تعارف

’’شق القمر‘‘  کو رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان معجزہ قرار دیا جاتا ہے۔ مفسرین، محدثین اور سیرت نگار اِسے سورۂ قمر (54) کی ابتدائی آیات اور کتبِ حدیث کی متعدد روایات  کی بنا پر قبول کرتے ہیں۔ سورۂ قمر میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند شق ہو گیا ہے، مگر رسول کے مکذبین نہیں مانیں گے۔ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں،یہ اُس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ احادیث میں بیان ہوا ہے کہ  شق قمر ایک حسی واقعہ تھا، جو ہجرتِ مدینہ سے کم و بیش پانچ سال پہلے پیش آیا تھا۔ اِس کے عینی شاہدین میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابۂ کرام اور کفارِ قریش شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب منیٰ میں موجود تھے۔ چاند بدرِ کامل کی صورت میں تھا اور واضح نظر آ رہا تھا۔ یک بہ یک وہ پھٹا اور دو ٹکڑے ہو کر الگ ہو گیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا۔ یہ حیرت انگیز منظر لحظہ بھر کے لیے قائم رہا اور  پھر دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم اِس واقعے کے گواہ رہنا۔کفار نے یہ منظر براہِ راست دیکھا، مگر اُنھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اِس لیے اُنھوں نے اِسے جادو کہہ کر جھٹلانے کی کوشش کی۔ اُن میں سے بعض نے تجویز دی کہ حتمی راے قائم کرنے سے پہلے سفر پر گئے ہوئے لوگوں کو واپس آ لینے دیں۔ اُن کا مشاہدہ فیصلہ کن ہو گا، کیونکہ ہماری آنکھیں تو مسحور ہو سکتی ہیں، مگر غیر موجود ہونے کی وجہ سے وہ سحر زدہ نہیں ہو سکتے۔ یہ تجویز قبول ہوئی۔ جب لوگ آئے تو معلوم ہوا کہ اُنھوں نے بھی بعینہٖ چاند کے پھٹنے کا مشاہدہ کیا ہے۔ چنانچہ کفار کے لیے واقعے کا انکار ممکن نہیں رہا۔ تاہم، اِس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تردید و تکذیب پر کمر بستہ رہے۔

 یہ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم اور بعض دیگر صحابۂ کرام کی روایات کا مجموعی مفہوم ہے،جس کی صحت پر مفسرین  ومحدثین کا اتفاق ہے۔ اِس متفق علیہ مفہوم پر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منسوب بعض طرق میں یہ اضافہ شامل ہے کہ یہ واقعہ قریش کے مطالبۂ نشانی کا جواب تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات دو مرتبہ رونما ہوا تھا۔ علما و محدثین میں سے بعض نے اِس اضافے کو قبول کیا ہے اور بعض نے راویوں کا تسامح قرار دے کر رد کیاہے۔

شق قمر کے وقوع پر علما کےعمومی اتفاق کے باوجود اِس کی معجزانہ نوعیت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حدیث و تفسیر کے اکثر علما اِسے معجزاتِ نبوت میں شامل کرتے اور اِس کے صدور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتے ہیں۔ بعض دیگر علما اِسے اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیتے ہیں، مگر معجزے کی معروف اصطلاح کا اطلاق اِس پر نہیں کرتے۔ اُن کے نزدیک اِسے معجزاتِ نبوت میں شمار کرنا علمی اور اصطلاحی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ عصر ِحاضر کے دو جلیل القدر علما مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی اِسی موقف پر قائم ہیں۔

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی شق القمر کی بحث کے تمام اجزا میں  مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کی مجموعی راے سے متفق ہیں۔ اُنھوں نے اِسی کو اپنے موقف کے طور پر بیان کیا ہے۔ چنانچہ وہ شق قمر  کو ایک حسی واقعہ مانتے اور  پروردگار ِ عالم کی قدرتِ کاملہ کا مظہر قرار دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے انذارکی تائید اورآپ کے مکذبین کی تنبیہ کے لیے ظاہر ہوا تھا۔ اپنے موقف کی بنا وہ قرآنِ مجید پر قائم کرتے ہیں، مگر  اُس کی تائید و تفہیم میں مستند روایات کو پوری طرح قبول کرتے ہیں۔ اِس واقعے کی تعبیر کے لیے وہ معجزے کی اصطلاح کو صحیح نہیں سمجھتے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا۔ سورۂ قمر میں اِس کے لیے ’آیۃ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں اِس کے نظائر سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اگر معجزہ کی متداول اصطلاح اختیار کرنا مقصود ہو تو اُسے صرف اُن نشانیوں کے لیے اختیار کرنا چاہیے، جو انبیا علیہم السلام کی وساطت سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہِ راست ظاہر ہونے والی نشانیوں کے لیے یہ اصطلاح موزوں نہیں ہے۔

زیرِ نظر تصنیف استاذِ گرامی کے اِسی موقف کا بیان ہے۔ یہ چار ابواب اور چند ضمیمہ جات  پر مشتمل ہے۔ تمہیدی باب کا عنوان ’’ آیۃ  کا مفہوم اور مصداق‘‘ ہے۔ اِس کی حیثیت اگلے مباحث کے لیے اساس کی ہے۔ اِس میں قرآن کے نظائر کی بنا پر لفظِ ’آیۃ‘ کے اطلاقات کا تعین کیا گیا ہے۔ اِس کی روشنی میں سورۂ قمر میں اِس لفظ کا مصداق پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہو جاتاہے۔ دوسرے باب کا عنوان ہے: ’’شق قمر کا واقعہ ــــقرآنِ مجید کی روشنی میں‘‘۔ اِس میں پہلے باب کے مباحث کے تناظر میں سورۂ قمر کی متعلقہ آیات کا مطالعہ پیش کیا ہے۔ اِس ضمن میں شق قمر کی نوعیت، حقیقت اور غرض و غایت کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ تیسرے باب میں شق قمر کی روایات کا تجزیہ کیا ہے۔ اِس میں تمام بنیادی روایات اور اُن کے جملہ مباحث زیرِ بحث آئے ہیں۔ چوتھا باب موضوعِ زیر بحث پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے نقطہ ہاے نظر کا خلاصہ ہے۔ اِس کا مقصد یہ ہے کہ  وہ مواقف جن سے استاذِ گرامی نے بالکلیہ اتفاق کیا ہے،  اپنے اصل ماخذوں کے ساتھ سامنے آ جائیں اور یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے کہ استاذِ گرامی کی راے اُن کا تفرد نہیں، بلکہ دومقدم اصحاب علم کی آرا کا مکرر بیان ہے۔

آخر ی حصہ  ضمیمہ جات پر مشتمل ہے۔ اِس میں علمی اور فنی تقاضوں کے پیشِ نظر  مواد کے بعض اہم اجزا اور چند توضیحی مباحث شامل کیے ہیں۔ اِن سے مقصود یہ ہے کہ  قارئین اگر مزید تنقیح کے خواہش مند ہوں یا بحث کے مصادر  تک رسائی چاہیں تو اُنھیں سہولت فراہم ہو جائے۔

____________