہات المومنین کا حجاب ایک مستقل اور الگ حجاب ہے جو غیر محرم کے اور امہات المومنین کے مابین حائل ہو، جس سے وہ ان کو دیکھ نہ سکے، اِسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘۔ یہ اِس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حجاب اُس شخص سے منفصل ہے جو اُس کی اوٹ میں ہے۔“[24] |
عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ وتابعین میں ازواجِ مطہرات کا حجاب اُن کا اختصاص اور امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ عام خواتین اُسےاختیار نہیں کرتی تھیں۔ ازواجِ مطہرات کے حجاب کے احکام آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن آزاد خواتین سے نکاح کیا یا اُس کی پیش کش کی، اُن کے لیے حجاب اختیار کرنے کو شرط قرار دیا گیا تھا۔ اِس سے واضح ہے کہ ازواجِ مطہرات کا خصوصی حجاب آزاد خاتون کے لباس کا حصہ نہ تھا، جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ نے سمجھا ہے کہ ازواج مطہرات کا حجاب آزاد عورتوں کا حجاب تھا ، اِس وجہ سے لونڈیوں کو حجاب کرنے نہیں دیا جاتا تھا۔[25]حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف لونڈیوں، بلکہ آزاد عورتوں کو بھی ازواج مطہرات کا خصوصی حجاب اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی، جب کہ لونڈیوں کو آزاد عورتوں کی طرح جلباب اوڑھنے سے منع کیا گیا تھا۔
اِس سلسلے کی روایات کو بیانِ واقعہ کی مختلف نوعیتوں کے اعتبار سے تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:[26]
پہلی قسم کی روایات حسب ذیل ہیں:
بنو قریظہ کے واقعے کے بعد ریحانہ بنت شمعون رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں نکاح کی پیش کش کی۔ روایات اِس باب میں مختلف ہیں کہ اُنھوں نے آپ کی پیش کش کا کیا جواب دیا، تاہم روایات اِس پر متفق ہیں کہ اُن کو نکاح کی پیش کش حجاب کے لازم کیے جانے کے ساتھ مشروط تھی۔
ابن اسحٰق کی روایت ہے:
وعرض علیها أن یعتقها ویتزوجها ویضرب علیها الحجاب، فقالت: یا رسول اللّٰه، بل تترکني في ملکي فهو أخف علي وعلیک. (الاصابہ8/ 146) | ’’آپ نے اُنھیں آزاد کر کے نکاح کرنے کی پیش کش کی اور یہ کہ اِس صورت میں اُن پر حجاب کا حکم لاگو کیا جائے گا، لیکن ریحانہ نے کہا کہ یا رسول اللہ، آپ بس مجھے اپنی ملکیت میں رہنے دیں، (یعنی نکاح نہ کریں)۔ اِس سے آپ کو بھی آسانی رہے گی اور مجھے بھی، (یعنی میں حجاب کی پابندی سے آزاد رہوں گی)۔‘‘ |
اِس کے برخلاف، محمد بن کعب کی روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ آپ کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے آپ کی زوجیت میں آ گئیں:
فخيرها رسول اللّٰهِ، فاختارت الإسلام، فأعتقها وتزوجها وضرب عليها الحجاب. (الاصابہ 8/146) | ’’رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُن کو اختیار دیا اور اُنھوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پھر آپ نے اُن کو آزاد کر کے اُن سے نکاح کر لیا اور اُن پر حجاب لازم کر دیا۔“ |
ایک روایت کے مطابق خود سیدہ ریحانہ اپنے متعلق یہ بیان کرتی تھیں کہ:
وكان يقسم لي كما كان يقسم لنسائه، وضرب علي الحجاب. (الطبقات الکبریٰ 8/ 130) | ’’آپ نے اپنی دوسری بیویوں کی طرح میرے لیے بھی باری کا دن مقرر کیا اور مجھ پر حجاب لازم کیا گیا۔“ |
اِسی طرح جب غزوۂ خیبر سے واپسی پر راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے چن لیا تو مسلمانوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ آپ اُنھیں کس حیثیت سے اپنے پاس رکھیں گے؟ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
فقال المسلمون: إحدی أمهات المومنین أو ما ملکت یمینه؟ قالوا: فإن حجبها فهي إحدی أمهات المومنین وإن لم یحجبها فهي مما ملکت یمینه، فلما ارتحل وطالها خلفه ومد الحجاب. (بخاری، رقم 4213) | ’’مسلمانوں نے کہا کہ یہ امہات المومنین میں سے ایک ہیں یا آپ کی باندی؟ لوگوں نے کہا کہ اگر آپ نے اُن پر حجاب عائد کیا تو وہ امہات المومنین میں سے ہوں گی، اور اگر اُن پر حجاب عائد نہ کیا تو وہ آپ کی باندی ہوں گی۔ جب آپ کوچ کرنے لگے تو آپ نے سیدہ صفیہ کے بیٹھنے کے لیے اپنی سواری کے پیچھے جگہ بنائی اور حجاب لٹکا دیا۔“ |
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا ایک اور واقعہ بنو کندہ کی خاتون اسماء بنت نعمان کے حوالے سے روایات میں بیان ہوا ہے۔ ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمایندے کے طور پر اسماء بنت نعمان کو، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا تھا، اُن کے گھر سے لینے کے لیے گئے تو اسماء نے اُنھیں اپنے پاس طلب کیا، لیکن ابو اسید نے اُن سے کہا:
أن نساء رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم لا یراهن أحد من الرجال، قال أبو أسید: وذالک بعد أن نزل الحجاب. (الطبقات الکبریٰ 8/114) | ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو کوئی دوسرا مرد نہیں دیکھ سکتا۔ ابو اسید کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا تھا۔‘‘ |
دوسری نوعیت کی روایات، جن سے صحابہ وتابعین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں موجود مختلف خواتین کے ساتھ آپ کے رشتے کی نوعیت متعین کرنے کے لیے حجاب کی پابندی سے استدلال کیا، درج ذیل ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض ازواج کے متعلق صحابہ میں اِس حوالے سے سوال پیدا ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو کس حیثیت میں اپنے پاس رکھا تھا؟ تو اُن کی ازدواجی حیثیت کی تعیین کے لیے بھی اکابر صحابہ نے اُن کے لیے باری کا دن مقرر کیے جانے کے علاوہ حجاب لازم کیے جانے کا حوالہ دیا ۔
سیدنا عمر اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نے سیدہ صفیہ کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم ضرب علیها الحجاب فکان یقسم لها کما یقسم لنسائه. (الطبقات الکبریٰ8/101) | ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر حجاب لازم کیا اور اُن کے لیے اُسی طرح باری مقرر کی تھی، جس طرح باقی بیویوں کے لیے کی تھی۔“ |
اِسی طرح سیدہ جویریہ کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے سیدنا عمر نے فرمایا :
أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ضرب علی جويرية الحجاب، وكان يقسم لها كما يقسم لنسائه. (المستدرک ، رقم 6881) | ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ جویریہ پر حجاب لازم کیا اور اُن کے لیے دن گزارنے کی اُسی طرح باری بھی مقرر کی تھی، جس طرح باقی ازواج کے لیے کی تھی۔“ |
تابعین کے آثار میں بھی حجاب کا ذکر اِسی پہلو سے ملتا ہے۔ چنانچہ عہد ِتابعین میں اربابِ سیرت میں سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے متعلق اختلاف ہوا کہ وہ کس حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہیں۔ اِس تناظر میں امام زہری نے کہا:
کانت جویریة من أزواج رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم وکان قد ضرب علیها الحجاب وکان یقسم لها کما یقسم لنسائه. (الطبقات الکبریٰ 8/94) | ’’سیدہ جویریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ نے اُن پر حجاب لازم کیا تھا اور دوسری ازواج کی طرح اُن کے لیے بھی باری کا دن مقرر فرمایا تھا۔‘‘ |
عبد الرزاق کی روایت میں ہے کہ امام زہری نے کہا:
ضرب علی صفیة وجويرية الحجاب وقسم لهما النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم كما قسم لنسائه. (مصنف عبد الرزاق، رقم 14149) | ’’سیدہ صفیہ اور سیدہ جویریہ پر حجاب لازم کیا گیا اور اُن دونوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ازواج کی طرح باری مقرر کی۔‘‘ |
مقریزی نے سیدہ جویریہ کی ازدواجی حیثیت سے متعلق روایات کی تنقیح کا نتیجہ یوں بیان کیا ہے:
وأثبت الأقوال: أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قضى عنها كتابتها وأعتقها وتزوجها، وضرب عليها الحجاب، وقسم لها كما يقسم لنسائه. (امتاع الاسماع6/85) | ”سب سے مستند بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاُن (جویریہ رضی اللہ عنہا) کی طرف سے مکاتبت کی رقم ادا کی اور اُنھیں آزاد کر دیا، اُن پر حجاب لازم کیا اور اُن کے لیے اپنی باقی ازواج کی طرح باری مقرر کی۔“ |
اِسی طرح ابو سعید بن وہب اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ اُنھوں نے سیدہ ریحانہ کی حیثیت واضح کرتے ہوئے کہا:
وكانت من نسائه يقسم لها كما يقسم لنسائه، وضرب رسول اللّٰه عليها الحجاب. (الطبقات الکبریٰ8/94) | ’’وہ آپ کی ازواج میں سے تھیں۔ آپ دوسری ازواج کی طرح اُنھیں بھی باری کا دن دیا کرتے تھے اور رسول اللہ نے اُن پر حجاب بھی لازم کیا تھا۔‘‘ |
تیسری نوعیت کی روایات وہ ہیں۔ جن سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ نے بعض ایسی خواتین کے شرعی احکام طے کرنے کے لیے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے بعد رخصتی سے قبل علیحدگی اختیار کر لی تھی، اِس نکتے کو بنیاد بنایا کہ اُن پر حجاب کی پابندی لازم نہیں کی گئی تھی۔
امام ماوردی رحمہ اللہ کے استقصا کے مطابق یہ حسب ذیل آٹھ خواتین تھیں:
1۔ اسماء بنت النعمان
2۔ لیلیٰ بنت الحطیم
3۔ عمرہ بنت یزید
4۔ عالیہ بنت ظبیان
5۔ فاطمہ بنت ضحاک
6۔ قتیلہ بنت قیس
7۔ ملیکہ بنت کعب
8۔ بنو عفان کی ایک خاتون[27]
ماوردی کے بیان کے مطابق اِن میں سے تین، یعنی عمرہ بنت یزید، عالیہ بنت ظبیان اور فاطمہ بنت ضحاک کی رخصتی ہوئی اور بعد میں آپ نے اُن کو طلاق دے دی، جب کہ باقی پانچ سے آپ نے مختلف اسباب سے رخصتی سے قبل ہی علیحدگی اختیار فرما لی۔ [28]
عہدِ صحابہ میں جب اِن میں سے بعض خواتین نے نکاح کرنا چاہا تو بعض صحابہ نے اِس بنیاد پر اِس پر اعتراض کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ ہونے کی وجہ سے آپ کے بعد کوئی نکاح نہیں کر سکتیں، تاہم یہ معلوم ہونے پر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر حجاب کی پابندی لازم نہیں کی تھی، جو امہات المومنین کے لیے ایک خصوصی حکم تھا، اُن کے نکاح کے فیصلے کو جائز تسلیم کر لیا گیا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح اسماء بنت نعمان رضی اللہ عنہا سے ہوا، لیکن رخصتی سے قبل علیحدگی ہو گئی۔ آپ کی وفات کے بعد اسماء نے مہاجر بن ابی امیہ سے نکاح کر لیا تو سیدنا عمر نے اِس پر اُنھیں سزا دینا چاہی، (کیونکہ امہات المومنین کے لیے کسی اور سے نکاح کرنا ممنوع تھا)۔ اِس پر اسماء بنت نعمان نے یہ دلیل پیش کی:
و اللّٰه ما ضرب علي الحجاب ولا سمیت بأم المومنین. (المستدرک ، رقم 6917) | ”بخدا، نہ تو مجھ پر حجاب کا حکم نافذ کیا گیا اور نہ مجھے ام المومنین قرار دیا گیا۔“ |
اسماء نے کہا کہ:
اتق اللّٰه يا عمر، إن كنت من أمهات المؤمنين فأضرب علي الحجاب وأعطني ما أعطيتهن. (المعجم الکبیر، رقم 17714) | ’’اے عمر، اللہ سے ڈرو۔ اگر میں امہات المومنین میں سے ہوں تو مجھ پر حجاب بھی لازم کرو اور (بیت المال سے) جو وظیفہ اُن کو دیتے ہو، مجھے بھی دو۔“ |
مراد یہ تھی کہ چونکہ رخصتی سے قبل ہی علیحدگی ہو گئی تھی، اِس لیے اُن پر امہات المومنین کے مخصوص شرعی احکام لاگو نہیں ہوتے۔ چنانچہ سیدنا عمر نے اُنھیں سزا دینے کا فیصلہ واپس لے لیا۔
اِسی طرح قتیلہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بالکل آخری دنوں میں ہوا، لیکن رخصتی سے قبل آپ کا انتقال ہو گیا۔ بعد میں عکرمہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے نکاح کر لیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا یہ جی چاہتا ہے کہ اُن دونوں کو اُن کے گھر سمیت جلا دوں، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:
ما ھي من أمھات المومنین ولا دخل بھا النبي صلى اللّٰه عليه وسلم ولا ضرب علیھا الحجاب. (المستدرک ، رقم6918) | ”وہ امہات المومنین میں سے نہیں ہیں، نہ اُن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بستری کی اور نہ اُن پر حجاب عائد کیا۔“ |
شعبی کی روایت میں ہے کہ سیدنا عمر نے کہا:
یا خلیفة رسول اللّٰه، أنها لیست من نسائه أنها لم یخیرها رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم ولم یحجبها وقد برأها منه بالردة التي ارتدت مع قومها فاطمأن أبوبکر وسکن. (تفسیر الطبری 22/14) | ’’اے خلیفۂ رسول، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں شمار نہیں ہوتیں۔ آپ نے نہ تو اُن کو علیحدگی کا اختیار دیا (آیت تخییر کی رو سے) اور نہ اُن پر حجاب کو لازم کیا۔ پھر اپنی قوم کے ساتھ مرتد ہو جانے کی وجہ سے بھی اللہ نے اُس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل ختم کر دیا ہے (اِس لیے اُس پر امہات المومنین کے احکام لاگو نہیں ہوتے)۔ اِس پر ابوبکر مطمئن ہو گئے اور اُن کا غصہ فرو ہو گیا۔‘‘ |
سنن ابو داؤد کے شارح شہاب الدین ابن رسلان المقدسی (وفات: 844ھ) اِن واقعات کی روشنی میں فقہی حکم کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
واعلم أن التي لم يدخل بها النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ولم يضرب عليها الحجاب، لا يكون لها حكم زوجات النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في تحريم النكاح على الغير، كما روي أنه تزوج بهذه المهاجر بن أبي أمية، فأراد عمر معاقبتها، فقالت: ما ضرب علي الحجاب، ولا سميت أم المؤمنين، فكف عنها. (شرح سنن ابو داؤد 8/71) | ’’جان لو کہ جن خواتین سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بستری نہیں کی اور نہ اُن پر حجاب لازم کیا، اُن کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کا نہیں ہے، جس پر کسی دوسرے مرد سے نکاح حرام ہو۔ چنانچہ روایت ہے کہ اُس خاتون کے ساتھ مہاجر بن ابی امیہ نے نکاح کیا اور سیدنا عمر نے اُس کو سزا دینا چاہی تو خاتون نے کہا کہ نہ مجھ پر حجاب لازم کیا گیا اور نہ مجھے ام المومنین قرار دیا گیا۔ اِس پر سیدنا عمر اُس کو سزا دینے سے رک گئے۔‘‘ |
مذکورہ تمام شواہد بہت وضاحت کے ساتھ یہ بتا دیتے ہیں کہ عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ و تابعین میں حجاب کی امتیازی وخصوصی حیثیت اہلِ علم پر بالکل واضح تھی اور امہات المومنین کے علاوہ عام مسلمان خواتین کے ساتھ اِس پابندی کے غیرمتعلق ہونے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں پایا جاتا تھا۔
حدیث وسیرت کے ذخیرے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ایسے واقعات بیان کرتے ہوئے جن میں ازواج مطہرات کے کسی غیر محرم کے ساتھ گفتگو کرنے یا کسی مخلوط ماحول میں موجود ہونے کا ذکر ہو، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عموماً یہ واضح کرنے کا اہتمام کرتے تھے کہ یہ واقعہ اُن پر حجاب کی پابندی عائد کیے جانے سے پہلے کا ہے، تاہم عام خواتین کے حوالے سے اِس بات کی وضاحت کی مثالیں نہیں ملتیں۔
اِس نوعیت کی چند مثالیں حسبِ ذیل ہیں:
1۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد بہت سے مہاجرین مدینہ کی آب وہوا کی وجہ سے شدید بخار میں مبتلا ہو گئے تھے۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور اُن کے غلام عامر بن فہیرہ اور حضرت بلال ایک ہی مکان میں ٹھیرے ہوئے تھے۔ کہتی ہیں:
فأصابتهم الْحمى، فدخلت عليْهمْ أعودهمْ. وذالك قبْل أن يضرب علينا الحجاب. (السیرۃ النبویۃ2/169) | ’’وہ سب بخار میں مبتلا ہو گئے تو میں اُن کی عیادت کے لیے اُن کے پاس گئی۔ یہ ہم پر حجاب لازم کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔“ |
2۔ عبد الرحمٰن بن اسعد بن زرارہ جنگ بدر کے قیدیوں کے مدینہ لائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں:
قدم بالأسارى حين قدم بهم وسودة بنت زمعة عند آل عفراء في مناحتهم على عوْف ومُعوذ ابني عفراء، قال: وذالك قبل أن يضرب عليهن الحجاب. (ابو داؤد ، رقم 2680) | ’’قیدیوں کو مدینہ لایا گیا تو سیدہ سودہ بنت زمعہ اُس وقت آلِ عفراء کے ہاں تھیں جو عوف اور معوذ پر نوحہ کر رہے تھے۔ عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ یہ حجاب کے لازم کیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔“ |
3۔ غزوۂ احد کے واقعات بیان کرتے ہوئے واقدی نے نقل کیا ہے:
وکانت عائشة زوج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم خرجت في نسوة تستروح الخبر ولم یضرب الحجاب یومئذ. (المغازی 1/562) | ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ کچھ خواتین کے ساتھ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے نکلیں اور اُس وقت تک حجاب لازم نہیں کیا گیا تھا۔“ |
4۔ غزوۂ خندق کے حالات بیان کرتے ہوئے سیدہ عائشہ اپنے بارے میں فرماتی ہیں :
أنها كانت في حصن بنى حارثة يوم الخندق فكانت أم سعد بن معاذ معها في الحصن وذالك قبل أن يضرب عليهن الحجاب. (السنن الکبریٰ ، رقم 13529) | ’’وہ اُس موقع پر بنو حارثہ کے قلعے میں تھیں اور سعد بن معاذ کی والدہ بھی اُن کے ساتھ قلعے میں تھیں اور یہ اُن پر حجاب کے لازم کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ “ |
5۔ بنو قریظہ کے محاصرے کے دوران میں ابولبابہ بن عبد المنذر نے بے احتیاطی سے بنوقریظہ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کی اطلاع اُن کو دے دی تھی۔ اِس پر اُنھوں نے خود کو مسجدِ نبوی میں ایک ستون کے ساتھ باندھ لیا اور کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہیں کرتے، میں یہیں بندھا رہوں گا۔ پھر جب اُن کی توبہ قبول کیے جانے کی وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو سیدہ ام سلمہ نے آپ سے اجازت چاہی کہ جا کر خود ابولبابہ کو خوش خبری دیں۔ وہ بیان کرتی ہیں:
فقمت على باب حجرتي فقلت، وذالك قبل أن یضرب علينا الحجاب: يا أبا لبابة، أبشر فقد تاب اللّٰه عليك. (السنن الکبریٰ7/149) | ’’میں اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑی ہوئی اور میں نے پکارا کہ اے ابولبابہ، اللہ تعالیٰ نے تمھاری توبہ قبول کر لی ہے۔ اور یہ ہم پر حجاب لازم کیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔“ |
6۔ واقعۂ افک سے متعلق روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صفوان بن معطل السلمی کے متعلق بیان کرتی ہیں:
فأتاني فعرفني حين رآني. وقد كان يراني قبل أن یضرب الحجاب علي. فاستيقظت باسترجاعه حين عرفني. فخمرت وجهي بجلبابي. (مسلم، رقم 7196) | ’’وہ آئے اور مجھے دیکھ کر پہچان لیا اور وہ مجھ پر حجاب لازم کیے جانے سے پہلے مجھے دیکھ لیا کرتا تھا۔ جب اُنھوں نے مجھے پہچان لیا تو اُن کے ’إنا للّٰه وإنا إلیه راجعون‘ پڑھنے پر میں جاگ گئی اور میں نے اپنے چہرے کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔“ |
7۔ عیینہ بن حصن کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کا واقعہ عروہ بن زبیر یوں نقل کرتے ہیں:
دخل عيينة بن حصن على رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعنده عائشة وذالك قبل أن يضرب الحجاب. (انساب الاشراف1/414) | ’’عیینہ بن حصن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اُس وقت وہاں سیدہ عائشہ بھی موجود تھیں اور یہ حجاب کے لازم کیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ “ |
8۔ عبد اللہ بن حسن روایت کرتے ہیں کہ ضحاک بن سفیان کلابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت اسلام کے لیے آئے:
ثم قال له: إنّي عندي امرأتان أحسن من هذه الحميراء أفلا أنزل لك عن إحداهما وعائشة جالسة تسمع، قبل أن يضرب الحجاب، فقالت: أهي أحسن، أم أنت؟ (الفکاہۃ والمزاح 70) | ’’پھر ضحاک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے نکاح میں دو بیویاں ہیں جو اِس گوری سے (سیدہ عائشہ کی طرف اشارہ کیا) زیادہ خوب صورت ہیں۔ میں اُن میں سے ایک کو چھوڑ دیتا ہوں، آپ اُس سے نکاح کر لیں۔ سیدہ عائشہ بھی پاس بیٹھی ہوئی تھیں اور بات چیت سن رہی تھیں۔ یہ حجاب لازم ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ نے کہا: یہ بتاؤ کہ وہ زیادہ خوب صورت ہے یا تم؟“ |
ضحاک خود بہت بدصورت تھے اور سیدہ نے اِسی پر طنز کیا تھا۔ سیدہ کا یہ سوال سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔
9۔ ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں:
قدم أصيل الغفاري على رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم من مكة قبل أن يضرب الحجاب على أزواج رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقالت له عائشة: كيف تركت مكة؟ (الاصابہ 1/244) | ’’اصیل غفاری مکہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ اُس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب لازم نہیں کیا گیا تھا۔ سیدہ عائشہ نے اُن سے پوچھا کہ آپ مکہ کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں؟“ |
10۔ قیس بن طغفہ غفاری اپنے والد سے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو اپنے گھر لے گئے۔ کہتے ہیں:
فدخلنا على عائشة، وذالك قبل أن يضرب الحجاب، قال: ’’أطعمينا يا عائشة“. (السنن الکبریٰ، رقم 6585) | ’’ہم سیدہ عائشہ کے حجرے میں داخل ہوئے اور یہ حجاب کے لازم ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ، ہمیں کچھ کھلاؤ۔“ |
مذکورہ تمام مثالوں میں راوی کی طرف سے اِس وضاحت کا اہتمام کہ یہ واقعہ حجاب کے حکم سے پہلے کا ہے، اِسی پہلو سے تھا کہ سننے والے چونکہ امہات المومنین کے لیے حجاب کی پابندی سے واقف تھے، اِس لیے اجنبی مردوں کے ساتھ اُن کے محوِ کلام ہونے یا گھر سے باہر کسی دوسرے مقام پر موجود ہونے سے ممکنہ طور پر جو غلط فہمی یا ذہن میں جو سوال پیدا ہو سکتا ہے، اُس کا جواب دے دیا جائے۔ ہمارے استقرا کی حد تک اِس اہتمام کی کوئی مثال ذخیرۂ حدیث میں کسی عام خاتون کے حوالے سے نہیں ملتی اور اِس فرق سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ حجاب کا امہات المومنین کے لیے ایک امتیازی اور خصوصی حکم ہونا عہدِ صحابہ میں ایک معلوم ومعروف بات تھی۔ [29]
سطور بالا میں یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک ازواج ِمطہرات کے لیے پردے کا حکم ایک خصوصی حکم تھا۔ تاریخی روایات سے بھی اِسی کی تائید ہوتی ہے۔ جمہور اہلِ علم بھی اِسی موقف کے قائل رہے ہیں۔
اِس ضمن کی چند منتخب تصریحات یہاں نقل کی جا رہی ہیں۔[30]
تیسری صدی کے ممتاز ادیب اور عالم ابو عثمان الجاحظ (وفات: 255ھ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے اِس خاص معاملے کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
فلم يزل الرجال يتحدثون مع النساء في الجاهلية والإسلام، حتَّى ضرب الحجاب على أزواج النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاصَّة. (رسائل الجاحظ 2/149) | ’’مرد زمانۂ جاہلیت اور اسلام، دونوں میں خواتین کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ خاص طور پر صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب کو لازم کر دیا گیا۔“ |
مالکی فقیہ قاضی بکر بن العلاء (وفات:344ھ) فرماتے ہیں:
ولما أنزل اللّٰه في أمهات المؤمنين: ”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“، فكن لا يجوز للناس كلامُهن إلا من وراء حجاب، خصصن بذالك دون سائرَ الناس من النساء، ولا يجوز أن يرَوْنَهن منتقبات ولا مُنتشِرات. (احکام القرآن2/318) | ’’جب اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کے متعلق یہ آیت نازل فرما دی کہ ’وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘ تو لوگوں کے لیے اُن کےساتھ کلام کرنا جائز نہ رہا، الاّ یہ کہ وہ پردے کے پیچھے رہ کر بات کریں۔ یہ پابندی باقی تمام خواتین کو چھوڑ کر خاص طور پر صرف ازواجِ مطہرات پر لازم کی گئی اور لوگوں کے لیے جائز نہ رہا کہ وہ اُنھیں دیکھیں، چاہے اُنھوں نے چہرے پر نقاب کی ہو یا اُن کے چہرے کھلے ہوں۔“ |
مفسر ابن جزی (وفات: 741ھ) اِس نقطۂ نظر کے استدلال کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وهذه الآية نزلت في احتجاب أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ... قال بعضهم لما نزلت في أمهات المؤمنين”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“ كن لا يجوز للناس كلامهن إلا من وراء حجاب، ولا يجوز أن يراهن متنقبات ولا غير متنقبات، فخصصن بذلك دون سائر النساء. (تفسیر ابن جزی2/157) | ’’یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے حجاب کے سلسلے میں نازل ہوئی...بعض اہل علم نے کہا کہ جب امہات المومنین کے متعلق یہ ہدایت نازل ہو گئی کہ”تمھیں جب اُن سے کوئی چیز مانگنی ہو تو حجاب کے پیچھے سے مانگا کرو“ تو اِس کے بعد لوگوں کے لیے اُن کے ساتھ حجاب کے بغیر کلام کرنا جائز نہ رہا۔ اِسی طرح اُن کو نقاب کی حالت میں یا بغیر نقاب کے دیکھنا بھی جائز نہ رہا اور باقی تمام خواتین کو چھوڑ کر خاص طور پر ازواجِ مطہرات کے لیے یہ پابندی لازم کر دی گئی۔“ |
شاہ عبد القادر دہلوی (وفات: 1230ھ) فرماتے ہیں:
’’اِس آیت میں حکم ہوا پردے کا کہ مرد، حضرت کے ازواج کے سامنے نہ جاویں۔ سب مسلمانوں کی عورتوں پر یہ حکم واجب نہیں۔ اگر عورت سامنے ہو کسی مرد کے، سب بدن کپڑوں میں ڈھکا ہوتو گناہ نہیں اور اگر نہ سامنے ہو تو بہتر ہے۔‘‘
(موضح القرآن 552)
نواب صدیق حسن خان (وفات: 1307ھ) اِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
في (وَاتَّقِيْنَ اللّٰهَ) كل الأمور التي من جملتها الحجاب، قال ابن عباس: نزلت هذه في نساء النبي خاصة يعني وجوب الاحتجاب عليهن لا على سائر نساء الأمة، فإن الحجاب في حقهن مستحب لا واجب ولا فرض.(حسن الاسوۃ 1/205) | ’’(اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کی بیویو)، تمام معاملات میں اللہ سے ڈرو، جن میں سے ایک معاملہ حجاب کا بھی ہے۔ ابنِ عباس نے کہا کہ یہ حکم خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق نازل ہوا ہے۔ اُن کی مراد یہ ہے کہ آپ کی ازواج پر حجاب واجب تھا، جب کہ امت کی باقی خواتین کا حکم یہ نہیں، کیونکہ اُن کے حق میں حجاب صرف پسندیدہ ہے، نہ واجب ہے اور نہ فرض۔“ |
ازواج مطہرات کے اُن خصوصی پروٹوکولز ہی کا مقتضا تھا کہ اُن کو حج بھی عام لوگوں سے علیحدہ کرایا جاتا تھا۔
روایات میں بیان ہوا ہے:
كانت عائشة رضي اللّٰه عنها تطوف حجرة من الرجال لا تخالطهم، فقالت امرأة: انطلقي نستلم يا أم المؤمنين، قالت: انطلقي عنك، وأبت. كن يخرجن متنكرات بالليل فيطفن مع الرجال. (بخاری،رقم 1618) | ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے الگ رہ کر ایک الگ کونے میں طواف کرتی تھیں، اُن کے ساتھ مل کر نہیں کرتی تھیں۔ ایک (وقرہ نامی) عورت نے اُن سے کہا: ام المومنین، چلیے (حجر اسود کو) بوسہ دیں تو آپ نے انکار کر دیا اور کہا: تم جاؤ چوم لو، میں نہیں چومتی۔ ازواجِ مطہرات رات میں پردہ کر کے نکلتی تھیں تا کہ پہچانی نہ جائیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں۔“ |
عن أم سلمة رضي اللّٰه عنها زوج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قالت: شكوت إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أني أشتكي، فقال: ”طوفي من وراء الناس وأنت راكبة“، فطفت ورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم حينئذ يصلي إلى جنب البيت وهو يقرأ: ”وَالطُّوْرِ، وَكِتٰبٍ مَّسْطُورٍ“.(بخاری،رقم 1619) | ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی (کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری پر چڑھ کر اور لوگوں سے علیحدہ رہ کر طواف کر لو۔ چنانچہ میں نے عام لوگوں سے الگ رہ کر طواف کیا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’وَالطَّوْرِ ، وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ‘ قراءت کر رہے تھے۔“ |
اندلس کے مالکی عالم قاضی ابن الفرس (وفات :599ھ) لکھتے ہیں:
قال بعضهم: لما أنزل اللّٰه تعالى في أمهات المؤمنين:”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“، خصصن بذالك دون سائر الناس. ولا يجوز أن يرون منتقبات. وكن إذا طفن بالبيت يستترن من الناس فلا يشاركن في الطواف. وأمر عمر أن لا يخرج في جنازة زينب بنت جحش إلا ذو محرم مراعاة للحجاب. (احکام القرآن3/439) | ’’بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی کہ ’وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘تو یہ پابندی باقی تمام خواتین کو چھوڑ کر خاص طور پر صرف ازواج مطہرات پر لازم کی گئی اور لوگوں کے لیے جائز نہ رہا کہ وہ اُنھیں دیکھیں، چاہے اُن کے چہرے پر نقاب ہو۔ چنانچہ ازواج مطہرات جب بیت اللہ کا طواف کرتی تھیں تو لوگوں سے چھپ کر کرتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ طواف میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ سیدنا عمر نے اِسی لیے حجاب کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے یہ حکم دیا کہ سیدہ زینب بنت جحش کے جنازے میں صرف اُن کے محرم مرد نکلیں۔“ |
امام بیہقی نے ایک حدیث کی تشریح امام شافعی (وفات: 204ھ) سے یوں نقل کی ہے:
عظم اللّٰه به أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمهات المؤمنین رحمهن اللّٰه وخصهن به وفرق بینهن وبین النساء إن اتقین ثم تلا الآیات في اختصاصهن بأن جعل علیهن الحجاب من المومنین وهن أمهات المؤمنین ولم یجعل علی امرأة سواهن أن تحتجب ممن یحرم علیه نکاحها. (السنن الکبریٰ 21/474) | ’’اللہ تعالیٰ نے اِس حکم کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اور امہات المومنین کو تعظیم دی اور اُن میں اور عام خواتین میں فرق کرتے ہوئے خاص طور پر امہات المومنین کے لیے حجاب کا حکم دیا ہے۔ امام شافعی نے امہات المومنین کے خصوصی احکام سے متعلق آیات نقل کی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے ازواج پر اہلِ ایمان سے حجاب میں رہنے کو لازم کیا ہے، حالاں کہ اُن کا درجہ امہات المومنین کا ہے۔ اُن کے علاوہ کسی اور عورت پر اللہ نے لازم نہیں کیا کہ وہ غیرمحرم مردوں سے حجاب میں رہے۔“ |
امام ابوجعفر الطحاوی (وفات: 321ھ) ایک حدیث کا محل واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قد يجوز أن يكون أراد بذلك حجاب أمهات المؤمنين فإنهن قد كن حجبن عن الناس جميعًا إلا من كان منهم ذورحم محرم. فكان لا يجوز لأحد أن يراهن أصلًا إلا من كان بينهن وبينه رحم محرم،وغيرهن من النساء لسن كذالك لأنه لا بأس أن ينظر الرجل من المرأة التي لا رحم بينه وبينها وليست عليه بمحرمۃ إلى وجهها وكفيها. (شرح معانی الآثار4/332) | ’’ممکن ہے کہ اِس سے حجاب کا وہ حکم مراد ہو جو امہات المومنین کے لیے تھا، کیونکہ اُن کو محرم رشتہ داروں کے علاوہ تمام لوگوں سے حجاب میں رہنے کا پابند کیا گیا تھا۔ چنانچہ کسی کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ کسی بھی حالت میں اُن کو دیکھ سکے، سواے اُن کے جو اُن کے محرم رشتہ دار ہوں، جب کہ اُن کے علاوہ عام خواتین کا معاملہ یہ نہیں ہے، اور اِس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی غیر محرم عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو دیکھ لے۔“ |
قال أبو جعفر: فكن أمهات المؤمنين قد خصصن بالحجاب ما لم يجعل فيه سائر الناس مثلهن. (شرح معانی الآثار 4/334) | ’’ابو جعفر کہتے ہیں کہ امہات المومنین پر خاص طور پر حجاب کی پابندی لازم کی گئی، جس میں باقی تمام عورتیں اُن کے مانند نہیں ہیں۔“ |
صحیح بخاری کے شارح، علامہ ابن بطال (وفات: 449ھ) لکھتے ہیں:
وفيه: أن نساء المؤمنين ليس لزوم الحجاب لهم فرضًا في كل حال كلزومه لأزواج النبي، ولو لزم جميع النساء فرضًا لأمر النبي الخثعمية بالاستتار، ولما صرف وجه الفضل عن وجهها، بل كان يأمره بصرف بصره، ويعلمه أن ذالك فرضه، فصرف وجهه وقت خوف الفتنة وتركه قبل ذالك الوقت. وهذا الحديث يدل أن ستر المؤمنات وجوههن عن غير ذوى محارمهن سنة، لإجماعهم أن المرأة أن تبدي وجهها في الصلاة، ويراه منها الغرباء، وأن قوله:”قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ“على الفرض في غير الوجه، وأن غض البصر عن جميع المحرمات وكل ما يخشى منه الفتنة واجب. (شرح صحیح البخاری 9/11) | ’’اِس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عام مسلمان خواتین پر حجاب ہر حالت میں فرض نہیں ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر تھا۔ اگر سب خواتین پر حجاب فرض ہوتا تو آپ بنو خثعم کی خاتون کو اپنا چہرہ چھپانے کی ہدایت فرماتے اور صرف فضل بن عباس کے چہرے کو اُس خاتون کے چہرے کی طرف سے نہ پھیرتے۔ آپ نے خاتون کو چہرہ چھپانے کے بجاے فضل سے کہا کہ وہ اپنی نگاہ دوسری طرف کر لیں اور اُن کو بتایا کہ یہ اُن کی ذمہ داری ہے (نہ کہ خاتون کی ذمہ داری)۔ چنانچہ آپ نے فضل کا چہرہ اُسی وقت پھیرا جب فتنے کا خوف محسوس کیا، جب کہ اِس سے پہلے ایسا نہیں کیا۔ یہ حدیث اِس پر بھی دلالت کرتی ہےکہ مومن عورتوں کے لیے غیر محرموں سے اپنے چہرے کو چھپانا (فرض نہیں، بلکہ) سنت ہے[31]، کیونکہ فقہا کا اِس پر اجماع ہے کہ عورت نماز میں اپنے چہرے کو ننگا رکھے گی اور غیر محرم بھی اُس کو اِس حالت میں دیکھ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اِس ارشاد ’قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ‘ سے مراد یہ ہے کہ چہرے کے علاوہ باقی جسم سے نگاہوں کو نیچا رکھنا فرض ہے اور یہ کہ تمام حرام چیزوں اور ہر ایسی چیز سے نگاہ کو نیچا رکھنا واجب ہے جس میں فتنے کا خوف ہو۔“ |
ایک اور حدیث کے ذیل میں ابن بطال لکھتے ہیں:
وفيه: أن الحجاب ليس بفرض على نساء المؤمنين، وإنما هو خاص لأزواج النبي، كذالك ذكره اللّٰه في كتابه بقوله:”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“. (شرح صحیح البخاری 6/35) | ’’اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عام مسلمان خواتین پر حجاب فرض نہیں ہے، بلکہ یہ پابندی صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اِس آیت میں یہی بات بیان فرمائی ہے کہ ’وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘۔“ |
ابن بطال امام طبری سے نقل کرتے ہیں :
قال الطبري: في حديث عائشة فرض الحجاب على أزواج النبي لقول عمر للنبي: أحجب نساءك وقال في حديث آخر: يا رسول اللّٰه، لو حجبت أمهات المؤمنين فإنه يدخل عليهن البر والفاجر. فنزلت آيه الحجاب. قال غيره: ويدل على صحة ذالك قول الفقهاء أن إحرام المرأة في وجهها وكفيها، وإجماعهم أن لها أن تبرز وجهها للإشهاد عليها، ولايجوز ذالك في أمهات المؤمنين. وقد اختلف السلف في تأويل قوله تعالىٰ: ”وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا“ ... والظاهر، واللّٰه أعلم، يدل على أنه الوجه والكفان، لأن المرأة يجب عليها أن تستر في الصلاة كل موضع منها إلا وجهها وكفيها، وفي ذالك دليل أن الوجه والكفين يجوز للغرباء أن يروه من المرأة. (شرح صحیح البخاری9/20) | ’’طبری کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب فرض کیا گیا تھا، کیونکہ سیدنا عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنی بیویوں کو حجاب میں رکھیے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اُنھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ، اگر آپ امہات المومنین کو حجاب میں رکھیں تو بہتر ہوگا، کیونکہ آپ کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ اِس پر حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ اِس کی وضاحت فقہا کے اِس قول سے ہوتی ہے کہ عورت کا احرام اُس کے چہرے اور ہاتھوں میں ہے، (یعنی اُن کو ننگا رکھنا حالت احرام میں اُس پر لازم ہے)۔ اِسی طرح فقہا کا اجماع ہے کہ عام خواتین کے لیے گواہی سے متعلق معاملات میں اپنے چہرے کو ننگا کرنا جائز ہے، جب کہ امہات المومنین کے معاملے میں یہ جائز نہیں تھا۔ علماے سلف کا اِس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے کہ ’وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا‘۔ ...آیت اپنے ظاہر کے لحاظ سے دلالت کرتی ہے کہ ظاہری زینت سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہیں، کیونکہ عورت کے لیے نماز میں اپنے پورے جسم کو چھپانا فرض ہے، سواے چہرے اور ہاتھوں کے، واللہ اعلم۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو غیر محرم دیکھ سکتے ہیں۔“ |
جلیل القدر مالکی عالم قاضی عیاض (وفات :544ھ) نے بھی اِس نکتے کی وضاحت متعدد مقامات پر کی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
وفيه دليل على إحرام المرأة في وجهها، قيل: وفيه أن الحجاب مرفوع عن النساء، ثابت على أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم على نص التلاوة؛ إذ لم يأمرها النبي بستر وجهها، وقد يقال: إن هذا كان قبل نزول الآية بإدناء الجلابيب والستر. قال أبو عبد اللّٰه: والاستتار للنساء سنة حسنة والحجاب على أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فريضة. (اکمال المعلم 4/ 440)
| ’’اِس میں دلیل ہے کہ احرام کی حالت میں عورت کا چہرہ ننگا ہونا چاہیے، کیونکہ آپ نے اُس خاتون کو اپنا چہرہ چھپانے کے لیے نہیں کہا۔ کہا گیا ہے کہ اِس میں اِس بات کی دلیل ہے کہ عام خواتین پر تو حجاب کی پابندی لازم نہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں پر لازم تھی، جیساکہ قرآن کی آیت میں تصریح ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ معاملہ اِس آیت کے نزول سے پہلے کا تھا، جس میں بڑی چادر جسم پر ڈالنے اور جسم کو چھپانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ابو عبد اللہ کہتے ہیں کہ عام خواتین کے لیے اپنے جسم کو ڈھانپنا ایک بہت پسندیدہ طریقہ ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب فرض تھا۔“ |
قاضی عیاض ایک اور حدیث کے تحت بھی قاضی ابو عبد اللہ بن المرابط کا یہی قول نقل کرتے ہیں:
الاستتار للنساء سنة حسنة، والحجاب على أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فريضة. (اکمال المعلم 4/283 ) | ’’عام خواتین کے لیے اپنے جسم کو ڈھانپنا ایک بہت پسندیدہ طریقہ ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب فرض تھا۔“ |
ایک اور مقام پر قاضی عیاض نے لکھا ہے:
فرض الحجاب مما اختص به أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ولا خلاف في فرضه عليهن في الوجه والكفين الذي اختلف في ندب غيرهن إلى ستره. قالوا: ولا يجوز لهن كشف ذالك لشهادة ولا غيرها، ولا ظهور أشخاصهن وإن كن مستترات إلا ما دعت إليه الضرورة من الخروج للبراز كما جاء في الحديث، وقد كن إذا خرجن جلسن للناس من وراء حجاب، وإذا خرجن لضرورة حجبن وسترن أشخاصهن. كما جاء في حديث حفصة يوم موت عمر، ولما ماتت زينب صنع على نعشها قبة تستر جسمها، وقد قال تعالىٰ:”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“۔. (اکمال المعلم 7/57) | ’’حجاب کی فرضیت کا حکم خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے دیا گیا تھا۔ اِس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ازواج مطہرات پر چہرے اور ہاتھوں کو چھپا کر رکھنا فرض تھا، جب کہ اُن کے علاوہ عام خواتین کے لیے اِس کے مستحب ہونے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ علما کہتے ہیں کہ ازواجِ مطہرات کے لیے گواہی کے لیے یا کسی بھی دوسرے معاملے کے لیے اپنے چہرے کو ننگا کرنا جائز نہیں تھا۔ اِسی طرح اُن کے لیے گھروں سے باہر نکلنا بھی درست نہیں تھا، چاہے اُنھوں نے اپنے جسم ڈھانپ رکھے ہوں، الاّ یہ کہ رفعِ حاجت جیسی ناگزیر ضرورت کے لیے نکلنا پڑے، جیساکہ حدیث میں ہے۔ چنانچہ جب وہ باہر نکلتیں تو لوگوں کے ساتھ بات چیت کے لیے پردے کی اوٹ میں بیٹھتی تھیں اور جب کسی ضرورت کے تحت نکلتیں تو بھی حجاب کا اور اپنے جسم کو چھپا کر رکھنے کا اہتمام کرتی تھیں، جیسا کہ سیدنا عمر کی وفات کے موقع پر سیدہ حفصہ کے واقعے میں آیا ہے۔ اور جب سیدہ زینب کی وفات ہوئی تو اُن کے جسم کے اوپر ایک چھتری تان دی گئی، جس سے اُن کا جسم چھپ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘۔“ |
قاضی ابو العباس القرطبی (وفات: 656ھ) ایک حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
وفيه دليل على أن المرأة تكشف وجهها في الإحرام، وأنها لا يجب عليها ستره وإن خيف منها الفتنة، لكنها تندب إلى ذالك، بخلاف أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فإن الحجاب عليهن كان فريضة. (المفہم 3/441) | ’’اِس میں اِس بات کی دلیل ہے کہ عورت حالت احرام میں اپنے چہرے کو ننگا رکھے گی اور اُس پر اِس کو چھپانا واجب نہیں، چاہے اِس سے فتنے کا خوف ہو، البتہ اِس کے لیے (خوف فتنہ کے وقت) ایسا کرنا مستحب ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کا حکم اِس سے مختلف ہے، کیونکہ اُن پر (ہر حالت میں) حجاب فرض تھا۔“ |
قاضی ابو العباس نزولِ حجاب سے متعلق سیدہ عائشہ کی روایت کے تحت لکھتے ہیں:
وهذا الحجاب الذي أمر به أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وخُصِّصن به هو في الوجه والكفين. قال القاضي عياض: لا خلاف في فرضه عليهن في الوجه والكفين الذي اختلف في ندب غيرهن إلى ستره، قالوا: ولا يجوز لهن كشف ذالك لشهادة ولا غيرها، ولا ظهور أشخاصهن، وإن كن مستترات إلا ما دعت إليه الضرورة من الخروج إلى البراز، وقد كن إذا خرجن جلسن للناس من وراء حجاب، وإذا خرجن لحاجة حجبن وسترن. (المفہم 5/497 ) | ’’یہ حجاب جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو حکم دیا گیا اور خاص طور پر اُنھی کو اِس کا پابند کیا گیا، اِس کا تعلق چہرے اور ہاتھوں سے تھا۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ اِس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ازواجِ مطہرات پر چہرے اور ہاتھوں کو چھپا کر رکھنا فرض تھا، جب کہ اُن کے علاوہ عام خواتین کے لیے اِس کے مستحب ہونے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ علما کہتے ہیں کہ ازواجِ مطہرات کے لیے گواہی کے لیے یا کسی بھی دوسرے معاملے کے لیے اپنے چہرے کو ننگا کرنا جائز نہیں تھا۔ اِسی طرح اُن کے لیے گھروں سے باہر نکلنا بھی درست نہیں تھا، چاہے اُنھوں نے اپنے جسم ڈھانپ رکھے ہوں، الاّ یہ کہ رفعِ حاجت جیسی ناگزیر ضرورت کے لیے نکلنا پڑے۔ چنانچہ جب وہ باہر نکلتیں تو لوگوں کے ساتھ بات چیت کے لیے پردے کی اوٹ میں بیٹھتی تھیں اور جب کسی ضرورت کے تحت نکلتیں تو بھی اُن کے لیے حجاب اور ستر کا اہتمام کیا جاتا تھا۔“ |
صحیح بخاری کے شارح علامہ ابن الملقن (وفات :804ھ) لکھتے ہیں:
وفيه: فرض الحجاب على أمهات المؤمنين؛ لقول عمر: احجب نساءك. وقال في حديث آخر: يا رسول اللّٰه، لو حجبت أمهات المؤمنين فإنه يدخل عليهن البر والفاجر. فنزلت آية الحجاب، يوضحه قول الفقهاء: إن إحرام المرأة في وجهها وكفيها، وإجماعهم أن لها أن تبرز وجهها للإشهاد عليها، ولا يجوز ذالك في أمهات المؤمنين. (التوضیح 29/49) | ’’اِس حدیث سےامہات المومنین پر حجاب کی فرضیت معلوم ہوتی ہے، کیونکہ سیدنا عمر نے کہا کہ یا رسول اللہ، اپنی بیویوں کو حجاب میں رکھیے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے کہا کہ یارسول اللہ، اگر آپ امہات المومنین کو حجاب میں رکھیں تو بہتر ہوگا، کیونکہ آپ کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ اِس پر حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ اِس کی وضاحت فقہا کے اِس قول سے ہوتی ہے کہ عورت کا احرام اُس کے چہرے اور ہاتھوں میں ہے، (یعنی اُن کو ننگا رکھنا حالت احرام میں اُس پر لازم ہے)۔ اِسی طرح فقہا کا اجماع ہے کہ عام خواتین کے لیے گواہی سے متعلق معاملات میں اپنے چہرے کو ظاہر کرنا جائز ہے، جب کہ امہات المومنین کے معاملے میں یہ جائز نہیں تھا۔“ |
ابن الملقن ایک اور حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
أن الحجاب إنما فرض على أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاصة، كما نص عليه في كتابه بقوله:”يَا نِسَآءَ النَّبِي.“ (التوضیح25/112) | ’’حجاب تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر فرض کیا گیا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ’يَا نِسَآءَ النَّبِيِ‘ کہہ کر تصریح کی ہے۔“ |
امام بدر الدین العینی (وفات: 855ھ) ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
والأحاديث المذكورة في هذا الباب كلها دالة على الحجاب، وحديث عائشة هذا المذكور وإن لم يذكر فيه الحجاب صريحًا لأن ظاهره عدمه ولكن في أصله مذكور في موضع آخر، وعن هذا قال عياض: فرض الحجاب مما اختص به أزواجه صلی اللّٰه عليه وسلم فهو فرض عليهن بلا خلاف في الوجه والكفين. (عمدۃ القاری 19/124) | ’’اِس باب میں مذکورہ تمام احادیث حجاب پر دلالت کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ کی مذکورہ حدیث میں اگرچہ حجاب کا ذکر صراحتاً نہیں ہوا، کیونکہ بہ ظاہر اِس سے حجاب کا لازم نہ ہونا، (یعنی ضرورت کے تحت ازواج کا گھروں سے نکلنا) معلوم ہوتا ہے، لیکن اصل میں دوسرے مقام پر اِس روایت میں حجاب کا ذکر موجود ہے۔ اِسی وجہ سے قاضی عیاض نے کہا ہے کہ حجاب کی فرضیت کا تعلق خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تھا اور کسی اختلاف کے بغیر اُن پر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو پردے میں رکھنا فرض تھا۔“ |
علامہ عینی دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
إنهن قد کن حجبن عن الناس جميعًا إلا مَن كان منهم ذو رحم محرم، فکان لایجوز لأحد أن یراھن أصلًا إلامن کان بینہ و بینھن رحم محرم، و غیرھن من النساء لسن کذالک، لأنہ لابأس أن ینظر الرجل من المرأۃ التی لا رحم بینہ و بینھا و لیست علیہ بمحرمۃ إلی وجھھا و کفیھا و قد قال اللّٰہ:”وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا“. (نخب الافکار 14/211) | ’’ازواج مطہرات کو محرم رشتہ داروں کے علاوہ تمام لوگوں سے پردے میں رہنے کا پابند کر دیا گیا۔محرم رشتہ دار کے علاوہ کسی کے لیے اُن کو اصل میں دیکھنا جائزنہیں تھا۔ اور ازواج کا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے،کیونکہ عام خواتین کے معاملے میں مرد کے لیے غیر محرم کے چہرے اور ہاتھوں کو دیکھنا جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”خواتین اپنی زینت کی چیزوں کو نہ کھولیں ، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں “۔“ |
علامہ قسطلانی (وفات :923ھ) ’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
ومنها أنه يحرم رؤية أشخاص أزواجه في الأزر وكذا يحرم كشف وجوههن وأكفهن لشهادة أو غيرها، كما صرحه به القاضي عياض، وعبارته: فرض الحجاب مما اختصصن به، فهو فرض عليهن بلا خلاف في الوجه والكفين، ... وأما حكم نظر غير أزواجه ففي الروضة وأصلها عن الأكثرين: جواز النظر إلى وجه حرة كبيرة أجنبية وكفيها إذا لم يخف فتنة، مع الكراهة. (2/ 362)
| ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کی ازواج کو معمول کے لباس میں دیکھنا، (جب کہ اُن کا پورا جسم ڈھانپا نہ گیا ہو) حرام تھا۔ اِسی طرح اُن کے لیے گواہی یا کسی دوسرے مقصد کے لیے بھی اپنے چہرے کو ننگا کرنا حرام تھا، جیسا کہ قاضی عیاض نے تصریح کی ہے۔ اُن کی عبارت یہ ہے کہ حجاب کی فرضیت ازواجِ مطہرات کےلیے خصوصی حکم تھا، چنانچہ کسی اختلاف کے بغیر اُن پر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو چھپا کر رکھنا فرض تھا۔ ...جہاں تک ازواجِ مطہرات کے علاوہ عام خواتین کی طرف دیکھنے کا معاملہ ہے تو ’’روضہ‘‘ اور اُس کے اصل متن میں اکثر علما کا قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ آزاد اور بالغ غیر محرم عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو دیکھنا جائز ہے، اگرچہ ناپسندیدہ ہے، جب کہ فتنے کا خوف نہ ہو۔“ |
امام سیوطی نے ’’الخصائص الکبریٰ‘‘ میں’باب اختصاصہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بتحریم رؤیۃ أشخاص أزواجہ فی الازر وسوالہن مشافہۃ‘ کے عنوان سے یہی موقف فقہاے شوافع میں سے رافعی، بغوی اور امام نووی سے بھی نقل کیا ہے۔ [32]
ازواجِ مطہرات سے جو مطالبات کیے گئے، وہ غیر معمولی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی عورتیں ہونے کی وجہ سے وہ ایک نہایت نازک منصب پر فائز تھیں۔ اُن کی معمولی کوتاہی اور بے احتیاطی منافقین کی پراپیگنڈا مشینری کے لیے کافی تھی کہ رسول اللہ کے گھرانے کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچاتے اور یوں مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے برگشتہ کر کے اسلام کی بساط لپیٹ دینے کی کوشش کرتے۔ یہ وہ حالات تھے، جن میں اُنھیں اُن کے گھروں تک محدود کر دیا گیا، اُنھیں اجنبی لوگوں سے دوٹوک انداز میں بات کرنے کی تلقین کی گئی، اُنھیں امت کی مائیں قرار دے دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی اُن سے نکاح نہیں کر سکتا تھا، اُنھیں پوری امت کو اپنی اولاد کی طرح سمجھنا تھا اورامت کے مردوں کو بھی اُنھیں اپنی مائیں تسلیم کرنا تھا۔ یہ چونکہ حقیقی ماں بیٹوں کے فطری احساسات سے زائد ایک مطالبہ تھا،اِس لیے یہ غیر معمولی طہارت قلبی اور اِس کے لیے ضروری اقدامات کا متقاضی تھا۔ چنانچہ قریبی رشتہ داروں کے سوا اُنھیں لوگوں کی نظروں سے اب اوجھل رہنا تھا۔ اُن کے اِس ایثار اور خصوصی پابندیاں اختیار کرنے کےصلے میں اُن کے لیےدہرا اجر مقرر کیا گیا تھا اور اِس منصب پر رہتے ہوئے اگر خدانخواستہ اُن سے کسی فاحشہ کا ارتکاب ہو جاتا تو اُس کی دہری سزا بتائی گئی تھی۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ اُن کو طلاق دے کر علیحدہ نہیں کر سکتے۔[33] یہ سب واضح کرتا ہے کہ ازواجِ مطہرات کو دیے گئے احکام کا عام خواتین سے کوئی تعلق نہیں۔
_________