ـــــ4ـــــ

انفس و آفاق کی

جملہ آیاتِ الٰہی کو بیان کرنے والی آیاتِ قرآنی

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصدتلاوتِ آیات بھی تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فرستادے کو قرآن میں مذکور دلائل و براہین سے لیس کر کے مبعوث فرمایا تھا۔ قرآنِ مجید میں اِس کے لیے’یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سے مراد اللہ کی آیتوں کو پڑھ کر سنانا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قرآنِ مجید کے مندرجات کو پڑھ کر سنایا تو درحقیقت اِسی مقصد کو پورا فرمایا۔ یعنی آپ نے قرآنِ مجید کی صورت میں اُس کلام کو پڑھ کر سنایا،جو  اللہ کی قدرت و حکمت، خلق وتدبیر اور دیگر صفات پر  انفس و آفاق کے دلائل کو بیان کرتا ہے۔ اِس کا ہر جملہ ایسی دلیل و برہان کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے اللہ کی صفات، اُس کے احکام اور اُس کی مرضیات کا علم ہوتا ہے۔ اِسی اعتبار سے قرآنِ مجید کے کلمات و ارشادات بھی  بہ منزلۂ آیات ہیں اور اِسی بنا پر اُنھیں آیات قرار دیا گیا ہے۔

’ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ‘ کے مذکورہ الفاظ سورۂ بقرہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا   کے طور پر نقل ہوئے ہیں۔ ارشاد ہے:

رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ....

(2: 129)

’’پروردگار، اور اُنھی میں سے تو اُن کے اندر ایک رسول اٹھا، جو تیری آیتیں اُنھیں سنائے اور اُنھیں قانون اور حکمت سکھائے اور اِس طرح اُنھیں پاکیزہ بنائے...۔‘‘

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’آیت عربی زبان میں اُس چیز کو کہتے ہیں،جس سے کسی چیز پر دلیل لائی جائے۔ قرآن کا ہر جملہ کسی نہ کسی حقیقت کے لیے دلیل و برہان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس کے لیے آیت کا لفظ اِسی رعایت سے اختیار کیا گیا ہے۔ آیتیں سنانے کے لیے اصل میں ’یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اُس زور و اختیار کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے ساتھ اللہ کا رسول اُس کے سفیر کی حیثیت سے لوگوں کو اُس کا فرمان پڑھ کر سناتا ہے اور پھر خدا کی عدالت بن کر اُس کا فیصلہ اُن پر نافذ کر دیتا ہے۔‘‘(البیان 1/ 131)

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۂ بقرہ  (2)کی آیت 39 کے الفاظ ’وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ‘ میں لفظِ آیت کے مفہوم کو اِسی پہلو سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’آیت کے اصل معنی اُس نشانی یا علامت کے ہیں،جو کسی چیز کی طرف رہنمائی کرے۔  ...کہیں کتاب اللہ کے فقروں کو آیات کہا گیا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف حق اور صداقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، بلکہ فی الحقیقت اللہ کی طرف سے جو کتاب بھی آتی ہے، اُس کے محض مضامین ہی میں نہیں، اُس کے الفاظ اور اندازِ بیان اور طرزِ عبارت تک میں اُس کے جلیل القدر مصنف کی شخصیت کے آثار نمایاں طور پر محسوس ہوتے ہیں۔‘‘

(تفہیم القرآن 1 / 69)

چنانچہ قرآنِ مجید میں جا بہ جا اِس کی مثالیں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں انفس و آفاق کے دلائل کو آیات قرار دیا ہے، وہاں قرآن کے فقروں اور جملوں کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ احقاف میں ارشاد فرمایا ہے:

وَاِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ. (46: 7)

’’اِنھیں جب ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ منکرین حق کے بارے میں، جب کہ وہ اِن کے پاس آگیا ہے، کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔‘‘

تاہم، یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ جب قرآنِ مجید میں یہ لفظ قرآن کے فقروں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے تو اِس کے نتیجے میں آیت کا اصل معنی و مفہوم اِس سے الگ نہیں ہوتا۔ یعنی جب قرآن اپنے متن کے اجزا کے لیے آیت کا لفظ استعمال کرتا ہے تو دلیل اور نشانی کا مفہوم اُس کے اندر برقرار رہتا ہے، وہ اُس سے منفک نہیں ہوتا۔

سورۂ جاثیہ کا درجِ ذیل مقام ملاحظہ کیجیے۔ یہ بات پوری صراحت سے نمایاں ہو گی کہ لفظِ آیت استعمال تو قرآن کی عبارت کے لیے ہوا ہے، مگر اِس میں انفس و آفاق کے دلائل کا مفہوم پوری طرح شامل ہے:

تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ. وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ.

’’یہ اللہ کی آیتیں ہیں، جنھیں ہم حق کے ساتھ تمھیں سنارہے ہیں تو اللہ اور اُس کی آیتوں کے بعد اور کون سی بات ہے، جس پر یہ ایمان لائیں گے! تباہی ہے ہر اُس جھوٹے بداعمال کے لیے۔

یَّسۡمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتۡلٰی عَلَیۡہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ. وَ اِذَا عَلِمَ مِنۡ اٰیٰتِنَا شَیۡئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ .

جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے، وہ اُس کو پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں، پھر بھی تکبر کے ساتھ اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے، گویا اُس نے وہ سنی ہی نہیں ہیں۔ (یہ اُس کا رویہ ہے)، سو اُسے ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ اور ہماری آیتوں میں سے (اِسی طرح) اُسے جب کسی بات کا علم ہوتا ہے تو اُس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ یہی ہیں جن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ جَہَنَّمُ ۚ وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مَّا کَسَبُوۡا شَیۡئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ. ہٰذَا ہُدًی ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ.

(45: 6-11)

اِن کے آگے جہنم ہے اور جو کچھ بھی اِنھوں نے (دنیا میں) کمایا ہے، وہ اِن کے ذرا بھی کام آنے والا نہیں ہے اور نہ وہ جن کو اِنھوں نے اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا ہے، اِن کے کچھ کام آئیں گے اور اِن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ یہ قرآن اصل ہدایت ہے اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں کے منکر ہیں، اُن کے لیے ایک دردناک عذاب ہے، ایسا کہ کپکپی پیدا کر دے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی جو تفصیل کی ہے، اُس سے آیتِ قرآن کے مفہوم کی حقیقت پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’’تِلْکَ‘ کا اشارہ آفاق و انفس کی اُنھی نشانیوں کی طرف ہے، جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ اللہ کی توحید، اُس کی قدرت و حکمت اور اُس کے روز ِجزا و سزا کی یہ نشانیاں ہیں، جو اِس قرآن کے ذریعہ سے ہم تم کو، اُن کے صحیح نتائج و لوازم کے ساتھ، پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ نشانیاں اِس قدر واضح ہیں کہ کوئی ذی ہوش اِن کا انکار نہیں کر سکتا۔ اِنھی کے واقعی نتائج و لوازم کو قرآن تسلیم کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اگر تمھارے یہ مخالفین اِن نشانیوں کے بدیہی نتائج کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اب اِن سے زیادہ عقل اور دل کو مطمئن کرنے والی اور کون سی چیز ہو سکتی ہے، جس پر ایمان لائیں گے!

’نَتْلُوہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ‘ میں ’بِالْحَقِّ‘ سے مراد وہ قطعی اور حقیقی نتائج ہیں، جو اِن نشانیوں پر غور کرنے سے سامنے آتے ہیں۔ یہ قید اِس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جہاں تک اِن نشانیوں پر غور کرنے کا تعلق ہے، اِن پر غور تو دوسرے بھی کرتے ہیں، لیکن وہ اپنے مخصوص اور نہایت محدود زاویہ سے غور کرتے ہیں، اِس وجہ سے یا تو اُن حقائق تک پہنچ نہیں پاتے، جو اِن کے اندر مضمر ہیں یا پہنچتے تو ہیں، لیکن چونکہ وہ اُن کے نفس کی خواہشوں کے خلاف ہیں، اِس وجہ سے اُن کے اعتراف سے گریز کرتے ہیں۔ مثلاً آسمان و زمین کی نشانیوں پر فلکیات و ارضیات کے ماہرین بھی غور کرتے ہیں۔ انسان کی خلقت پر اناٹومی ANATOMY)) والے بھی تحقیق کرتے ہیں، حیوانات کے مختلف پہلوؤں پر علم الحیوانات والے بھی سر کھپاتے ہیں، رات اور دن کی گردش، بارشوں کے اوقات و اثرات اور ہواؤں کے تغیر و تبدل پر موسمیات والے بھی بہت کچھ ہوا باندھتے ہیں، لیکن اِن سب کا حال اِن کی تنگ نظری کے سبب سے یہ ہے کہ یہ اپنی دوربینوں اور خوردبینوں سے تِل کو تو دیکھ لیتے ہیں، لیکن تل کے اوٹ کا پہاڑ اِن کو نظر نہیں آتا۔ موسمیات والے یہ پیشین گوئی تو کر دیں گے کہ آگے چوبیس گھنٹے موسم گرم و خشک رہے گا اور اُس کی کوئی الٹی سیدھی توجیہ بھی کر دیں گے۔ اکثر حالات میں اُن کی پیشین گوئی صحیح بھی ثابت ہوتی ہے اور بعض حالات میں اُن کی پیش کردہ توجیہ سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اُن کی نگاہ صرف ہواؤں کے تصرف کی نوعیت اور اُس کے اثرات کا اندازہ کرنے تک محدود رہ جاتی ہے۔ اِس سے آگے بڑھ کر وہ اِس سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے کہ اِن تصرفات کے پس پردہ حقیقی مصرف کون ہے اور اُس کے حقوق و فرائض کیا ہیں! حالانکہ کائنات کے اندر یہ تمام تصرفات و تغیرات جو ہوتے ہیں، یہ اِسی لیے ہوتے ہیں کہ انسان اِس اصل سوال تک پہنچے، اِس کا حل دریافت کرے اور اگر خدا کا کوئی بندہ اُس کو اِس سوال کا کوئی دل نشین حل بتائے تو اُس کو قبول اور اُس پر عمل کرے۔ قرآن نے اِن نشانیوں کے اِنھی پہلوؤں کو خاص طور پر بے نقاب کیا ہے، جو اصل حقیقت پر روشنی ڈالنے والے ہیں۔ اِس وجہ سے اِس کو ’نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔

اِس سے ایک بڑی اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کہ قرآن کی دعوت جبر یا تحکم پر مبنی نہیں ہے، بلکہ تمام تر آفاق و انفس کے واضح دلائل اور عقل و فطرت کے بینات پر مبنی ہے۔ جو لوگ اِن کو نہیں مانتے، اُن کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ مخفی ہیں، بلکہ صرف یہ ہے کہ وہ اُن کو اپنے نفس کی خواہشوں کے خلاف پاتے ہیں، اِس وجہ سے اُن سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ اِس مرض میں مبتلا ہیں، ظاہر ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی بات ماننے کو تیار نہیں ہو سکتے،جو اُن کی خواہش کے خلاف ہے، اگرچہ وہ سورج سے بھی زیادہ روشن ہو کر اُن کے سامنے آئے۔

دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ اِس کائنات میں سب سے زیادہ بدیہی، بلکہ ابدہ البدیہیات اللہ اور اُس کی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ اُن کے منکر ہیں، وہ کسی بھی حقیقت کو ماننے کے اہل نہیں ہیں۔ وہ محض اپنی خواہشوں کے غلام، اپنے پیٹ اور تن کے پجاری ہیں۔ اِس طرح کے لوگ اگر کچھ نئی نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کریں تو اُن کے مطالبات لائق توجہ نہیں ہیں۔ اِس طرح کے اندھوں کی آنکھیں کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی نہیں کھول سکتا۔‘‘

(تدبر قرآن 7/ 306-307)

____________