ـــــ1ـــــ

انفس و آفاق  میں

معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی

قرآنِ مجید میں بیش تر مقامات پر’آیۃ‘ کا لفظ اللہ کی اُن نشانیوں کے لیے استعمال ہوا ہے،جو انفس و آفاق میں ظاہر و باہر ہیں اور جن کا تعلق اللہ کی قدرت کے عادی امور سے ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بلا شبہ، یہ غیر معمولی ہیں، لیکن عام، مسلسل اور مستقل ظہور کے باعث یہ معمول کے واقعات اور مشاہدات کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً یہ لوگوں کے لیے  حیرت و استعجاب یا غور و فکر کا باعث نہیں بنتیں۔ تاہم، چونکہ یہ قطعی، واضح، معلوم و معروف اور ناقابلِ تردید ہوتی ہیں، اِس لیے قرآنِ مجید اِن کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اِن کی بنا پر لوگوں کو اعترافِ حق کی دعوت دیتا ہے۔ کائنات میں ہر سو آشکارا یہ آیاتِ الٰہی قرآن میں جا بہ جا مذکور ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ کا  مردہ زمین سے لہلہاتے کھیت پیدا کرنا، انسان کو مٹی کے خمیر سے تخلیق کرنا، اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنانا اور پھر دونوں کے درمیان  محبت  اور سازگاری پیدا کرنا، آسمانوں اور زمین کو تخلیق کر کے اُن میں موافقت قائم کرنا، آسمانوں کو ستونوں کے بغیر کھڑا کرنا، سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند کرنا، زمین کو بچھانا اور اُس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑنا، لوگوں کے اندر باہمی شناخت کے لیے رنگ و نسل اور زبانوں کا اختلاف رکھنا، آرام کے لیے رات اور کام کے لیے دن تخلیق کرنا،  آسمانی بجلیوں سے خوف اور امید کی کیفیت میں مبتلا کرنا اور آسمان سے پانی برسا کر مردہ زمین کے اندر زندگی پیدا کر دینااِسی نوعیت کی آیاتِ بینات کی مختلف صورتیں ہیں۔

سورۂ روم (30) میں آیات 19تا 25 ایسا مقام ہے، جہاں اِس نوعیت کی متعدد آیات سےاستشہاد اور استدلال کیا گیا ہے۔ ا ِس مقام پر ’وَمِنۡ اٰیٰتِہٖ‘(اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے) کے الفاظ کو بار بار دہرا کر اُن عظیم نشانیوں کی طرف متوجہ کیا ہے، جنھیں انسان محض اِس وجہ سے نظر انداز کر دیتا ہے کہ وہ اُس کے لیے معمول کا مشاہدہ اور روز مرہ کا تجربہ بن جاتی ہیں۔ارشاد فرمایا ہے:

يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ. وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ.

’’(تمھیں تعجب ہے کہ یہ کس طرح ہو گا؟ دیکھتے نہیں ہو کہ) وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد ازسرِنو زندہ و شاداب کر دیتا ہے۔ اِسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم انسان بن کر (زمین میں) پھیل جاتے ہو۔

 وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ.

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور اِس کے لیے اُس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ اِس میں، یقیناً ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو غور کرنے والے ہیں۔

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِکُمۡ وَ اَلۡوَانِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡعٰلِمِیۡنَ.

زمین اور آسمانوں کی پیدایش اور تمھاری بولیوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً علم والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ابۡتِغَآؤُکُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ.

اِسی طرح تمھارا رات اور دن میں سونا اور اُس کا فضل تلاش کرنا بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو (دل کے کانوں سے) سنتے ہیں۔

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحۡیٖ بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ.

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمھیں بجلیاں دکھاتا ہے، جو خوف بھی پیدا کرتی ہیں اور امید بھی، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ بِاَمۡرِہٖ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمۡ دَعۡوَۃً ٭ۖ مِّنَ الۡاَرۡضِ٭ۖ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ.

   (الروم30 :19-25)

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اُسی کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ زمین سے نکلنے کے لیے تم کو ایک ہی بار پکارے گا تو سنتے ہی نکل پڑو گے۔‘‘

اِس مقام پر جن نشانیوں کا ذکر آیا ہے، اُن کا مختصر تذکرہ درجِ ذیل ہے۔اِس سے لفظِ ’آیۃ‘کے مفہوم کے مذکورہ بالا اطلاق کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔

1۔ انسان کی تخلیق اور نشو و نما

اِن میں  پہلی آیت یا نشانی انسان کی خلقت اور اُس کی افزایش نسل کو بتایاہے۔ فرمایا ہے: ’’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم انسان بن کر پھیل جاتےہو۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ اگر انسان اپنی تخلیق پر غور کرے تو اُسے صاف معلوم ہو گا کہ اِس کا وجود مٹی میں پائے جانے والے بے جان عناصر سے تشکیل پایا ہے۔ اللہ نے اِن مردہ ذرات کو زندہ خلیوں میں تبدیل کیا اور پھر اُن کے اندر روح پھونک کر جیتا جاگتا باشعور انسان بنا دیا۔اور فقط اُسے ہی نہیں بنایا، بلکہ اُس کے وجود کو سیکڑوں، ہزاروں، لاکھوں انسانوں کو ظہور میں لانے کا ذریعہ بھی بنا دیا۔

امام امین احسن اصلاحی اِس نشانی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یعنی تم کو جن حقائق کے ماننے کی دعوت دی جا رہی ہے، وہ تمام تر تمھارے خالق کی قدرت و حکمت پر مبنی ہیں تو اُس کی قدرت و حکمت کے ثبوت کے لیے تم کسی خارجی دلیل کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟ اِس کی سب سے بڑی دلیل تو خود تمھاری خلقت ہی کے اندر موجود ہے۔ اُس نے تم کو جامد مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم زندہ اور عقل و شعور رکھنے والی ہستی بن کر تمام روے زمین پر پھیل گئے۔ . . . یعنی غور کرو، کہاں خشک مٹی اور کہاں جیتا جاگتا انسان، دیکھتے دیکھتے خدا کی قدرت نے اِسی مٹی سے ایک پورا جہان آباد کر دیا!‘‘

(تدبر قرآن 6/84-85)

2۔ انسان کی جنس سے اُس کے جوڑے کی تشکیل

دوسری نشانی یہ بیان ہوئی ہے کہ اللہ نے انسان کو جوڑے کی صورت میں تخلیق کیا ہے اور اِس کے دونوں اجزا میں باہم محبت و مودت پیدا کی ہے۔ اِس کے لیے ’ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَجَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً ‘ (اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور اِس کے لیے اُس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی)کے الفاظ آئے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ہی ساخت پر پیدا نہیں کیا، بلکہ اِسے مرد و عورت کی دو مختلف ساختوں پر پیدا کیا ہے۔ دونوں اپنی روح اور نفس کے لحاظ سے یکساں ہیں، مگر اپنے اعضا و جوارح اور عملی خصائص کے اعتبار سے مختلف اور متنوع پہلوؤں کے حامل ہیں۔ اِس صنفی اختلاف کے باوجود اُن کی ضرورتیں ایک دوسرے سے وابستہ کی ہیں اور آپس میں انس و محبت اور رحم و کرم کے جذبات پیدا کیے ہیں۔ پھر اِن کی توسیع سے خاندان اور معاشرے کو وجود بخشا ہے۔

استاذِ گرامی اِس نشانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’یعنی انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی، بلکہ اُسے دو صنفوں کی صورت میں پیدا کیا اور دونوں کے اندر الگ الگ انفرادی خصوصیات رکھیں، لیکن پھر اُن میں ایسی مناسبت پیدا کر دی کہ دونوں ایک دوسرے سے تسکین و راحت حاصل کرتے ہیں، جس کے لیے محبت و رحمت کا ایسا جذبہ اُن کے اندر ودیعت کر دیا کہ اُنھیں وہ ایک دوسرے کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور زندگی بھر کے لیے ایک دوسرے کا خیرخواہ، ہم درد و غم خوار اور شریکِ رنج و راحت بنا دیتا ہے۔‘‘(البیان 4/52)

امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کو چار مختلف نشانیوں کے طور پر واضح کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’اِس کے اندر ایک واضح نشانی تو اِس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس کائنات میں ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی ہے اور ہر چیز اپنے مقصدِ وجود کی تکمیل اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر کرتی ہے۔ اِس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اِس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہے، جس کو آخرت کہتے ہیں۔ اِسی آخرت سے اِس دنیا کی غایت کی تکمیل ہوتی ہے۔ دوسری نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ ہمارا خالق نہایت مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔ اُس نے ہمارے اندر جوڑے کی طلب دی تو ہماری ہی جنس سے ہمارا جوڑا بھی اُس نے پیدا کیا اور پھر دونوں کے اندر محبت و ہم دردی کے جذبات بھی ودیعت فرمائے تاکہ دونوں دو قالب یک جان ہو کر زندگی بسر کریں۔ تیسری نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ اِس کائنات کے اضداد کے اندر نہایت گہرا توافق اور ایک بالاتر مقصد کے لیے نہایت عمیق سازگاری پائی جاتی ہے، جو اِس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اِس کا خالق و مالک ایک ہی ہے، جو اپنی حکمت کے تحت اِس کائنات کے اضداد میں توفیق پیدا کرتا ہے۔ چوتھی نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ اِن لوگوں کا خیال بالکل احمقانہ ہے، جو سمجھتے ہیں کہ اِس کائنات کا ارتقا آپ سے آپ ہوا ہے۔ اگر اِس کا ارتقا آپ سے آپ ہوا ہے تو اِس کے اضداد میں یہ حیرت انگیز توافق کہاں سے پیدا ہوا؟ یہ تو اِس بات کی صاف شہادت ہے کہ ایک قادر و حکیم ہستی ہے، جو اِس پورے نظام کو اپنی حکمت کے تحت چلا رہی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن6/ 85)

3۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق

زمین اور آسمانوں کی پیدایش اور انسانوں کی زبانوں اور رنگوں کےاختلاف کو بھی اللہ کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ اِس کے لیے ’ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی زمین اور آسمانوں کی تخلیق بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں علم والوں کے لیے، یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔ مراد یہ ہے کہ انسان کی تخلیق کی طرح کائنات کی تخلیق بھی اللہ کی معرفت کی عظیم نشانی ہے۔ یعنی جب وہ سر جھکا کر اپنے وجود پر نظر ڈالتا ہے تو اُسے یہ محدود سا وجود اللہ کی کرشمہ سازیوں کا مظہر دکھائی دیتا ہے اور جب وہ سر اٹھا کر اپنے گرد و پیش کا نظارہ کرنا چاہتا اور  آسمان کی وسعتوں پر نظر ڈالتاہے تو اُس کی نظر تھک کر واپس لوٹ آتی ہے۔ اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین کے دفینے اور آسمان کی وسعتیں اُس کے شعور سے بلند اور تصورات سے ماورا ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی آسمانوں اور زمین کی نشانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’اگر لوگ غور کریں تو اُن کو یہ چیز صاف نظر آئے گی کہ اِس کائنات میں کثرت کے اندر وحدت مضمر ہے۔ ایک طرف آسمانوں کی ایک وسیع اور ناپیدا کنار کائنات ہے اور دوسری طرف یہ کرۂ زمین ہے۔ بہ ظاہر دونوں میں کتنی دوری ہے، لیکن اِس دوری کے باوجود دونوں میں اتنا گہرا اتصال ہے کہ کوئی عاقل یہ تصور نہیں کر سکتا کہ دونوں الگ الگ خالقوں کی قدرت سے وجود میں آئے اور الگ الگ ارادوں کے تحت گردش کر رہے ہیں، بلکہ اِن کی باہمی سازگاری پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی قدیر و حکیم دونوں پر متصرف ہے اور دونوں کو ایک مشترک مقصد کے لیے مسخر کیے ہوئے ہے۔‘‘

(تدبرقرآن6/ 86)

4۔ انسانوں کی زبانوں اور رنگوں میں اختلاف

انسانوں کی بولیوں اور رنگ و نسل کا اختلاف بھی اللہ کی ایک عظیم نشانی ہے۔یہ اختلاف جہاں پہچان اور تعارف کا فائدہ دیتا ہے، وہاں امتحان اور آزمایش کی مختلف صورتوں کا باعث بھی بنتا ہے۔صاحبِ ’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے زبان و رنگ کے اختلاف کی نشانی کو بہت وضاحت سے سمجھایا ہے۔لکھتے ہیں:

’’یعنی باوجودیکہ تمھارے قواے نطقیہ یکساں ہیں، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں، مگر زمین کے مختلف خطوں میں تمھاری زبانیں مختلف ہیں، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرز ِگفتگو دوسرے سے مختلف ہے، اِسی طرح تمھارا مادۂ  تخلیق اور تمھاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے، مگر تمھارے رنگ اِس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنار، ایک ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے۔ یہاں نمونے کے طور پر صرف دو ہی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ لیکن اِسی رخ پر آگے بڑھ کر دیکھیے تو دنیا میں آپ ہر طرف اتنا تنوع (Variety) پائیں گے کہ اِس کا احاطہ مشکل ہوجائے گا۔ انسان، حیوان، نباتات اور دوسری تمام اشیا کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں،اُس کے افراد میں بنیادی یکسانی کے باوجود بے شمار اختلافات موجود ہیں، حتیٰ کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہ نہیں ہے، حتیٰ کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی۔ یہ چیز صاف بتارہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے، جس میں خودکار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیدا آوری (Mass Production) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیا کا بس ایک ایک ٹھپہ ہو، جس سے ڈھل ڈھل کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاری گر کام کررہا ہے، جو ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن، نئے نقش و نگار، نئے تناسب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اُس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے۔ اُس کی قوتِ ایجاد ہر آن، ہر چیز کا ایک نیا ماڈل نکال رہی ہے، اور اُس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دوہرانا اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے۔ اِس حیرت انگیز منظر کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر دیکھے گا، وہ کبھی اِس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اِس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اِس کارخانے کو چلا کر کہیں جا سویا ہے۔ یہ تو اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کارِ تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے۔‘‘(تفہیم القرآن 3/746-747)

5۔گردشِ لیل و نہار

رات اور دن کے آنے جانے کو بھی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے: ’’اِسی طرح تمھارا رات اور دن میں سونا اور اُس کا فضل تلاش کرنا بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو (دل کے کانوں سے) سنتےہیں۔ ‘‘ لیل و نہار کی آمد و شد، بہ ظاہر نہایت معمول کا واقعہ ہے، مگر اِس کے اندر پروردگار کے غیر معمولی علم و حکمت اور ربوبیت کی حقیقت پوری طرح آشکار ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ جو وجود اُس نے تخلیق کیا ہے، اُس کو ذہنی، روحانی اور جسمانی آرام کی ضرورت ہے۔ اِس کے بغیر وہ زیادہ دیر تک کارکردگی کے قابل نہیں رہتا۔ پھر ماحول کی یکساں اور مستقل کیفیت زندگی کی سرگرمی کو بے کیف بنا دیتی ہے۔ انسان کی اِس ڈھب پر تخلیق کا تقاضا ہے کہ اُس کے رہنے کے لیے تیار کی گئی سکونت گاہ اِس رنگ ڈھنگ کے مطابق ہو۔ یعنی خالق اگر علیم و حکیم ہے تو وہ مخلوق کی ضرورتوں سے کما حقہ آگاہ ہو گا اور کمال ربوبیت سے اُن کی تکمیل کا اہتمام بھی کرے گا۔ یہ ضرورت اور اِس کی تکمیل کے اسباب دلیل ہیں کہ انسان اور کائنات اتفاقاً وجود میں نہیں آ گئے، بلکہ اِنھیں ایک نہایت علیم و حکیم ہستی نے تخلیق کیا ہے۔

استاذِ گرامی اِس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’فرمایا کہ وہ اگر تنہا اِسی بات پر غور کریں کہ اُن کے خالق نے انسانی جسم کے لیے نیند اور آرام کی ضرورت اور معاش کی جدوجہد کو رات اور دن میں تقسیم کر کے کس رحمت و شفقت کے ساتھ اُنھیں اور اُن کے ماحول کو ہم آہنگ کر دیا ہے۔ کیا یہ چیز صاف صاف ایک رب رحیم و کریم کے وجود کا پتا نہیں دے رہی؟ کیا اِس کے بعد بھی انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقاً ہو گیا ہے یا اِس میں ایک سے زیادہ خداؤں کی خدائی متصور ہو سکتی ہے یا اِس کائنات کا خالق اِسے یوں ہی ختم ہو جانے دے گا؟ اِس میں، اگر غور کیجیے تو مخالفین کے رویے پر ایک نوعیت کی تعریض بھی ہے کہ سنتے بھی ہیں تو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ اندھے اور بہرے ہو کر مخالفت کے لیے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔‘‘

(البیان 4/54-55)

سورۂ یونس میں اِس نشانی کو کائنات کے انجام کی ایک علامت کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

اِنَّ فِی اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَّقُوۡنَ. (10: 6)

’’یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور جو کچھ زمین اور آسمانوں میں اللہ نے پیدا کیا ہے، اُس میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں، جو ڈرتےہیں۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ایام کی گردش اِس امر کی نشانی ہے کہ کائنات ایک عظیم نتیجے تک پہنچنے والی ہے،یہ بے مقصد ہر گز نہیں ہے۔امام امین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے:

’’اختلافِ لیل و نہار سے اُس تعاقب کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے، جو وہ ایک دوسرے کا پوری سرگرمی سے کر رہے ہیں، جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ یہ گردش بے غایت و بے مقصد نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم نتیجہ پر منتہی ہونے والی ہے۔ دوسرے، اِس عظیم نظام ربوبیت کی طرف بھی اِس میں اشارہ ہے، جو رات اور دن کے اختلافِ مزاج کے اندر مضمر ہے کہ دن انسان کے لیے معاش و معیشت کی سرگرمیوں کا میدان گرم کرتا ہے اور رات اُس کے لیے راحت و سکون کا بستر بچھاتی ہے۔ اِس نظام پر جو شخص بھی غور کرتا ہے، وہ لازماً اِس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ اضداد کے اندر ایک مشترک مقصد کے لیے یہ حیرت انگیز توافق اُسی شکل میں وجود میں آ سکتا ہے، جب یہ مانا جائے کہ یہ سارا کارخانہ صرف ایک قادر و قیوم کے ارادے کے تحت کام کر رہا ہے اور پھر اِس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس نے ربوبیت و پرورش کا یہ سارا نظام کھڑا کیا ہے اور اُس کو اِس اہتمام سے چلا رہا ہے،وہ انسان کو مطلق العنان اور غیر مسئول نہیں چھوڑے گا،بلکہ اِس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے، جس میں وہ اِس ربوبیت کا حق پہچاننے والوں کو اُن کی حق شناسی کا انعام دے گا اور اِس سے بے پروا رہنے والوں کو جہنم میں جھونک دے گا۔ یہی نتیجہ اِس کائنات کے تمام اجزا اور اِس کے تمام اضداد پر غور کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہی حاصل ہے، جو انسان کی رہنمائی آخرت اور اِس جزا و سزا کی طرف کرتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن4/26 )

6۔ بادلوں کی گرج چمک اور برسات

آسمان کے مختلف مظاہر بھی اللہ کی نشانیوں کے عکاس ہیں۔ بجلی چمک کر بارش کی خبر دیتی ہے۔ یہ بارش کسی بستی کے لیے رحمت کی برسات بنتی اور کسی بستی میں عذاب کا طوفان لے کر آتی ہے۔ اِس طرح بہ یک  وقت آس اور امید اور خوف و ہراس کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ چنانچہ ایک ہی چیز ہے، جس کو پروردگار چاہے تو انعام کی صورت دے دے اور چاہے تو سزا بنا دے۔

استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’یعنی (یہ بجلیاں) اپنے وجود سے تعلیم دیتی ہیں کہ نعمت و نقمت، سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ جزا و سزا، دونوں پر پورا اختیاررکھتا ہے اور اُس کے لیے اپنی جس نعمت کو چاہے، نقمت اور نقمت کو نعمت میں تبدیل کر سکتا ہے۔‘‘(البیان 4/55)

یہی معاملہ بارش کا ہے۔وہ رحمت اور بخشش کا باعث بھی بنتی ہے اور قہر اور غضب کا بھی۔ اِس کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ کب اُسے کھیتوں کھلیانوں کی آب یاری کا حکم دیتا ہے اور کب کھڑی فصلوں کو بہا لے جانے کا فرمان جاری کرتا ہے۔ یہاں بارش کے حوالے سے ’فَیُحۡیٖ بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا‘ (پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتاہے۔) کے الفاظ آئے ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’یہ چیز ایک طرف حیات بعد الموت کی نشان دہی کرتی ہے، اور دوسری طرف یہی چیز اِ س امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ خدا ہے، اور زمین و آسمان کی تدبیر کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔ زمین کی بے شمار مخلوقات کے رزق کا انحصار اُس پیداوار پر ہے، جو زمین سے نکلتی ہے۔ اُس پیداوار کا انحصار زمین کی صلاحیتِ بار آوری پر ہے۔ اِس صلاحیت کے روبکار آنے کا انحصار بارش پر ہے، خواہ وہ براہِ راست زمین پر برسے، یا اُس کے ذخیرے سطح زمین پر جمع ہوں، یا زیرِ زمین چشموں اور کنوؤں کی شکل اختیار کریں، یا پہاڑوں پر یخ بستہ ہو کر دریاؤں کی شکل میں بہیں۔ پھر اِس بارش کا انحصار سورج کی گرمی پر، موسموں کے رد و بدل پر، فضائی حرارت و برودت پر، ہواؤں کی گردش پر، اور اُس بجلی پر ہے، جو بادلوں سے بارش برسنے کی محرک بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بارش کے پانی میں ایک طرح کی قدرتی کھا د بھی شامل کر دیتی ہے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کی اِن تمام مختلف چیزوں کے درمیان یہ ربط اور مناسبتیں قائم ہونا، پھر اِن سب کا بے شمار مختلف النوع مقاصد اور مصلحتوں کے لیے صریحاً سازگار ہونا، اور ہزاروں لاکھوں برس تک اِن کا پوری ہم آہنگی کے ساتھ مسلسل سازگاری کرتے چلے جانا، کیا یہ سب کچھ محض اتفاقاً ہو سکتا ہے؟ کیا یہ کسی صانع کی حکمت اور اُس کے سوچے سمجھے منصوبے اور اُس کی غالب تدبیر کے بغیر ہو گیا ہے؟ اور کیا یہ اِس بات کی دلیل نہیں ہے کہ زمین، سورج، ہوا، پانی، حرارت، برودت، اور زمین کی مخلوقات کا خالق اور رب ایک ہی ہے؟‘‘ (تفہیم القرآن 3/ 748-749)

7۔ زمین و آسمان کا قیام و دوام

زمین و آسمان کا قیام و استحکام بھی آیاتِ الٰہی میں سے ہے۔ یہ اللہ کے حکم سے قائم و دائم ہیں۔ اُس کا حکم ہو گا تو اِن کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ پھر جب وہ انسانوں کو زمین سے نکلنے کا حکم دے گا تو انسانوں کے پاس سرتابی کی کوئی گنجایش نہیں ہو گی۔ اُن کا وجود آپ سے آپ اُس کی آواز پر لبیک کہہ اٹھے گا۔ نہ آسمان پروردگار کی ندا کو انسانوں تک پہنچنے سے روک پائے گا اور نہ زمین اپنے اندر سے اُن کے نکلنے پر رکاوٹ ڈال سکے گی۔

’تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ بِاَمۡرِہٖ‘(زمین و آسمان اُسی کے حکم سے قائم ہیں) کے حوالے سے استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:

’’اِس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہے، اِس لیے کہ تم اگر سن سکو تو اتھاہ خلاؤں میں گردش کرتے ہوئے نجوم و کواکب اور سورج اور چاند اور تمھاری یہ زمین، سب بول کر بتا رہے ہیں کہ وہ کسی قائم رکھنے والے کی قدرت سے قائم ہیں اور کسی چلانے والے کے زور سے چل رہے ہیں۔‘‘(البیان 4/55)

’ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمۡ دَعۡوَۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ‘ (پھر جب وہ زمین سے نکلنے کے لیے تم کو ایک ہی بار پکارے گا تو سنتے ہی نکل پڑوگے) کے ٹکڑے پر استاذِ گرامی کا حاشیہ ہے:

’’یعنی دوسری مرتبہ پکارنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ زمین و آسمان کے قیام و استحکام میں خدا کی قدرت و حکمت کا اظہار جس حیرت انگیز طریقے سے اور جس اعلیٰ سطح پر دیکھ رہے ہو، وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ اگرایک ہی پکارپکار دے تو ممکن نہیں ہے کہ زمین اُس کے حکم سے سر تابی کی جسارت کرے یا آسمان اُس سے سرِمو انحراف کر سکے۔ ‘‘ (البیان 4/55-56)

سورۂ روم میں اِس بیان کے خاتمۂ کلام کے طور پر فرمایا ہے کہ فقط مذکورہ  اشیا اور معاملات ہی نہیں، بلکہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے، سب پر اللہ کا حکم قائم ہے۔ کوئی واقعہ اُس کے اذن کے بغیر رونما نہیں ہوتا۔ ہر چیز میں، ہر معاملے میں، ہر واقعے میں اُس کی صفات کی نشانیاں نمایاں ہیں، جو انسان کو آگاہ کرتی ہیں کہ وہی ہے، جس نے خلقت کی ابتدا کی ہے اور وہی اِس کا اعادہ کرے گا۔ اِس لیے انسان کو اِس کے دائرۂ قدرت سے فرار کی راہ نہیں ڈھونڈنی چاہیے۔ وہ زبردست بھی ہے اور حکمت والا بھی ہے۔ ارشاد ہے:

وَ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ. وَہُوَ الَّذِیۡ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ ہُوَ اَہۡوَنُ عَلَیۡہِ ؕ وَ لَہُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ . (الروم 30: 26-27)

’’زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں، اُسی کے ہیں، سب اُسی کے فرماں بردار ہیں۔وہی ہے، جو خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اُسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اُس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ زمین اور آسمانوں میں سب سے بالاتر صفت اُسی کی ہے اور وہی عزیز و حکیم ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’فرمایا کہ وہی ہے، جو خلق کا آغاز کرتا ہے، پھر وہی اُس کا اعادہ کرے گا اور یہ اعادہ تم سوچو تو اُس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اِس حقیقت کو تسلیم کرتے ہو کہ اُسی نے خلق کو وجود بخشا ہے تو اُس کے دوبارہ پیدا کیے جانے کو کیوں مستبعد خیال کرتے ہو؟ پہلا کام زیادہ مشکل ہے یا یہ دوسرا؟ . . . فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں تمام اعلیٰ صفتوں کا اصلی حق دار وہی ہے، کوئی دوسرا اُن صفات میں اُس کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ اِس کے بعد خاص طور پر اپنی دو صفتوں ــــ عزیز و حکیم ــــ کا حوالہ دیا کہ وہ ہر چیز پر غالب، سب سے بالاتر، اور اُس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اُس کے لیے کوئی کام بھی مشکل نہیں، اُس کے ارادے میں اِس کی حکمت کے سوا اور کوئی چیز بھی دخیل نہیں، اور اِس ساری کائنات میں کوئی نہیں، جو اُس کی صفات میں برابری کر سکے۔ اِس سے یہ بات لازمی نتیجہ کے طور پر آپ سے آپ نکل آئی کہ جب صفات میں کوئی اُس کی برابری کا نہیں تو اُس کے حقوق میں بھی کوئی اُس کی برابری کا نہیں قرار دیا جا سکتا۔‘‘

(تدبرقرآن6/ 89)

____________