ـــــ2ـــــ
قرآنِ مجید میں ’آیۃ‘ کا لفظ انفس و آفاق کی ما فوق الفطرت نشانیوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ اِن سے مراد وہ احوال و واقعات ہیں، جو اللہ کی قدرت کے عظیم الشان مظاہر کے طور پر خلافِ معمول رونما ہوتے ہیں۔ یہ پیغمبر کی وساطت سے نہیں، بلکہ اللہ کے براہِ راست حکم سے یا کارکنانِ قضا و قدر کے ذریعے سے واقع ہوتے ہیں۔ اِن کا ظہور شاذ و نادر اور ناگہاں ہوتا ہے، اِس لیے لوگ اِن کے بارے میں ناواقف اور غیر متوقع ہوتے ہیں۔ عرف و عادت اور عام دستور و قانون کے خلاف ہونے کی وجہ سے یہ حیرت و استعجاب کا باعث بنتے ہیں۔ لوگوں کو اِن کے بارے میں توجہ دلانے کی ضرورت نہیں پڑتی، اِن کی ندرت اور سنسنی خیزی از خود اُنھیں متوجہ کر لیتی ہے۔ اِس طرح کی آیات عام زمانے میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، مگر زمانۂ نبوت و رسالت میں اِن کا ورود مقابلتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اِن کا مقصد تنبیہ و تذکیر بھی ہوتا ہے، انعام و اکرام بھی اورتکلیف و تعذیب بھی۔ ہر صورت میں یہ اِس طور سے ظاہر ہوتی ہیں کہ نہ اِنھیں معمول کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا اور نہ اتفاقی حادثہ قرار دے کر فراموش کیا جا سکتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اِس نوعیت کی جن آیات کا ذکر ہوا ہے، اُن میں سے چند بہ طور ِ مثال درج ذیل ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بن باپ کے پیدا ہو نا، اِسی طرح کا خارقِ عادت واقعہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے براہ ِراست حکم سے عمل میں آیا ہے۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مریم اور ابنِ مریم، دونوں کو آیت قرار دیا ہے۔ سورۂ مومنون میں ارشاد فرمایا ہے:
وَ جَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗۤ اٰیَۃً.... (23 :50) | ’’اور مریم کے بیٹے اور اُس کی ماں کو بھی ہم نے اِسی طرح ایک عظیم نشانی بنایا...۔‘‘ |
سورۂ انبیاء میں اِن دونوں ہستیوں کو ’اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ‘ (دنیا والوں کے لیے نشانی) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد ہے:
وَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰہَا وَابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21: 91) | ’’اور اُس خاتون پر بھی جس نے اپنا دامن پاک رکھا تو ہم نے اُس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اُس کو اور اُس کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔‘‘ |
سورۂ مریم میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اُس میں اِس اقدام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا‘ یعنی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام کو لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں۔ فرمایا ہے:
وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مَرۡیَمَ ۘ اِذِ انۡتَبَذَتۡ مِنۡ اَہۡلِہَا مَکَانًا شَرۡقِیًّا. فَاتَّخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ حِجَابًا ۪۟ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا. قَالَتۡ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا. | ’’(اب) اِس کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (بیت المقدس کے) مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی۔ اور اپنے آپ کو اُن سے پردے میں کر لیا تھا۔ پھر ہم نے اُس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اُس کے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں نمودار ہو گیا۔ مریم (نے اُسے دیکھا تو) بول اٹھی کہ میں تم سے خداے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں، اگر تم اُس سے ڈرنے والے ہو۔ |
قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ ٭ۖ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا. قَالَتۡ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمۡ اَکُ بَغِیًّا. | اُس نے کہا: میں تمھارے پروردگار ہی کا فرستادہ ہوں اور اِس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تمھیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔ مریم نے کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں کبھی بدکار رہی ہوں! |
قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا ۚ وَ کَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِیًّا. (19: 16-21) | اُس نے کہا: اِسی طرح ہو گا۔ تمھارا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔ ہم یہ اِس لیے کریں گے کہ وہ ہمارا پیغمبر ہو اور اِس لیے کہ ہم اُس کو لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں۔ اور یہ بات طے کر دی گئی ہے۔‘‘ |
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی بن باپ کے پیدایش ایک خارقِ عادت واقعہ تھا،جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانی کے طور پر ظاہر کیا تھا۔ اِس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدایش کے عام قانون سے ہٹ کر اپنا حکم براہِ راست نازل کیا اور اپنے کلمۂ ’کن‘سے بطن مادر میں مولود کا استقرار کیا اور اُس میں اپنی روح پھونک دی۔ یہ اُسی طرح کا حکم تھا،جو اُس نے آدم و حوا کی پیدایش کے لیے نازل کیا تھا۔ یہ نشانی رہتی دنیا تک کے لیے تخلیق انسانی اور اُس کے اعادے کی دلیل کے طور پر نمایاں رہے گی۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خارقِ عادت ولادت قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ نادانوں کو قیامت پر سب سے بڑا شبہ یہی تو ہوتا ہے کہ آخر اسباب کے بغیر لوگ کس طرح دوبارہ پیدا ہو جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود اِس شبہ کا جواب ہے کہ ہر چیز اللہ کے کلمۂ’ کن‘سے ظہور میں آتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِسی کلمہ سے وجود میں آئے ہیں۔ چنانچہ اِسی بنیاد پر اُن کو انجیل اور قرآن، دونوں میں ’کلمۃ اللہ‘ کہا بھی گیا ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 645/4)
سیدنا مسیح علیہ السلام کا گہوارے میں کلام کرنا اِسی آیت کا تسلسل ہے۔ سورۂ مریم ہی میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے حکم سے سیدہ مریم کو حمل ٹھہرا اور وہ اِس کے ساتھ اپنے علاقے سے دور چلی گئیں۔ پھر جب ولادت کا موقع آیا تو اُس وقت اللہ کا فرشتہ آیا، جس نے اُنھیں تسلی دی اور اُن کے لیے چشمہ جاری کیا۔ پھر اُنھیں ہدایت کی کہ وہ نومولود کو لے کر اپنی قوم میں واپس جائیں۔ وہ اگر کوئی سوال یا اعتراض کر یں تو اشارے سے بتا دیں کہ اُنھوں نے چپ رہنے کا روزہ رکھا ہے۔ چنانچہ وہ واپس گئیں۔ بچے کو ساتھ دیکھ کر لوگوں نے اُن کی پاک دامنی پر تہمت لگانی شروع کی تو اُنھوں نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اُس سے کیسے پوچھیں، جو نومولود ہے اور بولنے کی عمر کو نہیں پہنچا؟ اِس پر بچے نے بولنا شروع کر دیا۔ قرآنِ مجید کا بیان ہے:
قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَجَعَلَنِیۡ نَبِیًّا. وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا. وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا. | ’’بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا۔ اور جہاں کہیں بھی ہوں، مجھے سرچشمۂ خیر و برکت ٹھیرایا ہے۔ اُس نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں، نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کروں۔ اور مجھے اپنی ماں کا فرماں بردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔ |
وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا. (19: 30-33) | اور مجھ پر سلامتی (کی بشارت) ہے، جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی اِس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جب حضرت مریم علیہا السلام کی آزمایش یہاں تک پہنچ گئی اوروہ ہر مرحلہ میں سو فی صدی کامیاب ثابت ہوئیں تو وقت آ گیا کہ اللہ تعالیٰ اب اپنا اعلان کرا دے کہ وہ اپنے کسی بندے یا بندی کے لیے، جو اُس کے امتحان میں کامیاب ہو جائے، اپنی کیا شانیں دکھاتا ہے۔... حضرت مریم علیہا السلام جس امتحان میں ڈال دی گئی تھیں، اُس سے پوری عزت اور سرخ روئی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری تھا کہ گود کا بچہ ہی اُن کی پاک دامنی اور اپنی وجاہت کی شہادت دے تاکہ کسی کے لیے بھی اُس کے بعد لب کشائی کی گنجایش باقی نہ رہے۔‘‘(تدبر قرآن4/647-648)
قرآنِ مجید نے مختلف مقامات پر اُن عظیم الشان انعامات کا ذکر کیا ہے،جو بنی اسرائیل کو عطا کیے گئے۔ اِن میں سے بہت سی نعمتوں کی نوعیت خرقِ عادت کی ہے۔ بعض اُن کے انبیا کے توسط سے اور بعض براہِ راست نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِنھیں ’اٰیَۃٍ بَیِّنَۃٍ‘ (واضح نشانیاں) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:
سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ.... (2: 211) | ’’بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے اُن کو کتنی واضح نشانیاں دیں، (مگر اِس سے کیا فائدہ ہوا)؟ ...۔‘‘ |
اِن آیاتِ بینات میں سے دو نمایاں آیات یہ ہیں کہ اُن پر بدلیوں کا سایہ کیا گیا اور من و سلویٰ اتارا گیا۔ فرمایا ہے:
وَظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ.... (2: 57) | ’’اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارے، کھاؤ یہ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تمھیں دی ہیں...۔‘‘ |
یہ اصل میں وہ انعامات ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اُنھیں صحراے سینا میں عطا فرمائے۔ اِس چٹیل صحرا میں نہ اُن کے پاس مکانات تھے، نہ خیمے اور خرگاہیں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے رہ رہے تھے۔ اِس صورتِ حال میں اُنھیں دھوپ کی حدت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ نے اُن پر بدلیوں کا سایہ کیے رکھا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
’’.. بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر، سر چھپانے کے لیے اُن کے پاس خیمے تک نہ تھے۔ اُس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدت تک آسمان کو ابر آلود نہ رکھا جاتا تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی۔‘‘ (تفہیم القرآن1/77-78)
اللہ نے اُن کی سکونت کے لیے جہاں بادلوں کا سائبان تان دیا، وہاں خوانِ نعمت کے طور پر من و سلویٰ کا اہتمام کیا۔ اِس خوان سے مستفید ہونے کے لیے نہ اُنھیں زمین کو تیار کرنا پڑتا تھا، نہ فصل بونے اور کاٹنے کی مشقت اٹھانی پڑتی تھی اور نہ کھانا تیار کرنے کا ترددکرنا پڑتا تھا۔ اِس خوان کو قرآن نے من و سلویٰ سے تعبیر کیا ہے۔ استاذِ گرامی نے بائیبل کی کتاب خروج کے حوالے سے اِس کے بارے میں لکھا ہے:
’’یہ (مَنّ) شبنم کی طرح کی ایک چیز تھی، جو زمین پر ٹپکتی تھی اور پالے کے دانوں کی طرح جم جاتی تھی۔ بنی اسرائیل اِسے سورج کی تمازت بڑھنے سے پہلے جمع کر لیتے تھے۔ تمازت بڑھتے ہی یہ دانے پگھل جاتے تھے۔ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں جہاں غذا کے اسباب مفقود تھے، یہ ایک عظیم نعمت تھی،جو بغیر کوئی مشقت اٹھائے بنی اسرائیل کو خدا کے حکم پر پیغمبر کے ساتھ ہجرت کرنے کے صلے میں حاصل ہوئی۔ ’مَنّ‘ کے معنی فضل و عنایت کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِسی مناسبت سے اِس کانام ’مَنّ‘ قرار پایا۔
اِس (السَّلۡوٰی)سے مراد وہ پرندے ہیں،جو اللہ تعالیٰ نے صحراے سینا میں بنی اسرائیل کے لیے بھیجے، یہ بٹیروں سے ملتے جلتے تھے اور بٹیروں ہی کی طرح نہایت آسانی سے شکار ہو جاتے تھے۔ ‘‘ (البیان 1/68-69)
اِسی طرح کی ایک اور نشانی وہ ہے، جب اللہ کے حکم پر کوہِ طور بنی اسرائیل کے سروں پر معلق ہو گیا۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑا اور شامیانے کی طرح اُن کے اوپر لٹکنے لگا۔ یہ غیر معمولی واقعہ اُس وقت رونما ہوا، جب اللہ نے وادیِ سینا میں بنی اسرائیل پر احکام شریعت کی الواح نازل فرمائیں۔ اُس موقع پر اُن سے عہد لیا گیا کہ وہ تورات کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اور اُس کے احکام و ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا رہیں گے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:
وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّاذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ. (2: 63) | ’’اور یاد کرو،جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور (اِس کے لیے) طور کو تم پر اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اُس چیز کوپوری قوت کے ساتھ پکڑو،جو ہم نے تمھیں دی ہے، اور جو کچھ اُس میں (لکھا) ہے، اُسے یاد رکھو تاکہ تم (اللہ کے غضب سے) بچے رہو۔‘‘ |
سورۂ اعراف(7) کی آیت 171 میں اِس واقعے کے لیے ’وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ‘ (جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر اُن کے اوپر معلق کر دیا تھا، گویا وہ سائبان ہے اور وہ گمان کر رہے تھے کہ وہ اُن پر گرا ہی چاہتاہے) کے الفاظ آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے ایک عظیم پہاڑ اُن کے سروں پر لٹکنا شروع ہو گیا اور وہ خیال کرنے لگے کہ یہ اب گرا کہ اب گرا۔ اِس سے ظاہر ہے کہ اُن پر اللہ کی قدرت کی ہیبت طاری ہو گئی۔
استاذِ گرامی کے نزدیک یہ واقعہ اللہ کی قدرت اورجلالت کا مظاہرہ تھا۔ اِس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ جو ہستی اُن سے میثاق کر رہی ہے، وہ قادرِ مطلق ہے۔ کوئی چیز اُس کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ اگر اُنھوں نے اِس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ اِس واقعے کی بہ دولت اپنے انجام کا بہ خوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’قرآن اور بائیبل، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ عہد پہاڑ کے دامن میں اِس طرح لیا گیا کہ طور اپنی جگہ سے اکھڑ کر سائبان کی طرح اُن کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اُنھیں لگتا تھا کہ وہ اُن پر گر کر رہے گا۔ قرآن نے یہاں اِس حالت کو پہاڑ کے اُن پر اٹھا لینے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ خدا کی قدرت اور اُس کے جلال کا ایک مظاہرہ تھا، جو اِس لیے کیا گیا کہ بنی اسرائیل ہمیشہ اِس بات کو یاد رکھیں کہ جس خدا کے ساتھ وہ یہ عہد باندھ رہے ہیں، اُس کی قدرت کتنی بے پناہ ہے اور اُنھوں نے اگر اِس کی خلاف ورزی کی تو وہ اُن کے ساتھ کیا معاملہ کر سکتا ہے۔‘‘ (البیان 1/78)
اصحاب کہف کو قرآنِ مجید نے ’کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ لوگ اللہ کی نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر کم و بیش دو سو سال تک نیند کی حالت طاری رکھی اور پھر اُنھیں بیدار کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ واقعہ سورۂ کہف (18) کی آیات 9 تا 25 میں بیان ہوا۔ تمہیداً واقعے کا خلاصہ بیان فرمایا ہے اور اُس کے بعد تفصیلات ذکر کی ہیں۔ تمہیدی آیات یہ ہیں:
اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَالرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا. اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا. فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا. ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا. (18: 9-12) | ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے؟ اُس وقت، جب اُن نوجوانوں نے غار میں پناہ لی، پھر (اپنے پروردگار سے) دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم کو تو خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اِس معاملے میں تو ہمارے لیے رہنمائی کا سامان کر دے۔ اِس پر کئی برس کے لیے ہم نے اُس غار میں اُن کے کانوں پر تھپک دیا۔ پھر ہم نے اُن کو اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے اُن کے قیام کی مدت ٹھیک شمار کی ہے؟‘‘ |
اصحاب کہف کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں، جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (The Seven Sleepers)کہے جاتے ہیں۔ اِن کا تعلق افیسس (Ephesus) شہر سے ہے۔ یہ موجودہ ترکیہ (Turkiye)کے مغربی ساحل پر واقع ایک مشہور شہر تھا۔ یہ بت پرستی کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 249ء سے 251ء تک یہاں قیصر ڈیسیس (Decius) کی حکومت قائم تھی۔ اِس عرصے کے دوران میں مسیح علیہ السلام کے پیرو اپنی دعوت لے کر یہاں پہنچے۔ اصحاب کہف اِسی شہر کے اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے چند نوجوان تھے۔ اُنھوں نے پیروانِ مسیح کی دعوت کو صدقِ دل سے قبول کیا اور جوش و جذبے کے ساتھ اُس کی تبلیغ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورا معاشرہ اُن کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہ اُنھیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔ اِس سے بچنے کے لیے وہ شہر سے باہر ایک بڑے غار میں پناہ گزین ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی حفاظت فرمائی اور طویل مدت کے لیے اُن پر نیند طاری کر دی۔ فرشتے اُن کے پہلو بدلتے رہے۔ اُن کے کتے کو غار کے دہانے پر ایسے بٹھا دیا گیاکہ جیسے وہ پہرا دے رہا ہو۔ اللہ کے حکم سے اور اُس کے فرشتوں کی نگرانی میں یہ لوگ کم و بیش 196 سال سوتے رہے۔ پھر بالآخر قیصر تھیوڈوسیس ثانی(Theodosius II) کی سلطنت کے اڑتیسویں سال 444ء یا 447ء میں یہ لوگ بیدار ہوئے۔ اِس دوران میں مسیحی مبلغین کی تبلیغ سے رومی شہنشاہ قسطنطین (272ء- 337ء) عیسائیت قبول کر چکا تھا اور اِس کے نتیجے میں ساری رومی سلطنت میں مسیح علیہ السلام کا مذہب پھیل گیا تھا۔ چنانچہ جب یہ لوگ بیدار ہوئے تو ہر طرف مسیحیت کا غلبہ تھا۔ باہر کے حالات سے بے خبراِن لوگوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو شہر میں بھیجا تاکہ وہ وہاں سے کھانا لے کر آئے۔ جب کھانا خریدنے کے لیے اُس نے قیصر ڈیسیس کے زمانے کا سکہ پیش کیا تو دکان دار کو شک ہوا کہ شاید اُسے پرانے زمانے کا کوئی دفینہ ملا ہے۔ اِس پر دونوں میں تکرار ہوئی، جس سے لوگ جمع ہو گئے۔ معاملہ بڑھتے بڑھتے حکام تک پہنچ گیا۔ اُس شخص کو اُن کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہاں سوالات ہوئے تو اُسے معلوم ہوا کہ قیصر ڈیسیس کو مرے ہوئے تو برس ہا برس بیت چکے ہیں۔ یہ جان کر اُس نے اپنی ساری داستان اُنھیں سنا دی۔ اُسے سن کر حکام بہت حیران ہوئے اور تصدیق کے لیے اُس کو لے کر غار کی طرف چل پڑے۔ لوگوں کا ایک ہجوم اُن کے ساتھ تھا۔ وہاں پہنچ کر یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ فی الواقع قیصر ڈیسیس کے زمانے کے لوگ ہیں۔ نئے رومی حکمران قیصر تھیوڈوسیس کو اِس غیر معمولی خبر سے مطلع کیا گیا۔ وہ اُن کی زیارت کے لیےاحتراماً پیدل چل کروہاں آیا اور آکر اُن سے برکت لی۔ اِس کے بعد یہ ساتوں نوجوان غار میں جا کر لیٹ گئےاور اچانک وفات پا گئے۔[3]
قرآنِ مجید نے اِس واقعے کو آیت قرار دیا ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک خارقِ عادت نشانی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اِس کے ظاہر کرنے کا سبب کیا تھا؟ استاذِ گرامی نے اِس کے بارے میں اپنا رجحان بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اِس حسی دلیل کی ضرورت غالباً اِس لیے پیش آئی کہ اُس زمانے میں مسیحی دعوت یونان کے فلسفے اور رومی شرک و بت پرستی کی روایت سے نبردآزما تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ نشانی دکھائی تاکہ زندگی بعد موت کے معاملے میں عقلی دلائل کے ساتھ یہ حسی دلیل بھی پیش کر دی جائے۔ اِس سے مقصود یہ تھا کہ نئے نئے جو لوگ ہزاروں کی تعداد میں مسیحی ہوئے ہیں، اُن کے لیے دین کا یہ بنیادی عقیدہ فلسفیانہ موشگافیوں کا موضوع بن کر نہ رہ جائے۔ بائیبل اور قرآن، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ رسالت میں اِس طرح کے حسی دلائل اِس سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔‘‘
(البیان 3/ 131)
____________