ضمیمہ دوم

آیاتِ تخییر کی شان نزول کی روایات کا 

جائزہ

سورۂ احزاب (33) کی آیات 28 اور 29 آیاتِ  تخییر کہلاتی ہیں۔ اِن میں اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کو یہ اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو اللہ، اُس کے رسول اور دارِ آخرت کو  منتخب کرکے خدا سے اجرِ عظیم پائیں اور چاہیں تو رسول سے رخصت ہو جائیں اور اپنی مرضی کے مطابق دنیا کی زندگی گزاریں۔  اگر اُن کا انتخاب اللہ، اُس کا رسول اور دارِ آخرت ہے تو  رسول کی بیویاں ہونے کی  حیثیت  سے اُنھیں  کچھ پابندیاں قبول کرنا اور اپنے کچھ حقوق سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ اُنھیں پابند کیا گیا ہے کہ

  • وہ اجنبی مردوں سے نرم لہجے میں بات نہیں کریں گی، معروف انداز میں دو ٹوک بات کریں گی۔
  • وہ  آیندہ سے  اپنے گھروں میں محدود رہیں گی۔
  • غیر محرموں سے مکمل حجاب اختیار کریں گی۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد بھی وہ کسی سے نکاح نہیں کر سکتیں۔
  • وہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  اپنے لیے ازدواجی مساوات کا مطالبہ نہیں کر سکتیں۔

تمام ازواجِ مطہرات  نے اللہ، اُس کے رسول اور دا ر ِآخرت کو اختیار  کیا، اپنے حقوق کا ایثارکیا اور   تمام عمر اُن پابندیوں کوخود پر لاگو کیے رکھا جو اُن پر عائد کی گئی تھیں۔

سورۂ احزاب کی اِن آیات کے سیاق و سباق سے یہ سب واضح ہے۔ اِس تناظر میں یہ آیات ازواجِ مطہرات کو ایک بڑا اعزاز قبول کرنے میں اختیار دیتی ہیں، جسے اُنھوں نے قبول کیا اور اعزاز پایا۔اِس کے برعکس، اِن آیات کی شان نزول کے طور پر بیان ہونے والی بعض روایات ایک دوسری  صورت پیش کرتی ہیں، جو  اِنھیں ازواجِ مطہرات  کی تنقیص کی آیات بنا دیتی ہیں۔ یہ صورت اِن کا سیاق و سباق قبول نہیں کرتا۔

ذیل میں  شانِ نزول  کی اِن  روایات کا ایک تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور قرآن مجید کے بیان سے مطابقت رکھتی اصل صورتِ حال کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

روایات میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہرات سے آزردہ خاطر ہو کر ایک ماہ تک اُن سے علیحدہ رہے۔ اِس کے بعد جب آپ نے رجوع فرمایا تو آیاتِ تخییر نازل ہوئیں۔ آیات تخییر یہ ہیں:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ  قُلۡ  لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ  کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ  الۡحَیٰوۃَ  الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰہَ  وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ  فَاِنَّ اللّٰہَ  اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡکُنَّ  اَجۡرًا عَظِیۡمًا.

(الاحزاب 33: 28-29)

”اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمھیں دے دلا کر خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دوں۔اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو اِن سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر اُسی کے لیے سرگرم رہو، اِس لیے کہ اللہ نے تم میں سے خوبی کے ساتھ نباہ کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔“

اِس سلسلے میں وارد ہونے والی روایات میں متعدد تضادات ہیں۔

ایک روایت کے مطابق، آپ کی وجہ ناراضی ازواج کی طرف سے نان ونفقے کا مطالبہ تھا۔ یہ مطالبہ صرف حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف سے سامنے آیا تھا، جب کہ دوسری روایت بتاتی ہے کہ اِس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے منع کرنے کے باوجود حضرت حفصہ نے آپ کا کوئی راز حضرت عائشہ کو بتا دیا تھا۔ دونوں روایات میں اصل کردار اُن دو خواتین کا ہے، مگر قطعِ تعلق تمام ازواج سے کر لیا گیا تھا، بلکہ اِن آیات کے نزول کے بعد  بھی جن خواتین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کرنے کا ارادہ کیا، اُنھیں بھی یہ اختیار دیا گیا۔ چنانچہ قتیلہ بنت قیس ، جنھیں  نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی تھی، اُن کے بارے میں حضرت ابو بکر کے عہدِ خلافت میں جب سوال پیدا ہوا کہ وہ  کسی اور سے نکاح کر سکتی ہیں یا نہیں تو حضرت عمر نے درج ذیل تبصرہ کیا:

یا خلیفة رسول اللّٰه، أنها لیست من نسائه أنها لم یخیرها رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم ولم یحجبها.

(تفسیر الطبری 22/14)

”اے خلیفۂ رسول، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں شمار نہیں ہوتیں۔ آپ نے نہ تو اُن کو علیحدگی کا اختیار دیا (آیت تخییر کی رو سے) اور نہ اُن پر حجاب کو لازم کیا۔ “

چنانچہ  آیات تخییر اگرحضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سے ناراضی کے نتیجے میں نازل ہوئی تھیں تو  تخییر  کا معاملہ دیگر بیویوں کے ساتھ کیوں کیا گیا؟

ایک روایت میں سورۂ احزاب (33) کی آیات 28 اور 29 [81] کو، جب کہ دوسری میں سورۂ تحریم (66) کی آیات 4 اور 5 کو آیاتِ تخییر کہا گیا ہے۔[82]

سورۂ احزاب سورۂ تحریم سے مقدم ہے۔ یہ اُن کے مضامین سے عیاں ہے۔ سورۂ احزاب میں منافقین کے خلاف عملی اقدام کا عندیہ دیا گیا تھا، جب کہ سورۂ تحریم میں اُن سے سختی سے نمٹنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

سورۂ احزاب میں ارشاد ہوا تھا:

لَئِنۡ لَّمۡ  یَنۡتَہِ  الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ  مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ  لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ  فِیۡہَاۤ   اِلَّا   قَلِیۡلًا مَّلۡعُوۡنِیۡنَ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا  تَقۡتِیۡلًا  سُنَّۃَ اللّٰہِ  فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ لَنۡ  تَجِدَ لِسُنَّۃِ  اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا .

(33: 60-62)

 

”یہ منافقین اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں لوگوں کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اُن پر تمھیں اکسا دیں گے، پھر وہ تمھارے ساتھ اِس شہر میں کم ہی رہنے پائیں گے۔ اُن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے، پکڑے جائیں گے اور بے دریغ قتل کر دیے جائیں گے۔ یہی اُن لوگوں کے بارے میں اللہ کی سنت ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کی اِس سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔“

پھر سورۂ تحریم میں یہ ارشاد ہوا:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ.(66: 9)

”اے نبی، (تمھارے مخاطبین میں سے اب کوئی بھی رعایت کا مستحق نہیں رہا، اِس لیے) منکرین اور منافقین، سب سے جہاد کرو اور اِن پر سخت ہو جاؤ، اور (اِنھیں بتا دو کہ) اِن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے! “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا یہ واقعہ کسی ایک سورہ کے زمانۂ نزول سے متعلق ہی ہو سکتا ہے۔

نان و نفقے میں اضافے کے مطالبے والے واقعے میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے اپنے اپنے والد کی سختی اور ڈانٹ کے بعد اپنا مطالبہ واپس لے لیا تھا۔ یہ معاملہ کچھ اِس انداز سے ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس صورتِ حال پر مسکرا دیے تھے۔ اِس کے بعد پھر آپ نے نہ صرف ان دونوں سے، بلکہ تمام ازواج سے قطع تعلق کر لیا۔ اِس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔

محض نان ونفقے کے مطالبے پر ایک ماہ کے قطعِ تعلق کا سخت اقدام بھی قابلِ فہم نہیں۔ اِس قطع تعلق سے جو قلق ازواج کو ہوا، اُس کا احوال حضرت حفصہ سے متعلق ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ  اُنھوں نے رو رو کرخود کو ہلکان کر لیا تھا۔ معاملہ اگر محض نان و نفقے کا ہوتا تو اِس پر اتنا شدید عتاب بھی سمجھ نہیں آتا۔

اِس کے برعکس، سورۂ تحریم کے تناظرمیں ناراضی کے اِس واقعے کو دیکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ردعمل کی مناسبت سمجھی جا سکتی ہے۔ سورۂ تحریم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملے کی نوعیت کچھ ایسی سنجیدہ ہو گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مداخلت فرمائی، دونوں بیویوں کو ڈانٹا، اُنھیں تنبیہ کی، بلکہ طلاق کی تہدید بھی کی۔

اِس بارے میں قرآن مجید کا بیان درج ذیل ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ  لِمَ  تُحَرِّمُ مَاۤ  اَحَلَّ اللّٰہُ  لَکَ ۚ تَبۡتَغِیۡ  مَرۡضَاتَ  اَزۡوَاجِکَ ؕ وَ اللّٰہُ  غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ قَدۡ  فَرَضَ اللّٰہُ  لَکُمۡ تَحِلَّۃَ  اَیۡمَانِکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ  مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ  الۡحَکِیۡمُ  وَ اِذۡ  اَسَرَّ النَّبِیُّ  اِلٰی  بَعۡضِ  اَزۡوَاجِہٖ حَدِیۡثًا ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتۡ بِہٖ وَ اَظۡہَرَہُ  اللّٰہُ عَلَیۡہِ  عَرَّفَ بَعۡضَہٗ  وَ اَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ  قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَکَ ہٰذَا ؕ قَالَ  نَبَّاَنِیَ الۡعَلِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ  اِلَی اللّٰہِ  فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا ۚ وَ اِنۡ  تَظٰہَرَا عَلَیۡہِ  فَاِنَّ اللّٰہَ  ہُوَ مَوۡلٰىہُ  وَ جِبۡرِیۡلُ وَ صَالِحُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ  بَعۡدَ  ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ عَسٰی رَبُّہٗۤ  اِنۡ  طَلَّقَکُنَّ  اَنۡ  یُّبۡدِلَہٗۤ اَزۡوَاجًا  خَیۡرًا مِّنۡکُنَّ  مُسۡلِمٰتٍ مُّؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ  اَبۡکَارًا.

(التحريم  66: 1- 5)

”اے نبی، تم اپنی بیویوں کی دل داری میں وہ چیز کیوں حرام ٹھیراتے ہو، جو اللہ نے تمھارے لیے جائز رکھی ہے؟ خیر جو ہوا سو ہوا، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ اپنی اِس طرح کی قسموں کو توڑ دینا اللہ نے تمھارے لیے ٹھیرا دیا ہے اور اللہ ہی تمھارا مولیٰ ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ (اِسی طرح کا معاملہ اُس وقت بھی ہوا)، جب پیغمبرنے اپنی ایک بیوی سے راز کی ایک بات کہی۔ پھر اُنھوں نے یہ بات جب (کسی دوسری بیوی کو) بتا دی اور اللہ نے پیغمبر کو اُس سے آگاہ کر دیا تو آپ نے کچھ بات جتائی اور کچھ ٹال دی۔ پھر جب بیوی کو وہی بتایا تو وہ بولیں: آپ کو کس نے اِس کی خبر دی؟ پیغمبر نے کہا: مجھے اُس (پروردگار) نے خبر دی ہے جو علیم و خبیر  ہے۔(نبی کی بیویو، اپنے رویے کی اصلاح کرو)، اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو گی تویہی تمھارے لیے زیبا ہے، تمھارے دل تو اِس کے لیے مائل ہی ہیں، لیکن اگر نبی کے خلاف ایکا کرو گی تو اُس کا کچھ نقصان نہ ہو گا، اِس لیے کہ اُس کا حامی اللہ ہے، اور جبریل اور تمام صالح مسلمان اور مزید برآں فرشتے بھی اُس کے حامی اور مددگار ہیں۔بعید نہیں کہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دے تو اُس کا پروردگار تمھارے بدلے میں اُسے تم سے بہتر بیویاں عطا فرمادے مسلمان، مومنہ، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار اور درویشی کی زندگی بسر کرنے والیاں، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا کنواریاں۔“

یہ معاملہ کیا تھا؟ یہ نہیں بتایا گیا۔ دونوں ازواج سے جس قسم کا رویہ سامنے آیا، اُس کی تادیب کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر اُن سے علیحدگی اختیار کر لی ہو تو یہ قابلِ فہم ہے، مگر یہ ناراضی صرف دو بیویوں ہی سے ہونی چاہیے تھی۔

سورۂ احزاب میں آیاتِ تخییر کا سیاق و سباق ناراضی اور علیحدگی کے اِس واقعے کو قبول نہیں کرتا۔ آیاتِ تخییر کا موقع عتاب اور تنبیہ کا نہیں ہے۔ یہاں ازواجِ مطہرات پر اُن کے خصوصی منصب کے لحاظ سے کچھ خصوصی پروٹوکولز عائد کیے جانے تھے۔ اِس کے لیے پہلے اُنھیں اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو عام عورتوں کی طرح زندگی گزارنے اور دنیا کی زینتوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو سکتی ہیں اور اگر اللہ، اُس کے رسول اور آخرت کی زندگی کو ترجیح دیتی ہیں تو اُنھیں عام عورتوں کے برعکس، کچھ اضافی پابندیاں اختیار کرنی ہوں گی۔ اُنھیں بتایا گیا کہ اپنے حقوق کی اِس قربانی پر اُنھیں دوگنا اجر ملے گا ، لیکن اِس منصب پر رہتے ہوئے کسی فاحشہ کا ارتکاب اُن سے ہوا تو سزا بھی دہری ملے گی۔ یہ عتاب کا بیان نہیں، منصبی ذمہ داری کے تقاضوں کا بیان ہے۔

یہ ایسے ہی ہے، جیسے کسی غیر معمولی نازک ذمہ داری کے لیے کسی فرد کا انتخاب کیا جائے۔ اُسے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ معاوضے کی پیش کش کی جائے اور عہدے کی نزاکت کے پیشِ نظر زیادہ سخت مواخذے سے خبردار بھی کیا جائے۔ یہ مقامِ اعزاز ہے، نہ کہ مقام تنقیص و تنبیہ۔ چنانچہ آیاتِ تخییر ازواجِ مطہرات کے اعزاز کی آیات ہیں۔

اب  اِس واقعے سے متعلق روایات کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جاتا ہے:

عن جابر بن عبد اللّٰه قال: دخل ابو بكر يستاذن على رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فوجد الناس جلوسًا ببابه لم يؤذن لاحد منهم، قال: فاذن لابي بكر فدخل، ثم اقبل عمر، فاستاذن فاذن له، فوجد النبي صلى اللّٰه عليه وسلم جالسًا حوله نساؤه واجمًا ساكتًا، قال: فقال: لاقولن شيئًا اضحك النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، فقال: يا رسول اللّٰه، لو رايت بنت خارجة سالتني النفقة، فقمت اليها فوجدت عنقها، فضحك رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، وقال:”هن حولي كما ترى يسالنني النفقة“. فقام ابو بكر الى عائشة يجأ عنقها، فقام عمر الى حفصة يجأ عنقها، كلاهما يقول: تسالن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ما ليس عنده؟ فقلن: واللّٰه لا نسأل رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم شيئًا ابدًا ليس عنده. ثم اعتزلهن شهرًا او تسعًا وعشرين، ثم نزلت عليه هذه الاية:”يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ“، حتى بلغ:”لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا“. قال: فبدا بعائشة، فقال:”يا عائشة اني اريد ان اعرض عليك امرًا احب ان لا تعجلي فيه حتى تستشيري ابويك“قالت: وما هو يا رسول اللّٰه؟ فتلا عليها الاية، قالت: افبك يا رسول اللّٰه استشير ابوي؟ بل اختار اللّٰه، ورسوله، والدار الاخرة، واسالك ان لا تخبر امراةً من نسائك بالذي قلت. قال:”لا تسالني امراة منهن الا اخبرتها، ان اللّٰه لم يبعثني معنتًا ولا متعنتًا، ولكن بعثني معلمًا ميسرًا.“(مسلم، رقم 1478)

”حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے تھے۔ اُنھوں نے لوگوں کو آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا۔ اُن میں سے کسی کو اجازت نہیں ملی تھی۔ جابر کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت ملی تو وہ اندر داخل ہو گئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے، اُنھوں نے اجازت مانگی، اُنھیں بھی اجازت مل گئی، اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین اور خاموش بیٹھے ہوئے پایا، آپ کی بیویاں آپ کے اردگرد تھیں۔ جابر کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسی بات کروں گا جس سے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسا دوں گا۔ اُنھوں نے کہا: اللہ کے رسول، کاش کہ آپ بنت خارجہ کو دیکھتے، جب اُس نے مجھ سے نفقہ کا سوال کیا تو میں  اُس کی جانب بڑھا اور  اُس کی گردن دبا دی۔ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: یہ بھی میرے اردگرد بیٹھی ہیں، جیسا کہ  تم دیکھ رہے ہو، اور مجھ سے نفقہ مانگ رہی ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب اٹھے اور اِن کی گردن پر ضرب لگانا چاہی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی جانب بڑھے اور وہ اُن کی گردن پر مارنا چاہتے تھے، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو اِس سے روکا۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر، دونوں کہنے لگے: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس چیز کا سوال کرتی ہو جو اُن کے  پاس نہیں ہے۔ وہ کہنے لگیں: اللہ کی قسم، آج کے بعد ہم کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ یا انتیس دن تک کے لیے اُن سے علیحدگی اختیار کر لی۔ پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ اپنی بیویوں سے کہہ دو“ سے لے کر ”تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر ہے“۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے ابتدا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی اور فرمایا: اے عائشہ، میں تمھارے سامنے ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کر لینے تک فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا۔ اُنھوں نے کہا : یا رسول اللہ، وہ معاملہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں آیت تخییر پڑھ کر سنائی۔ اُنھوں نے کہا: اللہ کے رسول، کیا میں آپ کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی، بلکہ میں تو اللہ، اُس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چنتی ہوں اور آپ سے یہ درخواست کرتی ہوں کہ جو میں نے کہا ہے، آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کو  اِس کی خبر نہ دیں۔ آپ نے فرمایا:  مجھ سے جو بھی پوچھے گی، میں اُسے بتا دوں گا، اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا اور لوگوں کے لیے مشکلات ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ اللہ نے مجھے تعلیم دینے والا اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ “

دیگر روایات میں بتایا گیا ہے کہ سب خواتین نے آپ کے ساتھ رہنا اختیار کیا۔

اِس سند سے روایت لانے میں مسلم منفرد ہیں۔ یہ روایت وہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی سند سے لائے ہیں، مگر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھوں نے یہ واقعہ کس سے سنا، یعنی یہ ایک موقوف روایت ہے۔ نیز اِس روایت میں ابوالزبیر، محمد بن مسلم بن تدرس  راوی ہیں، جو حضرت جابر سے براہ راست روایت نہیں کر رہے۔ بعض ائمۂ جرح و تعدیل کے مطابق یہ  تدلیس کرتے تھے۔ نیز اُن کی وہ روایت جو حضرت جابر سے مرفوعاً مروی نہیں، وہ قابل بھروسا نہیں ہے۔

اِن سے متعلق ائمۂ جرح و تعدیل کی آرا درج ذیل ہیں:

ابنِ حجر  کے مطابق یہ سچے ہیں، مگر تدلیس کرتے ہیں۔ [83] 

امام نسائی اور اُن کے علاوہ دیگر ائمۂ جرح و تعدیل اُنھیں تدلیس کا مرتکب  سمجھتے ہیں۔ [84]

امام ذہبی نے ابو حاتم کی راے نقل کی ہے کہ یہ مدلس تھے۔ اُن کی راے یہ ہے:

لا يحتج به، توفي 128 وكان مدلسًا واسع العلم. (الكاشف  4/195)

”اُن سے حجت نہیں پکڑی جاتی، 128ھ میں اُن کی وفات ہوئی، وہ مدلس  تھے اور وسیع علم رکھتے تھے۔“

صاحب ”تہذیب الکمال“ ابن حزم کے حوالے سے لکھتے ہیں:

ابن حزم يحتج من حديث أبي الزبير مما قال فيه ثنا جابر. فإذا قال:عن جابر لم يحتج منه.

(8/ 281)

”ابن حزم ابو زیبر کی وہی حدیث قابلِ حجت قرار دیتے ہیں جس میں وہ براہِ راست جابر سے سننے کی تصریح کرے۔ لیکن جب وہ اُن کی طرف سے روایت کریں، یعنی صرف ’عن جابر‘  کہیں تو وہ قابلِ حجت نہ ہوگی۔ “

اِس کے برعکس، اِسی روایت کے ایک دوسرے طریق میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ براہِ راست حضرت عمر سے روایت کرتے ہیں۔ اُس میں صراحت ہے کہ اُن کے استفسار پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مفصلاً یہ واقعہ اُن کو سنایا  کہ کس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منا کر لائے اور کون سی آیات  اِس سلسلے میں نازل ہوئیں۔ یہ سورۂ تحریم کی آیات تھیں۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت یہ ہے:

 حدثني عبد اللّٰه بن عباس، حدثني عمر بن الخطاب قال: لما اعتزل نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نساءه، قال: دخلت المسجد، فإذا الناس ينكتون بالحصى، ويقولون: طلق رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نساءه، وذلك قبل أن يؤمرن بالحجاب، فقال عمر: فقلت: لأعلمن ذلك اليوم. قال: فدخلت على عائشة فقلت: يا بنت أبي بكر، أقد بلغ من شأنك أن تؤذي رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم؟ فقالت: ما لي وما لك يا ابن الخطاب، عليك بعيبتك، قال: فدخلت على حفصة بنت عمر فقلت لها: يا حفصة، أقد بلغ من شأنك أن تؤذي رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم؟ واللّٰه لقد علمت أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم لا يحبك، ولولا أنا لطلقك رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فبكت أشد البكاء، فقلت لها: أين رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم؟ قالت: هو في خزانته في المشربة، فدخلت، فإذا أنا برباح غلام رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قاعدًا على أسكفة المشربة، مد ل رجليه على نقير من خشب، وهو جذع يرقى عليه رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، وينحدر، فناديت: يا رباح، استأذن لي عندك على رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فنظر رباح إلى الغرفة، ثم نظر إلي فلم يقل شيئا، ثم قلت: يا رباح استأذن لي عندك على رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فنظر رباح، إلى الغرفة، ثم نظر إلي فلم يقل شيئا، ثم رفعت صوتي، فقلت: يا رباح، استأذن لي عندك على رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فإني أظن أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ظن أني جئت من أجل حفصة، واللّٰه لئن أمرني رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بضرب عنقها لأضربن عنقها. ورفعت صوتي، فأومأ إلي أن ارقه، فدخلت على رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، وهو مضطجع على حصير، فجلست، فأدنى عليه إزاره وليس عليه غيره، وإذا الحصير قد أثر في جنبه، فنظرت ببصري في خزانة رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فإذا أنا بقبضة من شعير نحو الصاع ومثلها قرضا في ناحية الغرفة، وإذا أفيق معلق. قال: فابتدرت عيناي، قال:”ما يبكيك يا ابن الخطاب؟“قلت: يا نبي اللّٰه، وما لي لا أبكي، وهذا الحصير قد أثر في جنبك، وهذه خزانتك لا أرى فيها إلا ما أرى، وذاك قيصر، وكسرى في الثمار والأنهار، وأنت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وصفوته، وهذه خزانتك، فقال:”يا ابن الخطاب ألا ترضى أن تكون لنا الآخرة، ولهم الدنيا؟“  قلت: بلى. قال: ودخلت عليه حين دخلت، وأنا أرى في وجهه الغضب، فقلت: يا رسول اللّٰه، ما يشق عليك من شأن النساء؟ فإن كنت طلقتهن فإن اللّٰه معك وملائكته وجبريل وميكائيل، وأنا وأبو بكر والمؤمنون معك، وقلما تكلمت، وأحمد اللّٰه بكلام إلا رجوت أن يكون الله يصدق قولي الذي أقول، ونزلت هذه الآية آية التخيير:”عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجًا خيرًا منكن، وإن تظاهرا عليه فإن اللّٰه هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين والملائكة بعد ذلك ظهير“. وكانت عائشة بنت أبي بكر وحفصة تظاهران على سائر نساء النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله أطلقت هن؟ قال:”لا“، قلت: يا رسول اللّٰه، إني دخلت المسجد والمسلمون ينكتون بالحصى يقولون: طلق رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نساءه، أفأنزل فأخبرهم أنك لم تطلقهن؟ قال” نعم“ إن شئت، فلم أزل أحدثه حتى تحسر الغضب عن وجهه، وحتى كشر فضحك، وكان من أحسن الناس ثغرا، ثم نزل نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، ونزلت، فنزلت أتشبث بالجذع، ونزل رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم كأنما يمشي على الأرض ما يمسه بيده، فقلت: يا رسول اللّٰه، إنما كنت في الغرفة تسعة وعشرين؟ قال”إن الشهر يكون تسعا وعشرين“، فقمت على باب المسجد، فناديت بأعلى صوتي: لم يطلق رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نساءه، ونزلت هذه الآية: ”وإذا جاءهم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم، لعلمه الذين يستنبطونه منهم“ فكنت أنا استنبطت ذلك الأمر، وأنزل اللّٰه عز وجل آية التخيير.

(مسلم، رقم 1479)

”حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی، آپ فرماتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ (پریشانی  کے عالم میں) کنکریاں زمین پر پھینک رہے ہیں، اور کہہ رہے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی۔ یہ واقعہ اُنھیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: آج میں اِس معاملے کو جان کر رہوں گا۔ اُنھوں نے کہا: میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی، تم  اِس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دو؟ انھوں نے جواب دیا: خطاب کے بیٹے، آپ کا مجھ سے کیا واسطہ؟ آپ اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کی فکر کریں۔ انہوں نے کہا: پھر میں حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: حفصہ، کیا تم  اِس حد تک پہنچ گئی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دو؟ اللہ کی قسم، تمھیں خوب معلوم ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت نہیں رکھتے۔ اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں طلاق دے دیتے۔ یہ سن کر وہ بری طرح سے رونے لگیں۔ میں نے اُن سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ اُنھوں نے جواب دیا: وہ اپنے بالا خانے پر سامان رکھنے والی جگہ میں ہیں۔ میں وہاں گیا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رَباح چوبارے کی چوکھٹ کے نیچے والی لکڑی پر بیٹھا ہے۔ اُس نے اپنے دونوں پاؤں لکڑی کی سوراخ دار سیڑھی پر لٹکا رکھے ہیں۔ وہ کھجور کا ایک تنا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس پر (قدم رکھ کر) چڑھتے اور اترتے تھے۔ میں نے آواز دی: رباح، مجھے اپنی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت لے دو۔ رباح رضی اللہ عنہ نے بالا خانے کی طرف نظر کی، پھر مجھے دیکھا اور کچھ نہ کہا۔ میں نے پھر کہا: رباح، مجھے اپنی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت لے دو۔ رباح رضی اللہ عنہ نے (دوبارہ) بالا خانے کی طرف نگاہ اٹھائی، پھر مجھے دیکھا، اور کچھ نہ کہا، پھر میں نے اپنی آواز کو بلند کیا اور کہا: اے رباح، مجھے اپنی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت لے دو۔ میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہے کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کی (سفارش کرنے کی) خاطر آیا ہوں۔ اللہ کی قسم، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اُس کی گردن اڑانے کا حکم دیں تو میں اُس کی گردن اڑا دوں گا۔ یہ میں نے بہ آواز بلند کہا، تو اُس نے مجھے اشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، میں بیٹھ گیا، آپ نے اپنا ازار درست کیا اور آپ (کے جسم) پر اُس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا اور چٹائی نے آپ کے جسم پر نشان ڈال دیے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے کمرے میں دیکھا تو صرف مٹھی بھر ایک صاع کے برابر جَو ہوں گے اور کمرے کے ایک کونے میں اتنی ہی کیکر کی چھال دیکھی۔ اِس کے علاوہ ایک غیر دباغت شدہ چمڑا لٹکا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے کہا: تو میرے آنسو بہ پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابن خطاب، تمھیں کیا چیز رُلا رہی ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ کے نبی، میں کیوں نہ روؤں؟ اِس چٹائی نے آپ کے جسمِ اطہر پر نشان ڈال دیے ہیں، اور یہ آپ کا سامان رکھنے کا کمرا ہے، اِس میں وہی کچھ ہے جو مجھے نظر آرہا ہے، اور قیصر و کسری نہروں اور پھلوں کے درمیان (شان دار زندگی بسر کر رہے)  ہیں، جب کہ آپ تو اللہ کے رسول اور اُس کی چنی ہوئی ہستی ہیں، اور یہ آپ کا سارا سامان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب! کیا تمھیں پسند نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور اُن کے لیے دنیا ہو؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں! حضرت عمر نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار تھے، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول، آپ کو (اپنی) بیویوں کے بارے میں کیا مسئلہ درپیش ہے؟ اگر آپ نے اُنھیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے، اُس کے فرشتے، جبریل، میکائیل، میں، ابوبکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں۔ اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے کم ہی ایسی کوئی بات کہی، مگر میں نے امید کی کہ اللہ میری اُس بات کی تصدیق فرما دے گا جو میں کہہ رہا ہوں۔ (چنانچہ ایسے ہی ہوا) اور تخییر کی آیت نازل ہو گئی:”اگر وہ (نبی) تم سب (بیویوں) کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ اُن کا رب  اُنھیں تم سے بہتر بیویاں بدلے میں دے۔ اور اگر تم دونوں اُن کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی، تو اللہ خود اُن کا نگہبان ہے، اور جبریل اور صالح مومن اور اِس کے بعد تمام فرشتے (اُن کے) مددگار ہیں “۔ عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ رضی اللہ عنہما، دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی تھیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول، کیا آپ نے اُن کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول، میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو لوگ کنکریاں زمین پر پھینک رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ کیا میں اتر کر اُنھیں بتا دوں کہ آپ نے اُن (بیویوں) کو طلاق نہیں دی؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اگر چاہو۔ میں مسلسل آپ سے گفتگو کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ کے چہرے سے غصہ دور ہو گیا اور آپ کے لب وا ہوئے اور آپ ہنس دیے۔ آپ کے سامنے والے دندانِ مبارک سب انسانوں سے زیادہ خوب صورت تھے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (بالا خانے سے نیچے) اترے۔ میں تنے کو تھامتے ہوئے اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے اترے جیسے زمین پر چل رہے ہوں، آپ نے تنے کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول، آپ بالا خانے میں انتیس دن رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: مہینا انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا  اور بلند آواز سے پکار کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اور (پھر) یہ آیت نازل ہوئی: ”اور جب اُن کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اُسے مشہور کر دیتے ہیں  اور اگر وہ اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اپنے معاملات سنبھالنے والوں کی طرف لوٹا دیتے تو وہ لوگ جو اُن میں اِس سے اصل مطلب اخذ کرتے ہیں، اُسے ضرور جان لیتے“۔تو میں ہی تھا جس نے اِس معاملے کی اصل حقیقت کو اخذ کیا اور اللہ تعالیٰ نے تخییر کی آیت نازل فرمائی۔“

یہ روایت سورۂ تحریم کے تناظر میں آپ کی ناراضی کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ جن آیات کو آیاتِ تخییر کہا جا رہا ہے، وہ سورۂ تحریم کی آیات ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عباس کی سند سے یہی روایت  بخاری میں بھی ہے۔ اِس روایت میں دو واقعات میں ادراج ہوا ہے۔ روایت یہ ہے:

عن عبد اللّٰه بن عباس رضي اللّٰه عنهما قال لم ازل حريصًا على ان اسال عمر رضي اللّٰه عنه عن المرأتين من ازواج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، اللتين قال اللّٰه لهما”:اِنْ تَتُوْبَا اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا.“ فحججت معه فعدل وعدلت معه بالإداوة، فتبرز، حتى جاء فسكنت على يديه من الإداوة فتوضأ، فقلت: يا أمير المؤمنين، من المرأتان من ازواج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم اللتان قال اللّٰه عز وجل لهما” :اِنْ تَتُوْبَا اِلَى اللّٰه“ فقال: واعجبي لك يا ابن عباس، عائشة وحفصة، ثم استقبل عمر الحديث يسوقه، فقال: إني كنت وجار لي من الأنصار في بني أمية بن زيد وهي من عوالي المدينة، وكنا نتناوب النزول على النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، فينزل يومًا وانزل يومًا، فإذا نزلت جئته من خبر ذلك اليوم من الأمر وغيره، وإذا نزل فعل مثله، وكنا معشر قريش نغلب النساء، فلما قدمنا على الأنصار إذا هم قوم تغلبهم نساؤهم، فطفق نساؤنا يأخذن من أدب نساء الأنصار، فصحت على امرأتي فراجعتني، فانكرت أن تراجعني، فقالت: ولم تنكر ان اراجعك، فواللّٰه إن ازواج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم ليراجعنه، وإن إحداهن لتهجره اليوم حتى الليل. فافزعني، فقلت: خابت من فعل منهن بعظيم، ثم جمعت علي ثيابي فدخلت على حفصة، فقلت: اي حفصة، اتغاضب إحداكن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم اليوم حتى الليل؟ فقالت: نعم، فقلت: خابت وخسرت، افتامن ان يغضب اللّٰه لغضب رسوله صلى اللّٰه عليه وسلم فتهلكين، لا تستكثري على رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ولا تراجعيه في شيء ولا تهجريه، واسأليني ما بدا لك، ولا يغرنك أن كانت جارتك هي أوضأ منك وأحب إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يريد عائشة. وكنا تحدثنا أن غسان تنعل النعال لغزونا، فنزل صاحبي يوم نوبته، فرجع عشاء، فضرب بابي ضربًا شديدًا، وقال: أنائم هو، ففزعت، فخرجت إليه، وقال: حدث أمر عظيم، قلت: ما هو أجاءت غسان؟ قال: لا، بل أعظم منه وأطول، طلق رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نساءه، قال: قد خابت حفصة وخسرت، كنت أظن أن هذا يوشك أن يكون، فجمعت علي ثيابي فصليت صلاة الفجر مع النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، فدخل مشربة له فاعتزل فيها، فدخلت على حفصة، فإذا هي تبكي، قلت: ما يبكيك أولم أكن حذرتك؟ أطلقكن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم؟ قالت: لا أدري، هو ذا في المشربة، فخرجت فجئت المنبر، فإذا حوله رهط يبكي بعضهم، فجلست معهم قليلاً، ثم غلبني ما أجد، فجئت المشربة التي هو فيها، فقلت لغلام له أسود: استأذن لعمر، فدخل فكلم النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، ثم خرج فقال: ذكرتك له فصمت، فانصرفت حتى جلست مع الرهط الذين عند المنبر، ثم غلبني ما أجد فجئت فذكر مثله، فجلست مع الرهط الذين عند المنبر، ثم غلبني ما أجد فجئت الغلام، فقلت: استأذن لعمر، فذكر مثله، فلما وليت منصرفا فإذا الغلام يدعوني، قال: أذن لك رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فدخلت عليه، فإذا هو مضطجع على رمال حصير، ليس بينه وبينه فراش، قد أثر الرمال بجنبه، متكئ على وسادة من أدم، حشوها ليف، فسلمت عليه، ثم قلت وأنا قائم: طلقت نساءك؟ فرفع بصره إلي، فقال:”لا“. ثم قلت وأنا قائم أستأنس: يا رسول اللّٰه، لو رأيتني وكنا معشر قريش نغلب النساء، فلما قدمنا على قوم تغلبهم نساؤهم، فذكره، فتبسم النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، ثم قلت: لو رأيتني ودخلت على حفصة فقلت: لا يغرنك أن كانت جارتك هي أوضأ منك وأحب إلى النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يريد عائشة - فتبسم أخرى، فجلست حين رأيته تبسم، ثم رفعت بصري في بيته، فواللّٰه ما رأيت فيه شيئًا يرد البصر، غير أهب ثلاثة، فقلت: ادع اللّٰه فليوسع على أمتك، فإن فارس والروم وسع عليهم وأعطوا الدنيا، وهم لا يعبدون اللّٰه، وكان متكئًا، فقال:”أوفي شك أنت يا ابن الخطاب؟ أولئك قوم عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا“. فقلت: يا رسول اللّٰه، استغفر لي،

فاعتزل النبي صلى اللّٰه عليه وسلم من أجل ذلك الحديث حين أفشته حفصة إلى عائشة، وكان قد قال: ما أنا داخل عليهن شهرا، من شدة موجدته عليهن حين عاتبه اللّٰه، فلما مضت تسع وعشرون، دخل على عائشة فبدأ بها، فقالت له عائشة: إنك أقسمت أن لا تدخل علينا شهرًا، وإنا أصبحنا لتسع وعشرين ليلةً أعدها عدًا، فقال النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: ”الشهر تسع وعشرون.“وكان ذلك الشهر تسعًا وعشرين، قالت عائشة: فأنزلت آية التخيير، فبدأ بي أول امرأة، فقال: إني ذاكر لك أمرًا، ولا عليك أن لا تعجلي حتى تستأمري أبويك. قالت: قد أعلم أن أبوي لم يكونا يأمراني بفراقك، ثم قال:”إن اللّٰه قال: يَآ أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِكَ“. إلى قوله”عظيمًا“. قلت: أفي هذا أستأمر أبوي، فإني أريد اللّٰه ورسوله والدار الآخرة، ثم خير نساءه، فقلن مثل ما قالت عائشة.(بخاری، رقم 2336)

”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ہمیشہ اِس بات کا آرزو مند رہتا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن دو بیویوں کے نام پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (سورۂ تحریم میں) فرمایا ہے’ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا‘۔ پھر میں نے اُن کے ساتھ حج کو گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ راستے سے قضاے حاجت کے لیے  الگ  ہوئے تو میں بھی اُن کے ساتھ (پانی کا ایک) چھاگل لے کر گیا۔ پھر وہ قضاے حاجت کے لیے چلے گئے۔ اور جب واپس آئے تو میں نے اُن کے ہاتھوں پر چھاگل سے پانی ڈالا۔ انھوں نے وضو کیا، پھر میں نے پوچھا: اے  امیر المومنین، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ دو خواتین کون سی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ’إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللّٰهِ‘، ”اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو“۔ اُنھوں نے فرمایا: ابن عباس، تم پر حیرت ہے، وہ عائشہ اور حفصہ (رضی اللہ عنہما) ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہو کر پورا واقعہ بیان کرنے لگے۔ آپ نے بتایا کہ بنو امیہ بن زید کے قبیلے میں جو مدینہ سے ملا ہوا تھا، میں اپنے ایک انصاری پڑوسی کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضر ہوتے اور ایک دن میں۔ جب میں حاضری دیتا تو اُس دن کی تمام خبریں وغیرہ اُنھیں بتاتا، اور جب وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی اِسی طرح کرتے۔ ہم قریش کے لوگ (مکہ میں) اپنی عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے، لیکن جب ہم (ہجرت کر کے) انصار کے یہاں آئے تو اُنھیں دیکھا کہ اُن کی عورتیں مردوں پر غالب تھیں۔ ہماری عورتوں نے بھی اُن کا طریقہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ایک دن اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اُنھوں نے بھی اُس کا جواب دیا۔ اُن کا یہ جواب مجھے ناگوار معلوم ہوا، لیکن اُنھوں نے کہا کہ میں اگر جواب دیتی ہوں تو تمھیں ناگواری کیوں ہوتی ہے۔ قسم اللہ کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض بیویاں تو آپ سے پورے دن اور پوری رات خفا رہتی ہیں۔ اِس بات سے میں بہت پریشان ہوا۔ میں نے کہا کہ اُن میں سے جس نے بھی ایسا کیا ہو گا، وہ بہت نقصان اور خسارے میں ہے۔ اِس کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا اور کہا: اے حفصہ، کیا تم میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے دن رات تک ناراض رہتی ہیں؟ اُنھوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ پھر تو وہ تباہی اور نقصان میں ہیں۔ کیا تمھیں اِس سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی وجہ سے (تم پر) غصہ ہو جائے اور تم ہلاک ہو جاؤ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ چیزوں کا مطالبہ ہرگز نہ کیا کرو، نہ کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا جواب دو اور نہ آپ پر خفگی کا اظہار ہونے دو، البتہ جس چیز کی تمھیں ضرورت ہو، وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، کسی خود فریبی میں مبتلا نہ رہنا، تمھاری یہ پڑوسن تم سے زیادہ خوب صورت ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پیاری بھی ہیں۔ آپ کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اِن دنوں یہ چرچا ہو رہا تھا کہ غسّان کے فوجی ہم سے لڑنے کے لیے گھوڑوں کو سم لگا رہے ہیں۔ میرے پڑوسی ایک دن اپنی باری پر مدینہ گئے ہوئے تھے۔ پھر عشا کے وقت واپس لوٹے۔ آ کر میرا دروازہ اُنھوں نے بڑی زور سے کھٹکھٹایا، اور کہا: کیا آپ سو گئے ہیں؟ میں گھبرایا ہوا باہر آیا، اُنھوں نے کہا کہ ایک بہت بڑا حادثہ پیش آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کیا غسّان کا لشکر آ گیا؟ اُنھوں نے کہا، نہیں، بلکہ اِس سے بھی بڑا اور سنگین حادثہ پیش آیا ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حفصہ تو برباد ہو گئی۔ مجھے تو پہلے ہی کھٹکا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا) پھر میں نے کپڑے پہنے۔ صبح کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی (نماز پڑھتے ہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف لے گئے اور وہیں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے یہاں گیا، دیکھا تو وہ رو رہی تھیں، میں نے کہا: رو کیوں رہی ہو؟ کیا پہلے ہی میں نے تمھیں نہیں کہہ دیا تھا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟  وہ بولیں: مجھے کچھ معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں تشریف رکھتے ہیں۔ پھر میں باہر نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ وہاں کچھ لوگ موجود تھے اور بعض رو بھی رہے تھے۔ تھوڑی دیر تو میں اُن کے ساتھ بیٹھا رہا، لیکن مجھ پر رنج کا غلبہ ہوا، اور میں بالاخانے کے پاس پہنچا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سیاہ غلام سے کہا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو) کہ عمر اجازت چاہتا ہے۔ وہ غلام اندر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آیا اور کہا کہ میں نے آپ کی بات پہنچا دی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، چنانچہ میں واپس آ کر اُنھیں لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ پھر مجھ پر رنج غالب آیا اور میں دوبارہ آیا، لیکن اِس دفعہ بھی وہی ہوا۔ پھر آ کر اُنھیں لوگوں میں بیٹھ گیا جو منبر کے پاس تھے، لیکن اِس مرتبہ پھر مجھ سے نہیں رہا گیا اور میں نے غلام سے آ کر کہا  کہ عمر کے لیے اجازت چاہو، لیکن بات جوں کی توں رہی۔ جب میں واپس ہو رہا تھا کہ غلام نے مجھے پکارا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جس پر کوئی بستر بھی نہیں تھا، اِس لیے چٹائی کے ابھرے ہوئے حصوں کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں پڑ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اِس وقت ایک ایسے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جس کے اندر کھجور کی چھال بھری گئی تھی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کی  کہ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ میری طرف کر کے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے آپ کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کی اور کہنے لگا ــــ اب بھی میں کھڑا ہی تھا ــــ یا رسول اللہ، آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے، لیکن جب ہم ایک ایسی قوم میں آ گئے جن کی عورتیں اُن پر غالب تھیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل ذکر کی۔ اِس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ پھر میں نے کہا: میں حفصہ کے یہاں بھی گیا تھا اور اُس سے کہہ آیا تھا کہ کہیں کسی خود فریبی میں نہ مبتلا رہنا۔ تمھاری پڑوسن تم سے زیادہ خوب صورت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب بھی ہے۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اِس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیے۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا اور آپ کے گھر میں چاروں طرف دیکھنے لگا۔ بخدا، سواے تین کھالوں کے اور کوئی چیز وہاں نظر نہ آئی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ آپ کی امت کو کشادگی عطا فرما دے۔ فارس اور روم کے لوگ تو پوری فراخی کے ساتھ رہتے ہیں۔ دنیا اُنھیں خوب ملی ہوئی ہے، حالاں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خطاب کے بیٹے، کیا تمھیں ابھی کچھ شبہ ہے؟ یہ تو ایسے لوگ ہیں کہ اُن کے اچھے اعمال کی جزا اِسی دنیا میں اُن کو دے دی گئی ہے۔ (یہ سن کر) میں بول اٹھا: یا رسول اللہ، میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجیے۔

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی ازواج سے)  اِس بات پر علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حفصہ رضی اللہ عنہا نے پوشیدہ بات کہہ دی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس انتہائی خفگی کی وجہ سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تھی، فرمایا تھا کہ میں اب اُن کے پاس ایک مہینے تک نہیں جاؤں گا۔ اور یہی موقعہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متنبہ کیا تھا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور انھی کے یہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ نے تو عہد کیا تھا کہ ہمارے یہاں ایک مہینے تک نہیں تشریف لائیں گے، اور آج ابھی انتیسویں کی صبح ہے۔ میں تو دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینا انتیس دن کا ہے۔ اور وہ مہینا انتیس ہی دن کا تھا۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر وہ آیت نازل ہوئی جس میں (ازواج النبی کو) اختیار دیا گیا تھا۔ اِس کی بھی ابتدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ ہی سے کی اور فرمایا کہ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، اور یہ ضروری نہیں کہ جواب فوراً دو، بلکہ اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ کو یہ معلوم تھا کہ میرے ماں باپ کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دو“ سے لے کر اللہ تعالیٰ کے قول  ’عظیمًا ‘تک۔ میں نے عرض کیا: کیا اب اِس معاملے میں بھی میں اپنے والدین سے مشورہ کرنے جاؤں گی؟ اِس میں تو کسی شبہ کی گنجایش ہی نہیں ہے کہ میں اللہ اور  اُس کے رسول اور دارِ آخرت کو پسند کرتی ہوں۔ اِس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیویوں کو بھی اختیار دیا اور اُنھوں نے بھی وہی جواب دیا جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔“

اِس روایت میں ’فاعتزل النبی‘ کے الفاظ سے دوسرے واقعے کا بیان شروع ہو جاتا ہے،  مگر  اِس کا راوی مذکور نہیں۔ بخاری کی اِس روایت میں جہاں اِس موقع پر سورۂ تحریم کی آیات کا بیان شروع ہوتا ہے، اُس کی جگہ یہاں یہ دوسرے واقعے سے سورۂ احزاب کی آیاتِ تخییر کا بیان درج ہو گیا ہے۔

اس روایت کے مطابق ناراضی کا واقعہ سورۂ تحریم کے تناظرمیں پیش آیا، لیکن آیات تخییر سورۂ احزاب کی ہیں جو سورۂ تحریم سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ یہ صراحتًا غلط ہے۔

تخییر کا واقعہ حضرت عائشہ سے مروی ایک روایت میں بغیر کسی سببِ ناراضی کے ذکر ہوا ہے۔ اِس کے مطابق آیاتِ تخییر نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے حضرت عائشہ کے پاس آئے اور  اُن سے اُن کی مرضی پوچھی:

 أن عائشة رضي اللّٰه عنها، زوج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم أخبرته: أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم جاءها حين أمر اللّٰه أن يخير أزواجه، فبدأ بي رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فقال: ”إني ذاكر لك أمراً، فلا عليك أن تستعجلي حتى تستأمري أبويك“، وقد علم أن أبوي لم يكونا يأمرانى بفراقه، قالت: ثم قال:”إن اللّٰه قال: يَآ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِكَ“. إلى تمام الآيتين، فقلت له: ففي أي هذا أستأمر أبوي؟ فإني أريد اللّٰه ورسوله والدار الآخرة.

(بخاری، رقم 4785)

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ  جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی ازواج کو (آپ کے سامنے رہنے یا آپ سے علیحدگی کا) اختیار دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے  اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں، ضروری نہیں کہ تم اِس میں جلد بازی سے کام لو، اپنے والدین سے بھی مشورہ کر سکتی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتےتھے کہ میرے والدین کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اے نبی، اپنی بیویوں سے فرما دیجیے“ سے لے کر آخر آیت تک۔ میں نے عرض کیا: لیکن کس چیز کے لیے مجھے اپنے والدین سے مشورے کی ضرورت ہے؟ کھلی ہوئی بات ہے کہ میں اللہ، اُس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج سے ناراضی سے متعلق اِن مختلف روایات کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین مختلف واقعات کو خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ ازواجِ مطہرات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نان و نفقے میں اضافے کا مطالبہ ناممکن نہیں، تاہم یہ مطالبہ ناراضی کا سبب نہیں بنا تھا۔ یہ معاملہ اُسی وقت رفع دفع ہو گیا جب حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اپنی بیٹیوں کو تنبیہ کی اور آپ مسکرا دیے تھے۔

آپ کی ناراضی کی وجہ سورۂ تحریم کے تناظر میں افشاے راز اور اُس پر ازواج کا رویہ تھا، کہ وہ آپ سے کچھ روٹھ بیٹھی تھیں،جب کہ آیاتِ تخییر بغیر کسی ناراضی کے سبب کے نازل ہوئی تھیں۔ راویوں نے اُنھیں ملا کر آیاتِ تخییر کے تحت ایک نئی صورت دے دی۔

_________