ـــــ3ـــــ
اللہ کی آیات کی تیسری صورت وہ خارقِ عادت اور خلافِ معمول نشانیاں ہیں، جنھیں اللہ اپنے نبیوں کو عطا فرماتا ہے۔ حقیقت میں یہ اُسی طرح کے حیرت انگیز اور عقل کو عاجز کر دینے والے احوال ہیں، جو دستِ قدرت سے براہِ راست ظاہر ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اِن کے ظہور میں انبیا کا توسط اختیار کیا جاتاہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ معاملات کی باگ گویا پیغمبر کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ چنانچہ عالم شہود میں جو کچھ ظاہر ہوتا ہے، اُسی کی وساطت اور اُسی کے توسل سے ہوتا ہے۔ اِس کی ایک دل نواز مثال اللہ تعالیٰ کا موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا درجِ ذیل حکم ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ. وَاتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ. (الدخان44: 23-24 ) | ’’اچھا تو میرے بندوں کو رات ہی رات میں لے کر نکل جاؤ اور آگاہ رہو کہ تمھارا پیچھا کیا جائے گا۔ اور ہاں، دریا (سے گزرنے کے بعد اُس) کو پر سکون چھوڑ دینا۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ یہ لوگ اب غرق ہونے والا لشکر ہیں۔‘‘ |
مطلب یہ ہےکہ بنی اسرائیل کو لے کر نکل جانے کے بعد اپنے عصا کے ذریعے سے دریا کو برابر پرسکون کرتے جانا۔ استاذِ گرامی اِس حکم کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’قرآن اور بائیبل، دونوں میں تصریح ہے کہ دریا کا پانی موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم کے گزرنے کے لیے تند ہواؤں کے ذریعے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ حکم اِسی بنا پر دیا گیا اور اِس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے گزرتے ہی وہ ہٹا ہوا پانی واپس آ کر فرعون اور اُس کی فوجوں پر چھا گیا، جو اُس وقت بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہوئے دریا کے بیچ میں پہنچ چکی تھیں۔ اِس میں، اگر غور کیجیے تو حکم کا اسلوب ایسا ہے کہ گویا دریا اُس وقت پیغمبر کے اختیار میں دے دیا گیا تھا، جسے اگر پر سکون ہونا تھا تو اُسی کی اجازت سے ہونا تھا۔‘‘
(البیان4 / 483-484)
انبیا کے ذریعے سے ظاہر ہونے والی یہی آیات ہیں، جنھیں اصطلاح میں معجزات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔[4] اِن کی حیثیت بینات، یعنی روشن و رخشاں دلائل کی ہوتی ہے، جو عارف و عامی اور حامی و مخالف، سب کے لیے یکساں معتبر ہوتے ہیں۔ایمان کی نعمت سے فیض یاب عاقل اور سلیم الطبع لوگ اِن کا تقاضا نہیں کرتے، تاہم یہ اُن کے لیے انعام و اکرام یا ازدیادِ ایمان کا باعث بنتے ہیں۔ منکرین اور معاندین اِن کے طلب گار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق اُن کی تذکیر و تنبیہ یا تادیب و تعذیب کے لیے اِنھیں نازل فرماتے ہیں۔
استاذِ گرامی نے اِس امر کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’نبی کی شخصیت انسانیت کا مظہرِ اتم اور اُس کی دعوت انسان کی فطرت پر مبنی ہوتی ہے ... وہ لوگوں سے جو کچھ کہتا ہے، عقل و بصیرت کے آخری معیار پر کہتا ہے اور اُنھی چیزوں کے بارے میں کہتا ہے، جن سے انسان غافل ہوتا یا اُنھیں بھلا بیٹھتا ہے۔ پھر اُس کی نبوت کے پیچھے اخذ و اکتساب کا کوئی پس منظر بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اُس کو پہچاننے میں کسی سلیم الفطرت شخص کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ انسان کے دل و دماغ بیدار ہوں تو روے و آواز پیمبر معجزہ ست۔
تاہم اِس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اُس کو ایسی بینات بھی عطا فرماتے ہیں کہ معاندین اگرچہ زبان سے اقرار نہ کریں، لیکن اُس کی صداقت پر یقین کے سوا اُن کے لیے بھی کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔‘‘(میزان 133-134)
اِن آیات یا معجزات کی نوعیت اور حقیقت کے بارے میں قرآنِ مجید سے جو رہنمائی ملتی ہے، وہ چند نکات میں درجِ ذیل ہے۔
اولاً، اِن معجزات کا ظہور اگر چہ انبیا کے ذریعے سے ہوتا ہے، مگر یہ سر تا سر من جانبِ اللہ ہوتے ہیں۔ اِن کی نوعیت، اِن کے اثر اور موقع و مقام کا فیصلہ اللہ کے اذن پر منحصر ہوتا ہے۔ انبیا و رسل اِنھیں اُسی وقت ظاہر کرتے ہیں، جب اُنھیں اللہ کا حکم ہو۔ اِن کے ظہور اور وقوع میں نبی کا کام فقط یہ ہوتا ہے کہ وہ مثال کے طور پر اپنا عصا پتھر پر مارے یا اُسے زمین پر ڈال دے یا مٹھی بھر ریت کو کفار کے لشکر کی طرف پھینکے یا منزل من اللہ کلام کی تلاوت کا فریضہ انجام دے۔ سورۂ مائدہ (5) میں اللہ تعالیٰ نے قیامت میں پیش آنے والے اُس واقعے کو بیان فرمایا ہے کہ جب نصاریٰ پر اتمام حجت کے لیے سیدنا مسیح علیہ السلام کو عطا کیے گئے معجزات کا ذکر کیا جائے گا۔ اُس موقع پر ’بِاِذۡنِیۡ‘ (میرے حکم سے) کے الفاظ کو بار بار دہرایا جائے گا۔ اِس سے مقصود یہ باور کرانا ہو گا کہ جن معجزات کو بنیاد بنا کر اُنھوں نے مسیح کو اللہ کی الوہیت میں شریک کیا، وہ اللہ ہی کی جانب سے تھے اور اُسی کے حکم پر مبنی تھے۔ نصاریٰ نے اُنھیں حضرت مسیح سے منسوب کر کے ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ ارشاد فرمایا ہے:
اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ اذۡکُرۡ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ ۘ اِذۡ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ۟ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا ۚ. | ’’جب اللہ کہے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، میری اُس عنایت کو یاد کرو، جو میں نے تم پر اور تمھاری ماں پر کی تھی، اُس وقت، جب میں نے روح القدس سے تمھاری مدد کی، تم گہوارے میں بھی (اپنی نبوت کا) کلام کرتے تھے اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی۔ |
وَ اِذۡ عَلَّمۡتُکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ اِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ بِاِذۡنِیۡ فَتَنۡفُخُ فِیۡہَا فَتَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِیۡ وَ تُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِیۡ ۚ. | اور اُس وقت، جب میں نے تمھیں قانون اور حکمت سکھائی، یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دی۔ اور اُس وقت، جب تم میرے حکم سے پرندے کی ایک صورت مٹی سے بناتے تھے، پھر اُس میں پھونکتے تھے اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔ |
وَ اِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِیۡ ۚ وَ اِذۡ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَ اِذۡ جِئۡتَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ. (5: 110) | اور اُس وقت، جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور اُس وقت، جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ تم سے روک دیے، جب تم کھلی ہوئی نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے اور اُن کے منکروں نے کہا کہ کچھ نہیں، یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی اِس مقام کی تفسیر میں اللہ کے اذن کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ تمام باتیں قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نصاریٰ پر حجت تمام کرنے کے لیے فرمائے گا۔ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں نصاریٰ پر یہ حقیقت واضح کر دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کی والدہ پر جو انعام بھی ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا، اُنھوں نے جو معجزے بھی دکھائے، سب اللہ کے اذن و حکم سے دکھائے اور یہودیوں نے اُن کو جن خطرات میں ڈالا، اُن سے اُن کو اللہ تعالیٰ ہی نے نکالا۔ پھر جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کیا اور اِس کے سب سے بڑے گواہ خود عیسیٰ ہیں تو نصاریٰ بتائیں کہ اُنھوں نے کس کے کہنے سے اُن کو خدا بنا ڈالا؟ یہاں ’بِاِذْنِیْ‘ (میرے حکم سے) کی تکرار نہایت بلیغ ہے۔ ایک ایک بات پر اللہ تعالیٰ اِس کو دہرائے گا اور اِن میں سے ہر بات پر سیدنا مسیح علیہ السلام ’امَنَّا وَصَدَّقْنَا‘ ہی کہیں گے تو ظاہر ہے کہ جن معجزات کے بل پر نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنایا، جب وہ سب خدا کے ’اذن‘ سے ہوئے اور اُس کا اعتراف خود معجزات کا دکھانے والا ہی کرے گا تو نصاریٰ کے حصے میں فضیحت اور رسوائی کے سوا اور کیا باقی رہ جائے گا؟‘‘ (تدبر قرآن 2/ 607)
ثانیاً، اِنھیں علم و ہنرکا کمال نہیں سمجھاجا سکتا۔ نہ اِنھیں شعبدہ اور فریبِ نظر قرار دے کر رد کرنا ممکن ہوتا ہے اور نہ سحر و ساحری کہہ کر قبول کرنے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ اِن چیزوں کے ماہرین بھی اِن کی صحت اور قطعیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اخذ و اکتساب کی سطح سے بلند اور سحر و ساحری سے ماورا کوئی منفرد معاملات ہیں۔ استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:
’’اِن معجزات کو کوئی شخص سحر و ساحری یا علم و فن کا کمال کہہ کر رد نہیں کر سکتا، اِس لیے کہ اِس طرح کے علوم و فنون کی حقیقت اُس کے ماہرین سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتااور وہ بھی اُن کے سامنے اعترافِ عجز پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے جن دو معجزات کا ذکر اوپر ہوا ہے، اُن کا اثر مٹانے کے لیے فرعون نے یہی امتحان کیا تھا۔ قرآن کا بیان ہے کہ اُس نے تمام مملکت میں ہرکارے بھیج کر ماہر جادوگر بلائے اور میلے کے دن اُنھیں مقابلے کے لیے پیش کر دیا۔ اُس نے یہ اہتمام فتح کی توقع میں کیا تھا، لیکن ہوا یہ کہ جادوگروں نے عصاے موسوی کو اپنا طلسم نگلتے دیکھا تو بے اختیار سجدہ ریز ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ وہ موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لے آئے ہیں۔ یہ ایمان چونکہ حقیقت کوبہ چشم سر دیکھ لینے سے پیدا ہوا تھا، اِس لیے ایسا راسخ تھا کہ فرعون نے جب اُنھیں دھمکی دی کہ میں تمھارے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دوں گا اور تمھیں کھجور کے تنوں پر سر عام سولی کےلیےلٹکا دوں گا تو وہی جادوگر جو چند لمحے پہلے بڑی لجاجت کے ساتھ اُس سے انعام کی درخواست کر رہے تھے، پکار اٹھے کہ ماہ ِنخشب اور خورشید ِجہاں تاب کا یہ فرق دیکھ لینے کے بعد اب ہمیں کسی چیز کی کوئی پروا نہیں ہے:
قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ مَاۤ اَنۡتَ قَاضٍ ؕ اِنَّمَا تَقۡضِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا. اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغۡفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَکۡرَہۡتَنَا عَلَیۡہِ مِنَ السِّحۡرِ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی. (طٰہٰ20: 72-73) | ’’جادوگروں نے جواب دیا: ہم اُن روشن نشانیوں پر ہرگز تم کو ترجیح نہ دیں گے، جو ہمارے سامنے آ چکی ہیں اور نہ اُس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ اِس لیے تمھیں جو کرنا ہے، کر گزرو۔ تم جو کچھ کر سکتے ہو، اِسی دنیا کی زندگی کا کر سکتے ہو۔ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں، اِس لیے کہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اُس جادو کو بھی معاف فرمائے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے۔ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والاہے۔‘‘‘‘ (میزان 136) |
ثالثًا، اِن معجزات کا ایک بڑا مقصد منکرین اور معاندین پر اتمام حجت ہوتا ہے۔ یعنی جو لوگ عقل و فطرت کے دلائل پر دھیان نہیں دے رہے اور بلا جواز نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اُن کے پاس حق سے انحراف کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔چنانچہ اِن کے ظہورکے بعد منکرین کے لیے انکار کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ وہ اگر زبان سے اِنھیں جھٹلا بھی رہے ہوں، مگر اُن کے دل و دماغ اِن کے اقرار پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ اظہر من الشمس ہوتے اور ہر عام و خاص کے لیے یکساں لائق حجت ٹھہرتے ہیں۔ اتمام حجت کا ایک پہلو منکرین کو ایمان لانے کا مزید موقع دینا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ جب منکرین پیغمبر سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اُس کے رو برو اِس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو، وہ اگر درست ہے تو پھر اُس عذاب کو لے آؤ تو اِس کے جواب میں عذاب کے بجاے حسی معجزات دکھا کر اُنھیں عذاب کے یقینی ہونے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے رحمت کا ظہور ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی آنکھیں عقل و فطرت کے بین دلائل سے نہیں کھلیں، ممکن ہے کہ اِن غیر معمولی واقعات کو دیکھ کر کھل جائیں اور وہ ایمان لانے پر آمادہ ہو جائیں۔ اِس کی مثال قوم ثمود میں اونٹنی کا ظاہر ہونا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’یہ اونٹنی قوم کے مطالبۂ عذاب کے جواب میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ایک نشانی عذاب کی حیثیت سے نام زد کی گئی تھی۔ چنانچہ قرآن میں تصریح ہے کہ جب ثمود کے لیڈر نے اِس کی کونچیں کاٹ دیں تو اِس کے تیسرے دن عذاب الٰہی آ دھمکا۔...
مطالبۂ عذاب کے جواب میں عذاب کے بجاے ایک نشانی عذاب کی نام زدگی اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت کی دلیل تھی۔ وہ قہر میں دھیما اور رحمت میں جلدی کرنے والا ہے۔ اِس وجہ سے اُس نے یہ پسند فرمایا کہ لوگوں کو مزید مہلت دے کہ اب بھی وہ متنبہ ہونا چاہیں تو متنبہ ہو جائیں، لیکن اُنھوں نے متنبہ ہونے کے بجاے جسارت کا آخری قدم اٹھا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔‘‘(تدبر قر آن3/ 301-302)
رابعا ً،انبیا علیہم السلام کو معجزات عطا کرنے کے اصل اسباب تو اتمام حجت اور اُن کے مطالبۂ عذاب کے جواب میں عذاب سے قبل آخری تنبیہات ہی ہوتی ہیں، لہٰذا بالعموم یہ اُن کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں دیے جاتے ہیں، مگر بعض صورتوں میں دعوت کی ابتدا ہی میں اُنھیں اِن سے لیس کر دیا جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پرمقصد مخاطبین کو مرعوب کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ کسی جابرانہ اقدام سے باز رہیں اور بات سننے کے لیے آمادہ ہو سکیں۔ اِس کی نمایاں مثالیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے جانے والے عصا اور یدِ بیضا کے معجزات ہیں۔ رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآنِ مجید کی صورت میں جو عظیم الشان معجزہ عطا کیا گیا، اُس کا ایک پہلو بھی یہی ہے۔ امام امین احسن اصلاحی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے معجزات کے حوالے سے اِسی پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’...معجزات کے باب میں معروف سنتِ الٰہی تو یہ رہی ہے کہ وہ حضرات انبیا کو اُس وقت دیے گئے ہیں، جب اُن کی قوموں نے شدت کے ساتھ اُن کا مطالبہ کیا ہے اور مقصود اِن کے دیے جانے سے صرف اتمام حجت رہا ہے کہ جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لے رہے ہیں، کسی معجزے ہی کے لیے بہ ضد ہیں، اُن کے پاس حق سے انحراف کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ خاص معاملہ کیوں ہوا کہ اُن کو منصبِ نبوت پر مامور کرتے ہی دو معجزے دے دیے گئے؟ ہمارے نزدیک اِس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے سرکش اور جابر حکمران کی طرف رسول بنا کر بھیجے جا رہے تھے،جو شخصی اور قومی، دونوں اعتبار سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جانی دشمن تھا۔ اُن کی بات سننا اور سمجھنا تو درکنار اندیشہ اِس بات کا تھا کہ یہ علم ہوتے ہی کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، فوراً اُن کے قتل کا حکم دے دیتا۔ بلکہ اُن کے قتل کا حکم تو اُسی وقت وہ دے چکا تھا، جب قبطی کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا،لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام چھپ کر مدین چلے گئے، اِس وجہ سے وہ اپنے ارادے میں ناکام رہا۔ ایک ایسے منتقم و جبار کے سامنے اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک رسول کی حیثیت سے انذار کے لیے جاتے تو بھلا وہ اُن کی بات سننے کا کب روادار ہوتا! وہ تو صرف اُسی شکل میں کوئی بات سننے کے لیے تیار ہو سکتا تھا، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں کوئی ایسی بات ظاہر ہوتی، جو اُس کو مرعوب کر دیتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں اُن کو دو ایسے معجزوں سے مسلح کر دیا، جن کی مدد سے وہ اپنے دشمن کی ہر تعدی سے محفوظ رہے اور اُنھوں نے فرعون کے سامنے جاتے ہی، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہو گا، اپنے اِن معجزات کا اظہار بھی کر دیا تاکہ وہ خبردار رہے کہ اگر اُس نے کوئی غلط اقدام کیا تو وہ بھی خالی ہاتھ نہیں آئے ہیں، بلکہ اُن کے ہاتھ میں بھی وہ عصا ہے، جو ہر کبر و غرور کا سر پاش پاش کر دینے کے لیے بالکل کافی ہے۔‘‘ (تدبر قر آن 5/ 36)
خامساً، آیاتِ بینات یا انبیا کے معجزات کی نوعیت کے تعین میں مخاطبین کے حالات اور رجحانات کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیا کے ہاتھوں ایسے خارقِ عادت معاملات کا صدور ہوتا ہے، جو اُن کے فہم و استدلال، بود و باش اور تہذیب و تمدن سے مناسبت رکھتے ہیں۔ اِسی بنا پر یہ اُن کے لیے توجہ اور حیرت و استعجاب کا باعث ہوتے اور نتیجتاً اتمام حجت کا ذریعہ بنتے ہیں۔امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’معجزات کے باب میں سنتِ الٰہی یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ قوموں کے مذاق اور رجحانات کی رعایت سے دیے جاتے ہیں تاکہ اُن پر حجت ہو سکیں۔ مصر میں، تاریخوں سے پتا چلتا ہے کہ اِس دور میں سحر و شعبدہ کا بڑا زور اور سوسائٹی میں ساحروں کو بڑا مقام حاصل تھا، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایسے معجزے دیے، جن سے ساحروں کے طلسم کو باطل کیا جا سکے۔ عربوں میں اِس کے برعکس، سب سے زیادہ قدر و عظمت فصاحت و بلاغت کو حاصل تھی اور سوسائٹی پر دھاک خطیبوں اور شاعروں کی بیٹھی ہوئی تھی۔ اِس وجہ سے ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا معجزہ عطا ہوا، جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے فصیحوں بلیغوں کو عاجز و درماندہ کر دیا۔‘‘
(تدبر قرآن 3/ 343)
سادساً، اِن نشانیوں کے حوالے سے یہ بات بھی متحقق ہے کہ یہ اگرچہ پیغمبر کے ہاتھ سے صادر ہوتی ہیں، مگر اِن کا تعلق اصلاً پیغمبر کی منصبی ذمہ داریوں سے نہیں ہوتا۔ یہ خالصتاً من جانبِ اللہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ اِن کی نوعیت، اِن کے ظہور یا عدم ظہور اور موقع ظہور کا فیصلہ نہ پیغمبر کرتا ہے اور نہ یہ مخاطبین کے مطالبے کے جواب میں ظاہر کی جاتی ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِس بات کو سورۂ رعد میں نہایت صراحت سے واضح کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ. | ’’یہ منکرین کہتے ہیں کہ اِس شخص پر اِس کے پروردگار کی طرف سے (عذاب کی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اِنھیں بتاؤ کہ یہ تمھارا کام نہیں ہے، اِس لیے کہ) تم تو صرف خبردار کرنے والے ہو اور ہر قوم کے لیے اِسی طرح ایک راہ بتانے والا آتا رہا ہے۔ |
اَللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی وَ مَا تَغِیۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَ مَا تَزۡدَادُ ؕ وَ کُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقۡدَارٍ. (13: 7-8) | (اِن پر عذاب کے لیے کوئی نشانی کب ظاہر ہو گی؟ اِسے اللہ جانتا ہے، جس طرح) ہر مادہ کے حمل کو اللہ جانتا ہے اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے، اُس کو بھی جانتا ہے۔ ہر چیز اُس کے ہاں ایک اندازے کے مطابق ہے۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی اِن آیات کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’’اٰیت‘ سے مراد یہاں کوئی نشانی عذاب ہے۔ اوپر والی آیت میں جس عذاب کے لیے عجلت کا ذکر ہے، یہ اُسی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ہمیں جس عذاب کے ڈراوے ہر وقت سنا رہے ہیں،آخر اُس کی کوئی نشانی یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ فرمایا کہ تمھارا کام صرف لوگوں کو اِس عذاب سے خبردار کر دینا ہے، اُس کی کوئی نشانی دکھانا یا اُس عذاب کو لا دینا تمھارا کام نہیں ہے۔ یہ ہمارا کام ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہمارا کام ہم پر چھوڑو۔ اُن کی بکواسوں کی پروا مت کرو۔ ... ایک بات جو ایک امر واقعی اور شدنی ہے، اُس میں اِس بنیاد پر کوئی شبہ قائم کرنا کہ تم اُس کا وقت معین طور پر نہیں بتا سکتے یا اُن کے مطالبے پر اُس کو دکھا نہیں سکتے، کوئی معقول بات نہیں ہے۔ ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، اُس کے رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اِس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، اِس میں درپردہ جو کمی بیشی واقع ہوتی ہے، اُس کو بھی اللہ ہی جانتا ہے، اُس کے وضع کا ٹھیک ٹھیک وقت بھی اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے۔ اِن باتوں کے نہ جاننے سے نہ تو نفس حمل کی نفی ہوتی اور نہ کوئی عاقل اِس بنیاد پر ایک حاملہ کے حاملہ ہونے سے انکار کرتا ہے۔ یہی مثال اُن ظالموں کے لیے عذاب الہٰی کی ہے۔ اُنھوں نے اپنے عقائد و اعمال کے فساد کے باعث اِس کا حمل قبول کر لیا ہے اور یہ حمل لازماً اپنی مدت کو پہنچ کر ظہور میں آئے گا،لیکن کب آئے گا اور کس شکل و صورت میں آئے گا،اِس کا ٹھیک ٹھیک پتا صرف اللہ ہی کو ہے، کسی دوسرے کو اِس کا علم نہیں ہے۔اللہ کے ہاں ہر چیز کے لگے بندھے ضابطے، معین پیمانے اور مقرر اوقات ہیں۔ لوگوں کی جلد بازی سے وہ سنتِ الٰہی متغیر نہیں ہوتی، جو اُس نے ہر چیز کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔‘‘(تدبر قرآن 4/ 274)
سابعا ً، قرآنِ مجید سے واضح ہوتا ہے کہ معجزات اگرچہ معمول سے ہٹ کر ہوتے ہیں اور عام عادات اور قوانین کے برخلاف ہوتے ہیں، مگر اُن کا ظہور اسباب کے دائرے کے اندر اور اُنھی کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مطالبات کو رد فرما دیتے ہیں، جو حیطۂ اسباب سے باہر ہوں۔ سورۂ مائدہ میں جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق اپنی نشانیوں کا ذکر کیا ہے، وہاں حواریوں کا یہ سوال بھی مذکور ہے کہ کیا اللہ آسمان سے کھانے کے خوان اتار سکتا ہے؟ اِس بے جا مطالبے پر حضرت مسیح علیہ السلام نے اُنھیں تنبیہ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اِسے پسند نہیں فرمایا۔ یہ مقام درجِ ذیل ہے:
اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ. | ’’اُس وقت، جب حواریوں نے کہا: اے عیسیٰ ابنِ مریم، کیا تمھارا پروردگار یہ کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (کھانے کا) ایک خوان اتارے؟ عیسیٰ نے کہا: خدا سے ڈرو، اگر تم سچے مومن ہو۔ |
قَالُوۡا نُرِیۡدُ اَنۡ نَّاۡکُلَ مِنۡہَا وَ تَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُنَا وَ نَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَ نَکُوۡنَ عَلَیۡہَا مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ. قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَ ارۡزُقۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ. | اُنھوں نے جواب دیا: ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ اِس خوان سے کھائیں اور اِس کے نتیجے میں ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہم یہ جان لیں کہ تونے ہم سے سچی بات کہی تھی اور ہم اِس پر گواہی دینے والے بن جائیں۔ اِس پر عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی: اے اللہ، اے ہمارے پروردگار، تو ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر دے، جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے ایک یادگار بن جائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ (پروردگار)، ہم کوعطا فرما اور تو بہترین عطا فرمانے والا ہے۔ |
قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمۡ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡکُمۡ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ. (5: 112- 115) | اللہ نے فرمایا: میں اِس کوتم پر ضرور نازل کر دوں گا، مگر اِس کے بعد جو تم میں سے منکر ہوں گے، اُنھیں ایسی سخت سزا دوں گا، جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہو گی۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی ’ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّک‘کے الفاظ کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’’ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّک‘کے سوال کے باب میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حواریین کا سوال خدا کی قدرت سے متعلق نہیں، بلکہ اُس کی حکمت سے متعلق تھا کہ اِس قسم کی کھلی ہوئی نشانی دکھانا اُس کی حکمت کے مطابق بھی ہو گا یا نہیں؟ حواریین با ایمان لوگ تھے، وہ اِس حقیقت سے بے خبر نہیں ہو سکتے تھے کہ اُن کی یہ درخواست مشابہ ہے اُس مطالبہ سے جو بنی اسرائیل نے خدا کو دیکھنے کے لیے کیا تھا، جس کے نتیجہ میں اُن کو کڑک نے آ دبوچا تھا۔ معجزات ہر چند خارقِ عادت ہوتے ہیں، تاہم وہ اسباب کے پردے ہی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ تمام پردے اٹھا دیے جائیں۔ اِسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِس طرح کے مطالبات کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی،جن میں خواہش اُن حدود سے متجاوز ہو جائے، جو معجزات کے ظہور کے لیے سنت اللہ میں مقرر ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی اِس سے روکا اور جب حواریین کی دوبارہ درخواست پر اِس کے لیے درخواست فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اِس درخواست کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ ارشاد ہوا کہ اتارنے کو تو میں مائدہ اتار دوں گا،لیکن یاد رکھو کہ جو لوگ اتنی کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد کفر میں مبتلا ہوں گے، اُن کو سزا بھی وہ دوں گا، جو کسی اور کو نہ دوں گا۔ معلوم ہوتا ہے اِس کے بعد حواریین اپنی اِس درخواست سے باز آ گئے۔ اہل تاویل میں سے بھی ایک گروہ کا یہی خیال ہے کہ اِس کا نزول نہیں ہوا۔ انجیلوں میں بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 2/ 608)
اِن ضروری توضیحات کے بعد اِس نوعیت کی آیات اور نشانیوں کی چند نمایاں مثالیں درجِ ذیل ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کوجو دو بڑی آیات دی گئیں، اُن میں سے ایک عصا اور دوسری یدِ بیضا ہے۔ یہ نہایت غیر معمولی آیات تھیں، جو اُنھیں بعثت کے ساتھ ہی عطا کر دی گئیں۔ اُن کے اکثر معجزات اِنھی کے ذریعے سے ظہور پذیر ہوئے۔یہ دونوں آیات اُنھیں طویٰ کی مقدس وادی میں عطا کی گئیں۔ قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے واپسی پر طویٰ کی وادی میں پہنچے تو اُنھیں ایک شعلہ سا دکھائی دیا۔ وہ اُسے آگ سمجھ کر اُس کی سمت میں آگے بڑھے۔ وہاں پہنچے تو غیب سے ندا آئی کہ ’’یہ تو میں تمھارا پروردگار ہوں، سو اپنے جوتے اتار دو، اِس لیے کہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔اورمیں نے تمھیں منتخب کر لیا ہے، لہٰذا جو وحی کی جا رہی ہے، اُس کو توجہ سےسنو۔‘‘ اِسی موقع پر اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنا عصا زمین پر ڈال دیں، اُنھوں نے ایسا کیا تو وہ رینگتا ہوا سانپ بن گیا۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ بغل میں ڈال کر واپس نکالو، جب اُنھوں نے اِس حکم کی تعمیل کی تو اُن کا ہاتھ بالکل سفید اور چمک دار ہو گیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ارشاد ہے:
وَ مَا تِلۡکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی. قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَ لِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی. قَالَ اَلۡقِہَا یٰمُوۡسٰی. فَاَلۡقٰہَا فَاِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسۡعٰی. | ’’اور یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ؟ اُس نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اِس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اِس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اِس میں میرے کچھ دوسرے کام بھی ہیں۔ فرمایا: اِس کو (زمین پر) ڈال دو، اے موسیٰ! اِس پر موسیٰ نے لاٹھی کو (زمین پر) ڈال دیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ ایک سانپ ہے، جو دوڑ رہا ہے۔ |
قَالَ خُذۡہَا وَلَا تَخَفۡ ٝ سَنُعِیۡدُہَا سِیۡرَتَہَا الۡاُوۡلٰی. وَاضۡمُمۡ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ اٰیَۃً اُخۡرٰی. لِنُرِیَکَ مِنۡ اٰیٰتِنَا الۡکُبۡرٰی. (20: 17-23) | فرمایا: اِس کو اٹھا لو اور ڈرو نہیں، ابھی ہم اِس کو ویسا ہی کر دیں گے، جیسی یہ پہلے تھی۔ اور اپنے ہاتھ کو (ذرا) تم اپنے بازو کی طرف سکیڑو، وہ بغیر کسی بیماری کے سفید ہو کر نکلے گا، ایک دوسری نشانی کے طور پر۔ یہ اِس لیے کہ (اِن کے ذریعے سے) ہم اپنی کچھ بڑی بڑی نشانیاں تمھیں دکھائیں۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی اِن آیات کی تفسیر میں عصا اور یدِ بیضا کے معجزات کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’عصا کا معجزہ: ارشاد ہوا کہ اِس لٹھیا کو زمین پر ڈال دو اور پھر قدرتِ خداوندی کا کرشمہ دیکھو! چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لٹھیا زمین پر ڈال دی اور وہ دفعتاًایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔ سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک امر طبعی ہے، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اِس منظر کو دیکھ کر ڈرے کہ ہاتھ کی لٹھیا جو سانپ کو مارنے والی بن سکتی تھی، وہ خود سانپ بن گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، اِس کو بے جھجک پکڑ لو۔ تمھارے پکڑتے ہی ہم اِس کو اِس کی پہلی حالت پر کر دیں گے۔ یہ جیسی لٹھیا تھی، ویسی ہی لٹھیا بن جائے گی۔
یدِ بیضا کا معجزہ: ساتھ ہی دوسری ہدایت یہ ہوئی کہ اپنے ہاتھ کو اپنی بغل کی طرف سکیڑ لو، پھر جب تم اِس کو بغل سے نکالو گے تو وہ وہاں سے چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، ایک دوسری نشانی بن کر برآمد ہو گا۔
یہ دوسرا معجزہ تھا، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوا۔ یہاں ’بَیۡضَآءَ‘ کے ساتھ ’مِنْ غَیۡرِ سُوْٓءٍ‘ کی قید اِس شبہ کے ازالہ کے لیے ہے کہ یہ ہاتھ کی سفیدی کسی مرض کے سبب سے نہیں ہو گی، بلکہ اللہ کی ایک نشانی کے طور پر ہو گی۔ اِس سے تورات کی اِس روایت کی تردید ہو جاتی ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ برص سے سفید نکلا۔ یہ امر بھی یاد رکھیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ کی یہ سفیدی مستقل نہیں تھی، بلکہ قرآن کے الفاظ شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اِس کے ظہور کو اِس شرط کے ساتھ خاص کیا تھا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک نشانی کے طور پر دکھانے کے لیے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر نکالیں گے، تب یہ سفید نکلے گا۔
’ لِنُرِیَکَ مِنۡ اٰیٰتِنَا الۡکُبۡرٰی‘ (یہ اِس لیے کہ (اِن کے ذریعے سے) ہم اپنی کچھ بڑی بڑی نشانیاں تمھیں دکھائیں۔)یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے مستقبل کی فتوحات کی بشارت ہے کہ بہ ظاہر تو یہ دو ہی معجزے ہیں، لیکن یہ دو نہیں ہیں، بلکہ اِن کے اندر ہمارے بہت سے دوسرے بڑے بڑے معجزے بند ہیں۔ آگے جب امتحان کے مراحل آئیں گے تو تم دیکھو گے کہ اِن سے ہماری قدرت و قہرمانیت کے کیا کیا کرشمے اور خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔ ‘‘(تدبر قرآن 5/ 35-36)
حضرت موسیٰ علیہ السلام بعثت کے بعد فرعون کے دربار میں پہنچے اور انبیا علیہم السلام کے عام طریقے کے مطابق فرعون اور اُس کے امرا و عمائدین کو توحید اور آخرت کی دعوت پیش کی۔ اِس کے بعد یہ تقاضا کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو اُن کے ساتھ بھیج دے۔ جواب میں فرعون نے اُن سے کوئی نشانی دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اِس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ ایک حقیقی اژدہا بن گیا۔ پھر اُنھوں نے اپنے ہاتھ کو آستین سے نکالا تو دفعتاً وہ چمکنے لگا۔ اہل دربار کو اندازہ ہو گیا کہ یہ عام نوعیت کا سحر نہیں ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے فرعون کو ڈرانے اور برانگیختہ کرنے کے لیے کہا کہ یہ شخص تمھیں اِس ملک سے نکال کر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔ اِسے فی الحال ٹال دو اور پھر ملک بھر سے جادوگروں کو جمع کر لو تاکہ وہ اِس کے سحر کا توڑ کر سکیں۔ فرعون نے مشورہ قبول کر لیا اور ہرکارے بھیج کر جادوگروں کو بلا لیا۔ آگے کی تفصیل سورۂ اعراف میں اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:
وَ جَآءَ السَّحَرَۃُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ کُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِیۡنَ. قَالَ نَعَمۡ وَ اِنَّکُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ. قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِیۡنَ. قَالَ اَلۡقُوۡا ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡہَبُوۡہُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِیۡمٍ. | ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آ گئے۔ اُنھوں نے کہا: اگر ہم ہی جیت گئے تو بڑا صلہ تو ہمیں یقیناً ملے گا؟ فرعون نے جواب دیا: ہاں، ضرور اور تم ہمارے مقربین میں بھی شامل ہو جاؤ گے۔ اِس پر جادوگروں نے کہا: اے موسیٰ، تم پھینکو گے یا (اگر تم چاہو تو) ہم پھینکتے ہیں؟ اُس نے کہا: تم ہی پھینکو۔ چنانچہ اُنھوں نے جب پھینکا تو لوگوں کی آنکھیں باندھ دیں اور اُن پر دہشت طاری کر دی اور بڑا زبردست جادو بنا لائے۔ |
وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ۚ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ. فَوَقَعَ الۡحَقُّ وَ بَطَلَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ. فَغُلِبُوۡا ہُنَالِکَ وَ انۡقَلَبُوۡا صٰغِرِیۡنَ. وَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ. قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ. رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ. (7: 113-122) | ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ اپنا عصا پھینکو۔ پھر اُس کا پھینکنا تھا کہ وہ اُن کے اُس طلسم کو نگلتا چلا گیا، جو وہ بنا لائے تھے۔ سو حق ظاہر ہوا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، سب باطل ہو گیا۔ فرعون اور اُس کے ساتھی (اُس روز ) وہاں مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے۔ اور جادوگر (خدا کی اِس نشانی کو دیکھ کر) سجدے میں گر پڑے۔ اُنھوں نے (بے اختیار) کہا: ہم جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔ جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔‘‘ |
استاذِ گرامی کے نزدیک اِس مقام پر ’ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ‘ ( چنانچہ اُنھوں نے جب پھینکا تو لوگوں کی آنکھیں باندھ دیں) کے الفاظ سے واضح ہے کہ جادو سے کسی چیز کی حقیقت و ماہیت نہیں بدلتی۔ وہ محض نگاہ اور قوتِ متخیلہ کو متاثر کرتا ہے، جس سے انسان وہی کچھ دیکھنے لگتا ہے، جو جادوگر دکھانا چاہتا ہے۔یعنی عصا کا سانپ جدھر جدھر گیا، اُس نے سانپوں کی طرح لہراتی ہوئی ہر رسی اور لاٹھی کو اُسی طرح رسی اور لاٹھی بنا دیا، جس طرح وہ حقیقت میں تھی اور سارا طلسم نابود ہو گیا۔[5]
سورۂ طٰہٰ کے الفاظ ’اِنَّمَا صَنَعُوۡا کَیۡدُ سٰحِرٍ ؕ وَلَا یُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَیۡثُ اَتٰی‘ ( جو کچھ اُنھوں نے بنایا ہے، یہ محض جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا) سے بھی جادو کے فریب ہونے کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کے سامنے آتے ہی ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے کہ جادو کیا ہے اور معجزہ کیا چیز ہوتی ہے۔[6] استاذِ گرامی کے نزدیک :’’یہ بالکل ویسی ہی بات ہے کہ ماہ ِ نخشب کے مقابلے میں خورشید ِجہاں تاب نکل آئے۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ منطق و استدلال سے دونوں کا فرق واضح کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ... سحر و ساحری اور اِس طرح کے دوسرے علوم کو اُن کے ماہرین ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اُن میں اور معجزے میں فرق کے لیے یہ نہایت واضح معیار ہے کہ اِن علوم و فنون کے ماہرین بھی اُس کے سامنے اعترافِ عجز پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‘‘[7]
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے بنی اسرائیل کے لیے ایک اور عظیم الشان معجزہ یہ صادر ہوا کہ اُنھوں نے عصا کو چٹان پر مارا تو اُس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور اُن کے ہر قبیلے کے لیے الگ الگ پانی کا بندوبست ہو گیا۔ سورۂ بقرہ میں بیان ہوا ہے:
وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ .... (2: 60) | ’’اور یاد کرو، جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا: اپنی لٹھیا اِس پتھر پر مارو۔ (اُس نے ماری) تو اُس سے بارہ چشمے بہ نکلے، اِس طرح کہ ہر گروہ نے اپنے لیے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی...۔‘‘ |
تورات کی کتاب گنتی سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کی چٹان سے پانی بہ نکلنے کا یہ واقعہ دشتِ صین میں پیش آیا ہے۔اُس میں لکھا ہے:
’’اور پہلے مہینے میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشتِ صین میں آگئی اور وہ لوگ قادس میں رہنے لگے... اور جماعت کے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا۔ سو وہ موسیٰ اور ہارون کے برخلاف اکٹھے ہوئے۔ اور لوگ موسیٰ سے جھگڑنے اور یہ کہنے لگے: ہائے کاش، ہم بھی اُسی وقت مر جاتے،جب ہمارے بھائی خداوند کے حضور مرے۔ تم خداوند کی جماعت کو اِس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مریں؟ اور تم نے کیوں ہم کو مصر سے نکال کر اِس بری جگہ پہنچایا ہے؟ یہ تو بو نے کی اور انجیروں اور تاکوں اور اناروں کی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہاں تو پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں اور موسیٰ اور ہارون جماعت کے پاس سے جا کر خیمۂ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے۔ تب خداوند کا جلال اُن پر ظاہر ہوا اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اِس لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارون، تم دونوں جماعت کو اکٹھا کرو اور اُن کی آنکھوں کے سامنے اِس چٹان سے کہو کہ وہ اپنا پانی دے اور تو اُن کے لیے چٹان ہی سے پانی نکالنا۔ یوں جماعت کو اور اُن کے چوپایوں کو پلانا۔ چنانچہ موسیٰ نے خداوند کے حضور سے اِسی حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی اور موسیٰ اور ہارون نے جماعت کو اُس چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اُس نے اُن سے کہا: سنو،اے باغیو، کیا ہم تمھارے لیے اِسی چٹان سے پانی نکالیں؟ تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اُس چٹان پر دوبار لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہ نکلا اور جماعت نے اور اُن کے چوپایوں نے پیا۔‘‘ (20 :11-1)
ایک کے بجاے بارہ چشموں کا پھوٹنا اِس وجہ سے تھا کہ بنی اسرائیل کے خاندان بھی بارہ تھے۔ الگ الگ گھاٹ مقرر ہونے سے اِن کے مابین پانی پر جھگڑنے کی گنجایش ختم ہو گئی۔ اگر پانی وافر مقدار میں میسر نہ ہوتا اور اِس میں تقسیم کا مساوی انتظام نہ ہوتا تو صحرا میں اُن کے درمیان روز پانی پینے پلانے پر تلواریں نکلتی رہتیں۔ لہٰذا یہ غیر معمولی معجزہ ہی نہیں تھا، اِس کے ساتھ اللہ کا بہت بڑا احسان بھی تھا۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’چونکہ پہاڑی سے بارہ چشمے پھوٹے تھے اور بنی اسرائیل کے خاندان بھی بارہ تھے، اِس وجہ سے ہر خاندان نے اپنے اپنے گھاٹ الگ الگ متعین کر لیے اور اِس چیز کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہا کہ پانی کے لینے پر کوئی جھگڑا برپا ہو۔ اگر اِس بہتات کے ساتھ پانی کا انتظام نہ ہوا ہوتا تو اِس صحرا میں اِن لوگوں کے اندر روز پانی پینے پلانے پر ہی تلواریں کھنچی رہتیں۔ اِس وجہ سے یہ واقعہ صرف ایک عظیم معجزہ ہی نہیں، بلکہ ایک عظیم احسان بھی تھا۔‘‘ (تدبر قرآن 1/ 223)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر قرآنِ مجید کی سورۂ آل عمران اور سورۂ مائدہ میں آیا ہے۔ اِن مقامات پر اُن کے چار نمایاں معجزات بیان ہوئے ہیں۔ آلِ عمران میں بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام کو مسیح علیہ السلام کی پیدایش کی بشارت دی تو اُنھوں نے سوال کیا کہ یہ کیوں کر ممکن ہے، جب کہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسا ہی ہو گا، کیونکہ اللہ جس معاملےکا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کے حکم سے وہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت سے آگاہ فرمایا اور بتایا کہ وہ اُنھیں بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ اِسی سلسلۂ بیان میں پھر سیدنا مسیح علیہ السلام کے چار معجزات کا ذکر آیا ہے۔ اِن میں سے ایک مٹی سے پرندہ تخلیق کرنا ہے، دوسرا مادر زاد اندھے کو بینا کرنا ہے، تیسرا کوڑھ کے مریض کو اِس لاعلاج مرض سے نجات دلانا ہے اور چوتھا مردوں کو زندہ کرنا ہے۔ اِس ضمن میں یہ بات نہایت صراحت سے بیان ہوئی ہے کہ یہ تمام معجزات اللہ ہی کے حکم سے ظاہر ہوئے تھے۔ [8]آیات درجِ ذیل ہیں:
قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ. | ’’وہ بولی: پروردگار، میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا: اِسی طرح اللہ جو چاہے، پیدا کرتا ہے۔ وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کو اتنا ہی کہتاہے کہ ہو جا، پھر وہ ہوجاتا ہے۔ |
وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ. وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ. | (لہٰذا اِسی طرح ہو گا) اور اللہ اُسے قانون اور حکمت سکھائے گا، یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دے گا۔ اور اُس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ (چنانچہ یہی ہوا اور اُس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ |
اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ. (آل عمران 3: 47- 49) | میں تمھارے لیے مٹی سے پرندے کی ایک صورت بناتا ہوں، پھر میں اُس میں پھونکتا ہوں تو اللہ کے حکم سے وہ فی الواقع پرندہ بن جاتی ہے؛ اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں؛ اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں؛ اور میں تمھیں بتا سکتا ہوں، جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ اِس میں تمھارے لیے یقیناً ایک بڑی نشانی ہے، اگرتم ماننے والے ہو۔‘‘ |
رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بڑا معجزہ دیا گیا، وہ قرآنِ مجید ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے خود اپنا مبارک کلام آپ کی زبانِ فیض ترجمان پر جاری فرما دیا۔ اِس کے الفاظ، اِس کے جملے، اِس کے اسالیب، اِس کے مضامین، اِس کے اخبار، اِس کے احکام، سب اللہ پروردگارِ عالم کے ہیں۔ اِسی بنا پر یہ ایک ایسا معجزہ ہے، جو اپنی ذات میں یکتا، اپنی نوعیت میں بے مثل، اپنے شہود میں کامل اور اپنے ظہور میں لازوال ہے۔
یہ بلاشبہ، خارقِ عادت ہے، کیونکہ انسانی تاریخ میں یہ واحد کتاب ہے، جس کے متن میں نہ کوئی تضاد و تناقض ہے اور نہ تنزل و ارتقا۔ زبان و ادب اِس کی فصاحت و بلاغت اور لطافت و حلاوت کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اِس میں کمال معنویت ہے، بلند خیالی ہے، ژرف نگاہی ہے، وسعتِ نظری ہے۔ یہ عالم الغیب والشہادہ کا قول ہے،لہٰذا کرۂ ارض پر یہ تنہا نوشت ہے، جو مکان و لامکان، دونوں سے باخبر کرتی ہے۔ اِسے پڑھیے تو ماضی کے گم شدہ حقائق واشگاف ہوتے اور مستقبل کے نامعلوم اخبار معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر صاحبِ عقل خواہی نا خواہی یہ ماننے پر مجبور ہے کہ یہ علم و عرفان کا مرقع، دین و اخلاق کا خزانہ اور شریعت و حکمت کا مجموعہ ہے اور انسانوں کی رشد و ہدایت اور فوز و فلاح کے لیے اِس سے بہتر نسخہ زمین پر دستیاب نہیں ہے۔
استاذ ِگرامی اِس کے اعجاز کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معجزہ اِس حیثیت سے دیا گیا، وہ قرآن ہے۔ عربی زبان کے اسالیبِ بلاغت اور علم و ادب کی روایت سے واقف ادبی ذوق کے حاملین اِسے پڑھتے ہیں تو صاف محسوس کرتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ایک سے زیادہ مقامات پر اِس نے خود اپنے مخاطبین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اگر اپنے اِس گمان میں سچے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے، بلکہ محمد اِسے اپنی طرف سے گھڑ کر پیش کر رہے ہیں تو جس شان کا یہ کلام ہے، اُس شان کی کوئی ایک سورت ہی بنا کر پیش کریں۔ اُن کی قوم کا ایک فرد اگر اُن کے بقول بغیر کسی علمی اور ادبی پس منظر کے یہ کام کرسکتا ہے تو اُنھیں بھی اِس میں کوئی دقت نہ ہونی چاہیے۔
قرآن کا یہ دعویٰ ایک حیرت انگیز دعویٰ تھا۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ قرآن ایک ایسا کلام ہے، جس کے مانند کوئی کلام انسانی ذہن کے لیے تخلیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ فصاحت وبلاغت اور حسن بیان کے لحاظ سے قرآن کی غیرمعمولی انفرادیت کا دعویٰ تھا۔ یہ اِس بات کا دعویٰ تھاکہ وہ کوئی ایسا کلا م پیش کریں،جس میں قرآن ہی کی طرح خدا بولتا ہوا نظر آئے، جو اُن حقائق کو واضح کرے، جن کا واضح ہونا انسانیت کی شدید ترین ضرورت ہے اور وہ کسی انسان کے کلام سے کبھی واضح نہیں ہوئے، جو اُن معاملات میں رہنمائی کرے، جن میں رہنمائی کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایک ایسا کلام جس کے حق میں وجدان گواہی دے، علم و عقل کے مسلمات جس کی تصدیق کریں، جو ویران دلوں کو اِس طرح سیراب کر دے، جس طرح مردہ زمین کو بارش سیراب کرتی ہے، جس میں وہی شان اور وہی تاثیر ہو، جو قرآن کا پڑھنے والا، اگر اُس کی زبان سے واقف ہوتو اُس کے لفظ لفظ میں محسوس کرتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کے مخاطبین میں سے کوئی بھی اِس چیلنج کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کرسکا۔ ارشاد فرمایا ہے :
وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ. فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ لَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ ۚ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ. (البقرہ 2: 24-23) | ’’(یہی اِس کتاب کی دعوت ہے، اِسے قبول کرو)، اور جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے، اُس کے بارے میں اگر تمھیں شبہ ہے تو (جاؤ اور) اِس کے مانند ایک سورہ ہی بنا لاؤ اور (اِس کے لیے) خدا کے سوا تمھارے جو زعماہیں، اُنھیں بھی بلا لو، اگرتم (اپنے اِس گمان میں) سچے ہو۔‘‘ |
خداکی یہ کتاب اِس وقت بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ اِس پر کم وبیش چودہ صدیاں گزر چکی ہیں۔ اِس عرصے میں دنیا کیا سے کیا ہوگئی۔ بنی آدم نے نظریہ و خیال کے کتنے بت تراشے اور پھر خود ہی توڑ دیے۔ انفس وآفاق کے بارے میں انسان کے نظریات میں کتنی تبدیلیاں آئیں اور اُس نے ترک واختیار کے کتنے مرحلے طے کیے۔ وہ کس کس راہ سے گزرا اور بالآخر کہاں تک پہنچا، لیکن یہ کتاب جس میں بہت سی وہ چیزیں بھی بیان ہوئی ہیں، جو اِن پچھلی دو صدیوں میں علم وتحقیق کا خاص موضوع رہی ہیں، دنیا کے سارے لٹریچر میں بس ایک ہی کتاب ہے، جو اِس وقت بھی اُسی طرح اٹل اور محکم ہے، جس طرح اب سے چودہ سوسال پہلے تھی۔ علم وعقل اِس کے سامنے جس طرح اُس وقت اعترافِ عجز کے لیے مجبور تھے، اُسی طرح آج بھی ہیں۔ اِس کا ہر بیان آج بھی پوری شان کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ دنیا اپنی حیرت انگیز علمی دریافتوں کے باوجود اُس میں کسی ترمیم وتغیر کے لیے کوئی گنجایش پیدا نہیں کرسکی:
وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا. (بنی اسرائیل 17: 105) | ’’ہم نے اِس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے اور ہم نے، (اے پیغمبر)، تم کو صرف اِس لیے بھیجا ہے کہ (ماننے والوں کو) خوش خبری دو اور (نہ ماننے والوں کو) متنبہ کر دو۔‘‘‘‘ (میزان 136- 138) |
قرآنِ مجید کے اِس عظیم الشان معجزے کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً مختلف معجزے عطا کیے جاتے رہے ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ اللہ کے رسول کی ذات بہ ذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہوتی ہے۔ اللہ اُس سے ہم کلام ہوتا ہے، جبریل امین اُس تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں، وہ فرشتوں کی معیت میں ہوتا ہے، اُس کی زبان سے اللہ کا کلام جاری ہوتا ہے۔ وہ آسمان سے خبریں پا کر لوگوں کو غیب سے مطلع کرتا ہے، فیوض و برکات اُس کے وجود سے صادر ہوتے ہیں۔شاید ہی کوئی دن ہو، جب اللہ کی کوئی آیت، کوئی نشانی اُس کے ماحول میں یا اُس کے وجود سے صادر نہ ہوئی ہو۔ اِس نوعیت کی بعض نشانیاں قرآنِ مجید میں اور بعض حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہیں۔[9] اِن میں سے بہ طورِ مثال دو معجزات کا تذکرہ درجِ ذیل ہے۔
ایک معجزہ جنگِ بدر کا ہے، جب آپ نے مٹھی بھر خاک کفار کے لشکر کی طرف پھینکی تو وہ ریت کا طوفانی غبار بن کر منکرین کی آنکھوں میں داخل ہو گئی۔ اِس معجزے کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے اور روایتوں میں بھی بعض تفصیلات مذکور ہیں۔ سورۂ انفال میں ارشاد ہے:
فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمۡ وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ۚ وَ لِیُبۡلِیَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡہُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ. (8: 17) | ’’(ایمان والو، تم کیوں جان چراؤ، جب کہ تمھاری طرف سے خدا لڑتا ہے)؟ سو حقیقت یہ ہے کہ (اِس جنگ میں) تم نے اِن کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اِن کو قتل کیا ہے اور، (اے پیغمبر)، جب تو نے اِن پر (خاک) پھینکی تو تو نے نہیں پھینکی، بلکہ اللہ نے پھینکی ہے، اِس لیے کہ منکروں کو اپنی شانیں دکھائے اور اِس لیے کہ مسلمانوں کو اللہ اپنی طرف سے اچھا انعام عنایت فرمائے۔ بے شک، اللہ سمیع و علیم ہے۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی وضاحت کے لیے ’’ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی آستین سے دستِ غیب کے کارنامے‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے اور اُس کے تحت لکھا ہے:
’’’فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ‘ میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے اور ’وَمَا رَمَیْتَ‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اِس وجہ سے دونوں میں جمع اور واحد کا فرق ہے۔ ’رمی‘ تیر مارنے، کنکر پتھر پھینکنے، خاک اور راکھ جھونکنے، سبھی کے لیے آتا ہے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار کی فوجیں سامنے ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور ’شاھت الوجوہ‘ کہہ کر کفار کی طرف پھینکی۔ ’شاھت الوجوہ‘ عربی میں لعنت کا فقرہ ہے اور کسی کے اوپر خاک جھونکنا نہایت قدیم زمانہ سے لعنت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ تورات میں بھی اِس کا ذکر آتا ہے اور عرب کی روایات سے بھی اِس کا پتا چلتا ہے۔ سورۂ فیل کی تفسیر میں مولانا فراہی نے اِس کے حوالے دیے ہیں۔ یہاں زبان کا یہ اسلوب بھی نگاہ میں رہے کہ بعض مرتبہ فعل کی نفی سے مقصود نفس فعل کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ اُس فعل کے ساتھ اُن شان دار نتائج کی نسبت کی نفی ہوتی ہے، جو اُس فعل کے پردے میں ظاہر ہوئے۔ مٹھی بھر نہتے مسلمانوں کا قریش کی دل بادل غرقِ آہن فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دینا یا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک سے پھینکی ہوئی چٹکی بھر خاک کا ایک ایسا طوفان بن جانا کہ تمام کفار کو اپنی اپنی آنکھوں کی پڑ جائے، یہ مسلمانوں کی چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی تلواروں یا پیغمبر کی ’رمی‘ کے کارنامے نہیں تھے، بلکہ اُس دستِ غیب کے کارنامے تھے، جو مسلمانوں کی میانوں اور پیغمبر عالم کی آستینوں میں چھپا ہوا تھا۔‘‘ (تدبر قرآن 3/451)
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی ایک مثال اللہ کی طرف سے نازل کردہ پیشین گوئیاں ہیں، جن کا اعلان آپ کی زبانِ مبارک سے ہوا۔ اِن میں سے بعض کا ذکر قرآنِ مجید میں ہوا ہے اور بعض روایتوں میں منقول ہیں۔ سرزمین عرب میں آپ کے غلبے، ام القریٰ مکہ کی فتح اور لوگوں کے جوق در جوق دین میں داخل ہونے کے عظیم اور غیر متوقع واقعات کے وقوع سے بہت پہلے آپ نے مطلع فرما دیا تھا۔ ایرانیوں سے مغلوب ہوجانے کے بعد رومیوں کی دوبارہ فتح کی پیشین گوئی بھی ایسی ہی وہم و گمان سے ماورا اور امید و امکان سے بالاتھی۔ قرآنِ مجید میں یہ اِس طرح بیان ہوئی ہے:
غُلِبَتِ الرُّوۡمُ. فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ. فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ. بِنَصۡرِ اللّٰہِ ؕ یَنۡصُرُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ. وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ. (الروم 30: 2 -6) | ’’رومی مغلوب ہو گئے ہیں۔ قریب کی سرزمین میں، لیکن اپنی اِس مغلوبیت کے بعد وہ جلد ہی غالب ہو جائیں گے۔ اگلے چند برسوں میں۔ اِس سے پہلے جو کچھ ہواہے، وہ بھی اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور جو کچھ بعد میں ہو گا، وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا اور ایمان والے اُس دن اللہ کی مدد سے مسرور ہوں گے۔ اللہ جس کی چاہتا ہے، مدد فرماتا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور بڑا مہربان بھی۔ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ |
استاذ گرامی نے اِس واقعے کی تفصیل اِن الفاظ میں کی ہے:
’’اصل میں ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے، جو عرب کی سرزمین کے بالکل متصل تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو اُس وقت دنیا میں دو بڑی سلطنتیں تھیں : ایک مسیحی رومی سلطنت، دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کشمکش جاری رہتی تھی۔ 603ء کا واقعہ ہے کہ ایک بغاوت کو فرو کرنے کا بہانہ بنا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ اِس کے بعد رومیوں کو شکست پر شکست ہوتی رہی، یہاں تک کہ 616ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا چھٹا یا ساتواں سال تھا۔ قرآن نے یہ پیشین گوئی 617ء اور 620ء کے درمیان کسی وقت کی ہے۔ ’’زوال روما‘‘[10] کے مصنف ایڈورڈ گبن کا بیان ہے کہ یہ جس زمانے میں کی گئی، اُس وقت کوئی بھی پیشگی خبر اتنی بعیداز وقوع نہیں ہو سکتی تھی، اِس لیے کہ رومی حکمران ہرقل کے پہلے بارہ سال رومی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے۔ قرآن نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ بہت دن نہیں لگیں گے، یہ زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی (بِضْعِ سِنِیْنَ)کے اندر پوری ہو جائے گی۔ چنانچہ ٹھیک اِس اعلان کے مطابق یہ پوری ہو گئی اور مارچ 628ء میں رومی حکمران اِس شان سے قسطنطنیہ واپس آیا کہ اُس کے رتھ کو چار ہاتھی کھینچ رہے تھے اور بےشمار لوگ دارالسلطنت کے باہر چراغ اور زیتون کی شاخیں لیے اپنے ہیرو کے استقبال کے لیے موجو د تھے۔
اِس تعیین و تصریح کے ساتھ اور اِس حتمی اسلوب میں یہ پیشین گوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کی دلیل کے طور پر کی گئی۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحیوں کے ساتھ مذہبی قربت، قرآن کی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ، خاص طور پر حبشہ میں اُن کے طرزعمل کی وجہ سے مسلمان قدرتی طور پر اُن سے ہم دردی رکھتے تھے۔ قرآن نے اُنھیں اطمینان دلایا کہ وہ رنجیدہ خاطر نہ ہوں، اُن کے اہل کتاب بھائی عنقریب غلبہ حاصل کر لیں گے اور یہ پیشین گوئی اُس نبوت کی بھی بہت بڑی دلیل بن جائے گی، جس پر وہ ایمان لائے ہیں، اِس لیے کہ خدا کے سوا کوئی بھی ایسی صراحت اور حتمیت کے ساتھ مستقبل کے بارے میں اِس طرح کی خبر نہیں دے سکتا۔‘‘(البیان 4 / 43-44)
____________